معاشرتی بندشیں جنسی گھٹن بڑھا رہی ہیں ۔۔علی بخاری

انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوا ہے۔ اس کی خواہشات، جذبات اور خیالات کا ایک بہتا سمندر ہے جو ہر رکاوٹ سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہے۔ انسان زنجیروں میں جکڑے جانے کی  بجائے آزاد پنچھی بننا چاہتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہر پہلو آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سب کے باوجود مذہب ہو یا اخلاقی اقدار ، آئین اور قانون ہو یا روایات  ، انہوں نے کچھ حدود ہر لحاظ سے متعین کی ہیں جو سودمند   ہیں اور بعض محض بے جا پابندیوں کے حصار میں جکڑنے کے لیے انسان پر مسلّط کی گئیں ہیں۔

عزیزان من! معاش اور جنس ہمیشہ سے انسان کے لیے اہمیت کی حامل رہی ہے۔
آج کا موضوع انتہائی وسیع ہے۔ تاریخی پس منظر، مختلف ثقافتوں کا تقابلی مطالعہ، سائنسی حقائق سے آگاہی، اپنے علاقے کے ماضی و حال کے حوالے سے گہرا مشاہدہ اور مذہبی متن کا بغور مطالعہ۔ اس کے علاوه بھی بہت ساری چیزیں درکار ہیں اس موضوع پر بات کرنے کے لیے ۔

julia rana solicitors

لفط جنس سے دو عام معنی واضح ہوتے ہیں  ،وہ یہ کہ انسانی نسل بلکہ خدائی مخلوقات میں ایک تقسیم ہے۔ نر اور مادہ کی  ،اس کا اندازہ اس بشر کے جنسی رجحانات سے ہوتا ہے کہ وہ مرد ہے یا عورت۔ لیکن اگر اسے ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو مرد اور عورت کی تخصیص کیے جانے کے باوجود بھی بہت سی مختلف جنس کے حامل افراد موجود ہوتے ہیں۔ جنہیں ہم LGBTQ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

اب گھٹن کو مختصر لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ فطری چیزوں کے اظہار میں پیش آنے والی رکاوٹیں،بیجا پابندیاں، حل کے بجائے فضول باتوں پر وقت کا زیاں ،  انسانی فطرت کے اظہار میں مختلف توہمات کو بطور رکاوٹ پیش کرنا۔
میں نے اس حوالے سے مختلف سوالات کو شامل کیا ہے اور پھر انہی کے جوابات بھی دیے ہیں۔ یہ سوالات اہم بھی ہیں اور پوچھے جانے والے بھی۔ آئیے ان سوالات کی طرف چلتے ہیں؛
1: پاکستان میں نوجوان مرد اور عورت دونوں  کو جنس کے لحاظ سے کن مسائل کا سامنا ہے اور ان کا کیا حل ہے؟
جواب: یہاں جنس سے مراد (سیکس) ہے یعنی اس فطری خواہش کی تکمیل میں پیش آنے والے مسائل
1: پہلی بات کہ  نوجوانوں کو سیکس سے متعلق کوئی تعلیم نہیں دی جاتی جو ہیجان کا باعث بنتی ہے (نوجوان سے مراد مرد اور عورت دونوں ہیں)

2: زندگی کے ایک اہم جزو  کو اتنا غلیظ بنا دیا جاتا ہے کہ پوری زندگی نفسیاتی توڑ پھوڑ جاری رہتی ہے۔

3: نوجوانوں پر سماجی لحاظ سے بے پناہ پابندیاں لگا دی جاتی ہیں اور پھر بغاوت اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔

4: مذہبی حلقے اس مسئلے کا حل بتانے کی  بجائے مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرنا بہتر سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے نسل کے درمیاں ایک گیپ جنم لیتا ہے جو انتہائی مضر ہے۔

5: مرد کی تربیت میں عورت کو پہلےانسان تسلیم کرنے کی ترغیب کی  بجائے اسے ماں، بہن اور بیٹی تسلیم کرنے پر زور دیا جاتا ہے اس سے جہاں اعتماد کم ہوتا ہے وہاں متضاد جنسوں میں بھی ایک  طویل  فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔

6: عورت کی تربیت اس انداز سے کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ مرد کو ہوس کا پجاری سمجھے۔

7: نوجوانوں کو اپنی فطری خواہش کی تکمیل کا کوئی زریعہ نہیں ملتا اور پھر لاتعداد مسائل جنم لیتے ہیں۔

2: کیا جنس (سیکس) سب سے بڑا ایشو ہے؟

جواب: جی ہاں، لیکن ان معاشروں میں جہاں اسے فطرت کا حسن تسلیم نہیں کیا جاتا، جہاں بے جا پابندیاں لگانا عین فرض سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں گھٹن کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ بچے،عورتیں اور اب تو جانور بھی یہاں کے پاک لوگوں کے پاکیزہ جنسی لاوے سے محفوظ نہیں ہیں۔ آپ اختلاف کریں گے کہ یہ اہم مسئلہ نہیں تو پھر یہاں کے معاملات دیکھ لیں۔ ترقی یافتہ اقوام دماغ کام میں لگاتی ہیں اور نسل بڑھانے کے لیے فطرت کے دیے گئے عضو کو استعمال کرتی ہیں لیکن یہاں معاملات الٹ ہیں۔

3: کیا سیکس کے متعلق تعلیم کو نصاب میں شامل کرنا چاہیے؟

جواب: جی ہاں، ضرور۔ اس گھٹن کی کمی تب ہی ممکن ہے۔ چائلڈ ابیوز کو تب ہی روکا جا سکتا ہے اور ریپ کے کیسز میں بھی نمایاں طور  پر  کمی لائی جاسکتی ہے۔
مِتھ یہ بنی ہوئی ہے کہ سیکس کے متعلق تعلیم میں بچوں کو یہ سکھایا جائے گا کہ اس کام کو کس طرح انجام دینا ہے۔ کون سے طریقے اور نہ جانے کیا کچھ۔ لیکن حقیقت بالکل اس کے اُلٹ ہے۔

4: ہمارا مذہب جنسی گھٹن کے خاتمے کے حوالے سے کیا حل دیتا ہے؟

جواب :مذہب یہ حل دیتا ہے کہ بالغ ہوتے ہی شادی کر دی جائے۔ لیکن یہاں پر میرا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی ڈھانچے میں بالغ ہونے کے ساتھ شادی ممکن ہے اور پھر کیا ہر ایک کے لیے ممکن ہے؟ میں قطعاً اس حل کا انکار نہیں کر رہا بلکہ میں اس کے ساتھ کچھ اہم اقدامات کا قائل بھی ہوں۔ امر واقعی یہ ہے کہ ظاہری لبادے کو پاکیزگی کا مؤجب جاننے والوں نے جنریشن گیپ پیدا کردیا ہے۔
ہر مسئلے کا حل یہ نہیں ہوتا کہ اس کے خطرات سے آگاہ کیا جائے۔ بعض معاملات میں چیزیں زمینی حقائق کے حوالے سے دیکھنی پڑتی ہیں۔

5: کیا مخلوط تعلیمی نظام بے راہروی کی وجہ ہے یا مخلوط تعلیمی نظام کا فروغ جنسی گھٹن کے خاتمے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے؟
جواب: میرے خیال میں ہمارے ہاں سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے جنسی تفریق کو اس حد تک داغدار کر دیا ہے کہ اب دھبے کو ختم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عورت کا کام صرف مرد کی جنسی تسکین نہیں ہے اور نہ  ہی وہ اس لیے پیدا ہوئی ہے۔ وہ پہلے مرد کی طرح انسان ہے۔ اس تفریق کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب مخلوط تعلیمی نظام کو فروغ ملے گا۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کو سمجھ سکیں گے۔ ایک دوسرے کو بحیثیت انسان ٹریٹ کر سکیں گے۔
اب بے راہ روی کب پیدا ہوتی ہے۔ آپ دیکھیں وہی بندہ چوری کرتا ہے جس کے پاس کمی ہوتی ہے۔ وہ خود کچھ نہیں کرنا چاہتا اس لیے۔ اسی طرح جب مرد اور عورت ایک دوسرے کو سمجھ سکیں گے وہ یہ جان پائیں گے کہ ان کے درمیاں جنسی تعلق کے علاوہ بھی بے شمار چیزیں ہیں جن کی انھیں ضرورت ہے، تب گھٹن کا خاتمہ ہو گا۔ اس سلسلے کا ابتدائی کلاسز سے آغاز ہونا چاہیے۔ کیونکہ گھٹن زدہ نوجوان یونیورسٹی کو اس کی کمی کا  ذریعہ نہ سمجھیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ پہلے سے اقدامات کیے جائیں۔

6: کیا بے شمار پابندیاں اس گھٹن میں مزید اضافہ کر رہی ہیں؟
جواب: جی ہاں۔ پھانسی آج تک قتل کے جرم کو ختم نہیں کر سکی۔ سزائیں ہونی چاہئیں  لیکن محض سزائیں ہی واحد حل نہیں ہیں۔
مکمل آزادی بھی سیلاب کا باعث بن سکتی ہے اور بے جا بندشیں پائپ کے پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ شعوری طور پر نوجوان نسل کی آبیاری کی ضرورت ہے۔
اسی تناظر میں ریپ کے کیسز بڑھنے کی وجہ کیا ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافے کی وجہ کیا ہے۔
جواب: ان چیزوں کو سائنسی زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں نے آغاز میں کچھ چیزوں کا ذکر کیا تھا کہ جنس کی تقسیم دو کی بجائے کافی زیادہ ہے۔ اسی طرح بچوں کی طرف کشش محسوس کرنا بھی ایک بیماری ہے۔ لیکن سماجی طور پر زیادتیاں جو کی جا رہی ہوتی ہیں، ان کی کوئی وضاحت نہیں۔ اسی طرح ہم جنس پرستی کے رجحانات بھی عین فطری ہیں۔
لیکن ہمارے سماج میں اسے ایک بیماری سمجھا جاتا ہے۔ دراصل یہ بنیادی طور پر جنسی گھٹن کا ہی شاخسانہ ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

آپ کے نزدیک جنسی گھٹن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔؟
1: سیکس ایجوکیشن کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
2: بچوں کی شعوری تربیت ضروری ہے۔
3: والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے تعلق پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اس رشتے میں تبدیلی لازمی ہے۔
4: سزاؤں کو بھی پورا کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ریاستی سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔
5: ریاست کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو سائنسی لحاظ سے پرکھے۔ خاص کر ہم جنس پرستی اور ٹرانس جینڈرز وغیرہ۔
6: جنریشن گیپ کا خاتمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
7: مذہبی حلقوں کو اپنے قدامت پرستانہ رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
8: رائج طریقوں سے اگر نتائج نہیں مل رہے تو نئے انداز سے معاملات کو حل کرنے کی طرف جانا چاہیے۔
9: مرد اور عورت کے درمیان تفریق اور جنسی فاصلے میں کمی کے لیے ممکنہ اقدامات کرنے چاہئیں ۔
10: عورت کے حوالے سے سماجی رویوں کو تبدیل ہونا چاہیے۔
11: سماجی پابندیوں میں نرمی ہونی چاہیے۔ 12: اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے۔
13: بنیادی حقوق کا تحفظ ملنا چاہیے۔
14: عورتوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہیئں۔
15: نوجوانوں کو نفسیاتی توڑ پھوڑ سے بچانے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جانے چاہیے۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply