فلسفۂ منشیات۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

آبجیکٹیو ریئیلیٹی وہ ہے جو حقیقت میں ہے، اس کا انحصار کسی کی رائے یا کسی کے احساس سے نہیں، یہ حقیقت فی الواقع موجود ہے، جبکہ سبجیکٹیو ( موضوعی ) ریئیلیٹی سے مراد وہ ہے جسے آپ حقیقت سمجھتے ہیں، گاہے سبجیکٹیو حقیقت آپ کا گمان یا آپ کا احساس تو ہو سکتا ہے لیکن اس سے آبجیکٹیو حقیقت نہیں بدل جاتی، ماں اپنے واجبی سی شکل و صورت والے فرزند کو چودھویں کا چاند سمجھتی ہے تو یہ موضوعی حقیقت ہے، اس سے معروضی حقیقت نہیں بدل جاتی، اسی طرح اگر کوئی طالبعلم جماعت میں خود کو سب سے عقلمند تصور کرتا ہے ، لیکن امتحان میں ہمیشہ چالیس فیصد نمبر ہی بمشکل حاصل کر پاتا ہے تو یہ طالبعلم چاہے لاکھ صفائیاں پیش کرتا رہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، مگر اس طالبعلم کی خود کے بارے میں سبجیکٹیو رائے کا حقیقت سے کچھ لینا دینا نہیں، آبجیکٹیو حقیقت یہی ہے کہ طالبعلم سطحی ذہن کا مالک ہے۔ مختصر یہ کہ جہاں آپ کا ذاتی تعصب داخل ہوا، ایسی رائے یا ایسی حقیقت غیر سبجیکٹیو ہے۔ یعنی کہ اگر دوسروں کے کُتے کو آپ کُتا اور اپنے کُتے کو ٹومی کہتے ہیں تو آپ سبجیکٹیو نکتۂ نظر رکھنے والے انسان ہیں۔
انسانوں کی بھاری اکثریت اپنی ذات اور دیگر معاملات کے حوالے سے اپنی ایک سبجیکٹیو رائے رکھتی ہے کیونکہ انسان کیلئے اپنے معاملے میں غیر جانبدار رہنا بڑا مشکل کام ہے ، انسانی ذہن میں کسی بھی شے کو لے کر موضوعی اور معروضی، دونوں آراء، ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن فرد کیلئے پسندیدہ ترین رائے سبجیکٹیو رائے ہے، اگرچہ کسی بھی میدان میں آگے بڑھنے کیلئے آبجیکٹیو حقیقت کو اہمیت دینا انتہائی اہم ہے۔
احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اکثر مغربی ممالک میں منشیات ممنوع ہیں جبکہ شراب کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ یہ عام اور وافر ہے، اگرچہ دونوں ہی بحیثیتِ مجموعی انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں، اس کی بنیادی وجہ، جس کا ادراک بہت کم لوگ رکھتے ہیں، یہ ہے کہ شراب کے نشے سے آپ آبجیکٹیو حقیقت سے تو دستبردار ہوجاتے ہیں مگر سبجیکٹیو حقیقت آپ کے ساتھ رہتی ہے، لیکن اس کے برعکس منشیات کے استعمال سے جو نشہ دماغ پہ چڑھتا ہے اس سے آپ آبجیکٹیو اور سبجیکٹیو، دونوں حقیقتوں، سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، مشاہدہ یہی ہے کہ شراب کے عادی افراد اپنی ذات کی اہمیت کا ادراک اور اپنی رائے (جانبدارانہ ہی سہی ) برقرار رکھتے ہیں جبکہ چرس، ہیروئین وغیرہ کے عادی لوگ اپنی ذات کو بھی گھپ اندھیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
آپ نشے کے عادی شخص کو گھنٹوں بھاشن دیجئے، ممکن ہے اس کی عقل یا اس کا ضمیر اندر سے اسے جگانے کی کوشش کرے، اور فرد یہ ارادہ کر لے کہ وہ نشے سے توبہ کر لے گا، لیکن عین ممکن ہے کہ اگلے دن کالی گھٹا کو دیکھ کے اس کی نیت بدل جائے، اس سے اگلے دن کسی سماجی تلخی پر کُڑھتے ہوئے دَم لگا لے، روزِ بعد کسی پرانے ہم نوالہ و ہم پیالہ سے ملنے پر گزری یادیں تازہ کرتے ہوئے “پکے سگریٹ ” یا کسی نشہ آور محلول سے بھری سرنج کی طرف اٹھتے ہاتھ کو نہ روک پائے، چوتھے دن آپ کے دیئے بھاشن کا اثر جاتا رہے گا اور فرد اپنی پرانی روش جاری رکھے گا۔ کیونکہ اس شخص نے نشے سے توبہ کا صرف ارادہ کیا تھا، فیصلہ نہیں کیا تھا، اور ان دو میں زمین آسمان کا فرق ہے، منشیات کے عادیوں کی اکثریت یہ بات کہتی یا سمجھتی ہے کہ اب معاملہ ان کے اختیار میں نہیں رہا، وہ اس قدر اڈِیکٹ ہو چکے ہیں کہ گر چاہیں بھی تو نشہ نہیں چھوڑ سکتے، دوسرے الفاظ میں وہ نشہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
منشیات کے موضوع سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو یہ مخمصہ بہت پرانا ہے کہ سماجی و ذاتی فیصلوں میں فرد کتنا با اختیار ہے ؟ اسی کی انتہائی شکل قدر و جبر کی صدیوں پرانی بحث ہے، جس کا منطقی نتیجہ ہم نے یہ نکالا کہ ایک ٹانگ کو اٹھا لینا تو فرد کے اختیار میں ہے لیکن دونوں ٹانگوں کو کششِ ثقل کے مخالف اٹھانے سے فرد قاصر ہے، گویا کہ پچاس فیصد کا اختیار انسان کے پاس ہے اور پچاس فیصد معاملات اس کے قابو سے باہر ہیں، یہ بات جزوی طور پر درست بھی ہے، اس مسئلے پر جرمنی کے معروف نفسیات دان ایرک فروم نے بہت دلچسپ بحث کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں جب تک فرد صراطِ مستقیم پہ چلتا رہتا ہے تب تک وہ مکمل بااختیار رہتا ہے، لیکن جونہی وہ کسی معاملے میں کوئی سنگین غلطی سرزد کرتا ہے تو اس کے اختیارات کا ایک جزو قوانینِ فطرت کے تحت سماجی طاقتیں اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہیں، اس کے باوجود فرد کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ غلطی سدھارتے ہوئے اختیار واپس لے سکتا ہے، اسی غلطی کے دہرانے سے اختیارات کا مزید جزو فرد کے ہاتھوں سے نکل کر قوانینِ فطرت یا سماجی طاقتوں کے پاس چلا جاتا ہے، اور یہ سلسلہ چلتا رہے تو ایک وقت آتا ہے کہ فرد کسی بھی میدان میں فیصلے کے اختیار سے مکمل محروم ہوجاتا ہے، اس کو شطرنج کے کھیل کی مثال سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے، کھیل شروع کرتے وقت ہر چال کا فیصلہ اور اختیار آپ کے پاس ہوتا ہے اور یہ تب تک ہے جب تک آپ کوئی غلط چال نہیں چلتے، غلط چال چلنے کے بعد جزوی طور پر آپ کی قوتِ فیصلہ یا اختیار آپ کے حریف کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے، لیکن پھر بھی آپ کے جیتنے کے امکانات موجود ہیں اگر آپ غلطی کو نہ دہرائیں تو، اگر اگلی چالوں میں پھر کوئی غلط چال چلی گئی تو کھیل پر آپ کا اختیار کم تر ہو جاتا ہے ، یہی سلسلہ چلتا رہے تو ایک وقت آئے گا کہ حریف کے حملوں سے بچتے ہوئے آپ مجبوراً اپنے مہرے ادھر ادھر بھگاتے رہیں گے اور جو چال آپ چلنے کے خواہشمند ہیں وہ نہ چل پائیں گے، کیونکہ مسلسل غلطی دہرانے سے آپ کا دائرہِ اختیار سکڑتا چلا گیا اور آپ کی آزادی چھِنتی گئی ، ایسے میں بالآخر ہار ہی آپ کا مقدر ہوگی۔
ایک نشئی کے سامنے اس کے نشے کی خوراک رکھی ہے، اس نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یہ خوراک لے یا اس سے ہمیشہ کیلئے توبہ کر لے، یعنی عقلِ صالح اور نفسِ امارہ آمنے سامنے ہیں، اگر تو یہ شخص اپنے فیصلوں میں آزاد ہے تو وہ عقل کی بات مانے گا، لیکن اگر پے در پے غلطیوں سے اس شخص کی قوتِ فیصلہ کمزور ہو چکی ہے تو وہ روزمرہ کی خوراک کا زہر اپنی رگوں میں بھرے گا، ایسا کرنے سے اس کی قوتِ فیصلہ کمزور ہوگی اور اس کے پاس موجود اختیارات کا دائرہ مزید تنگ ہوگا یعنی کہ ہر دفعہ نشے کی ڈوز لینے سے اس بات کے امکانات گھٹتے جاتے ہیں کہ فرد اس گھناؤنے فعل سے توبہ کر لے گا، لیکن فرد کو یہ جاننا چاہئے کہ صرف ایک فیصلے سے اس کی اور اس کے اقارب کی زندگی بدل سکتی ہے، اور جو کوئی بھی نشے جیسی لعنت سے جان چھڑانے کا خواہشمند ہے اسے اسی وقت ہی فیصلہ کرنا ہوگا، آہستہ آہستہ چھوڑ دوں گا ، اگلے ہفتے یا نوکری لگنے کے بعد، فلاں مسئلے کے حل ہونے پر یا شادی کے بعد منشیات چھوڑ دوں گا والی باتوں کا مطلب ہے کہ فرد کی نشے سے جان نہیں چھوٹنے والی، کیونکہ ارادہ کرنا اور فیصلہ کرنا بعدالمشرقین ہے۔
منشیات کا استعمال عموما ان لوگوں میں دیکھنے میں آتا ہے جو سماجی تلخیوں کے سامنے سرنگوں ہو جائیں، ایسے افراد جن کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو، معاشرے میں ناکامی یا جذباتی حادثے بھی اس کا سبب بنتے ہیں، عموما کم عمر افراد ان تمام نفسیاتی الجھنوں کا تدارک منشیات جیسی لعنت میں ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے ہیں، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسے افراد اپنے اندر ابھرتے جس لاوے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی لاوے کا باہر نکلنا ہی ان کیلئے کامیابی کی ضمانت ہے، فرد اپنے اندر موجود طاقتوں سے ناواقف ہے، اسی محرومی سے ایسی طاقت جنم لے سکتی ہے جو فرد کیلئے بلندی کی سیڑھی ثابت ہو سکتی ہے، اور اس سیڑھی پر چڑھنے کا نشہ صحبتِ لیلی بلکہ روحانی وجدان سے بھی زیادہ پرلطف ہے ،لہذا ان الجھنوں، ان محرومیوں، ان تلخیوں کو اپنی طاقت بنائیے نہ کہ نشے جیسے غلیظ ہتھیار سے اپنے پَر کاٹیئے اور یہ فیصلہ آپ کو فی الفور کرنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ کے پاس موجود اختیارات اور اس کے بِنا پر قوتِ فیصلہ پہلے سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply