قومیں کردارسے بنتی ہیں

قومیں کردارسے بنتی ہیں
شہزاد سلیم عباسی
قوموں کے زوال و انحطاط کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے مرتبے، منزل اور درجے کو بھول کرپستیوں اور ذلتوں کی راہ کو اختیار کر نا پسند کرتی ہیں ۔حکم ربانی سے اکتا کر شیطانی طریق پر چلنا اپنا پیشہ بنا لیتی ہیں اورگمراہیوں اور بربادیوںکو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہیںتونتیجتا وہ رسوائیوں، پریشانیوں اور مصائب کی دلدل میں گر جاتی ہیں۔عظیم قومیںہمیشہ مضبوط اخلاقی، معاشرتی، معاشی ،تعمیری اور تربیتی محاذوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔قومیں اپنی مضبو ط بنیادوں،روشن افکار،غیرمتزلز ل ارادوں ،آفاقی خیالات، غیر متذبذب اذہان،جمہوریت پسند مستحکم فیصلوں ، لاجواب اقداراور قانون کے احترام سے پہچانی جاتی ہیں۔ زندہ قومیں ملکوں کا فخر ہوتی ہیں ،قومیں جس دن مر جاتی ہیں اس دن سے ملکوں کے زوال شروع ہوجاتے ہیں۔ جب آزادی اظہار رائے کے حقوق لوگوں سے چھین لیے جاتے ہیں تو ممالک مہذب معاشرے جنم نہیں دیتے بلکہ مردے اور بے جان لاشے ثابت ہوتے ہیں ۔ جب برادری ازم کی بھینٹ چڑھا کرلوگوں سے انکے وو ٹ کا حق سلب کر لیا جائے تو اندر ہی اند ر ایسے لاوے تیار ہوتے ہیں کہ شاید جنکی تپش نسلوں کے بگاڑ کاسبب بنتی ہے۔جس ملک میں پچاس لاکھ سے زیادہ بھٹہ مزدورں سے ان کے حق رائے دہی کے حقوق غصب کر لیے جائیں ، جس ملک میں غریب کسانوں کو سبسڈی کی لالچ دے کر یا ڈرادھمکا کر ووٹ دینے کے لیے دبائو ڈالا جائے اور جس ملک میںدھاندلی کے نئے ریکارڈ قائم کرنے کے لیے الیکشن عملے ،سیاسی اثرورسوخ اور سیکورٹی اداروں کی ملی بھگت سے اداروں کے تقدس کو پامال کیا جائے ،تو شایدوہ ملک اٹامک پاور ہونے کے باوجو د بھی اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے دوسروں کا محتاج ہو گا۔ الیکشن کے دنوں میں غریب عوا م کو پیسوں کا لالچ دے کر زر خرید غلام بنانے والے درحقیقت اپنے ملک کے روشن مستقبل کو ہی دائو پر لگا رہے ہوتے ہیں۔جو ملک قرضے لینے اور آئی ایم ایف سے دوستی لگانے کی پینگیں بڑھائے تو وہ کیسے گمان کرسکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی فورم پر اپنے کسی جائز مطالبے کا بھی دفاع کرسکے گا۔جس ملک کے حکمران آمریت کو تو گالیاں دیں لیکن ان کی اپنی سوچ اور رویے آمریت سے بھی بدتر ہوں تو ایسی جمہوری حکومتیں آمرانہ سوچ ہی پروان چڑھاتی ہیں۔ الغرض مملکت پاکستان کا ہر صوبہ کرپشن اور رشوت بازاری کی داستانیں رقم کرتا نظر آتاہے ۔
ہم و ہ قوم ہیں جس نے ہیروں ، لعلوں ، گیندوںاو ر موتیوں کو خس و خاشا ک سمجھا اورغیروں کے ایجنڈوں پر عمل پیر ا ہوکربکائو مال کو فوقیت دی۔ہم نے حق کو چھپا یا اور ناحق کو پلکوں پر بٹھا کر نہ صرف ڈاکٹرعافیہ صدیقی ، ارفع کریم رندھاوا اور ایاز کو رسوا کیا بلکہ ملالہ یوسف زئی اور شکیل آفریدی جیسے مبہم کرداروں کو ہائی لائیٹ کیا۔ ہم سائنس ایجادات اور جدت و جدیدت کے نئے زینوں اور راہوں کی بات کرتے نہیں تھکتے لیکن راہ دیکھانے والوں کو امریکہ کے حوالے کردیتے ہیں اور کبھی سڑکوں پر بیٹھا دیتے ہیں۔ہم نے تعلیم ، قربانی اور پاکستان کا سرمایہ افتخار شخصیات کو چھوڑ کر اپنی جیبیں بھرنے میں ہی عافیت جانی۔ہمارے کردار ہمیشہ گو مگوں کی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں۔ہمارا منافقانہ طرز عمل ملک کی جڑوں کو کھوکھلہ کررہاہے۔ ہم مختلف کردارں کے مالک دوغلے لوگ ہیں۔ ہم نے اپنے قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں ہیں۔ ہمارا عدالتی نظام ایساہے کہ کسی امیر کو سزا نہیں ملتی جب کہ کسی غریب ہاری کو پیروی نہ کرسکنے کے جرم کی پاداش میں سزائیں سنا دی جاتی ہیں۔ہم عدالتوں کو قابل احترام اور سپریم ضرور مانتے ہیں لیکن ان سے فیصلہ سازی کا اختیار چھین لیتے ہیں اور ایسا سبق سیکھاتے ہیں کہ انہیں اپنی معیشت، معاشرت اور اہل وعیال کی فکر دامن گیر ہو جاتی ہے۔ ہمار ا قانون ایسا ہے کہ خود فاضل جج صاحبان بارہا قانون میں سقم ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں۔ ہمارا قانون جب کسی کو بری کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص جسے بری کیا گیا ہے وہ پانچ سال پہلے ہی فوت ہو چکا ہے ۔ ہم نظام بنانے وقت اسے آپریٹ کرنے کے لیے ہیرا پھیری کے راستے بھی تلاش کرتے ہیں۔ ہم عہدے تو دیتے ہیں لیکن عہدوں پر براجمان لوگوں کو اپنے من پسند طرز عمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم میرٹ کا واویلا تو پیٹتے ہیں ہیں لیکن میرٹ کے تمام راستے مسدود کر دیتے ہیں۔ہم شاندار معیشت اورروشن مستقبل کے بلند و بانگ دعوے تو کرتے ہیں لیکن تعمیر وترقی میں رخنے بھی ڈالتے ہیں۔ ہم عظیم قوم کے عظیم قائد کے ترانے تو پڑھتے ہیں لیکن قائد کے فرامین پر عمل در آمد کو توہین سمجھتے ہیں۔ ہم نیو کلئیر ہونے کا شور تو مچاتے ہیں لیکن جس نے ہمیں اس قابل بنایا اسے نظر بند کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے اصل ہیروز کو اسکے مرنے کے بعد خوب یاد کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے اسکی حیات میں اسے بدنما دھبے کی طرح دیکھتے ہیں۔ہم نظام عدل کی بات تو کرتے ہیں لیکن اسے بلاتفریق نافذ کرنے سے نہ صرف گریزاں رہتے ہیں بلکہ غریب وامیر کا فرق بھی برتتے ہیں۔ ہم قومی اداروں پر وہ لوگ بٹھاتے ہیں جو نہ صرف ہماری پشت پناہی کریں بلکہ ہمارے کالے دھن کو سفید بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں ۔ ہم ایک طرف مذہبی فرقہ پرستی کے خلاف مہم جوئی کرتے ہیں دوسری طرف خود ہی ایسے لوگوں کو نہ صرف پارٹی ٹکٹ دیتے ہیں بلکہ انہیں اپنی سیکیورٹی اور دوسرے مذموم مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ایک طرف ہم مذہبی رواداری کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ہم خود ہی نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ہم دہرے معیار رکھنے کی وجہ سے جہاں ایک طرف سیکولرازم اور لبرلزم کے نعرے لگاتے ہیں اور نعرے لگانے والوں کو پسند کرتے ہیں ، دوسری طرف ہم مساجد اور مدارس کو فورتھ شیڈیول میں ڈالنے کی پلاننگ کرتے ہیں۔
حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں اور اللے تللوں کے حصول کے لیے مطلب پرستی، غلامی، لالچ ،دھوکہ دہی،جھوٹ، رشوت خوری، ظلم وزیادتی، بھیڑ چال، قتل و غارت گری،اندونی و بیرونی محلاتی سازشوں، اور اوٹ پٹانگ حربوں کو اپنا وطیرہ بنا یا ہو ا ہے ۔ وطن عزیز کی حالت زار دیکھ کرنہیں لگتا کہ ہم کبھی سیدھے ہوسکتے ہیں۔بہرحال ضرب عضب اور خیبر ون ٹو کے دوران شوو غوغا کرنے والے دونوں فریقین اور دوسری سیاسی پارٹیوں سے گزارش ہے کہ قوم کو بااختیاربنائیں، عدلیہ کو فیصلہ سازی کا اختیار دلوائیں اور لوگوں کو کنفیوز رویوں سے نہیں بلکہ اپنے احسن اخلاق ، اقدامات اور مثبت سوچ سے قائل کریں۔کرپشن کے بتوں کو توڑ کر کردار کا غازی بننے کی ضرورت ہے۔بقول اقبال:اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے۔گفتارکا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا۔۔لہذاجب تک ہمارے کردار، افعال ، اقوال اور اعمال ملک و قوم کی بھلائی کے لیے استعمال نہیں ہونگے تب تلک سی پیک جیسے شاہکار منصوبے بھی ہمیں معاشی ترقی و خوشحالی کے میناروں پر نہیں کھڑا کرسکتے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *