حیراں ہوں دل کوروؤں کہ۔۔سعدیہ علوی

موصوف ماہر نفسیات ہیں اور بہت علم رکھتے ہیں خیر سے پی ایچ ڈی بھی ہیں۔ ہم ٹھہرے نالائق اپنی نفسیات پلے نہ پڑی تو اور کسی کی کیا سمجھتے، پر بنتے ہشیار ہیں ،اکثر حضرت سے مباحثہ بھی کرتے ہیں اور ان کو بالواسطہ ہار ماننے پر مجبور بھی کردیتے ہیں کہ ہمارا تعلق آدم کی اس نسل سے ہے جو کبھی غلط کہہ ہی نہیں سکتی، جی جی! صحیح بات کہی آپ نے ہم خاتون جو ہیں! تو بس یہ کافی نہیں ہے کیا ہمارے درست ہونے کو بھلا؟

اوائل عمری سے ہی رسالے پڑھنے کے شوقین تھے اور خاص کر ایسی کہانیاں جن کا کوئی سر پیر نہ ہو، تو صاحبو دیوتا ہمارا پسندیدہ سلسلہ تھا۔ جس کی گھمبیرتا خاک پلے نہ پڑتی تھی مگر فرہاد علی تیمور ہمارے آئیڈیل تھے اور جو وجہ بتائیں تو آپ کو ہنسی آجائے کہ ہماری خواہش تھی کہ ہم بھی ٹیلی پیتھی کے ماہر بن جائیں اور ہزاروں میل دور بیٹھے شخص کے دماغ میں گھس کر اسے قابو کرلیں۔ ان دنوں ہماری لسٹ میں محترم رچرڈ گیئر سب سے اوپر تھے کہ آج بھی بے حد عزیز ہیں اور مصیبت یہ تھی کہ انگریزی آتی نہ تھی سو ہم ان سے اردو میں ہی مکالمہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے
اس مطالعے نے ہمیں بہت سی اصطلاحات سے آگاہ کیا جیسے عمل تنویمی، تحلیل نفسی، شمع بینی اب یہ سب کیا ہیں، ہم کو کیا پتہ ،تو جب موصوف سے ملاقات بڑھی تو ہم نے اپنی استعداد بڑھانے کے واسطے ان سے بھاری بھرکم الفاظ کے آسان معنی پوچھنے شروع کیے۔

tripako tours pakistan

اب یہ بات آج بھی معمہ ہے کہ ہمارے سوالات کے جوابات اور پھر ان پر ہمارے تبصرے حضرت کو اسقدر ششدر کاہے کردیتے تھے۔ جیسے ایک بار ہم نے پوچھا کہ یہ تحلیل نفسی اور تحلیل نظری میں کیا فرق ہے بھلا؟ اب وہ تحلیل نفسی تو سمجھائیں پر ہماری سوئی نظری سے آگے ہی نہ بڑھے اور تو اور ہم تو یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ نفسی، نظری، اور عملی کو آپس میں کس طرح کوریلیٹ کرسکتے ہیں۔ پھر ہمیں خود ہی ان پر رحم آگیا اور ہم نے بات بدل ڈالی۔

Advertisements
merkit.pk

ابھی دوہفتے قبل ہم نے پوچھا
“یہ بتائیں ہپناٹزم کیا ہے”
بولے
“کسی کو اپنے کنٹرول میں کر کے اپنی مرضی کے کام کروانے کو ہپناٹزم کہتے ہیں ۔”
ہم نے ترنت کہا
چل جھوٹے اسے تو شادی کہتے ہیں 😔😔🤠😜
اب وہ ایسے سناٹے میں کہ اس دن سے ان کا فون بھی سائلنٹ ہے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply