بیواؤں کی آہ۔محمد اظہار الحق

SHOPPING

عمر پچھتر اور اسی کے درمیان ہوگی۔چہرے کے نقوش اب بھی لطافت کا پتہ دے رہے تھے۔لباس صاف پرانا لگ رہا تھا مگر اجلا۔پاؤں میں ربڑ کے سیاہ جوتے۔ہاتھ میں لاٹھی۔گاڑی سے نکل کر دکان کی طرف جارہا تھا کہ اس نے روکا۔

SHOPPING

“یہاں کہیں”مرکزی قومی بچت” کا دفتر نیا نیا شفٹ ہوا ہے۔مجھے مل نہیں رہا۔”
میں نے احترام سے جواب دیا ۔”جی مجھے نہیں معلوم ‘پوچھ کر بتاتا ہوں۔”
دکاندار سن رہا تھا۔اس نے آگے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ چھ سات دکانیں چھوڑ کر دائیں طرف ہے۔عمر رسیدہ خاتون مڑی۔پتہ نہیں کیا ہوا’لاٹھی پھسلی یا پاؤں ٹیڑھا پڑا ‘گر پڑی۔وہ تو حسنِ اتفاق تھا کہ نیچے کچی زمین تھی ورنہ اس عمر میں فریکچر ہونے کے لیے بہانہ چاہیے۔دکاندار اور میں دونوں آگے بڑھے اور اٹھایا۔خاتون کا سانس بھی یوں لگ رہا تھا جیسے کچھ کچھ اکھڑ گیا ہو۔دکاندار اندر سے کرسی لے آیا۔بٹھایا پھر پانی کا گلاس پیش کیا۔اٹھنے لگی تو میں نے کہا آئیے’میں آپ کو مرکزی قومی بچت تک چھوڑ آتا ہوں ۔
اس نے اپنے بڑھاپے اور اکلاپے کی باتیں شروع کردیں ۔یوں کہ قومی بچت کے دفتر میں داخل ہوئے تو وہ مسلسل بول رہی تھی۔میں نے مناسب سمجھا کہ کاؤنٹر پر کھڑا رکھنے کے بجائے معمر خاتون کو بٹھا دینا چاہیے۔میں اسے منیجر کے دفتر میں لے گیا۔خوش اخلاق منیجر اٹھ کر ملا۔میں نے بتایا کہ خاتون گر پڑیں اور میں فقط چھوڑنے آیا ہوں۔ ان کا کام جلد ہوجائے تو بہتر۔منیجر سراپا مسکراہٹ تھا۔کہنے لگا آپ بھی تشریف رکھیے۔میں ان کا کام ابھی کراتا ہوں ۔
اس نے چیک بک خاتون سے لی ۔خود ہی بھری ۔پھر دستخط کرا کر خود کاؤنٹر پر گیا اور پانچ منٹ بعد آکر رقم خاتون کے ہاتھ میں پکڑائی۔خاتون نے رقم گنی۔اب وہ خود کلامی کررہی تھی۔”تیئس ہزار چار سو۔”اس نے رقم دوبارہ گنی ایک بار پھر آہستہ سے”تیئس ہزار چار سو۔”کہا پھر بیگ کی زپ کھول کر رقم اس میں رکھی۔اس کی خود کلامی جاری تھی۔
“خدا اس کا بیڑہ غرق کرے’ذلیل و رسوا ہو’ اللہ کرے کبھی نہ پھلے پھولے۔”
پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔میں کچھ کہنے لگا کہ منیجر نے بیک وقت آنکھوں اور ہاتھ کے اشارے سے منع کیا
میں نے خاتون سے پوچھا۔”آپ کو چھوڑ آؤں “؟
کہنے لگی’نہیں بھائی !میں نزدیک ہی رہتی ہوں ‘چلی جاؤں گی۔”
وہ لاٹھی ٹیکتی نکل گئی’ میں نے منیجر سے پوچھا’یہ بدعائیں کسے دے رہی تھی؟اس نے ایک آہ بھری۔
“اسحاق ڈار صاحب کو”
پھر وہ خود ہی خاتون کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرنے لگا۔خاتون بیوہ تھی۔بچے اپنے اپنے گھروں کے ہوگئے۔ مزاج ایسا ہے کہ کسی بچے سے کچھ لینے کو تیار نہیں ۔گھر کا بالائی حصہ کرائے پر اٹھارکھا ہے۔کچھ وہاں سے مل جاتا ہے۔میاں نے انتقال سے پہلے اس کے نام تیس لاکھ روپے مرکز قومی بچت میں “بہبود فنڈ” کے حوالے سے جمع کرا دئیے تھے۔”بہبود فنڈ”صرف ان مردوں اور عورتوں کے نام کھل سکتاہے جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہو۔2013ء میں جب میاں نواز شریف کی حکومت آئی تو بہبود فنڈ میں جمع کرائے گئے ایک لاکھ پر ایک ہزار ساٹھ روپے منافع ملتا تھا اس خاتون کو تیس لاکھ پر اکتیس ہزار آٹھ سو روپے ماہانہ مل جاتے تھے۔یوں اس کی گزر بسر ہو رہی تھی۔ اسحاق ڈار صاحب وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے یہ منافع گھٹانا شروع کردیا ۔ان بوڑھے لوگوں کی جمع شدہ رقم اربوں میں تھی۔حکومت اس خطیر رقم سے خوب فائدے اٹھا رہی تھی۔وزیراعظم ‘صدر اور کابینہ کے ارکان کے اللے تللے اس کے علاوہ تھے۔ مگر بچت کرنے والوں کو اسحاق ڈار صاحب نے جوتے کی نوک پر رکھا۔ ایک ہزار ساٹھ سے کم کرکے نو سو اور کچھ کردیا۔ پھر ہوتے ہوئے یہ رقم اب صرف سات سو اسی روپے رہ گئی ہے۔یعنی ایک لاکھ پر دوسو اسی روپے کم ہوئی۔اب اس صیغہ کو اکتیس ہزار آٹھ سو کے بجائے تیئس ہزار چار سو روپے ملتے ہیں ۔ یہ ہر ماہ آتی ہے۔رقم گنتی ہے۔2013ء سے پہلے ملنے والی رقم سے اس کا تقابل کرتی ہےاور پابندی کے ساتھ اسحاق ڈار صاحب کو بدعائیں دیتی ہے۔اب تو اس کی بدعائیں مجھے بھی یاد ہوگئی ہیں ۔
“خدا اس کا بیڑہ غرق کرے’ذلیل و رسوا ہو’اللہ کرے کبھی نہ پھلے پھولے۔”
میرادل لرزنے لگا۔اسحاق ڈار صاحب کی وہ تصویر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگی جو حال ہی میں وائرل ہوئی ہے۔ لندن کے کسی ہسپتال میں پڑے ہیں ۔تو یہ کہیں بیواؤں کی آہ تو نہیں جو انہیں لگی ہے؟صرف ایک ہی بیوہ تو بددعا نہیں دے رہی ہوگی!ستر ستر اسی اسی سال کے مرد اور عورتیں ‘جو ملازمت کر سکتے ہیں نہ کاروبار ،اپنی زندگی بھر کی کمائی “قومی بچت ” والوں کے سپرد کردیتے ہیں ۔اس امید پر کہ اس عمر میں ہر ماہ کچھ نہ کچھ ملتا رہے گا۔”قومی بچت” کے ملازمین ،اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتاتے ہیں کہ ان بیواؤں اور بوڑھوں کے جمع شدہ بتیس ارب روپے بجٹ میں “آمدنی “کے طور پر دکھائے گئے ہیں ۔حالانکہ یہ تو ایک لحاظ سے قرض ہے اسے اثاثوں میں نہیں شمار کیا جاسکتا۔
اسحاق ڈار صاحب کے اپنے اثاثے اس عرصہ میں مبینہ طور پر نوے لاکھ سے نوے کروڑ ہوگئے۔ دبئی میں فلک بوس ٹاور کھڑے ہیں ۔فرزند ارجمند بیرون ملک ہیں ۔کروڑوں کے تحائف اور “قرضے”باپ بیٹے کے درمیان”محبت” کے رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر کررہے ہیں ۔اسحاق ڈار صاحب عملاً وزیراعظم تھے۔ اصل وزیراعظم جناب نواز شریف کو کسی اجلاس سے،کسی فائل سے ،کسی دماغی کام سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ان کی طبع ِ نازک کسی قسم کا بوجھ برداشت کرنے سے عاری تھی۔ ای سی سی کے کسی اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے نہ کی۔سب کچھ اسحاق ڈار صاحب کے سپرد تھا۔ وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرسکتے تھے ۔ظفر حجازی ہوں یا انٹر نیشنل بنک کے سعید احمد،سب ان کے اشارہ ابرو پر رقص کرتے تھے۔ بیسیوں چھوڑ سینکڑوں کمیٹیوں کے ڈار صاحب چیئرمین تھے۔ بولتے تو “ہمچو ما دیگری نیست”کا نمونہ ہوتے۔باڈی لینگوئج ایسی تھی جیسے روئے زمین پر ان کا ہمسر کوئی نہ ہو۔وزراء کو بھی ماتحت ہی گردانتے ۔ان کے پاس اتنا وقت ہی نہ تھا کہ بوڑھوں ،بیواؤں ،ضعیفوں،فقیروں کے بارے میں سوچتے۔اٹھتے بیٹھتے ایک ہی فکر تھی کہ ٹیکس زیادہ سے زیادہ لگائیں۔خزانے میں ایک طرف سے پیسہ آتا رہے،دوسری طرف سے نکلتارہے اور نکل کر ان حوضوں ،تالابوں میں جاتا رہے جو ان جیسے امراء کے ہیں ۔چنانچہ انہوں نے بیواؤں اور بوڑھوں کو نچوڑا۔خوب،پوری قوت سے نچوڑا،زندگی بھر کی بچت ان سے لے لی اور بدلے میں،ہر کچھ ماہ بعد،ان کے منافع کو قینچی سے کاٹتے رہےیہاں تک کہ وہ چیخ اٹھے۔
پھر بیواؤں کی آہیں آسمان تک پہنچیں ۔اسحاق ڈار صاحب بلند و بالا تخت سے نیچے گرےاور تاحال مسلسل نیچے لڑھکتے جارہے ہیں ۔کاغذ پر بدستور وزیر خزانہ ہیں مگر ملک کے اندر پاؤں دھرنے سے ڈر رہے ہیں ۔ کمیٹیوں کی صدارت خواب و خیال ہوئی۔ای سی سی کی چودھراہٹ چھن گئی۔کل مشترکہ مفادات کونسل رکنیت سے بھی فارغ کردئیے گئے۔
مگر اصل سزا یہ نہیں ،اصل سزا جو ڈار صاحب کو بیواؤں کی آہ لگنے سے ملی ہے وہ بدنامی ،وہ تضحیک،وہ جگ ہنسائی اور وہ بےحرمتی ہے جو ان کے ارد گرد دیوانہ وار رقص کررہی ہے۔مالی کرپشن کا ٹیکہ ان کے ماتھے پر لگا ہے۔ان کی حیثیت ایک مجرم کی ہے۔عدالت سے بچتے پھر رہے ہیں ۔بیواؤں اور بے کس بوڑھوں کی آہ کا اثر دیکھیے کہ وزیراعظم کے بعد ملک کا طاقت ور ترین فرد آج ایک تہمتِ بے جا کے سوا کچھ بھی نہیں !دیار ِ غیر کے ایک ہسپتال میں پڑا ہے۔اگر بیماری واقعی وجود رکھتی ہے اور علاج ہی کے لیے بستر پر پڑے ہیں تو حالت قابلِ رحم ہے اور اگر بیماری عدالتوں سےبچنے کا محض بہانہ ہے تو حالت قابلِ رحم ہونے کے علاوہ عبرتناک بھی ہے۔ سو ہے کوئی جو ڈار صاحب سے عبرت پکڑے؟عبرت پکڑو!اے آنکھوں والو!ڈار صاحب سے عبرت پکڑو۔
نوے کروڑ ہیں یا نوے ارب،یا دبئی کے سر بفلک ٹاور، ڈار صاحب کو اس بدنامی ،اس جگ ہنسائی ،اس تضحیک سے کوئی نہیں بچا سکتا جو ان کے ماتھے پر کُھدچکی ہے،جو سائے کی صورت ان کے ساتھ لگی ہے۔چلیے، عزت کا خیال نہ سہی،کہ ان “بڑے “لوگوں کی عزت بھی وہ عزت نہیں ہوتی جس کا معنی لغت میں لکھا ہے،عزت پر لعنت بھیجئے،مگر بے سکونی، ذہنی دباؤ،مسلسل پریشانی،ٹینشن تو وہ حقیقت ہے جس سے آنکھ نہیں چرائی جاسکتی۔ کاش ڈار صاحب بیواؤں کی آہوں کو دعوت نہ دیتے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *