گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(2)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

اکھاڑے پر دونوں جانب سے ایک ہی وقت میں گوپی اور جوکھو کے دَل پہنچے۔ دونوں دَلوں نے جے جے کی۔ مارُو باجے زور زور سے بجنے لگے۔ ماحول کے ذرے ذرے سے ویر رَس جاری ہو رہا تھا۔ بھیڑ کی آنکھوں میں مسرت اور بے چینی چمک رہی تھی۔ سب کے سب اکھاڑے کے پاس ہی ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ گوپی اور جوکھو کے معاونین انہیں چاروں جانب سے گھیرے شاباشی کے ساتھ ہی طرح طرح کی گُر کی باتوں کا ذکر کر رہے تھے۔ کوئی بزرگ پیٹھ ٹھونک کر جوش بڑھا رہا تھا، تو کوئی ہم عمر ہاتھ ملاکر فتح کی خواہش کا اظہار کررہا تھا اور تمام چھوٹے شاگرد پاؤں چھوکر کامیابی کیلئے بھگوان سے پرارتھنا کر رہے تھے۔

گوپی اکھاڑے میں کودے، اس سے پہلے ہی مانک نے اس کے کان کے پاس منہ لے جاکر چپکے چپکے کہا،’’بوڑھا پرانا خرانٹ استاد ہے۔ زیادہ موقع نہ دینا۔ ہاتھ ملاتے ہی، پلک مارتے ہی ۔۔۔سمجھے؟ ورنہ کہیں چمٹ گیا، تو پھر گھنٹوں کی چھٹی ہو جائے گی! پھر ہار بھی کھائے گا، تو کہنے کو رہ جائے گا کہ ایک تو بوڑھے سے لڑنا ہی گوپی جیسے جوان کی زیادتی تھی، دوسرے لڑا بھی تو کہیں گھنٹوں میں ریں ریں کر ۔۔۔سو، یہ کہنے کا موقع کسی کو نہ ملے۔ بس، جھٹ پٹ ۔۔۔‘‘

julia rana solicitors london

دو نوں جانب سے کود کروہ اکھاڑے میں اترے۔ دونوں طرف سے زور زور کی جے کار ہوئی۔ مارُو باجے اور زور سے بج اٹھے۔ بھیڑ کی آنکھوں کی بے چینی کی چمک میں پتلیوں کی کپکپاہٹ بڑھ گئی۔

دونوں نے جھک کر اکھاڑے کی مٹی چٹکی سے اٹھا کر پیشانی میں لگا کر اپنے اپنے گروئوںکو یاد کیا۔ پھر ہاتھ ملانے کے لیے ایک دوسرے کی آنکھوں سے آنکھیں ملائے آگے بڑھے۔ ہاتھ بڑھے، انگلیاں چھوئیں کہ اچانک جیسے بجلی سی کوند گئی۔ گوپی نے جانے کیسے دایاں پیر جوکھو کی کوکھ میں مارا کہ بوڑھا ایک چیخ کے ساتھ ہوا میں اچھلا، ہوا ہی سے جیسے ایک آہ کی آواز آئی اور دوسرے ہی لمحے اکھاڑے کی میڑ پر پہاڑ کے ایک ٹکڑے کی طرح وہ بھد سے گر پڑا۔ بھیڑ میں سناٹا چھا گیا۔ مارُو باجا تھم گیا۔اس کے دَل کے لوگ خدشات سے کانپتے ہوئے اسکی طرف بڑھے۔ جھک کر دیکھا تو وہ ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ اب کیا تھا، ان کی آنکھوں میں غضب کے شعلے بھڑک اٹھے۔

’’ یہ ناانصافی ہے، یہ دھوکہ ہے، ہاتھ ملانے سے پہلے ہی گوپی نے جوکھو استاد کو مار ڈالا۔ کشتی کے قاعدے کو اس بزدل نے توڑا ہے ۔۔۔ہم اسے جیتا نہ چھوڑیں گے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ غصے اور اشتعال میں چُور، چیختی آوازیں بھیڑ سے اٹھیں۔ گوپی ساکت کھڑا تھا۔ اس کی سمجھ میں خود نہیں آ رہا تھا کہ اچانک یہ کیا ہو گیا۔ لیکن اب سمجھنے بوجھنے کا موقع ہی کہاں تھا؟ جب جوکھو کے دَل نے لاٹھیاں اٹھا لیں تو دوسرا دَل خاموش کیسے رہتا؟ لاٹھیاں پٹ پٹ بجنے لگیں۔ تماش بینوں میں بھگدڑ مچ گئی۔بہت سوں کے سروں سے خون کی دھاریں  بہہ چلیں، بہت سے ہاتھ پیروں میں چوٹ کھا کر گرے اور تڑپنے لگے۔ آخر جب جوکھو کے د َل والوں نے دیکھا کہ ان کا پلہ کمزور پڑ رہا ہے، تو ان میں سے بعضوں نے خود ہی بیچ بچاؤ کا شور اٹھایا اور اپنے لوگوں کو ہی روکنے لگے۔ گوپی کے اپنے گاؤں کا معاملہ تھا۔ جوکھو کے دَل والے پرائے گاؤں کے تھے۔ اگر روک تھام کی انہیں نہ سوجھتی تو ایک آدمی بھی بچ کر نہ جا پاتا۔ لاٹھیاں آہستہ آہستہ تھم گئیں۔ پھر کچہری میں دیکھ لینے کی دھمکی دے کر وہ چلے گئے۔

ایسی واردات کو لے کر کچہری دوڑنا، خود ان کیلئے کوئی ساکھ کی بات نہ  تھی۔ اس سے عزت گھٹتی ہی، بڑھتی نہیں۔ جوکھو پہلوان کی اس طرح جو موت ہو گئی تھی، اس سے جوار میں کیا ان کی کم کرکری ہوئی تھی، جو وہ بھری کچہری میں اس بدنامی کا ڈھول پیٹتے۔ حلقے کے داروغہ نے پہلے ضرور استغاثہ دائر کرنے پر زور دیا، لیکن گوپی کے دَل نے جیسے ہی اس کی جیب گرم کر دی، وہ بھی خاموشی اختیار کرگیا۔

جو بھی ہو، اس واردات کا اتنا نتیجہ ضرور نکلا کہ جوکھو کے گاؤں والے ہمیشہ کیلئے گوپی اور اسکے خاندان کے جان لیوا دشمن بن گئے۔ ان کے دلوں میں ایک زخم بن گیا۔ گوپی کے دل پر جوکھو کی اس طرح ہوئی موت کا اتنا اثر پڑا کہ اس نے ہمیشہ کے لئے لنگوٹ اتار پھینکا۔ مانک اور گاؤں کے لوگوں نے اسے بہت سمجھایا، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ اب ہر طرح سے گھر گرہستی کے کاموں میں باپ کی مدد کرنے لگا۔

تین

آہستہ آہستہ وہ باتیں پرانی پڑ گئیں۔ باپ کو اب اپنے بیٹوں کی شادی کی فکر ہوئی۔ اس سے قبل بھی کئی جگہوں سے رشتے آئے تھے، لیکن انہوں نے، ’’ ابھی کیا جلدی ہے؟‘‘ کہہ کر ٹال دیا تھا۔ اب کے اتفاق سے ایک ایسا رشتہ آ گیا کہ ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ سیتا اور ارملا کی طرح دو پیار کرنے والی، سگی، نیک نام،مہذب بہنوں کی ایک ہی ساتھ دونوں بھائیوں سے رشتے کی بات چلی۔ جیسے بیٹے تھے، ویسے ہی بہویں ملنے جا رہی تھیں۔ ماں تو برسوں سے بہوؤں کا منہ دیکھنے کو تڑپ رہی تھی۔ اس رشتے کی خبر جس نے بھی سنی، اسی نے باپ کو رائے دی کہ،’’بس، اب کچھ سوچنے سمجھنے کی بات نہیں ہے۔ یہ بھگوان کی کرپا ہے کہ ایسی بہویں مل رہی ہیں۔ ایک ہی ساتھ جیسے دونوں بیٹوں کی تمام تر پرورش ہوئی ہے، ویسے ہی ایک ہی ساتھ بیاہ بھی جتنی جلدی ہو جائے، اچھا ہے۔‘‘

خوب دھوم دھام سے بیاہ ہو گیا۔ دو دو مہذب، خوبصورت بہویں گھر میں ایک ساتھ کیا اتریں، گھر روشنیوں سے بھر گیا۔ ماں باپ کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ سچ مچ بہویں اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں جیسا کہ انہوں نے سنا تھا، تو ان کے اطمینان اور سکھوں کا کیا کہنا!

گوپی پیاری بیوی کے ساتھ ہی پیاری بھابھی پاکر نہال ہو گیا۔ اس کے لئے گھر سنساراتنا پرکشش، اتنا خوشیوں بھرا ہو اٹھا کہ وہ صرف گھر میں ہی جم کر رہ گیا۔ باہری دنیا سے اس نے ایک طرح سے ناطہ ہی توڑ لیا۔ وہ ایک دھن کا آدمی تھا۔ پہلے دنیاوی باتوں سے، اپنا جسم بنانے اور کسرت کی دھن میں، کوئی دلچسپی ہی نہ تھی۔ اب وہ چھوٹی، تو دوسرے سے وہ اس طرح چپک گیا کہ لوگ دیکھتے تو تعجب کرتے۔ تہذیب کی بندشوں کی وجہ سے اسے اپنی بیوی سے ملنے جلنے کی اتنی آزادی نہ تھی، جتنی بھابھی سے۔ بھابھی سے وہ کھل کر ملتا اور ہنسی مذاق کی آوازوں سے گھر کو سر پر اٹھا دیتا۔ ماں باپ کا دل گھر کے اس سداکے خوشگوار ماحول کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھتا۔ مانک کو ان باتوں میں کھل کر حصہ لینے کی آزادی نہ تھی، پھر بھی وہ گوپی اور بھابھی کا محبت بھرارویے دیکھ کر دل ہی دل خوشیوں سے بھر اٹھتا۔ بھائی بھائی کی محبت، بہن بہن کی محبت، دیور بھابھی کی محبت، بیٹوں اور ماں باپ کی محبت ،بہوؤں  کی محبت، ایسا لگتا تھا جیسے چوبیس گھنٹے اس گھر میں امرت کی بارش ہوتی ہو،چھک چھک کر، نہانہا کر گھر کا ہر ایک فرد خوشیوں سے لطف کشید کر رہا ہے، کوئی دکھ نہیں، کوئی مسئلہ نہیں، کوئی تشویش نہیں، کوئی شک نہیں۔

کیا اچھا ہوتا اگر وہ پھلواری ہمیشہ ایسی ہی گلزار بنی رہتی، اس کے پودے اور پھول ہمیشہ اسی طرح خوشی سے جھومتے رہتے! لیکن دنیا کی وہ کون سی پھلواری ہے، جس کے پودوں اور پھولوں کی خوشی ،پت جھڑاپنے منحوس قدموں سے نہیں روند دیتا؟

بمشکل ان خوشیوں کے ابھی چھ مہینے بھی نہ گزرے ہوں گے کہ ایک کالی رات کو خوشی کی اس دنیا کے ایک کونے میں آگ لگ گئی۔ مانک ستیانارائن جی کی کتھا کیلئے کچھ ضروری سامان لینے قصبے گیا ہوا تھا۔ لوٹنے لگا تو کافی رات ہو گئی تھی۔ قصبے سے اس گاؤں کا راستہ جوکھو کے گاؤں کی حدود سے ہوکرنکلتا تھا۔ سامان کی گٹھڑی  کندھے پر لٹکائے وہ تیزی سے قدم بڑھائے چلا آ رہا تھا۔ اُس گاؤں کے ایک سرحدی باغ میں وہ پہنچا تو اچانک اسے لگا کہ اس کے پیچھے کچھ لوگ آ رہے ہیں۔ مڑکر اس نے دیکھنا چاہا کہ تڑاک سے ایک بھرپور لاٹھی اس کے سر پر بج اٹھی۔ پھر کئی لاٹھیاں ساتھ ساتھ اس کے اوپر چاروں اطراف سے بجلی کی تیزی سے چوٹ کرنے لگیں۔ اس کے ہوش وحواس غائب ہو گئے۔ وہ زیادہ دیر تک خودکو سنبھال نہ پایا اور گر پڑا۔ سر پھٹ گیا تھا۔ خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ اتنے میں اسے لگا کہ کسی نے اس کی گردن پر لاٹھی جھٹکے سے رکھی ہے، پھر اسے زور سے دبایا گیا ہے۔ اسکی سانسیں گھٹتی گئیں اورآنکھیں باہر نکل آئیں۔

قاتل لاش ٹھکانے لگانے کی بات ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ کچھ لوگوں کے آنے کی آہٹ پاکر بھاگ چلے۔ وہ لوگ بھی قصبے ہی سے آ رہے تھے۔ باغ میں عین راستے پر خون اور لاش دیکھ کر وہ خدشے سے ٹھٹھک گئے۔ گاؤں کے لوگ ایسی وارداتوں میں شہریوں کی طرح خوف کھا کر بھاگ نہیں کھڑے ہوتے۔ ایسے وقتوں پر بھی اپنا فرض نبھانا خوب جانتے ہیں۔ انہوں نے جھک کر دیکھا اور مانک کو پہچانا، تو ان کے دکھ کی کوئی حد نہ رہی۔ جوار کا کوئی ایسا آدمی نہ تھا، جو ان دو بھائیوں کو اور ان کی طاقت اور بہادری کو نہ جانتا ہو۔ لمحے بھر میں انہیں جوکھو کے ساتھ گوپی کی کشتی کی باتیں یاد آگئیں۔ پھر سب کچھ ان کی سمجھ میں خود ہی آ گیا۔ جوکھو کے گاؤں والوں کے اس بزدلانہ اقدام سے وہ پریشان ہو اٹھے۔ انہوں نے ایک آدمی کو گوپی کو خبر کرنے کو بھیجا۔ ساتھ ہی اس سے یہ بھی کہنے کو کہا کہ پورے دَل بل کے ساتھ اس کے گاؤں والے ابھی آ جائیں، تاکہ ان بزدلوں سے مانک کے قتل کا بدلہ فوراً ہی لے لیا جاسکے۔

’’ بے چارہ مانک ! اسکی نوجوان بیوہ کی زندگی ہمیشہ کیلئے دکھی ہو گئی! ان بزدلوں کو ان کا بھیانک گناہ نگل جائے گا۔ بدلہ ہی لینا تھا تو مردوں کی طرح میدان میں لیتے!‘‘ مانک کی لاش کو گھیرے ہوئے پرانی یادوں اور غصے میں بڑبڑاتے وہ لوگ وہیں بیٹھ گئے۔

گوپی کے گھر خبر پہنچی۔ ماں اور بہویں چھاتی پیٹ پیٹ کر، پچھاڑے کھا کھا کر، چیخ چیخ کر رو پڑیں۔ گوپی کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ وہ سر پکڑ کر جہاں کا تہاں بیٹھ گیا۔ باپ دل پر جیسے گھونسا کھا کر پتھر کے بت بن گئے۔ اس حادثے کی خبر کے جھٹکے سے ان کا دماغ ہی مائوف ہو گیا تھا۔

سارے گاؤں میں اس حادثے کی خبر بجلی کی طرح پھیل گئی۔ چاروں جانب ایک کہرام سا مچ گیا۔ سارے کاسارا گاؤں لاٹھیاں سنبھالے ہوئے، گوپی کے دروازے پر دکھ اور اشتعال سے پاگل ہو کر جمع ہو گیا۔ عورتیں اس کی ماں اور بہوؤں کو سنبھالنے لگیں۔ بڑے بوڑھے پِتا سمجھانے بجھانے لگے۔ لیکن جوانوں کو کہاں چین تھا؟ چاروں طرف سے گوپی کو گھیر کر اسے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے للکارنے لگے۔

تھوڑی دیر تک تو گوپی ،ہوش و حواس کھوئے ان کی باتیں سنتا رہا۔ پھر جیسے اس کی آنکھوں میں بجلیاں چمکنے لگیں۔ وہ تڑپ کر اٹھا اور کونے میں کھڑی گوجی اٹھا کر زخمی شیر کی طرح دوڑ پڑا۔ اس کے پیچھے پیچھے گاؤں کے لٹھ باز نوجوان آنکھوں میں انتقام کی آگ کیلئے بڑھ چلے۔ ادھر خبر پاکر چوکیدار تھانے کی جانب بھاگ گیا۔

جوکھو کے گاؤں والوں کو اس واردات کی کوئی خبر نہ تھی۔ اسکے چند شاگردوں کا ہی یہ کارنامہ تھا۔ انہوں نے اپنا کام کیا اورغائب ہوگئے۔ گاؤں والوں نے جب گاؤں کی جانب بڑھتا شور سنا تو سوچا کہ شاید یہ ڈاکوئوں کا کوئی گروہ ہے، جو گاؤں کو لوٹنے آ رہا ہے۔ پورے گاؤں میں تہلکہ مچ گیا۔ نوجوانوں نے لاٹھی سنبھال کر مقابلے کا فیصلہ کیا اور جدھر سے وہ شور بڑھتا آ رہا تھا، ادھر گاؤں کے باہر ہی وہ بھڑنے کو دوڑ پڑے۔ عورتوں اور بوڑھوں کا کلیجہ دھک دھک کر رہا تھا۔ بچے بلبلا اٹھے تھے۔

گوپی کا دَل پاس پہنچا، تو سامنے لاٹھیاں اٹھی دیکھ کر انھوں نے سمجھ لیا کہ کھلی فوجداری کی تیاری انہوں نے پہلے ہی سے کر رکھی ہے۔ سمجھنے بوجھنے کی صورت میں کوئی پارٹی نہ تھی۔ ایک دوسرے پر وہ بھوک لگے شیروں کی طرح جھپٹ پڑے۔ لاٹھیاں پٹاپٹ بجنے لگیں۔ اندھیرے میں سینکڑوں بجلیاں کوندھنے لگیں۔ اندھیرے میں اندھوں کی طرح بس اندھادھند لاٹھیاں چل رہی تھیں۔ کس کے دَل کا کون زخمی ہوکر گرتا ہے، کس کی لاٹھی کس پر اور کہاں گرتی ہے، یہ جاننے کی سمجھ کسی کو نہ تھی۔ ایک طرف مانک کے قتل کے بدلے کی لپٹیں جل رہی تھیں، تو دوسری طرف اپنی جان و مال کی حفاظت کا سوال تھا۔ کوئی دَل اپنی ہار کیسے مان لیتا؟ دیکھتے دیکھتے کئی لاشیں زمین پر تڑپنے لگیں۔ خون کی بوچھاڑو ںسے جگہ جگہ پھسلن ہو گئی۔ لیکن اس پر دھیان دینے کی فرصت کسے تھی؟ وہاں تو جان دینے اور لینے کی بازی لگی تھی۔

مانک کی لاش تھانے پر لے جانے کا حکم دے کر داروغہ اور نائب، دس ہتھیار بندکانسٹیبلو ںکے ساتھ چوکیدار کو آگے رکھ کے جائے حادثہ کی جانب لپکے۔ لاٹھیوں کی پٹاپٹ سن کر انہوں نے ٹارچ جلا کر سامنے کا بھیانک منظر دیکھا، تو ریوالور نکال لیا اورکانسٹیبلو ںکو ہوائی فائر کرنے کا حکم دیا۔

فائرنگ کی آواز سن کر دونوں دل والوں نے سمجھ لیا کہ پولیس کی دوڑ آ گئی۔ وہ اپنی لاٹھیاں روک بھی نہ پائے تھے کہ پولیس دندناتی پہنچ گئی۔ لوگ ابھی فرار کو ہی تھے کہ چاروں طرف سے پولیس کی سنگینوں سے گھر گئے۔ ٹارچو ںکی روشنی سے ان کی آنکھیں چوندھیا رہی تھیں۔ دیکھتے دیکھتے ہی ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پڑ گئیں۔

گوپی کے بائیں ہاتھ کی تین انگلیاں پس گئی تھیں اور گلے کے پاس والی دائیں پسلی میں گہری چوٹ آئی تھی۔ لیکن غم اور غصہ کے جھونکے میں وہ اس طرح غافل تھا کہ جب دوسرے دن صبح اس کی آنکھیں پرگنے کے ہسپتال میں کھلیں، تو اسے اس کا علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہے، اس کے ہاتھ، گلے اور سینے میں پٹیاں کیوں بندھی ہیں، اس کا جسم کیوں چور چور ہو گیا ہے، اس کا ماتھا کیوں زور زور سے جھنجھنا رہا ہے؟ اسکی اغل بغل میں اور بھی اس کے گاؤں اور جوکھو کے گاؤں کے جوان اسی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ سب ایک دوسرے کو ٹکٹکی باندھے، پھٹی آنکھوں سے گھور رہے تھے۔ لیکن جیسے کسی میں بھی کچھ کہنے سننے کی طاقت ہی نہ تھی، جیسے وہ سب کے سب اپنے لئے اور ایک دوسرے کیلئے مسئلہ بنے ہوئے ہوں۔

مانک نہیں رہا، زخمی گوپی قانون کی گرفت میں پڑا ہوا فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔ ماں باپ اور بہوؤں کے سر پر ایک ساتھ ہی جیسے پہاڑ گر پڑا۔ اس کے نیچے وہ دبے ہوئے چھٹپٹا رہے ہیں، کراہ رہے ہیں، تڑپ رہے ہیں۔

گاؤں میں بہت سے گھروں میں ماتم بچھاہے، بہت سے گھروں میں دکھ کی گھٹا گھری ہے۔ لیکن گوپی کے گھرکا حزن جیسے پھیل کر پورے گاؤں پر چھا گیا ہے۔ لوگ اس کے گھر بھیڑ لگائے رہتے ہیں۔ کبھی ماں باپ کو سمجھاتے ہیں، کبھی تسلیاں دیتے ہیں اور کبھی خود کو بھی سنبھالنے کے قابل نہیں ہو کر انہی کے ساتھ ساتھ خود بھی رو پڑتے ہیں۔

مقدمے کی پیروی کا بھی انتظام ہو رہا ہے۔سب کے سب اپنی گاڑھی کمائی بہا دینے کو تیار ہیں۔ گاؤں  داری کا معاملہ ہے، گاؤں کے جوانوں کی زندگی کا واسطہ ہے اور سب سے بڑھ کر گاؤں کی آنکھوں کے تارے، ماں باپ کے اکلوتے سہارے، تڑپتی اور بدقسمتی کی ماری بیوہ بھابھی کی زندگی کی اکیلی امید، گوپی کو بچا لینے کا سوال ہے۔ بہوؤں کے باپ اور بڑے بھائی بھی اس مصیبت کی خبر پاکر آ گئے ہیں۔ ان کے بھی دکھ کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ وہ بھی گوپی کو بچا لینے کیلئے سب کچھ نچھاور کرنے پر تلے ہیں۔

کوئی بھی رقم قانون کا منہ بند کرنے کے قابل نہیں ہے۔ پانچ آدمیوں کا قتل ہوا ہے، ایک آدھ کی بات ہوتی تو داروغہ کھپادیتا۔ وہ مجبور ہے۔ ہاں، ضلع کے بڑے افسر ضرورکچھ کر سکتے ہیں، لیکن ان کے یہاں ان دیہاتیوں کی پہنچ نہیں۔

زخمی اچھے ہو ہوکر حوالات میں پڑے ہیں۔ مقدمہ سیشن کے سپرد ہے۔ فوجداری کے سب سے بڑے وکیل کو کیا گیا ہے۔ اس کی تمام تر کوششوں پر بھی کسی کی ضمانت منظور نہیں ہوئی۔

باپ ایک بار گوپی سے مل آئے ہیں۔ ملتے وقت دونوں نے اپنے دل و دماغ پر پورا پورا قابو رکھنے کی کوشش کی تھی۔ کسی قسم کی کمزوری یا تڑپ دکھا کر وہ ایک دوسرے کا دکھ بڑھانا نہیں چاہتے تھے۔ باپ نے بیٹے کی ڈھارس بندھائی۔ بیٹے نے باپ کو کوئی فکر نہ کرنے کو کہا۔ اور کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ بچھڑتے وقت، پتہ نہیں، دل کے کس درد میں ڈوب کرگوپی نے کہا،’’بھوجی کا خیال رکھیو!‘‘

اس ایک بات میں کتنا درد، کتنا رنج، کتنی تڑپ تھی، باپ نے اس کا اندازہ کرتے ہی اپنا اینٹھتا دل لئے منہ پھیر لیا تھا۔ ادھر گوپی نے آنسو پونچھ لیے، ادھر جیل کے دروازے پر باپ نے اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو پلکوں میں ہی سنبھال لیا۔

آخر مقدمے کا فیصلہ ہوا۔ سزا سب کو ہوئی۔ کسی کو بیس سال، تو کسی کو چار اور کسی کو پانچ سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ گوپی کو پانچ سال کی سزا ملی۔ اس کے گھر میں دھیما پڑا ماتم پھر ایک بارپھر زور پکڑ گیا۔ ماں باپ کے دکھ کا کیا کہنا! بڑی بہو کی حالت تو ابتر تھی ہی۔ چھوٹی بہو کے دل میں بھی ایک ترشول چبھ گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

عامر صدیقی
لکھاری،ترجمہ نگار،افسانہ نگار،محقق۔۔۔ / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر۔ پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ ؁ ء بمقام سکھر ، سندھ۔تعلیمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز ۱۹۹۲ ء ؁ میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے سے کیا۔ ہندوپاک کے بیشتر رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں۔ علاوہ ازیں دیگرتراجم و مرتبہ نگارشات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے : ۱۔ فرار (ہندی ناولٹ)۔۔۔رنجن گوسوامی ۲ ۔ ناٹ ایکیول ٹو لو(ہندی تجرباتی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۳۔عباس سارنگ کی مختصرسندھی کہانیاں۔۔۔ ترجمہ: س ب کھوسو، (انتخاب و ترتیب) ۴۔کوکلا شاستر (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۵۔آخری گیت اور دیگر افسانے۔۔۔ نینا پال۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۶ ۔ دیوی نانگرانی کی منتخب غزلیں۔۔۔( انتخاب/ اسکرپٹ کی تبدیلی) ۷۔ لالٹین(ہندی ناولٹ)۔۔۔ رام پرکاش اننت ۸۔دوڑ (ہندی ناولٹ)۔۔۔ ممتا کالیا ۹۔ دوجی میرا (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۱۰ ۔سترہ رانڈے روڈ (ہندی ناول)۔۔۔ رویندر کالیا ۱۱۔ پچاس کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۵۰ء تا ۱۹۶۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۲۔ ساٹھ کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۶۰ء تا ۱۹۷۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۳۔ موہن راکیش کی بہترین کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) ۱۴۔ دس سندھی کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۵۔ قصہ کوتاہ(ہندی ناول)۔۔۔اشوک اسفل ۱۶۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد ایک ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۷۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۸۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد سوم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۹۔ہند کہانی ۔۔۔۔جلد چہارم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۰۔ گنگا میا (ہندی ناول)۔۔۔ بھیرو پرساد گپتا ۲۱۔ پہچان (ہندی ناول)۔۔۔ انور سہیل ۲۲۔ سورج کا ساتواں گھوڑا(مختصرہندی ناول)۔۔۔ دھرم ویر بھارتی ۳۲ ۔بہترین سندھی کہانیاں۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۴۔بہترین سندھی کہانیاں ۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۵۔سب رنگ۔۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۶۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۷۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ سوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۸۔ دیس بیرانا(ہندی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۲۹۔انورسہیل کی منتخب کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۳۰۔ تقسیم کہانی۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۱۔سورج پرکاش کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۲۔ذکیہ زبیری کی بہترین کہانیاں(انتخاب و ترجمہ) ۳۳۔سوشانت سپریہ کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۴۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۵۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۶۔ سوال ابھی باقی ہے (کہانی مجموعہ)۔۔۔راکیش بھرامر ۳۷۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۸۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۹۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ سوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) تقسیم کہانی۔ حصہ دوم(زیرترتیب ) گناہوں کا دیوتا(زیرترتیب ) منتخب پنجابی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) منتخب سندھی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) کبیر کی کہانیاں(زیرترتیب )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply