مرد اور عورت کی مساوات کا بیانیہ۔۔حافظ محمد زبیر

سوال یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے مرد ہی کو چار شادیوں کی اجازت کیوں دی ہے، عورت کو کیوں نہیں دی؟ جواب: یہ ایک سوال اس باب میں ایک مستقل بیانے کو پیش کر رہا ہے۔ اگر آپ کا اس بیانیے پر ایمان ہے تو یہ سب سوالات بے معنی ہیں۔ اور اگر اس بیانیے پر ایمان نہیں ہے تو پھر تو یہ سوالات دوگنا بے معنی ہیں۔
تو سوال یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل نے کسی عورت کو نبوت کیوں نہ دی؟ سوال یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل نے ابلیس سے محض آدم ہی کو سجدہ کیوں کروایا، اماں حوا کو کیوں نہ کروایا؟ سوال یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل نے عورت کا وراثت میں حصہ آدھا کیوں رکھا؟ سوال یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل نے عورت کی گواہی آدھی کیوں رکھی؟ سوال یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل نے مرد ہی کو عورت پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت کیوں دی، عورت کو کیوں نہ دی کہ نشوز تو مرد سے بھی ہو سکتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
ان سب سوالوں کا جواب ایک ہی ہے کہ جب اس کو خالق مان لیا تو اس کی مرضی کہ وہ اپنی ایک مخلوق کو دوسری سے برتر قرار دے، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟ جب آپ نے مان لیا کہ آپ پیدا کیے گئے ہیں تو جس نے پیدا کیا ہے، اس کا آپ پر حق فائق ہے نہ کہ آپ کا۔ ٹوائے اسٹوری میں اس کا بہت اچھا جواب ہے کہ اینڈی اپنے کھلونوں میں سے کاؤ بوائے کو ہی کیوں ترجیح دیتا ہے؟ بھئی اس کے کھلونے ہیں، اس کی مرضی۔ کسی کھلونے کو پاس سلائے یا کسی کو الماری میں رکھ چھوڑے۔
البتہ ایک مخلوق پر دوسری مخلوق کی اس برتری کی حکمت پر ہم غور کر سکتے ہیں۔ تو وہ حکمت یہ ہے کہ خالق اس برتری کو قائم کر کے اپنی مخلوق میں سے ایک کو دوسرے سے آزمانا چاہتے ہیں۔ یہی آزمائش آدم وابلیس کے قصے میں بھی ملے گی۔ جو اس آزمائش میں کامیاب ہو گیا، وہ فرشتہ کہلایا اور جو ناکام ہوا، وہ شیطان بن گیا۔ یہ آزمائش کیا تھی کہ ایک مخلوق کو دوسری پر ترجیح دی گئی تھی اور دوسری سے مطالبہ تھا کہ اس ترجیح کو بلا دلیل مانے کہ اس کے خالق کا یہ تقاضا ہے۔ وہی آزمائش آج بھی جاری ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب فلسفہ آزمائش ہے اور کچھ نہیں۔ اور اسی آزمائش کے واسطے ہی سب کچھ پیدا کیا ہے۔ البتہ آزمائش آزمائش میں فرق ہے کہ کسی کو کسی طرح آزمایا اور کسی کو کسی طرح۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

حافظ محمد زبیر
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کامساٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ تقریبا دس کتب اور ڈیڑھ سو آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply