11 کروڑ افراد کے نابینا ہونے کا خطرہ

پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد 2050 تک 11 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہو سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ عوام میں بینائی اور امراض چشم کے بیماریوں بڑھنے کا خدشہ ہے تاہم بینائی سے متعلق 80 فیصد بیماریاں قابل علاج ہیں لیکن آنکھوں کے علاج کی مناسب سہولیات کے نہ ہونے اور عوام میں ان کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ علاج نہیں کرواتے۔

julia rana solicitors london

امراض چشم کا علاج نہ کروانے پر نابینا پن ایک مستقل معذوری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور وہ متاثرہ افراد زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رہ کر غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے نابینا پن کے شکار افراد اور گھرانے غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارتے ہیں اور ان کی معذوری ان کے مزید غریب ہونے کے امکان کو بڑھا دیتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد امراض چشم میں مبتلا ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ہے۔ متاثرہ افراد میں سے 50 فیصد کا مرض قابل علاج ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد 2050 تک 11 کروڑ 50 لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے جو موجودہ تعداد کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا ہو گی۔ اس کے سالانہ نقصان کا تخمینہ 410.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply