• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تعلیمی نظام میں سیاسی مداخلت کے مضمرات۔۔اسلم اعوان

تعلیمی نظام میں سیاسی مداخلت کے مضمرات۔۔اسلم اعوان

وزیراعظم عمران خان نے بلآخر 23ستمبر کو اُس دامان زرعی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا جس کے خلاف جامعہ گومل کے متعوب وی سی ڈاکٹر افتخاراحمد طویل عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں تاہم وزیراعظم کی افتتاحی تقریب کے انعقاد سے ایک دن قبل22 ستمبر کو پشاور ہائی کورٹ نے سابق وی سی کو بحال کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے اس ایشو پہ تفصیلی فیصلہ کو ہفتہ بھر کےلئے التواءمیں رکھ دیا،چنانچہ توہین عدالت کے امکان سے بچنے کی خاطر وزیراعظم کو دامان زرعی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد جامعہ گومل کی حدود سے باہر رکھنا پڑا۔دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ متذکرہ زرعی یونیورسٹی کا اعلان سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے مولانا فضل الرحمن کی خواہش پہ ستمبر 2016 میں اس وقت کیا جب وہ سی پیک کے مغربی روٹ کا افتتاح کرنے ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے،وفاقی حکومت کے اعلان کے ساتھ ہی پرویز خٹک کی صوبائی حکومت نے دامان زرعی یونیورسٹی کو نوٹیفائی کرکے پروفیسر مسرور الہی کو زرعی یونویرسٹی کا وائش چانسلر تعینات کر دیا لیکن پچھلی اور موجودہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے مجوزہ زرعی یونیورسٹی کے لئے فنڈ مختص نہ کرنے کی بدولت زرعی یونیورسٹی کے اکلوتے وی سی کو تین سال سے تنخواہ تک نہیں مل سکی۔اگرچہ صوبائی حکومت نے سنہ دوہزار اٹھارہ سے دامان زرعی یونیورسٹی کواعلی تعلیمی اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا لیکن عملاً پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے زرعی یونیورسٹی فضا میں معلق رہی،ابتداءمیں مجوزہ زرعی یونیورسٹی کو ہزاروں کنال پہ محیط اُس زرعی تحقیقاتی مرکزکی عمارات میں بنانے کی تجویز دی گئی،جس کی بنیاد 1962 میں سابق گورنر امیرمحمد خان آف کالا باغ نے رکھی تھی،اس وقت یہاں زراعت کا شعبہ کافی زرخیز تھا بعدازان جب ناقابل برداشت کرپشن کی وجہ سے ادارہ جاتی زوال آیا تو یہ زرعی تحقیقاتی مرکز اجڑ گیا بلکہ اسی تحقیقاتی سنٹر سے منسلک وہ وسیع و عریض ایگریکلچر ورکشاپ بھی ویران ہو گئی،60 اور70 کی دہائی میں جہاں رودکوہی نظام آبپاشی کے سینکڑوں بلڈوزر اور جدیدترین زرعی مشینری دکھائی دیتی تھی۔بہرحال،طویل ردّ و کدّکے بعد دامان زرعی یونیورسٹی کے قیام کا کریڈٹ خود لینے کی خاطر 16 مارچ 2021 کو صوبائی کابینہ نے الگ سے مکمل زرعی یونیورسٹی بنانے کی بجائے معاشی مسائل میں الجھی جامعہ گومل کی زرعی فیکلٹی کو اپ گریڈ کرکے دامان زرعی یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا تو نیا پنڈورابکس کھل گیا جس نے قدیم تعلیمی ادارے کے وجود کو مشکلات سے دوچار کر دیا،حکومتی فیصلہ کے خلاف گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کربتایا کہ یونیورسٹی ماڈل ایکٹ کے سکشن3کے تحت کسی فیکلٹی کو اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے نہ گومل یونیورسٹی کے آثاثہ جات منقسم ہو سکتے ہیں،وی سی گومل کی اس جسارت کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر شاہ فرمان نے ڈاکٹر افتخار کی جواب طلبی کرنے کے بعد22 اپریل کوانہیں 90دن کی جبری رخصت پہ بھیج کے مجوزہ زرعی یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر مسرورکو جامعہ گومل کا اضافی چارج حوالے کرکے آثاثہ جات کی تقسیم کے عمل کو آگے بڑھانے کا حکم دے دیا۔ڈاکٹر افتخار نے گورنر کے احکامات کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے جبری رخصت کے خاتمہ کے علاوہ عبوری وی سی کی قانونی حیثیت اورجامعہ گومل کے آثاثہ جات کی تقسیم روکنے کی درخواست دائرکرکے قانونی مزاحمت کی راہ اختیار کر لی،جس کے ردّعمل میں گورنر خیبر پختون خوا نے 25 اپریل کو کسی متعین الزام کے تحت انکوائری کراکے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر براہ راست ڈاکٹر افتخار کی برطرفی کے احکامات صادر کرکے معاملہ کو الجھا دیا،عدالت میں زیر سماعت معاملہ پہ گورنر کی طرف سے آخری قدم اٹھانے کا نوٹس لیکر عدالت عالیہ نے27 ستمبرکو برطرفی کا حکم معطل کرکے سیکریٹری ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سمیت متعدد ملازمین کو توہین عدالت کے نوٹسسیز جاری کردیئے تاہم سرکاری ملازمین نے غیرمشروط معافی مانگ کے اگلی پیشی پہ برطرفی کا حکم واپس لینے کا تحریری نوٹیفکیشن پیش کرنے کا وعدہ کرلیا لیکن چند تکنیکی وجوہات کا سہارا لیکر ایچ ای ڈی والوں نے آج تک برطرفی کا حکم واپس لینے کا خط پیش نہ کیا،دریں اثناءاگست میں عدالتوں کی چھٹیاں ہو جانے کی وجہ سے معاملہ نے طول پکڑا تو ڈاکٹر افتخار کی90دن کی جبری رخصت پوری ہونے سے پانچ دن قبل17جولائی کو گورنر نے دوسری بار انکی 90 دن کی جبری رخصت کا نوٹیفکیشن جاری کرکے عدالت میں زیر سماعت معاملہ کو ایک بار پھر پیچیدہ بنانے کی جسارت کر ڈالی۔اب طویل سماعت کے بعد 22 ستمبر کو عدالت عالیہ نے اپنے مختصر فیصلہ میں برطرف وائس چانسلرڈاکٹر افتخار کو بحال کرنے کے علاوہ گومل یونیورسٹی آثاثہ جات کی تقسیم پہ تفصیلی فیصلہ دینے کے لئے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی لیکن عدالتی فیصلہ آنے سے قبل دامان زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسرور الہی نے اضافی چارج کی آڑ لیکر27 ستمبر کو بغیر کسی معاوضہ کے گومل یونیورسٹی کے سٹی کیمپس سمیت نیو کیمپس کی ہزار کنال اراضی کے علاوہ فیکلٹی آف ایگریکلچر،فیکلٹی آف وٹرنری سائنسیز،گومل سنٹر آف بائیو کمسٹری اینڈ بیچلر،فوڈ سائنسیز،ایگریکلچر اکنامکس اورماحولیات سائنسیز پہ مشتمل چھ ڈیپارٹمنٹس کے 4180 طلبہ،91 پروفیسرز،اسیسٹنٹ پروفیسرز،لیکچررز اور 198 افراد پہ مشتمل معاون اسٹاف دامان زرعی یونیورسٹی کو منتقل کر دیا حالانکہ یونیورسٹی ماڈل ایکٹ کی دفعہ 13کے مطابق مستقل وی سی کی عدم موجودگی میں صرف پرووائس چانسلر ہی بطور آفیشیٹنگ،روزمرہ کے امور نمٹانے یا پھر وی سی کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں بطور ایکٹنگ وی سی مکمل اختیارات استعمال کرنے کا مجاز ہے،محض اضافی چارج کا حامل کوئی دیگر عہدہ دار سینڈیکٹ اجلاس طلب کر سکتا ہے نہ بنیادی نوعیت کے بڑے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پہ ہمارے بیباک حکمرانوں نے محض سیاسی نفع کی خاطر کسی قانونی کوّر کے بغیر عظیم مادرعلمی کو پامال کرنے میں کسر باقی نہیں چھوڑی۔زرعی یونیورسٹی کے اس طرح قیام کے نتیجہ میں خطہ کی قدیم ترین درسگاہ اپنا وجود کھ دے گی۔کیا پشاور یونیورسٹی کی بے رحمی سے کی جانے والی کتربیونت سے کوئی سبق نہیں ملتا کہ صوبہ کی دوسری بڑی جامعہ گومل کو بھی سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانے کے لئے کمرکس بیٹھی؟شاید کسی کو یاد ہو کہ تاریخی اہمیت کی حامل پشاور یونیورسٹی کی کوکھ سے خیبر میڈیکل کالج یونیورسٹی،ایگریکلچر یونیورسٹی اور انجنئرنگ یونیورسٹی سمیت اسلامیہ کالج یونیورسٹی نکال کے اس کے وجود کو معدوم کر دیا گیا،اب پشاور یونیورسٹی کا وجود محض علامتی رہ گیا ہے۔ادھر جلدبازی میں کئے گئے فیصلوں کے اطلاق سے کئی تکنیکی مسائل جنم لینے لگے ہیں،زرعی فیکلٹی کے جن91 پروفیسرز،اسٹینٹ پروفیسرز اور لیکچررز کو دامان زرعی یونیورسٹی کے حوالے کیا گیا،ان میں سے کئی اس وقت جامعہ گومل کی اعلی انتظامی پوسٹوں پہ براجمان ہیں،جن میں کنٹرولر امتحانات ڈاکٹرصفدربلوچ،ایڈیشنل کنٹرولر ڈاکٹراصغرخان،ڈائریکٹرایڈمن ڈاکٹر سلیم جیلانی،ڈائریکٹر اکیڈیمک اینڈجی ایس آر ڈاکٹرنعمت اللہ،ایڈیشنل پرووسٹ ڈاکٹر صادق اور ڈپٹی رجسٹرار الحاق احترام خان(لیکچرر) شامل ہیں، متذکرہ بالا افسران کی زرعی یونیورسٹی میں ارئیوال کے باوجود گومل یونیورسٹی کے انتظامی عہدوں پہ بدستور بیٹھے رہنے کے علاوہ دامان یونیورسٹی کے ان ڈھائی تین سو ملازمین کی تنخواہوں کی گومل یونیورسٹی کے فنڈ سے ادائیگی سے کئی لاینحل قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے والی ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم جوہرِ انسانی کو نکھارنے کا وسیلہ اور شعور حیات کا مظہر ہے مگر ہمارے صوبہ میں اسے محض ایسی ڈگری کے طور پہ لیا جاتا ہے جس کا مقصد ملازمت کا حصول ہے،چنانچہ ہماری حرص و آز نے نور علم کے حقیقی سرچشموں کو اجاڑ کے مصنوعی روشنیوں سے ایسی دنیا آباد کر لی جو ہمیں مہیب تاریکی کی طرف لئے جا رہی ہے،تعلیم اگرچہ انسانیت کی ذہنی،اخلاقی،سائنسی اور فنی میراث کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے لیکن ہماری سرکاری و نجی یونیورسٹیز اور تعلیمی بورڈزکی حالت زار کو دیکھیں تو یہ بہرور کرنے کی بجائے بلیک ہول کی مانند نئی نسل کی صلاحیتوںکو چوس رہی ہیں،اس رجعت قہقری کے ذمہ دار وہ پالیسی ساز ہیں جو زیر لب ناقابل فہم قنوطیت تذکرے کرنے کے علاوہ ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ جو کچھ سب لوگ جانتے ہیں اسے ایسے علم میں ڈھالہ جائے جسے کوئی سمجھ نہ سکے۔ہمارے اہل علم(پروفیسرز) حوصلہ ہار بیٹھے ہیں،وہ افلاس کو اپنی عظمت کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کے صداقت کے تمام محاذوں سے راہ فرار اختیار کرکے مصلحت ومفادات کی تنگ و نارسا گلیوں میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔حکمرانوں کو مستقبل کے دابستانوں سے کوئی دلچسپی نہیں،وہ اپنے غرور کی بنا پہ ہر مسلہ سے بے خبر ہیں۔کرپشن نے لوگوں کی بصیرت کو کند کر دیا اگر انہیں اوپر کی کمائی نہ ملے تو عمل انہضام بگڑ جاتا ہے۔اسپنسر نے کہا تھا سکول ہمارے اذہان کے لئے آلاتی رجحانات پیدا کرتے ہیں،جس کا مقصد ذہن کی مسلسل نشو ونما اور زندگی کی مستقل تنویر ہے تاہم تعلیم جب تک فرد کی شخصی آرزوں اور اجتماعی ذمہ داریوں میں مطابقت پیدا نہ کر دے اور اس میں ایسے میلانات پیدا نہ کرے کہ فرد خود اپنے کردار کو اجتماعی بہبود کے مطابق ڈھالے، بیکار مشق ثابت ہو گی“۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply