• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  •  واجد شمس الحسن – کچھ یادیں، چند باتیں۔۔ایلڈرمین مشتاق لاشاری، سی بی ای

 واجد شمس الحسن – کچھ یادیں، چند باتیں۔۔ایلڈرمین مشتاق لاشاری، سی بی ای

جن کے والد نے تحریک اور قیامِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا، ان کے فرزندِ ارجمند  واجد شمس الحسن نے استحکامِ پاکستان میں پوری تندہی اور دیانت داری سے اپنا حصہ ڈالا۔ آپ نے 1941 میں قاضی شمس الحسن کے گھر آنکھ کھولی کہ جن کا شمار مسٹر جناح کے معتمد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ آپ نے 1962 میں انٹرنیشنل افیئرز میں ایم اے اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کرنے کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے صحافتی ادارے کے انگریزی اخبار دی نیوز کی ادارت سے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا۔ آپ اسی اخبار کے ہفت روزہ دی میگ کے مدیر بھی رہے۔ میرا واجد صاحب کے ساتھ انتہائی قلبی تعلق تھا جو بے حد احترام پر مبنی اور دہائیوں پر محیط تھا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے اقبال نے ”قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال“ واجد صاحب کے لیے ہی کہا تھا۔ آپ بے حد شفیق، اسلاف کی روایات کے امین، خندہ پیشانی سے پیش آنے والے اوربہت فیاض انسان تھے۔ مجھے فخر ہے کہ میں پنتالیس سال تک ان کے حلقہِ احباب میں شامل رہا اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ دوستوں کی کسی محفل میں انہوں نے کبھی کسی دوسرے کو پیسے دینے دئیے ہوں۔ ان کا صرف ظرف ہی بڑا نہیں تھا، دل اور دستر خوان بھی وسیع تھا۔

ستر کی دہائی کے وسط میں ضیا الحق پر جاندار اور سخت تنقید کرنے کی وجہ سے ان کے ادارے نے انہیں ملازمت سے نکال دیا، تو یہ مجاہد بریلوی کی زیرِ نگرانی چھپنے والے شمارے ”بینکاری“ میں لکھنے لگ گئے۔ میں پی آئی اے میں ملازم تھا اور معراج محمد خاں کے بڑے بھائی منہاج برنا ٹریڈ یونین کے حوالے سے میرے استاد بھی تھے اور دوست بھی۔ جن کے ساتھ میں کراچی پریس کلب جایا کرتا۔ تب عبد الحمید چھاپرا پریس کلب کے صدر اور مجاہد بریلوی جنرل سیکریٹری ہوا کرتے تھے۔ اسی دوران میرا واجد صاحب سے ایسا تعلق بنا کہ جو اٹھائیس ستمبر کو ان کی رحلت پر منتج ہوا۔ میں جب 1981ء کو برطانیہ منتقل ہوا، تومجاہد بریلوی سے مسلسل رابطہ رہا، لیکن واجد صاحب سے رابطے میں تعطل آ گیا۔ جب محترمہ بے نظیربھٹوپہلی بار پاکستان کی وزیرِ اعظم بنیں، تو ان کی ہدایات پر مجھے بھی پاکستان جانا پڑا۔ محترمہ نے واجد صاحب کو امروز اور مشرق اخبارات شائع کرنے والے ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ (NPT) کا چیئرمین اور ہمارے دوست محمود شام کو اس ادارے کا منتظم بنا دیا، تو میری واجد صاحب سے 1989ء میں دوبارہ ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔

tripako tours pakistan

ذکرِ یاراں چھڑ ا، تو مرحوم علی کیانی بھی یاد آ گئے۔ کیانی صاحب جنگ لندن میں سٹاف رپورٹر تھے۔ محترمہ نے انہیں وزارتِ اطلاعات کے ذیلی ادارے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) میں ملازمت دے دی۔ بعد میں محترمہ نے کیانی صاحب کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا اور وہ کشمیر سے ایم ایل اے بھی منتخب ہو گئے۔ ان سب دوستوں کے ساتھ پاکستان میں بہت قیمتی اور یادگار وقت گزرا۔

قارئین، زندگی کا یہ سفر جاری ہے کہ جس میں محترمہ، واجد صاحب اور کیانی صاحب سمیت کئی ایسے دوست ہمیں چھوڑ گئے کہ جن کے جانے کا ابھی تک یقین نہیں آتا۔ اب ہم ہیں، مجاہد بریلوی ہیں، جانے والوں کی یادیں ہیں اور بہت سارا ماتم ہے۔

میں 1990ء میں واپس لندن آ گیا، تو واجد صاحب بھی 1993ء میں پاکستانی ہائی کمشنر بن کر برطانیہ آ گئے۔ میں اُس وقت لندن سے کونسلرمنتخب ہوا تھا۔ اس طرح میرا واجد صاحب کے ساتھ تعلق مزید مضبوط ہو گیا۔ہم نے نیشنل فورم آف پاکستانی کشمیری کونسلرز تشکیل دیا اور اس پُر زور طریقے سے مہم چلائی کہ لیبر پارٹی کو اپنی سالانہ کانفرنس میں مسئلہِ کشمیر کے حق میں قرار داد پاس کرنا پڑی۔ واجد شمس الحسن 1996 کو واپس پاکستان چلے گئے اور اگلے برس میاں نواز شریف نے انہیں گرفتار کروا دیا۔ ان پر آصف زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے دباؤ  ڈالا جاتا رہا، لیکن آپ ڈٹے رہے۔آپ کی رہائی کے لیے برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ اور کونسلرز کی ایک بڑی تعداد نے زور دار مہم چلائی جس کے نتیجے میں آپ کو رہا کر دیا گیا۔ قید سے رہائی کے بعد آپ برطانیہ منتقل ہو گئے۔ 2008ء میں آپ کو دوبارہ پاکستانی ہائی کمشنر بنا دیا گیااور آپ نے یہ ذمے داری 2014 تک ادا کی۔

جب لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردی کا حملہ ہوا، تو افغانستان میں نیٹو کمانڈر لارڈ جنرل رِچرڈ اور ان کی اہلیہ کیرولین رچرڈ نے ”افغان اپیل“ کے نام سے برطانیہ میں ایک چیریٹی بنائی۔ایم ایم عالم کے بھتیجے، کمال عالم اس چیریٹی کے انتہائی متحرک رکن تھے جنہوں نے افغان اپیل کرکٹ ٹیم پاکستان لے جانے کا اعلان کیا اور ٹیم کے ویزوں کے لیے ہائی کمیشن میں درخواست دے دی۔ ہفتے والے دن ٹیم نے سفر کرنا تھا، لیکن جمعے کو ہائی کمیشن سے پتہ چلا کہ ٹیم کے کچھ ارکان کے ویزے نہیں لگے۔ میں اسی وقت ہائی کمشنر کے پاس گیا، تو واجد صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ویزہ سیکشن لے گئے۔ اس طرح گورے پاکستان میں جا کر کرکٹ کھیلے اور سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد ماحول پر چھائے خوف کے بادل کسی حد تک چھٹنے میں مدد ملی۔ واجد صاحب متکبر ہرگز نہ تھے، لیکن آپ وضع دار انسان بہرحال تھے۔ آپ بلاشبہ نوابانہ ٹھاٹھ باٹھ کے مالک تھے، مگر ان کی صحبت میں کسی چھوٹے کو بھی اپنے چھوٹا ہونے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ آپ دوستوں کے دوست، بہادر اور اعلیٰ ظرف انسان تھے۔ آپ عام انسان کی تنقید بھی خوشی سے برداشت کرتے، ہر کسی کی بات بہت غور سے سنتے، مگر بھٹو خاندان سے والہانہ عقیدت کا یہ حال تھا کہ اس خاندان کے خلاف بولے یا لکھے جانے والے ایک لفظ سے بھی ان کی قوتِ برداشت جواب دے دیتی۔ اُن کی آنکھوں میں لحاظ تھا کہ وہ میری کڑوی باتوں کو خوش دلی سے برداشت کر جاتے۔ واجد صاحب صحافی تھے، مفکر تھے، لکھاری تھے، سفارت کار تھے، جمہوری اقدار کے علمبردار تھے، کامریڈ تھے اور پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے بااعتماد ساتھی تھے۔ آپ کو قومی و عالمی تاریخ ازبر اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر تھی۔

Advertisements
merkit.pk

آپ ڈیڑھ مہینہ بیمار رہنے کے بعد  80  سال کی عمر میں رائل فری ہسپتال میں اٹھائیس ستمبر کو انتقال کر گئے۔ یکم اکتوبر کو لندن کی مرکزی مسجد ریجنٹ پارک میں ان کا جنازہ ہوا۔ ان کی قبر پر مٹی ڈالتے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ان کے طفیل نہ جانے ہم کتنے دوست جڑے تھے، واجد کیا گئے کہ تسبیح ہی ٹوٹ گئی، یارانے بکھر گئے۔ میں دکھی ہوں کہ میں اکیلا ہو گیا ہوں، مجاہد دکھی ہے کہ وہ کوشش کے باوجود ”بھٹو خاندان میری یادوں میں، واجد شمس الحسن کی نصف صدی پر محیط یادیں“ کتاب کی لاکھ کوششوں کے باوجود ان کی زندگی میں لاؤنچنگ نہ کروا سکا۔ہر ایک کا اپنا اپنا دکھ ہے جو وہ اپنے سینے سے لگائے کراہ رہا ہے۔ آہ !واجد، آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply