صفحات بد ل رہے ہیں۔۔شہزاد سلیم عباسی

میدانِ  سیاست ہو،سیاست کو اسلامی نظامِ  حکومت کے تابع کرنا ہو،حالات کو مذاہب و مسالک کی آنکھ سے دیکھنا ہو یا لبرل ازم اور کمیونزم کی  کا تڑکا لگا نا ہو۔ بات ،بات کرنے سے ہی بنتی ہے۔بحث برائے بحث نہیں بلکہ بحث برائے اصلاح ضروری ہوتی ہے۔ سطحی اسکالرز سے بہتر قومی، فکری اور اسلامی بنیادوں پر رائے عامہ بنانے والے لوگوں کو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں جگہ دی جائے۔انہی کے ذریعے مسائل کے  استدلال کی گھتی سلجھائی جائے بلکہ تمام تر اخلاقیات و دینیات کے منبع و مرجع کے حصول کے لیے بھی ان ہی کی رائے کو مقدم جانا جائے۔ ایسے رجال العصر کی کھیپ تیار ہو جو دین و دنیا پر بہترین مہارت رکھتے ہوں۔ مذہبی آؤٹ فٹس سے جان چھڑا نا بھی ضروری ہے جنہوں نے اسلام اور آقائے دو جہاں ﷺ  کے نام پر فساد فی الارض کی کو شش کی۔ اسی طرح لبرل چہروں کے دہرے کرداروں سے بھی بچنا ہو گا اور انہیں سمجھانا ہوگا  کہ یہ دھرتی کلمہ طیبہ کے نام پر بنی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستا ن کے حقیقی تصور کو بھی سمجھنا ہو گا جو ہمیں قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے فکر و نظریہ سے ملتا ہے۔

حالات بد ل رہے ہیں، تقاضے بدل رہے ہیں، پہلے سنتے تھے دو پارٹیاں ایک صفحے پر ہیں ،اب سماعتیں ملتی ہیں کہ نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔سیانوں نے خبر دی ہے کہ اب صفحات کے نمبر ز بھی بدل رہے ہیں۔جیسے بسنت بازی کے موقع پرجوشیلے پولیس اور والدین کے خوف کے بغیر اپنی تسکین کی خاطر میدان کارزار میں پاؤں رکھتے ہیں اور پھر جان پر کھیل کر گڈیاں اڑاتے اور لٹاتے ہیں۔

julia rana solicitors london

ویسے ہی اب سیاسی کھیل چوکوں چوراہوں اور گلیوں محلوں میں گرم ہونے والا ہے۔ دہقان اور کسان اب ایک ہی تھالی میں کھا رہے ہیں۔ اپوزیشن والے لین دین کے چکر میں عوام کی چکی  پیسنے  میں کردار ادا کررہے ہیں۔کوئل اور بلبل کی آوا ز کی بجائے اب شکرے او ر مارخور کی آواز سے سناٹا چھاتا جا رہا ہے۔ بندر وں نے اپنے مورچے سنبھا ل لیے ہیں۔ چھوٹے تھے تو برف بار ی کے کالے گالوں سے بھی ڈرتے تھے اور چوبیس گھنٹوں میں دن کی روشنی صبح 10 سے 3 بجے تک ہی دیکھ سکتے تھے۔ اب نئے دور کے نئے تقاضے ہیں۔صبح ہو نہ ہو، مگر رات 12 بجے تک اندھیری نہیں آتی۔عمر طفلی کے چند گوشے کبھی کبھی گنگنانے اور یاد کرنے کا موقع ملتا ہے تو خوشی کے مارے دل لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے پھر اچانک دورحاضر کا جھٹکا لگتا ہے تو پرانی سنہری یادیں چکنا چور ہو جاتی ہیں۔

تحریک لبیک کیساتھ جو پہلے ہوا اور پھر اس حکومت میں ہوا، زیادتی در زیادتی ہوئی۔ اگر نواز شریف چاہتے تو حالات پہلے ہی کنٹرول کیے جاسکتے تھے اور اس بار بھی اگر وزیر اعظم معاملات کو اصلاحی نظر سے دیکھ کر پہلو تہی کرنے کے بجائے سلجھاؤ کی طرف جاتے تو آج ہمارے پولیس بھائی یاتحریک لبیک کے لوگ اپنے گھر والوں سے جدا نہ ہوتے۔خبر ہے کہ پنجاب حکومت کالعدم تحریک لبیک کو اب لفظ ”کالعدم“ سے آزاد کر کے تحریک لبیک کہنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ تحریک لبیک کے جو معاملات نواز شریف کے دور میں چلے تھے۔ اب یہ معاملات مزید کچھ انتخابی حلقوں میں اپنی جگہ بنانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ تحریک لبیک چلے گی اور زبردست چلے گی۔

Advertisements
julia rana solicitors

صفحات بدل رہے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہو گا کہ تحریک لبیک کا جوڑ اب پنجاب میں پڑے گا، سندھ میں یا کے پی میں۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ تحریک لبیک اب سیاسی حوالے سے بھی اپنا بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے جسے اب کم کرنا تقریبا ً ناممکن ہے۔ کیوں کہ سیاسی جماعت کو آپ سیاست میں رہتے ہوئے ناک آؤٹ کر سکتے ہیں،مگر حربوں سے نہیں۔ شنید یہ ہے کہ اگلے عام انتخابات میں تحریک لبیک کو  ایک بار پھر سے د و سیاسی جماعت کے ووٹو ں کو بڑے پیمانے پرکاری ضرب لگائی گی۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply