مغرب کی نئی سرد جنگ ؟۔۔اسلم اعوان

افغانستان میں امریکی شکست کے بعد مغربی دنیا کے فطری زوال بارے پھیلنے والے تاثر کی بدولت یہاں چین سمیت علاقائی طاقتوں کے ساتھ معاشی،سیاسی اور ثقافتی رشتے بڑھانے کے بیانیہ کو بے پناہ مقبولیت ملی،جس نے رائے عامہ کی قوت کو سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبہ کی پشت پہ لاکھڑا کیا اور اسی تغیر کی بدولت ہماری قومی پالیسیوں پہ امریکہ کے اثرات کم ہونے کے علاوہ قوم کے اجتماعی تخیّل سے مغربی تہذیب کی بالادستی کے نفسیاتی اثرات بھی ختم ہونے لگے ہیں چنانچہ ذہنی آزادیوں کے اسی بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کی خاطر عالمی طاقتیں براہ راست قومی سیاست کے مقبول کراداروں سے ”روابط“ بڑھا کے رائے عامہ پہ اپناکنٹرول بدستور برقرار رکھنے کی کوشش میں سرگرداں نظر آتی ہیں،شاید اس لئے پہلی بار کھلے عام کسی امریکی وفد نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرکے ممکنہ طور پہ انہیں چین نواز بیانیہ سے چند قدم پیچھے ہٹانے کی کوشش کی ہو گی،ہمیں مولانا فضل الرحمن کی ثابت قدمی اور اخلاص پہ تو کوئی شبہ نہیں لیکن ایک برادر اسلامی ملک کی وساطت سے امریکہ ان مذہبی جماعتوں کو نیوٹرلآئز کرنے کی جسارت ضرور کرے گا جو کھلے عام امریکہ کی مسلم کش پالیسیوں پہ تنقیدکرکے مسلمانوں کے اندر مغربی استعمار کے خلاف جذبات ابھارنے میں مصروف رہتی ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے اپنی بے رحم خاموشی کے ذریعے ایک جانب ہماری مقتدرہ کو دباؤ  میں رکھا اور دوسری طرف بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پہ ان قومی سیاسی جماعتوں کی تسخیر میں جُت گیا جو چین سمیت علاقائی طاقتوں سے اقتصادی تعلقات بڑھا کے ملک کو مغرب کے مالیاتی اداروں کے پنجہ استبداد سے نکالنا چاہتی ہیں۔اس حوالہ سے مرکز گریز بلوچ،سندھی اور پشتون قوم پرست تنظمیوں کا ایجنڈا نہایت واضح ہے، وہ پیپلزپارٹی کی قیادت میں امریکہ سے وابستگی میں اپنا مفاد تلاش کرتی ہیں تاہم پی ڈی ایم میں شامل مسلم لیگ نواز اور جے یو آئی،دو ایسی جماعتیں ہیں جو تاحال سی پیک منصوبہ سمیت چین نواز بیانیہ کے ساتھ کھڑی دیکھائی دیتی ہیں،اس لئے عالمی طاقتیں انہیں مسخر کرنے کی تگ و دو ضرور کریں گی۔حتی کہ اسی مقصد کے حصول کی خاطر امریکہ امارت اسلامی کو تسلیم کرنے کے علاوہ طالبان حکومت کو غیرمحدود مالی معاونت دینے کو بھی تیار ہے لیکن تیزی سے بدلتے عالمی تناظر میں ہارے ہوئے امریکہ کے لئے اب اُن مقاصد کا حصول ممکن نہیں جنہیں بیس سال قبل فاتح کی حیثیت سے وہ حاصل نہیں کر سکا۔

tripako tours pakistan

افغانستان میں امریکی منصوبہ کی سنگین اسٹریٹجک ناکامی نے مغرب کے نفسیاتی غلبہ کو جو ناقابل تلافی زک پہنچائی،اس کے مضمرات کو کم کرنا آسان نہیں ہو گا، امریکی پالیسی سازوں کے لئے سب سے پہلی مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی اس شکست کا ذمہ دار کس کو ٹھہریں؟ ویتنام میں شکست کا ملبہ کمبوڈیا پہ ڈال کے اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا لیکن افغان تنازعہ میں پڑوسی ممالک کی تلویث آسان نہیں ہو گی۔پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی طرف سے ناقابل اعتماد اتحادی سمجھا اور دیکھایا گیا لیکن اس نازک مرحلہ پہ مایوسی اور غصہ کو پاکستان کی طرف لانا ایک اور اسٹریٹجک غلطی ہوگی۔اس وقت امریکی مقتدرہ کا مخمصہ یہ ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ جتنا کم جڑے گا خطہ سے اس کا رابطہ اتنا ہی منقطع اور اس کا اثر و رسوخ حالات کے نتائج پر کم ہوتا جائے گا،کوئی بھی جگہ جو امریکہ چھوڑتاہے،وہ طالبان حکومت کا ساتھ ہو یا پاکستان،بنیادی طور پر چین اور کسی حد تک ایران اور روس اسے پُر کرے گا۔اسلام آباد میں پھر یہ احساس جنم لے رہا ہے کہ امریکی پالیسی سازوں نے پاکستان پر غیر مستحکم افغانستان کے منفی اثرات سے آنکھیں پھیر لیں،جس ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے 83 ہزارشہری کھونے کے علاوہ 126 بلین ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانے کے باوجود واشنگٹن سے ملنے والی 6 بلین ڈالر کی حقیقرامداد کو اہمیت دی۔

یہاں 1995سے لیکر 2020 کے 25 سالوں میں 500 سے زیادہ خودکش حملوں نے پاکستانی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا،جس نے زندگیوں کے تحفظ اور ہر شہری کے اوسط معیار زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔کمزور معشت کے حامل ایک ایسے ملک میں جہاں 14 لاکھ رجسٹرڈ اور تقریبا 15 لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہوں وہاں معیشت اور تنگ انتظامی ڈھانچے کی افسردگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔بہرحال،امریکیوں کے پیش کردہ تمام ثبوت اس تصور کو جواز کے لبادے پہنانے کے لئے ناکافی ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکی کوششوں کو خراب کرنے والا کام کیا۔اس میں پاکستان کا کیا عمل دخل ہے کہ تین لاکھ افراد پہ مشتمل افغان فوج سترہزار طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور بڑے پیمانے پر ناپسندیدہ اور بدنام زمانہ افغان حکومت آخر کار اپنے عوام کو چھوڑ کے چلی گئی۔قبل ازیں امریکہ نے خود طالبان کے ساتھ ایک ناقص معاہدے پر دستخط کرکے انخلا کی صوابدیدی حتمی تاریخ طے کرکے غنی حکومت کی قسمت پر مہر لگائی۔اسے ہم امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہی کہیں گے کہ امریکی فوجوں کے تیزی سے انخلا کے بعد طالبان کے افغانستان پر قبضے کے باعث پیدا ہونے والا بحران پاکستان اور امریکہ کے درمیان تقسیم کو مزید بڑھا گیا،کابل کے ہوائی اڈے پر 26 اگست کو ہونے والا دہشت گردانہ حملہ،جس کا دعویٰ اسلامک اسٹیٹ خراسان (ISKP) نے کیا ہے ، جو داعش کا مقامی اتحادی ہے ، دو دہائیوں سے جاری “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں واشنگٹن کی شکست کا مظہر اور اس بات کی علامت تھا کہ صدر جو بائیڈن افغان بیانیے پر اپنی گرفت کھو رہا ہے۔

اب بائیڈن انتظامیہ کوافغانستان سے ہنگامی پسپائی کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہوا تو واشنگٹن بہت سی خرابیوں کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے الزام لگانے لگا کہ افغانستان میں امریکی طاقت اور وقار کو نقصان پہنچانے کی بنیادی وجہ پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہیں تھیں،پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو شاید،خوفزدہ واشنگٹن اور پُرجوش طالبان کے درمیان حائل خطہ امتیاز پہ چلنے کا فن آتا ہے اس لئے یہاں بھی گہرا سکوت ہے کیونکہ یہ 1988 نہیں،اب خوف و ترغیب کے ہتھیار کند اور امریکی شکوہ کا پرچم سرنگوں ہو چکے ہیں۔

یہ واضح ہے کہ جب ٹرمپ انتظامیہ نے خصوصی ایلچی کو طالبان سے مذاکرات کی میز پر بیٹھا کر امن معاہدے پر دستخط کئے تو جنگ پہلے ہی ہاری جا چکی تھی۔اسلام آباد کے پاس “آپشنز” موجود ہیں اگر امریکہ کو یقین ہو کہ بائیڈن خان فون کال کوئی”رعایت“ہے تو یہ غلطی ہو گی لیکن اسلام آباد کے لئے بائیڈن کی سردمہری حالیہ تاریخ میں دنیا بھر میں امریکی ساکھ کے لئے تباہ کن نقصان کا سبب بنے گی۔مستقبل میں افغان حکومت کی شرائط پر طالبان کو پرامن طریقے سے مذاکرات پر قائل کرنے میں پاکستان کی ناکامی پر واشنگٹن کی واضح ناراضگی کے باوجودبائیڈن انتظامیہ کو یقین ہے کہ اب بھی پاکستان،طالبان کے زیر اثر افغانستان میں کردار ادا کرسکتا ہے۔موجودہ جیو پولیٹیکل منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ چین حالیہ برسوں میں پاکستان کا نمبر ون آپشن بن کر ابھرا، پاکستان نے اسلامی دنیا کی قیادت سنبھالنے کے مو¿خر الذکر عزائم کی حمایت کرتے ہوئے ترکی کے قریب آنے میں کامیاب رہا، پاکستان نے روس اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے بامعنی اقدامات اٹھائے،تاہم پاکستان ابھی ان تعلقات کو اپنے لئے ایک مستحکم علاقائی سکیورٹی آرڈر کی صورت میں ڈھالنے میں کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ طالبان کے تحت افغانستان کا استحکام انتہائی نازک مرحلہ تھا بلاشبہ روس،چین،ایران اور پاکستان کے افغانستان میں نئے عظیم کھیل میں کردار ادا کرنے کے حقدار ہونے کے باوجود شکست خوردہ امریکہ بھی یہاں سب سے زیادہ جگہ بنانے کے لئے ہاتھ پاوں مارے گا۔

Advertisements
merkit.pk

یہ واضح ہے کہ پاکستان اپنے آپ کو افغانستان میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے الگ نہیں کرے گا تاہم یہ وقت بتائے گا کہ پاکستان ان سفارتی پیچیدگیوں کو کس طرح سنبھالتا ہے۔ مغربی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان کو سزا دینے میں واشنگٹن کی ناکامی سے عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کی پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی جبکہ اتحادیوں کے درمیان اس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گالیکن وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اس سب کے باوجود اب بھی پاکستان واحد ملک ہے جو مؤثر طریقے سے تمام فریقوں کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے۔افغانستان اور پاکستان میں سابق امریکی سفیر ریان سی کروکر نے کچھ دن قبل نیویارک ٹائمز میں لکھاکہ امریکہ نے 1990 کی دہائی میں پاکستان سے علیحدگی کی غلطی کی اور اب اسلام آباد سے منہ موڑ کر اس غلطی کو دہرائے گا،کروکر نے لکھا ،ہمیں اس بڑھتے ہوئے خطرے کا جائزہ لینے اور اس سے نمٹنے کے طریقوں پر پاکستان کے ساتھ مشغول رہنے کی ضرورت ہے، اس جوڑے کے مفادات اب پہلے سے کہیں زیادہ جڑے رہنے کی ضرورت ہے“۔”افغانستان کو جو مسائل درپیش ہیں ان کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا مطلب اسلام آباد کی اسٹریٹجک صلاحیت کو بڑھاوا دینا ہے،بلکہ پاکستان سے تلویث کسی حد تک امریکہ کو حقیقی اسٹریٹجک غلطی کے مضمرات سے نجات بھی دلائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان پر الزام لگانے سے نقادوں کو کچھ لذت خیال حاصل ضرور ہوگی لیکن یہ عمل افغانستان میں معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ان پیش رفتوں کے بدلے ، امریکہ کو پاکستان کے ساتھ مضبوط اور پائیدار شراکت داری کے عزم کی تجدید کرنی چاہیے“۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply