خداؤں کی بستی۔۔محمد وقاص رشید

آج صبح فیکٹری پہنچا تو کچھ ہی دیر میں ایک کمپلینٹ آ گئی جسے حل کرنے کے لیے اپنے اوزاروں کے ساتھ کافی بلندی پر واقع متعلقہ مشین کی طرف روانہ ہو گیا ۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ذہن خالی نہیں تھا،بلندی پر بھی کچھ پستیاں اور ان میں بستی بستیاں اور کچھ ہستیاں ساتھ ہوتی ہیں۔ آج مگر انکا ساتھ صرف خیالوں کی حد تک نہیں تھا ۔ آپ جانتے ہیں اکثر نہیں ہوتا۔

میں آخری سیڑھی پر چڑھا تو ایک خاکزاد سامنے کھڑا تھا،میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھاِ بیلچے کے ذریعے ادھر اُدھر گرا ہوا سیمنٹ ایک بیلٹ کے اوپر ڈال رہا تھا، خود واقعی ثابت کر رہا تھا کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور میرے لیے رک گیا،خاک زاد جو تھا ۔میری کوشش ہوتی ہے کہ اگر میرے لیے کوئی میرا یار میرا جگر مزدور یا سوئیپر رک جائے تو قریب جا کر ضرور اسکا شکریہ ادا کروں یا دور سے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلیوٹ والے انداز میں شکریہ کہہ دوں میں جب انہیں Thank you sir کہتا ہوں تو انہیں لگتا ہے یا میں کوئی خلائی مخلوق ہوں یا وہ کوئی خدا کے سوتیلے خلیفہ ہیں ۔

julia rana solicitors london

میں نے نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو یوں لگا جیسے اسکے بیلچے کے دستے پر ہاتھ رکھا ہے،استخوانی جسم کا کندھا اور کیسا ہوتا،خیر اسے محسوس کروائے بغیر میں نے کہا thank you sir تو اسکی اندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں پھٹ کر گویا باہر آنے کو تھیں۔ او نہیں سر جی کہہ کر گویا جھک ہی گیا۔ اسکے چہرے پر مشقت کی لکیریں دکھنے لگیں کیونکہ خاکزادوں کی قسمت نہیں مشقت کی لکیریں ہوتی ہیں جو ہاتھوں سے نکل کر چہرے پر کندہ ہو جاتی ہیں ۔

میں اپنے کام میں لگ گیا تقریباًٍ  ایک گھنٹہ بیت گیا ۔خاکزاد غائب تھا،میں نے ادھر اُدھر دیکھا ،وہ نہیں تھا ۔ میرا کام مکمل ہو چکا تھا میں نیچے جانے لگا تو سوچا اور اوپر جاتا ہوں شاید وہاں سے دنیا بہتر نظر آئے کہ ایک ذیلی انسٹرومنٹ کو بھی چیک کر تا چلوں۔ شام کو باس کو بتا کر نمبر بناؤں گا، مجھے مشین کے لئے نہیں،  ایک نئے جہان اور نئی داستان کے لیے آواز دی گئی تھی شاید ۔۔ایک چھوٹی سیڑھی چڑھ کر میں اوپر گیا تو ایک سائے میں خاک زاد اپنا دستر خوان کھولے بیٹھا تھا،ایک “پونڑیں ” میں ایک روٹی بندھی ہوئی تھی اور اس پر تھوڑا سا اچار اور گڑ رکھا تھا، مجھے دیکھ کر کہنے لگا “آؤ روٹی کھا گھنو” (آؤ روٹی کھا لو) ۔۔یہ دعوت دیتے ہوئے مجھے لگا اس وقت اسکی مسکراہٹ بھری اچار روٹی گڑ کی دعوت نے روئے زمین پر بچھے قدرت کے تمام دستر خوانوں کو مات دے دی ہے، زمین پر سوتیلے سمجھے جانے خلیفہ خدا نے سگوں کے تمام وسائل کا منہ چڑا دیا ہے، میں نے کہا نہیں یارا بہت شکریہ۔۔

یہ کہہ کر میں اس انسٹرومنٹ کی طرف چلتے ہوئے اور اسکے سامنے کھڑے ہوئے نیچے زمین پر دیکھ رہا تھا اور تا حد نگاہ پھیلی خدا کی زمین مجھے سمٹ کر خاکزاد کے دستر خوان پر محدود ہوتی نظر آ رہی تھی۔۔۔۔ان لوگوں کو نام نہاد مدینے کی ریاست کا قول و فعل کے تضاد کا مارا ہوا حکمران اپنے ارب کھرپ پتی کاسہ لیسوں کو سامنے بٹھا کر صبر کرنے کی تلقین  کرتا ہے اور اسکے وہ ارب پتی وزیر میرے یار خاکزاد جیسے مزدوروں کو دس نوالے کم کھانے کا بے حس اور متکبرانہ مشورہ دیتے ہیں جن کے دستر خوانوں پر ہوتے ہی کل دس نوالے ہیں ۔میں نے عقب سے اسکی تصویر بنا لی ۔

رُکیے کہاں چلے؟ ۔  اصل کہانی ابھی باقی ہے۔ میں یہ کہانیاں اپنے بچوں کو جا کر ضرور سناتا ہوں  تا کہ انسانیت کا درد لے کر بڑے ہوں، آگے وہ جانیں خدا جانے ، میں خاکزاد کے پاس گیا اور جاتے ہوئے اسکے دسترخوان کی تصویر لینا چاہتا تھا ۔میں نے اس سے اجازت لی کہ کیا میں آپکے دستر خوان کی تصویر لے سکتا ہوں تو اس نے مجھے زندہ درگور کر دیا ۔ اسکا لجاجت بھرا چہرہ کوئی پھندا بن کر میرے گلے میں آ گیا۔  ایک ہاتھ ماتھے پر رکھ کر کہنے لگا ۔ بھلا کرو۔۔۔ سر جی۔ ۔ ارے میں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو گیا۔ ۔ اپنی زبان میں کہنے لگا،آج کے بعد ناشتہ نہیں کروں گا یہاں۔ ۔ آج معافی دے دیو۔  ٹھیکیدار کو شکایت نہ لگانا ۔مجھے نکال دے گا۔

میر ا موبائل والا ہاتھ کانپنے لگا، آنکھوں کے آگے اندھیرا سا آنے لگا، ایک دم ذہن میں خیال ابھرا کہ موبائل کو اس اونچائی سے زمین پر پھینک دوں، اس زمین پر جہاں پستی ہی پستی ہے کوئی اونچائی نہیں ۔ جہاں انسانوں کی غلامی کا عالم یہ ہے کہ ایک بھوکے کو لگتا ہے کہ اسکا اپنا پیٹ بھرنا بھی جرم ہو سکتا ہے۔ وہ جرم جسکی سزا بھی بھوک ہے،سزائے بھوک ، عمر قید بمشقت۔

خدا نے انسان کو فرشتوں کا مسجود بنایا تھا۔  یہ سجدہ تھا ہی اس علمیت کو کہ جس کی بنیاد پر انسان نے خود کو اور اس خدا کو پہچان کر اشرف المخلوقات ہونا تھا  مگر انسان نے یہاں اس اختیار ہی کی بنیاد پر طبقات بنا لیے اور کروانے لگا سجدے خود کو نچلے طبقے کے ان لوگوں سے جن کی زندگی کی عبادت میں قیام ہوتا ہی نہیں صرف رکوع و سجود ہی ہوتے ہیں۔  سر انکے ماں باپ کے بختوں سے جھکتے ہیں اور گردن اور کمر اپنی بھوک سے۔

ایک انسان کو زندگی میں ایک خدا کی تلاش کے راستے میں بہت سے خدا ملتے ہیں، گندم کے خدا ، امارت کے خدا ، ذات برادری کے خدا ، نوکری /ملازمت کے آجر خدا ، علاقے میں اثرو رسوخ والے خدا ، ملک میں حکمرانی کے خدا۔ اور یہ تمام خدا وہ ہیں جو ایک خدا کے قائل ہیں۔  عجیب بات ہے جن دیاروں میں لوگ ایک خدا کے قائل نہیں ہیں وہاں یہ سب خدا نہیں ملتے۔۔۔ ایک خدا ملتا ہے۔

میں نے موبائل جیب میں ڈال لیا اور وہیں بیٹھ گیا  ،اس نے میری ساری دانشوری اپنی لجاجت کے ایک جملے میں کافور کر دی تھی۔ اس وقت میرا دانشور وہ خاکزاد تھا،جس نے مجھے زندگی کی تلخ ترین حقیقت ایک جملے میں آشکار کر دی تھی۔ میں نے اسے کہا،  نہیں میرے دوست، ہر گز نہیں،  میں نے کسی سے بھی تمہاری شکایت نہیں لگانی ۔ میں ایک چھوٹا موٹا لکھاری ہوں،  اپنے آس پاس چہروں کی دیواروں پر حالات کے لکھے نوشتے پڑھتا ہوں اور انہیں اپنے انداز میں تحریر کر دیتا ہوں۔ تصویر میں اس تحریر کے تعارف اور اس میں حقیقت کا مزید رنگ بھرنے کے لیے لینا چاہتا تھا اور خاص طور پر اپنے بچوں کو دکھانے کے لیے۔  مجھے معاف کر دو اگر تمہیں برا لگا خاکزاد۔  میں چاہتا تھا میرے لہجے میں اتنی ہی لجاجت ہو جتنی اسکے لہجے میں تھی تا کہ مجھے اور خاکزاد دونوں کو دل کے آخری کونے تک اور روح کی اخروی گہرائی تک یہ یقین ہو جائے کہ” میں خدا نہیں ہوں” ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس نے مسکرا کر مجھے گُڑ کھانے کو دیا،  میں نے تھوڑا سا گُڑ لیا  اور اسے سلام کرتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا۔ خداؤں کی بستی کی طرف، اپنی پستی کی طرف!

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply