سیلفی سے شہرت پانے والی مادہ گوریلا چل بسی

کانگو: سیلفی کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کرنے والی مادہ گوریلا نے 14 سال کی عمر میں دنیائے فانی سے کوچ کرلیا۔ طویل علالت کے بعد اس نے زندگی کی آخری سانسیں اپنے نگراں آندرے بوما کی بانہوں میں لی اور پھر ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔

مادہ گوریلا کو اس کے نگراں نے نداکسی کا نام دیا تھا۔ 2019 میں نداکسی کی سوشل میڈیا پر رینجر کے ساتھ تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ پوز بنائے ہوئی تھی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق آندرے بووما جنگلی حیات کی دیکھ بھال کرنے والے اہلکار تھے۔ انہیں 2007 میں دو ماہ کی نداکسی ملی تھی تو اسے وہ کانگو کے ویرنگوا نیشنل پارک کے یتیم خانے میں لائے تھے۔

ندا کسی کے ماں باپ کو اسمگلروں نے ہلاک کردیا تھا۔ وہ اس کیفیت میں آندرے بووما کو ملی تھی کہ اپنی مری ہوئی ماں کے جسم سے لپٹی ہوئی تھی۔

آندرے بووما نے اس وقت ویرنگوا یتیم خانے کے مینیجر ہیں، انہوں نے اس وقت سوچا تھا کہ اس چھوٹی سے بچی کو جنگل میں تنہا نہیں رہنا چاہیے کیونکہ یہاں اس کا کوئی رشتہ دار بھی نہیں ہے تو اسے ہمراہ لائے اور پھر اس کی دیکھ بھال اس طرح کی کہ اسے اپنی بیٹی بنا لیا۔

اس کا اعتراف انہوں نے 2014 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کیا تھا کہ انہیں نداکسی سے بیٹی کی طرح محبت ہے۔ وہ اس کے ساتھ بستر پہ سوتے تھے، کھیلتے تھے اور کھانا بھی کھلاتے تھے۔ وہ خود کو اس کی ماں ہی سمجھتے تھے۔

آندرے بووما نے جمعرات کو کہا کہ نداکسی کو جاننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ انسانوں اور گوریلوں کے درمیان کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کے تحفظ کے لیے وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو ہم کر سکتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

بی بی سی کے مطابق انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے اپنے بچے کی طرح پیار تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جب بھی اس سے ملتا تھا اس کی خوشگوار شخصیت میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی تھی۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply