• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • افغانستان طالبان اور عالمی سیاست (حصّہ چہارم)۔۔ڈاکٹر محمد علی جنید

افغانستان طالبان اور عالمی سیاست (حصّہ چہارم)۔۔ڈاکٹر محمد علی جنید

افغانوں اور انگریزوں کے مابین ایک معاہدہ   گندامک(۱۸۷۹) نے برطانیہ کی  افغان خارجہ امور میں نا صرف سیادت تسلیم کروالی  تھی،بلکہ ایک حد تک افغانستان انگریزوں کا زیر تحفظ علاقہ (پروٹیکٹیڈ اسٹیٹ) تسلیم کرلیا گیا تھا،لہذا فیلڈ ورک پر ریسرچ نے انگریزوں کو ماضی کی غلطیاں دہرانے سے باز رکھا،مگر اتنا اس بیانیہ سے ضرور معلوم ہوجاتا ہے کہ افغانستان ہمیشہ سے بیرونی اقوام کا اطاعت گزار اور زیرِ  دست  علاقہ رہا ہے،اگر چہ وقتاً فوقتاً مقامی عصبیت نے بیرونی حملہ آوروں کو نقصان ضرور پہنچایا ہے،مگر جانی مالی ،سیاسی نقصان و اقتدار کے تناظر میں  وزنی تقابلی نقصان ہمیشہ افغانوں نے ہی اٹھایا ہے،لہذا اقوام کے اس قبرستان کے تاریخی مفروضے یا بیانیہ کی پرکھ شماریاتی،معیاری نوعیت کے لحاظ سے افغانوں کے خلاف  جاتی رہی ہے۔اگر کل افغان لاشوں کو بیرونی اقوام کی لاشوں سے متقابل کیا جائے تو جذباتی دعوؤں کی دیواریں پانی کے ریلے کے آگے ڈھیر  ہوجاتی ہیں۔

لیکن افغانوں نے بہر حال ہمیشہ اتنا ضرور ثابت کیا ہے کہ جرات و غیرت وہ واحد عناصر ہیں جو دیو قامت وسائل اور ٹیکنالوجی کو مختصر دورانیہ کے لئے شکست ِفاش سے دوچار ضرور کرسکتےہیں،جبھی اگر یہ دو صفات مستقل طور پر   برقرار رکھی جائیں تو مقامی جغرافیہ سے فائدہ اٹھا کر مار کر بھاگ جانے کے طریقہ  کار   یا پھر اس پر مستزاد گھات لگا کر حملہ کرنے کے طریقہ(ایمبش) کے ساتھ فائدہ بخش مقاصد حاصل کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

tripako tours pakistan

رڈیارڈ کپلنگ نے ماضی میں روس  و برطانیہ کی افغانستان میں باہمی سیاسی جغرافیائی کشمکش کو خصوص اور عموم دونوں دائرہ کار میں عظیم کھیل(گریٹ گیم) قرار دیا تھا،زار و تاج برطانیہ کی یہ کشمکش کوئی عدم جیت و عدم نقصان( نو ون نو لوز) کی قسم کا معاملہ نہیں  تھا بلکہ کھونے اور پانے(لوز اینڈ گیٹ) والا معاملہ تھا،اسی ورثہ کو اشتمالیوں نے ورثہ میں زار سے اور امریکہ نے برطانیہ میں ورثہ میں حاصل کیا تھا۔

اشتمالیوں کی گوریلا جنگی حربی تکنیک کو بعد ازاں دنیا بھر کے باغیوں،انقلابیوں اور دہشت گردوں نے بروئے کار لانے کی جو کوشش کی اسکو روس کو شکست دینے والے افغانوں نے عروج ثریا تک مقامی رنگ کی آمیزش سے پہنچادیا تھا،یعنی سی۔آئی اے اور آئی۔ایس ۔ّآئی کے ماسٹر ٹرینرز نے ان کو کورین وار ،ویتنام وار اور چینی ماوزی تکنیک کو مد نظر رکھ کر تیار کیا تھا۔چنانچہ پہلی افغان جنگ میں برطانیہ نے جو غلطی کی تھی وہ دوسری میں کافی قلیل ہوچکی تھیں۔

امیر عبدالرحمان کی فتوحات ،توسیعات اور ڈیورنڈ لائن:

امیر عبدالرحمان نے اپنی آمد کے ساتھ کچھ امور کو توجہ کے قابل رکھا چونکہ صدیوں سے افغانستان سنی حنفی علاقہ تھا ،جو کل آبادی کا تخمیناً ربع خمس تھا(چار بٹہ پانچ)،ہزارہ کی شیعہ آبادی اور کافرستان کے علاقہ اس وقت تک کافی حد تک خود مختار علاقے ہوا کرتے   تھے،مگر امیر عبدالرحمان نے(۱۸۹۱ تا ۱۸۹۴ ) انکو فتح کرکے ایک مرکز کے دائرہ  کار میں لانے کی کوشش کی چنانچہ  شاید اس شمولیت نے  بعد ازاں افغانستان کے مستقبل میں شیعہ سنی نسلی تصادم جسے ہزارہ پشتون تصادم کہیں تو زیادہ عمدہ ہوگا  کو ہوا دی، جو بعد ازاں  طالبان کے دور میں اور زیادہ بھڑک اٹھی اور ہزارہ کی بلوچستان کی طرف ہجرت نے اس تصادم کو پاکستان کی سرحدوں سے اندر پنپنے کا موقع فراہم کیا۔

ایران سے تاریخی عناد اسکا شیعہ دنیا کی رہنمائی ،اسکی بلوچستان اور افغانستان سے سرحدی منسلکیت نے معاملہ کو اور ہوا دی،  یہ معاملہ رستم و سہراب کے قصے میں موجود تورانی و فارسی کشمکش کی سیاسی جانشینی کا  دعوے دار تھا،جس نے ہزارہ برادری کی جان و مال کو بہت خون آشام نقصان پہنچایا ہے،ایسی حالتوں میں اگر چہ اقلیت بھی جواب دعویٰ  دینے میں پیچھے نہیں  رہتی ہے،جیسا کہ سنیوں پر کچھ حملوں میں دیکھا جانچا گیا ہے ،مگر اسکا خمیازہ بہرحال کمزور کو ہی  زیادہ  اٹھانا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر پولی داد کے مطابق طالبان اس بات کو فراموش نہیں کرسکے تھے،کہ شمالی اتحاد والوں نے سقوط کابل کے بعد جس طرح ٹرکوں اور کنٹینروں میں طالبان  قیدیوں کو بھر بھرکر سخت گرمی میں مرنے کے لئے بھوکا پیاسا بلک بلک کر مرنے چھوڑدیا تھا ،اور جس طرح لوگوں نےاس حالت میں باہمی ایک دوسرے کا پسینہ چوس کر پیاس بجھانے کی کوشش کی تھی ،اسکی یاد شروع دور کے مزاحمت کاروں کے دماغوں میں بخوبی  تازہ تھی،اس میں جذباتی کمی گزشتہ آخری عشرے میں اس دور میں کافی حد تک  دیکھنے کو ملی جب ایران سعودیہ کے مقابل  مغرب مخالف تحریکوں کی درپردہ مالی و حربی پشت پناہی میں مصروف نظر آیا،اور ان عالمی سیاسی مشاغل  اور  نیو مڈل ایسٹرن گیم نے اسے فلسطین سے لبنان،شام سے افغانستان تک ایک کامیاب گیم پلانر بنا کر پیش کیا ہے، چنانچہ  بہت  سی خبروں سے معلوم پڑتا ہے کہ ایران نے اس ضمن میں طالبان کی بلواسطہ مدد کی تھی،چنانچہ  اپنی ۲۰۲۱ میں افغانستان کی دوبارہ فتح اور امریکہ کی رخصتی کے بعد طالبان  نے  اثنا عشری امام بارگاہوں کی حفاظت کرنے کی خدمات کو کافی واضح  کرکے میڈیا کے سامنے  پیش کیا ہے،طالبان کی آمد کے ساتھ افغانستان میں سنی مساجد پر خود کش ،دہشت گردانہ حملوں کی جو لہر  تاحال جاری ہے،ابھی تک ہماری معلومات کی رو سے کسی نے اسکا الزام مخالف فرقہ پر نہیں لگایا ہے، بلکہ کچھ  محققین و تجزیہ کار ان حملوں کو داعش اور القاعدہ کی طرف منسوب کررہے ہیں جسکی بابت قطعیت سے کچھ کہنا خارج از الامکان ہے  ۔

امیر عبدالرحمان نے اسکے ساتھ ساتھ برطانوی مطالبوں پر بھی توجہ مرکوز رکھی ،چنانچہ اسی کے دور میں ہونے والا  معاہدہ ڈیورنڈ لائن(۱۸۹۳) وہ معاہدہ ہے جو افغانستان اور برطانوی ہند کی سرحدوں کا تعین کرگیا اور بلوچ اور پشتون علاقوں کی تقسیم بندی اسکے سبب سیاسی جغرافیائی طور پر نمودار ہوئی،اور بعد ازاں ورثہ میں یہ لائن و سرحد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی حدود بندی کو بھی متعین کردیتی ہے۔افغانستان نے اسی سبب پاکستان کو برطانوی ورثہ کا حامل جان کر اس سے پشتون سرحدی علاقوں کی ہمیشہ  مانگ کی ہے اور ان پر اپنا تاریخی دعویٰ  دہرانے کی کوشش بھی  کی ہے،حالانکہ صدیوں سے کوئی مستقل مشمولہ ایسا  تاریخی افغانستان موجود  نہیں رہا ہے جو کامل ہیت میں ان کُل علاقوں پر قابض و حاکم رہا ہو،چنانچہ بالاکوٹ تحریک جو ۱۸۳۲ تک چلی تک بھی یہ علاقہ جات سکھوں کے زیر سایہ تھے جنہیں وہ لاہور سے زیر قابو رکھے ہوئے تھے،کچھ بلوچی علاقہ  جو افغانستان سے بلوچی سرحد سے منسلک ہیں پر انگریز،مقامی سردار اور خان آف قلات کا اثر و نفوذ بیان کیا جاتا ہے،چنانچہ  امیر عبدالرحمان نے ماضی کے سرحدی تغیر کو متعین کرکے موجودہ جدید افغانستان کی ریاستی سرحدوں کو تسلیم کروالیا تھا۔مگر افغان ریاست نے خود کو ہمیشہ سے عظیم اور ماضی میں کلی مشمولہ و مشتملہ قرار دیکر پاکستان مخالفت کی روش کو اپنی سیاسی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کا اہم عنصر قرار دیا ہے چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ ،سرحد کے دونوں پار کے قوم پرست اس ضمن میں پاکستان مخالف بیانیوں اور مواقف کو ہوا دیتے رہے ہیں،جبکہ طالبان نے اس مسئلہ پر خاموشی کو ہی ترجیح دی ہے۔

کہنے کو امیر عبدالرحمان ایک پُر اعتماد وسعت پسندانہ عزائم کا مالک فرد تھا،اسے مردِ  آہن قرار دیا جاتا تھا،اس نے جدید افغانستان کو ایک نیا کامل  سیاسی رنگ دیا تھا ،مگر برطانوی  اثر کے زیر سایہ ہونے کے سبب اسکو کافی منفی طور پر بھی دیکھا گیا ہے ،اس نے مگر ساتھ ساتھ جدیدیت کی لہر کے افغانستان میں داخل ہونے سے روکنے کے خلاف   سخت مزاحمت بھی کی، معلوم پڑتا ہے کہ سیاست اور روایت کی تفریق کرنا اسکو اچھی طرح آتا تھا،اسے معلوم تھا افغان ظلم و سختی ضرور برداشت کرسکتے ہیں مگر اپنے رسم و روج ،طور و اطوار میں تبدیلی انھیں منظور نہیں تھی،حد یہ کہ افغان سنی فقہ حنفی کے علاوہ کسی شرعی فقہی منہج کے بھی سخت مخالف تھے،تصوف کا بھی ان پر بہت غلبہ تھا،اور آج تک ان پر ان دونوں فیکٹرز کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے،ابھی حال میں طالبان نے جو الزام اپنے مخالفین پر عائد کیا اس میں یہ بھی تھا کہ یہ علما اور صوفیا کا گوشت کتوں کو کھلایا کرتے تھے،حالانکہ انکے مخالفین بھی بہت حد تک تصوف زدہ ہیں،لہذا ان پر ایسا الزام کیا معنی رکھتا ہے؟

امیر عبدالرحمان نے روس اور برطانیہ کے اثرات کو محدود کرنے کی بھی کوشش کی برطانیہ  سے  اسکا تعلق و معاہدہ کچھ عالمی طاقتی نظام پر استوار صداقتوں پر منحصر تھا  اس کے ساتھ روس جو اسکا پڑوسی تھا،وسطی ایشیا کو خود میں سمونے میں مصروف تھا سے بھی اسے سخت خطرہ لاحق تھا،پھر برطانیہ کی عالمی سیادت،اور غلبہ سے بھی وہ ناواقف نہیں تھا،جب ہی  اس نے روس کے مخالف برطانیہ کو تحدید کے لئے ساتھ رکھا،مگر اس نے روس و برطانیہ کی ریلوے لائن  بچھانے اور منڈیوں تک رسائی کے ریلوے  نظام کی سخت مخالفت کی ،یوں برصغیر کے برخلاف  افغانستان ریلوے  سے محروم رہا،اور آج تک افغانستان ریلوے کے باقاعدہ نظام سے محروم ہے جبکہ کل دنیا اس سے منسلک بتائی جاتی  ہے اشرف غنی اور امریکہ اثر و نفوذ کے آخری پانچ سالوں میں ایسی باز گشت  سنائی دی تھی  کہ وہاں ریلوے نظام کے قیام کا معاملہ زیر غور ہے مگر غالباً افغانستان کی غیر یقینی صورتحال اور تنصیبات سیاسیہ پر حملوں اور لاقانونیت نے اسکو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیا  ۔

امیر عبدالرحمان کے بعد کا افغانستان:امیر حبیب اللہ اور امان اللہ:

چنانچہ ۱۹۰۱ میں امیر عبدالرحمان کی موت کے بعد اسکا بیٹا امیر حبیب الرحمان اسکا جانشین حاکم  مقرر ہوا،اسکو محوری طاقتوں میں سے جرمن حکام اور برطانیہ مخالف ہندوستانیوں نے یہ راگ پاٹ سکھانے کی کوشش کی کہ وہ برطانیہ سے ہر قسم کا تعلق توڑ کر کامل آزادی کا اعلان کرے  اور محوری قوتوں کا ساتھ دے،ساتھ میں ہندوستان پر حملہ میں انکا ساتھ دے،ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ وہ اس قسم کی پیشکشوں میں کتنی دلچسپی رکھتا تھا اور اس قسم کی آزادی کے مطالبوں   پر وہ کتنا جری و آماد ہ تھا،مگر بہرحال اسکی بابت عامتہ الناس اور خاص میں ایک قسم کی دبی دبی بے چینی پائی جاتی تھی،ریشمی رومال کی تحریک کے دوران بھی یہاں کئی برطانیہ مخالف تحریک چلانے والے پناہ لئے ہوئے تھے،اسی دوران احناف کے مسلک دیوبند کی جڑیں افغانستان میں جڑ پکڑنا  شروع ہوچکی تھیں،چنانچہ ہمیں مولانا عبید اللہ سندھی اور مولانا محمود الحسن ؒ کی شخصیات کی مساعی کا تذکرہ تحریک آزادی کے ضمن میں سننے کو ملتا ہے،یہ دور ہندوستان میں تحریک خلافت کا دور تھا ،ہندو اور مسلمان سیاسی اتحاد بنا کر ساتھ ساتھ مصلحت کے تقاضوں کے سبب چل رہے تھے،مگر اب تک جو ضمانت امیر عبدالرحمان نے غیر سیاسی جھکا ؤ کی اقوام ِ غیر کو  دی تھی کہ وہ روس و برطانیہ یا کسی بھی طاقت کے دائرہ کار میں نہیں آئیگا پر اب شکوک و شبہات پیدا ہوچکے تھے ۔لہذا ۱۹۱۹ میں اسکو شکار کھیلنے کے دوران قتل کردیا گیا اور اسکا جانشین سب سے آزاد خیال   بیٹا امان اللہ تخت نشین ہوا،جس کے عزائم کے سبب جلد تیسری انگریز افغان جنگ(اینگلو افغان وار) نمودار ہوئی مگر برطانیہ نے بلآخر اسکو زیر دام لانے کا کافی مواد فراہم کرلیا تھا۔

Advertisements
merkit.pk

(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply