گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت( 15،آخری قسط)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

گھر آکر اداس مٹرو چٹائی پر پڑ رہا۔ اداس دھوپ پھیل گئی ہے۔ دودھ کے مٹکے ایک طرف پڑے ہیں۔ ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ تھکی ہوئی لکھنا کی ماں کو جیسے کوئی ہوش ہی نہیں۔ سچ مچ گھر کتنا اداس ہو گیا ہے۔ مٹرو کا دل بھرا آیا ہے۔ خوب رونے کو جی چاہتا ہے۔ ایک ہی خلش دل مسل رہی ہے کہ وہ بہن کے ساتھ کیوں نہ گیا؟

کافی دیر کے بعدلکھنا کی ماں اٹھی۔ اس طرح بیٹھے رہنے سے کام کیسے چلے گا؟ سارا کام دھام پڑا ہے۔ مٹروکے پاس آکر بولی،’’جاؤ، نہا دھو آئو۔ اس طرح کب تک پڑے رہو گے؟‘‘

tripako tours pakistan

’’ نہا دھو لوں گا۔‘‘مٹرو نے کچے دل سے کہا،’’مجھے اس کے ساتھ جانا چاہئے تھا۔ جانے بیچاری پر کیا بیتے؟‘‘

’’ گوپی کیا مرد نہیں ہے؟‘‘ تنک کرلکھنا کی ماں بولی،’’تم تو ناحق سوچ فکر کر رہے ہو! اٹھو!‘‘ اتناکہہ کر اس کے اوپر پڑی چادر کھینچنے لگی۔

’’ مرد ہے تو کیا ہوا؟ آخر ماں باپ کا لحاظ تو آدمی کو کرنا ہی پڑتا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے، کہیں اس نے کمزوری دکھائی تو میری ہیرامن کا کیا ہوگا؟ مجھے جانا چاہئے تھا،لکھنا کی ماں!‘‘

’’ کچھ ہوگا تو خبر ملے گی نہ! اس وقت تو تم اٹھو۔ دیکھو، کتنی دیر ہوگئی۔ گھر کا سارا کام کاج ابھی اسی طرح پڑا ہے۔‘‘ کہہ کر اندر سے دھوتی مسواک لاکر اس کے ہاتھوں میں تھماتی بولی،’’جاؤ، جلدی نہا دھو آئو! من ہلکا ہو جائے گا۔‘‘

کسی طرح کسمساکر مٹرو اٹھا اور کنارے کی طرف چل پڑا۔

آج گنگا اشنان میں وہ لطف نہ آیا۔ زندگی میں اس طرح کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ آج گنگا میا بھی اداس ہے۔ اس کی لہروں میں وہ زور نہیں، اس کی لہروں میں وہ تیزی نہیں، اس میں تیرتی مچھلیوں میں وہ چستی نہیں۔ کہیں کوئی تار ڈھیلا ہوگیا ہے۔ سازبے ساز ہو گیا۔

’’تمہارے پاس رہ کر یہاں کوئی ڈر، ڈرائونا نہیں لگتا ۔جب سوچتی ہوں کہ وہاں پھر جانے پر کیسی آفت اورنازک حالت میں پڑوںگی، تو دل کتنا بیکل ہو جاتا ہے ۔۔۔تم بھی میرے ساتھ کچھ دنوں کیلئے چلو گے نا؟ ۔۔۔تم پر جتنا بھروسہ ہوتا ہے، اتنا اس پر نہیں ۔۔۔‘‘مٹرو کے ذہن میں یہ باتیں گونج جاتی ہیں اور اسے لگتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ہی اپنی ہیرامن کو اس کٹھور حالات میں اکیلی جھونک دیا ہے۔ اور وہ دل ہی دل میں تڑپ اٹھتا ہے۔ کیوں، کیوں وہ نہیں ساتھ گیا؟ کیوں اسے اکیلی چھوڑ دیا؟ کیوں اس کے ساتھ دھوکہ کیا؟

وارنٹ یہاں کا۔ اُس کاایک احساس ذمہ داری ! کہیں اسے کچھ ہو گیا ہوتا، تو یہاں اسکے ساتھیوں کی کیا حالت ہوتی؟ ۔۔۔ساتھی اسکے اب پہلے کی طرح بیوقوف نہیں ہیں۔ انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سیکھنا چاہئے۔ مٹرو آخر ہمیشہ ان کے ساتھ کیسے کھڑا رہے گا؟ مٹرو کی زندگی میں سب سے پہلے ایک ہی ذمہ داری تھی، لیکن اب تو دو ہو گئی ہیں۔ اسے اپنے دونوں ذمے داریوں کو نبھانا ہے۔ دونوں محاذوں پر برابر کے دشمن ہیں۔ ایک کے ظالم پنجو ںمیںپھنس کر کتنے ہی کسان تڑپ رہے ہیں اور دوسرے کے خونی جبڑے میں ایک بہن کراہ رہی ہے۔ ایک نہیں لا تعداد! ان کیلئے بھی راستہ نکالنا ہے۔

گھاٹ پر بیٹھا، کھویاکھویا مٹرو جانے ایسی ہی کیا کیا اوٹ پٹانگ باتیں سوچے جا رہا تھا کہ پوجن نے آ کر کہا،’’بہنا آپ کو بلا رہی ہے۔ چلو، جلدی کرو۔ کب کے یہاں یوں ہی بیٹھے ہو؟‘‘ اتناکہہ کر مٹرو کے سامنے پڑی گیلی دھوتی اس نے اٹھا لی۔

چلتے چلتے مٹرو نے کہا،’’پوجن، ایک بات پوچھوں؟‘‘

’’ کہو؟‘‘

’’ اگر میں نہ رہا، پوجن تو تم لوگ سب سنبھال لو گے نہ؟‘‘

’’ لیکن تم رہو گے کیسے نہیں؟ گنگا میا تم سے چھوڑی جا سکتی ہیں؟‘‘

’’ نہیں، چھوڑی کیسے جا سکتی ہیں؟ لیکن مان لو میں نہ رہوں؟‘‘

’’ واہ! یہ کیسے مان لیں؟‘‘

’’ ارے، اس دفعہ نہیں ہوا تھا۔ میں کیا گنگا میا کو چھوڑ سکتا تھا؟ لیکن اتفاق کہ پولیس والوں کی پکڑ میں آ گیا۔ اُسی طرح۔۔۔‘‘

’’ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے، پاہُن ؟ تب تم اکیلے تھے۔ ابھی سینکڑوں جوان تم پر جان دینے کو تیار ہیں۔ اگرچہ ہماری جان چلی جائے، لیکن تمہارا بال بانکا نہ ہونے دیں گے! پاہُن ، تم زمین کی جان ہو!‘‘

’’ سو تو ہے لیکن اتفاقاً ۔۔۔‘‘

’’ نہیں نہیں، پاہُن ، ایسا اتفاق آ ہی نہیں سکتا۔‘‘

’’ اُف، تم تو بات کرنا ہی مشکل ہے، پوجن! اچھا مان لے، میں مر ہی گیا۔‘‘

’’ پاہُن !‘‘ پوجن چیخ پڑا،’’ایسی بات منہ سے کیوں نکالتے ہو؟‘‘

’’ پوجن!‘‘ سنجیدہ اور گھمبیر لہجے میں مٹرو بولا،’’گنگا میا کا ،انکی زمین کا، ان کھیتوں کا،اس ہوا اور پانی کا، اس جنگل اور ان کسانوں کا اور اپنے ساتھیوں کا موہ مجھے اپنے بال بچوں کی طرح، بلکہ ان سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ آج خیال آ گیا کہ کہیں میں نہ رہا، تو ان ظالم زمیں داروں کے پاؤں اس زمین پر پھر تو نہیں جم جائیں گے؟‘‘

’’ نہیں پاہُن ، نہیں! اگر یہی بات ہے، تو سن لو کہ تمہارے ساتھی اپنے خون کی آخری بوند تک اس کی حفاظت کریں گے! جس طرح گزرا زمانہ پھر واپس نہیں آتا، اسی طرح زمیں داروں کے اکھڑے پاؤں یہاں پھر نہیں جم پائیں گے! ہمارا زور دن دن بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ زمانہ آگے بڑھ رہا ہے! نہیںپاہُن ویسا کبھی نہ ہو گا! یہاں کا ہر کسان آج مٹرو بننے کی تمنا رکھتا ہے! تم اسکی فکر نہ کرو، پاہُن !‘‘

’’ شاباش!‘‘ مٹرو نے پیٹھ ٹھونک کر کہا،’’آج میں خوش ہوں، بہت خوش، پوجن! ایسا ہی ہونا چاہئے، ایسا ہی!‘‘

اور سچ مچ اداسی چھٹ گئی۔ چہرہ پہلے ہی کی طرح دمک اٹھا۔ آنکھیں چمک اٹھیں۔

لیکن جیسے ہی وہ کٹیا میں گھسا، وہ پہلے کی ہی طرح اداس ہو گیا۔

لکھنا کی ماںنے چوکے میں پیڑھی ڈالی۔ لوٹا بھر کر پانی رکھا۔ پھر بولی،’’آؤ، روٹی کھا لو۔‘‘

مٹرو نے بیٹھ کر پہلا نوالہ توڑتے ہوئے کہا،’’جی نہیں کر رہا۔‘‘

’’ جی کیسے کرے؟ تیری ہیرامن تو چلی گئی!‘‘

’’ اونہوں، اس کے جانے کی فکر نہیں۔‘‘

’’ پھر؟‘‘

’’ جانے اس پر کیا بیتی ہو؟ اب تو پہنچ گئی ہو گی۔‘‘

’’ بیتے گی کیا۔تم راضی تو کیا کرے گا قاضی۔گوپی تیار ہے، تو اس کا کون کیا بگاڑ لے گا؟‘‘

’’ سو تو ہے رے، لیکن یہ ہتیاراسماج بڑا ظالم ہے۔ کتنے ہی گوپیوں کو اس نے زندہ چبا ڈالا ہے۔ اور گوپی چند کمزور ہے بھی۔ ایسا نہ ہوتاتویہ کہانی اتنی لمبی کیوں ہوتی؟ وہ تو اتفاق کہو، کہ گوپی کنویں پر جاگ گیا تھا، نہیں تو کہانی ختم ہونے میں دیر ہی کیا تھی؟ سوچتا ہوں کہ جس وقت گوپی کی ماں اس کی بھابھی کو جلی کٹی سنا رہی تھی، اگر اسی وقت ہمت کرکے، آگے بڑھ کر گوپی اپنی بھابھی کا ہاتھ تھام لیتا، تو کون اس کا کیا کر لیتا؟ لیکن وہ ایسا نہ کر سکا تھا۔ عورت کا مرد پر سے ایک بار یقین ہٹ جاتا ہے، تو پھر مشکل سے جمتا ہے۔ کہتی تھی نہ وہ،تم پر جتنا بھروسہ ہوتا ہے، اتنا اس پر نہیں۔‘‘

’’ تو تمہارے ہی بھروسے پر اسکی زندگی پار لگے گی؟ آخر ۔۔‘‘

’’ ارے، سو تو ہے ری، کون کس کی زندگی پار لگا دیتا ہے؟ وقت کی بات ہوتی ہے۔ اسے اس وقت میرے سہارے کی ضرورت تھی۔ دو چار دن میں آندھی گزر جاتی، تو سب آپ ہی ٹھیک ہو جاتا ۔۔۔‘‘

’’ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ روٹی کھا لو!‘‘کٹوری میں گرم دودھ ڈالتی ہوئی اس نے بات ختم کر دی،’’جو ہوا ہم سے کیا نہ؟ کون اتنا غیر کے لئے کرتا ہے؟‘‘

’’ تو عورت ہے نہ، لکھنا کی ماں،’’درد بھرے لہجے میں مٹرو بولا،’’میرے اور میرے بچوں کے سوا تیرا کوئی اپنا نہیں، میں کسی کو اپنا بنا لوں تو اوپر سے تُوبھی اسے اپنا کہہ دے گی۔ میری منشا ہی تو تیری منشا ہے۔ تیرا دل اتنا بڑا، اتنا آزادکہاں کہ میری منشا کے خلاف بھی تو اپنی منشا سے کسی غیر کو اپنا بنا لے۔ گوپی کی بھابھی جب تک یہاں رہی، تو اسے اپنائے رہی، کیونکہ یہی میری خواہش تھی۔ لیکن من تیرا اندر سے اسے اپنا نہ بنا سکا۔ لکھنا کی ماں، مان لے کہ کہیں تو آفت میں پھنس جائے اور تیری مدد کو میں نہ جاؤں تو؟‘‘

’’ خاموش بھی ہو! کھا لو، پھربولنا بیٹھ کر!‘‘

جی نہ ہوتے بھی مٹرو نے بھر پیٹ کھایا۔ اسکی بیوی کا اس میں کوئی دوش نہیں۔ وہ جانتا ہے، جیسی وہ بنی ہے، ویسا ہی برتاؤ تو کرے گی۔ نہ کھا کر اس کا دل میلا کیوں کرے؟

چٹائی باہر دھوپ میں بچھا کر، حقہ تازہ کرکے اس کی بیوی نے رکھ دیا۔ مٹرو گڑگڑاتا رہا اور سوچتا رہا۔ سوچتے سوچتے اونگھنے لگا۔ رات بھر کا جاگا تھا۔ حقہ ایک طرف ٹکاکر پھیل گیا اور تھوڑی دیر میں ہی نیند میں ڈوب گیا۔ بیوی نے چادر لاکر اوڑھا دی۔

شام ڈھل گئی۔

کہیں کوئی آفت کا مارا اکیلا توتا بڑے دردناک لہجے میں ٹیں ٹیں کرتا ہوا مٹرو کے سر پر سے اڑا، تو مٹرو کی آنکھ کھل گئی۔ جانے کس سپنے میں چونک کر وہ پکار اٹھا،’’پوجن! پوجن!‘‘

دوڑتے ہوئے آکر پوجن نے کہا،’’طوفان آ رہا ہے پاہُن ۔اُتّر کا آسمان کالا سیاہ ہو گیاہے!‘‘

توتے کی ٹیںٹیں آواز اب بھی آسمان میں گونج رہی تھی۔ مٹرو چادر پھینک کر کھڑا ہو گیا۔ پھر ادھر ادھر آنکھیں پھیلا کر دیکھتا ہوا بولا،’’پوجن، میری ہیرامن طوفان میں پھنس گئی ہے، سن رہا ہے نہ اس کی ڈر بھری آواز!‘‘ اور سیسون گھاٹ کی طرف پاؤں بڑھا دیے۔

دروازے پر کھڑی بیوی چلائی،’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘

پوجن بولا،’’اس طوفان میں کہاں جا رہے ہو؟‘‘

مڑکر مٹرو نے کہا،’’جلد لوٹ آؤں گا۔‘‘

طوفان آ گیا، گنگا میا کی لہریں، چیخ اٹھیں، ہوا سوں سوں کر اٹھی۔ جنگل سر دھننے لگا۔ زمین ہلنے لگی۔ جھونپڑیاں اب گریں کہ تب گریں۔

گھاٹ پر نائووالے سے مٹرو نے کہا،’’کھولو، جلدی کرو!‘‘

’’ اس طوفان میں، پہلوان بھیا؟ یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ نائووالا آنکھ منہ پھاڑکر بولا۔

’’ کوئی حرج نہیں! اپنی میا کی ہی تو لہریں ہیں! اٹھائو لنگر! مجھے جلدی ہے! لاؤ مجھے دو! تم خاموشی سے بیٹھے رہو!‘‘ اور مٹرو نے کشتی کھول دی۔ دیکھتے دیکھتے چنگھاڑتی لہروں میں کشتی غائب ہو گئی۔

گوپی کے دروازے پر مٹرو کی گوجی دھم سے جب بولی، طوفان گزر چکا تھا اور اسکے بعد کاسناٹا گھر پر چھایا تھا۔ ہمیشہ کی طرح بوڑھے نے آواز نہ دی۔ مٹرو خود ہی آگے بڑھ کر بولا،’’پائیں لاگو، بابوجی!‘‘

بابوجی خاموش رہے!

’’ ناراض ہو کیا، بابوجی؟ نئی بہو پسند نہیں آئی کیا؟ وہ کیا بالکل تمہاری بڑی بہو کی طرح نہیں ہے؟ میں نے کہا تھا نہ ۔۔۔‘‘

’’ ہٹ جائو میرے سامنے سے!‘‘ بوڑھی ہڈی چٹخ اٹھی۔

’’ ہٹ کیسے جائیں؟ رشتے داری کی ہے کہ کوئی مذاق کیا ہے؟‘‘

’’ میری جگ ہنسائی کرکے جلے پر نمک چھڑکنے آیا ہے؟ ڈھول تو پٹ گیا گاؤں بھر میں! کیا باقی رہ گیا؟ مجھے پہلے ہی کیوں نہ مار ڈالا، چنڈال۔‘‘

’’ ایسا کیوں کہتے ہو، بابوجی! تم میری عمر بھی لے کر جیو! اس دن تم ہی نے تو کہا تھا کہ اس کی یاد آتی ہے تو کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔ ماں باپ کیلئے کیا بیٹے سے بڑھ کر برادری ہے! برادری والے کیا ہمیں کھانا دیں گے۔لیکن ہمیں کیا معلوم تھا۔اب تو ہو گیا معلوم! اب تو کلیجہ نہیں پھٹنا چاہئے۔ لیکن یہاں تو ۔۔۔‘‘

’’ چپ رہ! میں کیا سمجھتا تھا، کہ تم سب ایسے پاگل ۔۔۔‘‘

مٹرو ہنسا اور بولا،’’پاگل آپ اور آپکا سماج ہے، بابوجی! لیکن جو ان اندھیرکھاتہ اور پاگل پن ختم کرکے ایک گائے کی جان بچانے کیلئے آگے بڑھتا ہے، اسے ہی وہ پاگل ہی کہتے ہیں۔‘‘

’’ یہ سب جا کر تو اسی سے کہہ! میرے سامنے سے ہٹ جا۔‘‘

’’ کہاں ہے وہ!‘‘

’’ چوپال میں۔‘‘

’’ چوپال میں؟ گھر میں نہیں؟‘‘

’’ میرے جیتے جی وہ گھر میں پاؤں نہیں رکھ سکتا!‘‘

’’ تو ان کا ایک گھر اور بھی ہے۔ چوپال میں کیوں رہیں گے؟ میں ابھی ۔۔۔‘‘

’’ باپ بیٹے کے جھگڑے میں تو ُکیوں پڑا ہے؟ تو جاتا کیوں نہیں؟‘‘

’’ یہ باپ بیٹے کا جھگڑا نہیں ہے۔ یہ پورے سماج اور اس کی لاکھوں بیواؤں کا جھگڑا ہے۔ اس کے ساتھ میری بہن کی زندگی کا واسطہ ہے۔‘‘

’’ وہ میرا بیٹا ہے ۔۔۔‘‘

’’ نہیں، جس بیٹے کو تم نے گھر سے نکال دیا ۔۔۔‘‘

’’ ارے، یہ کیا شور مچا رکھا ہے؟‘‘ بوڑھی چیختی ہوئی آ گئی۔

’’ سینے پر مونگ دلنے مٹرو آیا ہے!‘‘ بوڑھے نے کروٹ لے کر کہا۔

’’ گاؤں گھر میں تو تھو تھو کرا دی! اب کیا باقی ہے؟‘‘ بوڑھی نے ہاتھ لہراکر کہا۔

’’ انہیں لے جانے آیا ہوں!‘‘ مٹرو نے کہا۔

’’ توُ کون ہوتا ہے انہیں لے جانے والا؟ اس کے ماں باپ کیا مر گئے ہیں؟‘‘ بوڑھی نے اس کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔

’’ آج معلوم ہوا کہ مر گئے! نہیں تو وہ گھر سے نکال کر چوپال میں نہیں ڈالے جاتے۔‘‘

’’ یہ تجھے کس نے کہا؟‘‘ بوڑھی نے شانت ہو کر کہا۔

’’ بابوجی ۔۔۔‘‘

’’ ان کی مت کو تم کیا لئے پھرتے ہو؟ ادھر آؤ۔‘‘کہہ کر بوڑھی اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر کے اندر لے جا کر پھسپھساکر بولی،’’دیکھ کر مکھی نہیں نگلی جاتی! کیا کرتے، ٹولے محلے والے، گاؤں گونڑے کے سب کے سب کیچڑ اچھالنے لگے تو انہوں نے انہیں چوپال میں کر دیا۔ میں نے بہت سہا۔ جب سہا نہ گیا، تو میں بھی ان کے کارنامے لے کر بیٹھ گئی۔ اسی گاؤں میں میرے بال سفید ہوئے ہیں۔ کسی کا کچھ چھپا نہیں ہے مجھ سے۔ جب جھاڑنے لگی، تو سب دم دباکر بھاگ گئے۔ تم ہی کہو، کسی چمار ڈومن سے میری بہو ہی خراب ہے؟ ڈنکے کی چوٹ پر اس سے بیاہ کیا ہے! شہدوں کی طرح چوری چھپے تو اپنا منہ کالا نہیں کیا؟ مانا کہ اس نے برا کیا، لیکن پاگل بن کر، کر ہی ڈالا، تو کیا اس کا سر اتارلیا جائے؟ بیٹا ہی تو ہے۔ لاکھ برا اس کا معاف کیا، تو ایک اور سہی۔اپنے سڑے ہاتھ کو کوئی کاٹ کر تو نہیں پھینک دیتا۔ بھگوان نے جو مالا گلے میں ڈال دی، اسے اتار کر کیسے پھینک دوں؟ میں انہیں خود گھر میں لے آئی ہوں۔ ان کا گھر ہے۔ کون انہیں نکال سکتا ہے؟ ہم بوڑھوں کا کیا ٹھکانہ؟ آج ہیں، کل نہیں۔ انہیں تو جھیلنے کو ساری زندگی پڑی ہے۔ جیسے چاہے رہیں!تو کھائے گا نہ؟ رس پوری بنائی ہے رے!‘‘

مٹرو نے جھک کر بوڑھی کے پاؤں چھو لیے اورپیار سے کہا،’’مائی توُ کتنی اچھی ہے! یہ بابوجی تو ۔۔۔‘‘

’’ تازہ تازہ غصہ ہے! سب ٹھیک ہو جائے گا۔ باپ بیٹے سے کب تک ناراض رہ سکتا ہے؟ کھائے گانا؟ ہاتھ پیر دھولے!‘‘

’’ وہ کہاں ہیں؟ مٹرو نے بوڑھی کے کان میں کہا۔

بوڑھی نے مسکراتے ہوئے اس کے کان میں کچھ کہا۔ مٹرو بھی مسکرا پڑا۔

’’ چل چوکے میں۔‘‘آگے بڑھتی ہوئی بولی،’’کھا لے۔‘‘

’’ اب کیسے کھاؤں؟ وہ میری چھوٹی بہن ہے نہ۔ اس کا دھن ۔۔۔میں اب چلوں گا، گنگا میا پکار رہی ہیں۔ سب پریشان ہوں گے۔‘‘

تبھی بغل کی کوٹھری کا دروازہ کھلا اور مسکراتے ہوئے دو بتوں نے نکل کر مٹرو کے دونوں پاؤں پکڑ لیے۔

سرشار ہوکر مٹرو نے کہا،’’گنگا میا تیرا سہاگ امر رکھیں، میری ہیرامن!‘‘

کھڑی ہو کر، گھونگھٹ میں سر جھکائے ہیرامن بولی،’’جیسے ہونٹوں سے لاج ٹپکے، گنگا میا کو میں نے چنری بھاکھی تھی، بھیا،بھابھی سے کہہ دینا، چڑھا دے گی۔‘‘

Advertisements
merkit.pk

(اختتام)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عامر صدیقی
لکھاری،ترجمہ نگار،افسانہ نگار،محقق۔۔۔ / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر۔ پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ ؁ ء بمقام سکھر ، سندھ۔تعلیمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز ۱۹۹۲ ء ؁ میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے سے کیا۔ ہندوپاک کے بیشتر رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں۔ علاوہ ازیں دیگرتراجم و مرتبہ نگارشات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے : ۱۔ فرار (ہندی ناولٹ)۔۔۔رنجن گوسوامی ۲ ۔ ناٹ ایکیول ٹو لو(ہندی تجرباتی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۳۔عباس سارنگ کی مختصرسندھی کہانیاں۔۔۔ ترجمہ: س ب کھوسو، (انتخاب و ترتیب) ۴۔کوکلا شاستر (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۵۔آخری گیت اور دیگر افسانے۔۔۔ نینا پال۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۶ ۔ دیوی نانگرانی کی منتخب غزلیں۔۔۔( انتخاب/ اسکرپٹ کی تبدیلی) ۷۔ لالٹین(ہندی ناولٹ)۔۔۔ رام پرکاش اننت ۸۔دوڑ (ہندی ناولٹ)۔۔۔ ممتا کالیا ۹۔ دوجی میرا (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۱۰ ۔سترہ رانڈے روڈ (ہندی ناول)۔۔۔ رویندر کالیا ۱۱۔ پچاس کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۵۰ء تا ۱۹۶۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۲۔ ساٹھ کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۶۰ء تا ۱۹۷۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۳۔ موہن راکیش کی بہترین کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) ۱۴۔ دس سندھی کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۵۔ قصہ کوتاہ(ہندی ناول)۔۔۔اشوک اسفل ۱۶۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد ایک ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۷۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۸۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد سوم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۹۔ہند کہانی ۔۔۔۔جلد چہارم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۰۔ گنگا میا (ہندی ناول)۔۔۔ بھیرو پرساد گپتا ۲۱۔ پہچان (ہندی ناول)۔۔۔ انور سہیل ۲۲۔ سورج کا ساتواں گھوڑا(مختصرہندی ناول)۔۔۔ دھرم ویر بھارتی ۳۲ ۔بہترین سندھی کہانیاں۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۴۔بہترین سندھی کہانیاں ۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۵۔سب رنگ۔۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۶۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۷۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ سوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۸۔ دیس بیرانا(ہندی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۲۹۔انورسہیل کی منتخب کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۳۰۔ تقسیم کہانی۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۱۔سورج پرکاش کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۲۔ذکیہ زبیری کی بہترین کہانیاں(انتخاب و ترجمہ) ۳۳۔سوشانت سپریہ کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۴۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۵۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۶۔ سوال ابھی باقی ہے (کہانی مجموعہ)۔۔۔راکیش بھرامر ۳۷۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۸۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۹۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ سوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) تقسیم کہانی۔ حصہ دوم(زیرترتیب ) گناہوں کا دیوتا(زیرترتیب ) منتخب پنجابی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) منتخب سندھی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) کبیر کی کہانیاں(زیرترتیب )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply