حکومت کو ایک مخلصانہ مشورہ۔۔محمد اظہار الحق

ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ احمق ہونے کی حد تک سادہ لَوح! بچہ بغل میں ہوتا ہے اور ڈھنڈورہ شہر میں پیٹتے ہیں۔ اپنے وسائل کا علم ہے نہ طاقت کا۔ کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں مگر ان نعمتوں کے وجود کا احساس تک نہیں۔ کیا ہے جو ہمارے پاس نہیں!
ہمارے پاس ایسی قوت ہے جو مغرب و مشرق میں کسی کے پاس نہیں۔ امریکہ‘ روس اور جرمنی‘ جاپان اس قوت کا سوچ تک نہیں سکتے۔ ایسے ایسے صاحبانِ اختیار ہمارے ملک میں موجود ہیں جو ناقابل یقین کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ ناقابلِ یقین اور محیرالعقول! حیران کُن! من پسند شادی کا مسئلہ چٹکیوں میں حل کر سکتے ہیں۔ محبت میں ناکامی کو ظفریابی میں بدل دیتے ہیں۔ طلاق کا ایشو بلائے جاں بنا ہوا ہے تو اس سے جان چھڑا دیتے ہیں۔ گھر میں ناچاقی ہے تو ختم کر سکتے ہیں۔ سسرال والوں کو مطیع و سرنگوں کر دیتے ہیں۔ شوہر دوسری شادی پر تُلا ہے تو یہ کیڑا اُس کے دماغ سے نکال کر کچل دیتے ہیں۔ بہو روٹھ کر میکے جا بیٹھی ہے تو واپس لے آئیں گے۔ یہ سب کچھ دنیاوی ذرائع سے نہیں بلکہ روحانی قوت اور عملیات سے کرتے ہیں‘ اور خالی خولی دعویٰ نہیں، باقاعدہ گارنٹی ہے! صرف یہی نہیں، جنات سے آپ کی دوستی کرا سکتے ہیں۔ آپ نے پرائز بانڈ خرید کر رکھے ہوئے ہیں تو یہ ان دیکھی طاقتوں کے مالک ان پر انعام دلوا سکتے ہیں۔ آپ کو اگر یہ لگتا ہے کہ آپ پر کسی نے کالا جادو کر رکھا ہے تو ان کے ہاتھ میں اس کا توڑ بھی ہے۔ کاروبار نہیں چل رہا تو اسے بھی حضرت صاحب نفع آور کام میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ پھر یہ حضرات Love marriage Specialist ہونے کے دعویدار بھی ہیں۔ محبوب یا محبوبہ کو آپ کے قدموں میں ڈالیں گے پھر اس سے آپ کی شادی کرا دیں گے۔ افسر تنگ کرتا ہے تو اسے آپ کا کرمفرما بنا دیں گے۔ آپ کی بیٹی سسرال میں مسائل کا سامنا کر رہی ہے تو اس کی دستگیری کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑا کارنامہ جو یہ حضرات سرانجام دے سکتے ہیں یہ ہے کہ دشمن کو زیر کرکے ذلیل و خوار اور رسوا کر دیتے ہیں۔
ہم حکومت کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ نادانی نہ کرے۔ جب دشمن کو یہ حضرات گارنٹی کے ساتھ شکست سے دوچار کر سکتے ہیں تو اربوں روپے کا اسلحہ خریدنے اور اپنے عساکر کو موت کے منہ میں دھکیلنے کا فائدہ؟ یہ جو طاقتوں کے مالک ہیں‘ ان کے رابطہ نمبر ہر جگہ جگمگا رہے ہیں اور انٹرنیٹ پر دمک رہے ہیں۔ حکومت انہیں طلب کرے۔ قومی خزانے سے ان کی فیس ادا کرے اور انہیں کہے کہ مودی ہے یا امراللہ صالح یا پوری بھارتی حکومت، ہمارے سب دشمنوں کو ہمارا مطیع و فرمانبردار کریں۔ غضب خدا کا! ایسے طاقتور لوگ ہمارے ملک میں موجود ہیں اور ہم کبھی آئی ایم ایف کے دست نگر ہوتے ہیں اور کبھی عالمی بینک کے۔ حکومتِ پاکستان روحانی قوتوں کے ان مالکان سے کہے کہ اپنے عملیات سے ملک و قوم کی خاطر، کم از کم، مندرجہ ذیل کام کرا دیں: ٭ سب سے پہلے ملک سے کورونا کو چلتا کریں۔ ٭ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی اس وقت جو قدر و قیمت ہے اسے بھارتی روپے کے برابر لائیں تاکہ اس ضمن میں ہم شرمندگی سے بچ سکیں۔ ٭ ہمارا سارا غیرملکی قرضہ اتروا دیں۔ ٭ پاکستان کی برآمدات، درآمدات کی نسبت زیادہ کرا دیں تاکہ تجارتی خسارے سے ملک نجات پا سکے۔ ٭ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی دلوائیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کو بھسم کرکے رکھ دیں۔ ٭ پاکستان میں خواندگی کی شرح سو فیصد کرا دیں۔ ٭ پاکستان کی فی کس آمدنی کو امریکہ کی فی کس آمدنی کی سطح پر لے آئیں۔ ٭ چونکہ جنات بھی ان حضرات کے مطیع ہیں اس لیے انہیں کام پر لگا کر ملک میں بہت سے پانی کے ڈیم بنوا دیں۔ ٭ گیس، پانی اور بجلی کی کمی کو دور کرا دیں۔ ٭ ملک میں جتنے ڈاکو، چور، اغوا کنندگان، ناجائز منافع خور، ٹیکس چور، ملاوٹ کرنے والے ہیں انہیں یا تو سیدھا کریں ورنہ خاکستر کرکے رکھ دیں۔٭ یہ معلوم کریں کہ لیاقت علی خان، ضیاالحق اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے پیچھے کون لوگ تھے۔٭ اپنی نادیدہ قوتیں بروئے کار لا کر پاکستان میں تیل کے اتنے ذخائر دریافت کرا دیں جتنے ایران، عراق اور سعودی عرب میں ہیں۔ ٭ جونا گڑھ اور حیدرآباد دکن پر پاکستان کا قبضہ کرا دیں۔ ٭ کراچی کو دبئی، سنگاپور اور ہانگ کانگ جیسا شہر بنا دیں۔ ٭ جتنی بھی ریاست دشمن قوتیں مصروف عمل ہیں ان سب کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ٭ ایسا عمل کریں کہ جس جس نے قومی خزانہ لوٹا ہے، ایک ایک پائی واپس کرے۔ ٭ جنات کو حکم دیں کہ ملک میں جو بھی رشوت لے اس پر قبضہ کرکے اس کی زندگی جہنم بنا دیں۔
یہ تو وہ کام ہیں جو یہ طاقتور روحانی شخصیات پاکستان کے لیے سرانجام دیں گی۔ ہماری حد درجہ خود غرضی ہو گی اگر ہم ان قوتوں کو باقی عالم اسلام کے لیے بروئے کار نہ لائیں‘ چنانچہ ہم حکومت سے عرض کریں گے کہ تمام مسلمان سربراہوں کو یہاں مدعو کرے۔ ان سے ان طاقتور اور مقدس شخصیات کا تعارف کرایا جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ پاکستان کی قسمت پر رشک کریں گے۔ عالم اسلام کے یہ لیڈر، بیک زبان، ان قوتوں کی خدمت میں دست بستہ گزارش کریں کہ
٭ اسرائیل کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹا دیں۔ جنات اس موذی ملک کو تہس نہس کر دیں۔ فلسطینیوں کی حکومت قائم کرائیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ ٭ تمام مسلم ممالک کے باہمی مناقشات ختم کرا دیں۔ ٭ جن مسلم ملکوں میں ابھی تک تیل نہیں نکلا، ان میں تیل نکلوائیں۔ ٭ کوئی مغربی طاقت کسی مسلم ملک پر حملہ کرے تو اس کی ساری طاقت سلب کر لیں۔ ٭ مسلم ممالک اقتصادی، سائنسی، عسکری اور معاشرتی اعتبار سے دنیا پر غالب آ جائیں۔ ٭ مستقبل کی جتنی ایجادات اور دریافتیں ہوں، وہ سب مسلمان ملکوں میں ہوں اور مغربی ممالک محتاج ہو کر رہ جائیں۔ ٭ مستقبل کے تمام نوبیل انعامات مسلمانوں کو ملیں۔ ٭ صفائی، پابندیٔ وقت، ایفائے عہد اور صدق مقال کے لحاظ سے مسلمان، اہلِ مغرب کے ہم پلّہ ہو جائیں۔ ٭ او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کا مقام اور اہمیت، اقوام متحدہ سے بڑھ جائے۔ ٭ تمام مسلم ممالک میں عوام کی حکومت ہو اور آمریتوں اور خاندانی بادشاہتوں کا خاتمہ ہو جائے ۔
روحانی قوتوں کے ان مالکان کے پورے پورے صفحوں کے اشتہارات شائع ہوتے ہیں۔ میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے۔ ایک ایک روحانی شخصیت کا سالانہ تشہیری بجٹ کروڑوں کا ہے۔ اپنی اپنی ویب سائٹس ہیں۔ یو ٹیوب سے لے کر فیس بک تک اور وٹس ایپ سے لے کر ایس ایم ایس تک ہر جگہ ان کے اعلانات چھائے ہوئے ہیں۔ ان کی غیر مرئی طاقتوں پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے امید ہے کہ حکومت ہماری گزارش پر غور کرے گی اور ان طاقتوں سے قومی اور عالمی مسائل حل کرائے گی۔
پس نوشت: چونکہ یہ حضرات گھریلو ناچاقی، میاں بیوی کے جھگڑے، سسرالی اور دوسری شادی کے بکھیڑے گارنٹی کے ساتھ حل کرتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس قبیل کے تمام مقدمے عدالتوں سے لے کر ان حضرات کے سپرد کریں۔ اس کا دُہرا فائدہ ہو گا۔ عوام عدالتوں میں سالہا سال دھکے کھانے سے بچ جائیں گے اور عدالتیں بھی دوسرے مقدمات پر توجہ دے سکیں گی۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply