میں بڑی ہو کر قبدیل بلوچ بنوں گی۔ثنا اللہ احسن

آج فری ٹائم میں بچوں سے گپ شپ لگانے کا دل کِیا تو ایسے ایسے انکشافات ہوئے کہ حیرت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، کلاس ششم کی طالبات کے کمرہ جماعت میں موجود تھی، میں نے باری باری سب سے ایک ہی سوال کیا آپ بڑی ہوکر کیا بننا چاہیں گی؟
ٹوٹل 14 بچیاں تھیں جن میں سے تین کے جوابات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا آخر ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟
ایک بچی نے کہا میں سنگر بننا چاہتی ہوں، جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی .
‏Teacher because i love music. Music is my life.
دوسری بچی نے جواب دیا میں ڈانس سیکھنا چاہتی ہوں لیکن میرے پیرنٹس سپورٹ نہیں کرتے، اس لیے جب وہ گھر نہیں ہوتے میں کمرہ بند کر کے فل والیوم میوزک پر ڈانس کرتی ہوں.
تیسری بچی نے کہا میں قندیل بلوچ جیسی بننا چاہتی ہوں، میں نے پوچھا لیکن وہ کیوں؟ تو اس نے جواب دیا ٹیچر وہ بہت مظلوم تھی اس نے ناصرف اپنے گھر والوں کو سپورٹ کیا بلکہ اپنے خوابوں کو بھی پورا کیا، میں نے پوچھا یہ سب آپ کو کیسے پتا؟ تو جواب ملا ٹیچر اس کی لائف پر جو ڈرامہ بنا ہے میں نے وہ دیکھا ہے.

یہ سب سن کر پہلے تو مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ کون سی دیوار میں جا کر سر ٹکراؤں، پھر میں نے سوچا کم از کم مجھے تو اپنی ذمہ داری ہر صورت پوری کرنی چاہیے، خیر بچیوں کو اگلے بیس منٹ میں ان عظیم خواتین کا تعارف کروایا جنہوں نے حق کی سربلندی کی خاطر اپنی جان، مال اور اولاد تک قربان کر دی.
آسیہ علیہ السلام سے لے کر فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا کی مثالیں بھی دیں، ان کے چہروں کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ کچھ اثر بھی ہوا ہے، اس کا وقتی اثر تو ہوگا، لیکن مستقل حل والدین کے پاس ہی ہے، اس لیے سوچا ہے ان کے والدین سے ایک میٹنگ رکھوں. اور ان کے والدین سے ڈسکس کرکے ان کا ماحول چینج کرنے کا کہوں، کہ بچوں کو  ذرا میڈیا ایفیکٹس سے بچائیں۔آپ لوگ تجاویز دیں مزید کیا کِیا جاسکتا ہے؟(سیما سعید)

چلیے یہ بھی چھوڑئیے۔ کیا ہزاروں پاکستانی اور مسلم خواتین دور حاضر کی ایسی نہیں ہیں کہ جنہوں نے ہزار رکاوٹوں کے باوجود تعلیم، طب، بزنس، سیاست، مفاد عامہ، خدمت خلق، فوج، سفارتکاری، اور دیگر شعبہ جات میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ آپ نے آج تک پاکستان کی پہلی پائلٹ خاتون اور پھر پاک فضائیہ میں بطور فائٹر پائلٹ کمیشن حاصل کرنے والی خواتین پر بطور ہیروئن کوئی  ڈرامہ یا فلم پیش نہیں کی۔ آپ نے دیہی علاقوں میں ظلم اور جبر کے آگے ڈٹ جانے والی بہت سی خواتین کی کہانیاں تو پیش نہیں کیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب مدیحہ لودھی صاحبہ کی زندگی پر تو کوئی  فلم نہیں بنائی  کہ وہ کیسے اس اعلی اور باوقار مقام تک پہنچیں۔

ماڈلنگ کے علاوہ کیا فیشن ڈیزائننگ پروفیشن نہیں ہے۔ کیا بہت سی پا کستانی خواتین آرائش جمال میں انتہائی  مہارت اور اعلی کارکردگی نہیں دکھا رہی ہیں۔ نیو کراچی میں کھانا گھر شروع کرنے والی خاتون پر کوئی  ڈرامہ بنایا آپ نے؟ بلقیس ایدھی کی خدمات کو کبھی بطور رول ماڈل نوجوان خواتین کے لئے پیش کیا؟ بس لے دے کر سنگنگ ماڈلنگ ہی رہ گئی  ہے کچے ذہنوں کو برباد کرنے کے لئے۔ یہ بڑا آسان لگتا ہے نا ، نہ پڑھنا نہ لکھنا، نہ تعلیم نہ محنت۔ بس گانا گاؤ، ڈانس کرو، یا ننگے ہوجاؤ اور شہرت و دولت تمہارے قدم چومے گی۔

ہمارا میڈیا اس سلسلے میں انتہائی  شرمناک کردار ادا کر رہا ہے۔ جس زور شور سے پورے ملک پوری قوم میں موسیقی کا ٹیلنٹ تلاش کرنے کے لئے پاکستان آئیڈل اور نوجوان لڑکیوں میں ماڈلنگ کا کریز پیدا کرنے کے لئے مس ویٹ پاکستان جیسے مقابلوں کی   تشہیر کر کے سینکڑوں ہزاروں کچے ذہنوں کو دلفریب خواب دکھائے جاتے ہیں۔ لیکن اس سب گورکھ دھندے کے بعد مجھے بتا دیجئے کہ پاکستان آئیڈل کا ٹائٹل جیتنے والا آج کہاں ہے؟ مس ویٹ پاکستان کا ٹائیٹل جیتنے والی ماڈلز آج کل کیا کر رہی ہیں اور انہوں نے اس فیلڈ میں کون سی کامیابیاں حاصل کرلیں۔یہ سارا کھیل صرف اور صرف نوجوان نسل میں ہیجان خلفشار ، مذہب اور تہذیب سے دوری اور اندھا دھند مغرب کی تقلید کے سوا کچھ نہیں۔

قندیل بلوچ کے حق میں آوازیں اٹھانے والے نام نہاد کیا یہ بتانا پسند کریں گے کہ وہ اپنی بہن بیٹی کے لئے یہ پسند کریں گے کہ وہ ہر دوسرے دن فیس بک پر اپنی نیم عریاں تصاویر ڈالے اور وڈیو پر قابل اعتراض لباس میں ڈانس کرکے لائیو مجرا پئش کرے؟۔ غیر اخلاقی لباس تو چھوڑئیے اس نے ایک تین انچ کی دھجی نما بکنی میں فیس بک پر لائیو پرفارمنس بھی دی۔ جس نے آن لائن شاہد آفریدی سے وعدہ کیا کہ اگر پاکستان T20 کپ جیت گیا تو وہ لائیو اسٹرپ ٹیز شو کرے گی۔ یعنی کہ برہنہ ہو کر دکھائے گی۔ جب ایک عورت اخلاق باختہ ہو جائے تو اس کے پاس لے دے کر واحد ہتھیار یہی رہ جاتا ہے ۔

قندیل بلوچ کس ایجنڈے پر کام کر رہی تھی؟ مفتی عبدالقوی سے ملاقات اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنا کر کس لئے سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں؟ اس کا مقصد اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ مفتی عبدالقوی جیسی کالی بھیڑاور کمزور کردار کے مالک شخص کو اپنا شکار بنا کر اس نے تمام علما اکرام اور مفتیان کے کردار پر ایسی کیچڑ اچھالی کہ لوگ مفتیوں اور علما اکرام کو گالیاں دینے لگے۔ اور اس سب کا واحد مقصد اسلام کو بدنام کرنا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ٹی وی ڈرامے میں قندیل بلوچ کو بطور ہیروئن پیش کیا جا رہا ہے۔ مذہب، اخلاقیات اور تہذیب سے بالاتر اس کی تمام حرکتوں سے نظریں چرا کر بلکہ پردہ پوشی کر کے اسے ایک مظلوم اور معاشرے کی ستائی  خاتون کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

مجھے بتا دیجئے کہ کس بات کی مظلوم تھی۔ اس جیسی کروڑوں خواتین پاکستان میں اپنے غریب شوہر اور بچوں کے ساتھ زندگی گزار ہی رہی ہیں۔ قندیل بھی اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔ لیکن  غریب شوہر قندیل کی فرمائشیں پوری نہ کرسکا تو اس نے یہ راستہ اپنایا۔ یہاں پھر میڈیا ہی اس بے راہ روی کا سبب بنا کہ یقیناً ” میڈیا اور گلیمر کی چکاچوند دیکھ کر ہی قندیل کا ذہن بدلا ہوگا۔
بلاشبہ ہم سب فرشتے نہیں ہیں بلکہ بڑے گناہگار ہیں۔ ہم سے روزانہ بے شمار لغزشیں سرزد ہوتی ہیں اور ہمارا ضمیر یقینا” ملامت کرتا ہے کہ ہم گناہ یا غلط کام کر رہے ہیں۔ لیکن گناہ کو جائز سمجھنا اور پھر لوگوں میں اس کو بطور ایک احسن عمل کے پیش کرنا۔ لوگوں کو اس بدعملی پر اکسانا۔ معاف کیجئے گا یہ کام شیطان کا ہے۔براہ کرم ہمارے مذہب میں جو گناہ ہے کم از کم اس کو تو گناہ کے طور پر پیش کیجئے۔
نوٹ: اس پوسٹ کا پہلا پیراگراف Seema Saeedکاپی کیا گیا ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *