کھڑکیاں سمندر کی طرف کھلتی ہیں۔محمد اظہار الحق

میں تو ایک جھیل ہوں ۔جاڑا آتا ہے تو کونجیں اترتی ہیں ،دور دور سے آئی ہوئی،سائبیریاسے،صحرائے گوبھی کے اس پار سے برف سے، مستقل ڈھکے پہاڑوں سے،آکر میرے کناروں پر بیٹھتی ہیں ، باتیں کرتی ہیں ۔میرے ترسے ہوئے نیلے پانیوں کو اپنی ٹھنڈی چونچوں سے بوسے دیتی ہیں ، پیاس بجھاتی ہیں۔پھر رُت بدلتی ہے۔ وہ ڈاروں کی صورت اڑتی ہوئی واپسی کا راستہ لیتی ہیں ۔ میرے پانی، میرے کنارے انہیں جاتے ہوئے حسرت سے دیکھتے ہیں ،مگر روک نہیں پاتے۔بس پوچھتے ہیں ۔کیا تم سائبیریا واپس جا کر ہمیں یاد کرو گی؟”تم اگلےسرما ضرور آنا ہم یہیں تمھارا انتظار کریں گے”

میں تو ایک باغ ہوں اپنے فرش کو اس سبزے سے آراستہ کرتا ہوں جو مخمل کی طرح ہے۔ روش روش پھول کھلاتا ہوں کنج کنج آراستہ کرتا ہوں ۔فوارے چلاتا ہوں ۔نہر کا پانی باغ کے راستوں سے گزارتا ہوں ۔پانی میں رنگین مچھلیاں پالتا ہوں پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ نرم خنک ہوا چلے۔ٹہنیاں جھومیں ۔پھول رقص کریں یہ سب کس لیے؟ان بچوں کے لیے جو دن چڑھے باغ میں آتے ہیں ۔ان پرندو ں کے لیے جو مختلف رنگوں کے ہیں اور خوبصورت ہیں اور میں سمجھتا ہوں میں زمین کا نہیں آسمان کا ٹکڑا ہوں ۔ میں باغ ہوں مگرباغ بہشت ہوں ۔ بچے میرے سبز مخمل پر دوڑتے ہیں تو میرے سینے میں توانائی بھر جاتی ہے۔

رنگین خوبصورت پرندے میرے درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھ کر گیت گاتے ہیں تو ابر پاروں کے اس پار سے فرشتے اترتے ہیں اور ان پرندوں اور ان بچوں کی حفاظت کرتے ہیں ،دن بھر چہکار اور مہکار رہتی ہے۔پرندے اور بچے،بچے اور پرندے،آنکھ مچولیاں کھیلتے ہیں پھول پودے درخت سبزہ اور پانی تالیاں بجاتے ہیں !مگر آہ !جب شام ہونے لگتی ہے سب کوچ کرنے لگتے ہیں !پرندے اڑ جاتے ہیں بچے روشوں کو اداس ،پانی کو خاموش،پھولوں کو منہ بسورتا،پودوں کو دم بخود اور درختوں کو مغموم چھوڑ کر چلتے بنتے ہیں ۔باغ پر ویرانی چھاجاتی ہے۔اجاڑپن ہر شئےکو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔پھر رات پڑتی ہےاندھیری،سرد،بے مہررات! لمبی رات!باغ رات تنہا گزارتا ہےان بچوں اور پھولوں کی یادیں جو دن بھر اس کے سینے پر کھیلتے بھاگتے گاتے اور پھدکتے رہے۔

میں تو ایک پارک ہوں ۔دن بھر لوگوں سے بھرا رہتا ہوں ۔بیٹھتے ہیں دھوپ کھاتے ہیں جب یخ زرد شام چھانے لگتی ہے توسب گھروں کو چل دیتے ہیں پھر رات بھر برف باری سے میں تنہا نمٹتا ہوں ۔

میرا حال تو میری دادی کا سا ہے۔گرمیوں کی چھٹیاں ہم سب ہمیشہ گاؤں میں ان کے ساتھ گزارتے تھے۔کوئی کہاں سے آتا تھا،کوئی کہاں سے،اپنے اپنے ٹھکانوں ،قصبوں اور شہروں سے!سب ایک گھر میں جمع ہوتے تھے دو اڑھائی ماہ مل کر رہتے تھے ۔دن ڈھلتے ہی صحن میں جھاڑو دیا جاتا تھا۔پھر پانی کا چھڑکاؤ ہوتا تھا۔گرد بیٹھتی تھی سوندھی سوندھی خوشبو سارےمیں پھیل جاتی تھی۔پھر چارپائیاں بچھتی تھیں۔ان پر سفید چھپے والی چادریں بچھائی جاتی تھی – تکیے رکھے جاتے تھے۔رات کو چہل قدمی کے لیے سب باہر جاتے تھے۔صبح نو بجے صحنوں میں تنور سلگا دیے جاتے تھے۔گرم گرم روٹیوں پر،انگلیوں کےساتھ،دادی گڑھے ڈالتی تھیں پھر مکھن کے بڑے بڑے پیڑے ان روٹیوں کے سینوں پر پگھل کر،ان گڑھوں میں رچ بس جاتے تھے۔ ساتھ شکر ہوتی تھی اور دودھ جیسی میٹھی لسی!

ہم سب بچے باہر، اپنے کھیتوں میں جاکر بیلوں سے خود خربوزے توڑتے تھے۔موٹھ اور مونگ کی ادھ پکی پھلیاں کھانے کا اپنا مزہ تھا! خاندان کی خواتین سفر سے پہلے گھوڑیوں پر بیٹھتی تھیں تو گلی میں سے مردوں کا گزرنا روک دیا جاتا تھا۔

مگر یہ ستر اسی دن اس قدر تیز رفتاری سے گزرتے تھے کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔پھر وہ دن آتا تھا جب سب نے واپس جانا ہوتا تھا۔ اس د ن دادی صبح سے بولنا بند کردیتی تھیں بس خاموشی سے بچوں کے جانے کی تیاری کرتی رہتی تھیں سامان بندھ جاتا اٹیچی کیس ،صندوق تیار کئے جاتے بیگوں کی زپیں چلنے اور بند ہونے کی آوازیں آتیں ، پھر سب رخصت ہوتے تو دادی دروازے کے سامنے کھڑی ہوجاتیں ۔جب تک جانے والے نظر آتے کھڑی رہتیں ۔پھر وہ سب سامنے مکانوں کی اوٹ سے ادھر ہوتے تو دادی پلٹ کر گھر کے اندر آتیں۔ اس قطرے کو جو رخساروں پر بہہ رہا ہوتا انگلی سے صاف کرتیں پھر خالی صحن اور بھائیں بھائیں کرتے کمروں کو دیکھ کر ،صحن کے ایک طرف بیٹھ جاتیں۔

میرا حال بھی وہی ہے ہاں ، زمانے کی گردش نے ہجر اور وصال کے تلازمے تبدیل کردئیے ہیں ۔ پہلے مختلف شہروں اور قصبوں سے آتے تھے اب بچے مختلف ملکوں سے آتے ہیں ۔ اب کھیتوں کھلیانوں میں نہیں ،تعطیلات کے دوران پارکوں کلبوں بازاروں اورمارکیٹوں میں جاتے ہیں اب گھوڑیاں اور اونٹ نہیں ،جہازوں کے پیٹ انہیں اپنے اندر چھپا کر لے جاتے ہیں اور دور دیسوں میں جاکر اگل دیتے ہیں۔

ہجر اور وصال کے تلازمے بدلے مگر کرب اور درد کے اشاریے وہی ہیں ۔صحن اسی طرح ویران ہوتے ہیں۔کمرے اسی طرح بھائیں بھائیں کرتے ہیں ۔جو کھلونے ،چھوٹے چھوٹے جوتے اور ننھی منی قمیضیں یا پتلونیں رہ جاتی ہیں ۔وہ اُسی طرح رلاتی ہیں ۔آنسو اب بھی رخساروں پر ڈھلکتے ہیں مگر ہوائی اڈوں پر! گھر میں مُڑتی ہوئی سیڑھی اب بھی آہیں بھرتی ہے ۔دروازے اب بھی چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو یاد کرکے خاموش سسکیاں بھرتے ہیں ۔گھوڑے ہوں یا ڈاچیاں ،جہاز ہوں یا کشتیاں یا ہوائی اڈے ،درد کے سامان میں کمی نہیں آئی۔ انسان کے اندر کو کسی زمانے کسی ایجاد، کسی ترقی نے تبدیل نہیں کیا ۔آنسو روکنے کے لیے سائنس کچھ نہیں کرسکی ۔اب چند گھنٹوں میں ویرانے سبزہ زار بنا دیے جاتے ہیں ۔مگر سلگتے خالی ویران سینوں کو آباد کرنے کا کوئی طریقہ دریافت نہیں ہوا ۔پہلے رخصت کرنے والے بندرگاہوں پر روتے تھے پھر ریلوے اسٹیشنوں پر۔ اب ہوائی اڈوں پر روتے،سسکتےاور بلکتے ہیں !جدائی ایک مستقل قدر ہے ۔کوئی الجبرا،کوئی ریاضی ،کوئی فزکس اس قدر کو گھٹا نہیں سکی ۔راکٹ مریخ پر پہنچ جائیں مگر ناصر کاظمی کا فرا ق کا گیت سدا ہرا بھرا رہے گا۔

؎پھر وہی گھر وہی شام کا تارا
پھر وہی رات وہی سپنا تھا
یوں گزرا وہ ایک مہینہ
جیسے ایک ہی پل گزرا تھا
صبح کی چائے سے پہلے اس دن
تو نے رختِ سفر باندھا تھا
اب نہ وہ گھر نہ وہ رات کا تارا
اب نہ وہ رات نہ وہ سپنا تھا
آج وہ سیڑھی سانپ بنی تھی
کل جہاں خوشبو کاپھیرا تھا
پچھلی شب کی تیز ہوا میں
کورا کاغذ بول رہا تھا!

پہلے حویلیاں فراق کے نوحے پڑھتی تھیں ۔اصطبلوں میں گھوڑے آنسو بہاتے تھے ۔اب پورچوں میں گاڑیاں ماتم کرتی ہیں ۔بیڈ روم خالی ہوکر صدائیں دیتے ہیں!انسان کے باہر سب کچھ بدل گیا۔اندر کچھ نہیں بدلے گا۔جب تک دل خون کا ٹکرا ہے۔ اس میں سے درد کے سوتے بہتے رہیں گے۔ جب تک آنسو بنتے رہیں گے ،آنکھوں سے نکلتے اور رخساروں پر لڑھکتے رہیں گے ۔بشیر بدر نے کہا تھا
؎گرم کپڑوں کا صندوق مت کھولنا ورنہ یادوں کی کافور جیسی مہک

خون میں آگ بن کر اتر جائے گی یہ مکان صبح تک راکھ ہوجائے گا

اب تو جو گئے ہیں انہیں پیچھے چھوڑے ہوئے گرم کپڑوں کے صندوقوں کی فکر ہے نہ ضرورت!وہاں تو ان لباسوں کی ہی ضرورت نہیں !ہوائی جہاز ایسا عفریت ہے جس نے ہجرتوں کے در کھول تو دیے ،بند کرنا اس کے بس کی بات نہیں!ہجرت ایسا عمل ہے جس کا ایک سرا نظر آتا ہے دوسرا کسی کو نہیں دکھائی دیتا۔ہجرت کرنے والی نسلوں کا اَن دیکھا نامعلوم مستقبل کسے نظر آسکتا ہے!ایک نسل ان رابطوں کو قائم کرنے کی جدوجہد کرتی ہے جدوجہد کرتے کرتے ٹھکانے لگ جاتی ہے۔دوسری نسل میں یہ تعلق کمزور ہونے لگتا ہےاس کے بعد کوئی گارنٹی ہے نہ پیش گوئی! پھر زمانہ جو چاہے کرے!پھر وقت اپنی رو میں جسے جدھر چاہے لے جائے!
؎ نے باگ ہاتھ ہر ہے نہ پا ہے رکاب میں

ہجرتیں جو بستیوں قریوں ڈھوکوں گوٹھوں سے شروع ہوئی تھیں ،نزدیک کے قصبوں اور شہروں تک لائیں ۔پھر سمندر پار دوسرے ملکوں میں لے گئیں۔
پہلے زندگیاں اس امید میں ختم ہوتی تھیں کہ گاؤں واپس جائیں گے۔اپنے کیکر اور اپنے شیشم کے نیچے بیٹھ بیٹھ کر،اپنے رہٹ کا پانی پئیں گے،کوئی گاؤں واپس نہ گیا۔شیشم،کیکر اور رہٹ انتظار کرتے رہے جو شہر میں آیا،وہیں کا ہوگیااب عمریں اس سراب میں کٹتی ہیں کہ سمندروں کو عبور کرکے واپس وطن جائیں گے۔مگر کوئی واپس نہیں آتا۔آتے بھی ہیں تو جانے کے لیے۔

سمندروں کے کنارے خواب گاہیں بنی ہوئی ہیں ۔ان کی کھڑکیاں صرف اور صرف پانیوں کی طرف کھلتی ہیں ۔پانیوں کی طرف!سفینوں اور جہازوں کی طرف!کوئی کھڑکی واپسی کی طرف نہیں کھلتی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *