• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی مسیحی کا کھتارس / اجتماعی بقاء،خود آگاہی ،خود شناسی سے جڑی خود انحصاری میں یا درس مانگت و تہذیب خوشامد میں۔۔۔اعظم معراج

پاکستانی مسیحی کا کھتارس / اجتماعی بقاء،خود آگاہی ،خود شناسی سے جڑی خود انحصاری میں یا درس مانگت و تہذیب خوشامد میں۔۔۔اعظم معراج

ستمبر آتے ہی یوم دفاع کے بارے میں سوشل میڈیا ودیگر ذرائع ابلاغ پر ایک ماحول بن جاتا ہے ۔۔۔۔جس میں مسیحی بھی جوش خروش سے حصہ لیتے ہیں ۔اور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ میں مسیحی سماجی،سیاسی ؤ مزہبی ورکر اکثر غلط سلط معلومات بھی پھیلاتے ہیں ۔۔
پچھلے یوم دفاع پر ایک یو ٹیوب چینل کے پروگرام جس میں پوری دنیا سے کئی سماجی کارکن اور مسیحی افواج پاکستان کے سابقہ افسران بھی شامل تھے۔ اور بری بات یہ تھی کہ آپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کے لئے کئی نے غلط معلومات بھی پھیلائی ۔ میں نے اپنی باری پر بہت ساروں کی درستگی بھی کی..لیکن ظاہر ایک پروگرام سے یہ انفرادیت کی اجتماعی بیماری کا علاج کیسے ممکن ہے۔جب صرف دفاع پاکستان میں مسحیو کے کردار پر سات کتب اور بے تحاشا ویڈیو کلپس سے فرق نہیں پڑا بلکہ الٹا اثر ہؤا۔
بقول شاعر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔ ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے تو میری تحقیق کے مطابق پاکستان کے دیسی مسیحو کے اولین آئی سی ایس پاس کرنے والے مارٹن سموئیل برق جوکہ ایک انتظامی افسر،جج،گیارہ ملکوں میں،سفیر ،پروفیسر محقق، اور بے شک وہ کینیڈین حکومت سے پرامن غیر جنگی مقاصد کے لئے پچاس کی دہائی میں ایٹمی مقاصد کے لئے معاہدے کرنے والے بھی ضرور تھے لیکن اس سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے انھیں یورینیم کا اسمگلر بنا کر پیش کیا ہے۔خیر
اس دففہ بھی ایسے کئی مظاہرے دیکھنے میں آئے ۔ جن میں نمایاں 1995 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں کوئٹہ میں شہیدِ ہونے والے شہیدِ ایرفورس پائلٹ آصف کو 1965 کا شہیدِ قرار دینا شاملِ ہے۔ وجہ اسکی صرف یہ ہے ،
کہ ایسی کوئی چیز شیئر کرنے سے پہلے تحقیق و مطالعہ نہ کرنے کی عادت کا نہ ہونا ہے۔ اور جو تحقیق کرتے ہیں اسکے لیول کی ایک مثال آپ سے شیئر کرتا ہوں۔چند سال پہلے ایک حاضر سروس مسیحی افسر کا فون آیا باس وہ جو ہمارے بریگیڈیر گورا قبرستان کراچی میں دفن ہیں انکا نام کیا ہے۔؟ میں نے کہا مجھے ایسے کسی بریگیڈیر کا نہیں پتہ کچھ بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ موصوف پولش ایر کموڈور ویلدی کے بارے میں پوچھ رہیں ہیں۔میں نے ضبط کرتے ہوئے کہا۔انکا تو پورا پروفائل آپ کے پاس کتاب شان سبز و سفید میں موجود ہے۔انھوں نے جواب دیا باس چیف کو پری زنٹشن دینی ہے ذرا جلدی بتا دیں۔اب آپ اندازہ کریں وہ پری زنٹشن کیسی ہوگی اور اسکے فوائد کمیونٹی کو کیا حاصل ہونگے۔ اور پچھتر سال سے ایسی ہی پری زنٹشن کے نتائج بھی آپکے سامنے ہیں۔۔ ایک سماجی کارکن بظاہر اچھا خاصہ سمجھدار لگتا ہے،
نے میرے ساتھ یوم پاکستان پر پروگرام کیا پورے پروگرام میں وہ گھماہ پھرا کر دفاع پاکستان میں مسحیو کے کردار پر مجھ سے سوال کرتا رہا پروگرام کے آخر میں یہ بات کھلی کے موصوف یوم دفاع اور یوم پاکستان کو ایک ہی دن سمجھتے ہیں میرے نشان دہی کرنے پر سر ہو گئے یہ پروگرام دوبارہ ریکارڈ کروائے یوں مرتا کیا نہ کرتا کرنا پڑا۔
پاکستان کے مسحیو کے مزہبی،سیاسی و سماجی کارکنوں کی اپنے مقصد سے لگن خلوصِ محبت اور مقاصد کے حصول کے لئے محنت کی عادت کی ایسی ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن اس دففہ کے یوم دفاع کی دو تصویریں بھی ایسی ہی علمیت بھری پری زنٹشن کی علامت ہیں ۔ایک۔۔ ایک نامی گرامی، مستعند بظاہر پڑھے لکھے لاہور کے بشپ کا یومِ دفاع پر پوسٹر ہے۔ جس میں سیسل چوہدری ستارہ جرات کے نام کے ساتھ تصویر رفیقی شہید ہلال جراتِ کی لگائی ہوئی ہے۔۔ اور ایسی ہی دیگر غلط معلومات کی بھرمار ہے۔ دوسری تصویر پی ٹی آئی کی ایک ورکر ایم این کے پوسٹرز کی ہے۔ جس میں اقلیتی ونگ کی طرف سے شہدا کو سلام کیا ہے۔ لیکن تصویر میں ان کے علاوہ نا کوئی اقلیتی ونگ والا ہے ،نا شہیدِ بلکہ تصویریں سب انکی ہے۔ جن سے ان خاتون کو کچھہ فائدہ ہورہا ہے۔۔ یا ہونے کی توقع ہے۔ اب تیسری تصویر ٹیکسلا کے ایک محنت کش تحریک شناخت کے رضآ کار جاوید مسیح کی ہے۔ یوم دفاع پر انکی طرف سے اس پوسٹرز مسیحی شہدا اور گیارہ نشان حیدر حاصل کرنے والے جانبازوں کی تصوی یں ہیں اور ساتھ ان کا خراج تحسین کا پیغام ہے۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ غصہ اور لالچ انسان کی عقل مار دیتا ہے۔اب کیونکہ جاوید مسیح کا کیونکہ روز گار محنت سے جڑا ہے۔اس لئے انھیں وطن کی محبت ثابت کرنے کے لئے کسی ایرے غیرے کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں اور اپنے( پیشن) شوق وجنون اور مقصد کے حصول کے لئے اور شوق کو پورا کرنے کے لئے وہ مطالعہ بھی کرتے ہیں اس لئے انکے ہر کام میں دانش ودانائی نظر آتی ہے، وہ تحریک شناخت کے ٹیکسلا کے اپنے دوسرے ساتھی پرویز صاحب کے ساتھ یوم کشمیر کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ اور جہاد کشمیر میں مسیحو کے کردار کو اجاگر کرکے مسیحو کے لئے اجتماعی عزتِ کا باعثِ بنتے ہیں جبکہ الذکر ورکر جو راہنماء کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ ایسے پوسٹرز اور شادی کارڈز کے ساتھ تصویرین بنوانے والے ہمارے لئے اجتماعی شرمندگی کا باعثِ بنتے ہیں۔
ویل ڈن جاوید مسیح ویل ڈن ۔۔۔
ہمارے معاشرے کی تنزلی کی ایک وجہ یہ ہے۔ کہ آپ جیسے رکشہ چلارہے ہیں اور ان جیسے بشپ اور ایم این اے ہیں۔ غلط العام پھیلانے کے اس مرض کا ایک طویل المیعاد حل میں نے کئی دففہ تجویز کیا ہے۔اپنے بچوں کو اپنے اداروں میں یہ معلومات روز پڑھانی شروع کردو کیونکہ سال کے صرف تین دنوں میں الٹی سیدھی باتیں پھیلاتے سے جس مقصد کے لئے آپ یہ معلومات پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ نہیں حاصل ہوسکتےہیں۔ بلکہ اس کے مضر اثرات پاکستانی مسحیو پر مرتب ہوتے ہیں ۔
مورال آف دا اسٹوری
میلے دے رجے کھل نہیں سکدے.
ترجمہ ( صرف میلے پر پیٹ بھر کر کھانے سے کوئی کشتی نہیں لڑ سکتا)
لیکن جاوید مسیح صاحب اجتماعی خود شناسی کی مہم میں لگے رہیں۔ اسی سے فکری انقلاب آئے گا جو دیگر انقلابات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ آپ جیسے ہی ان پسے ہوؤں کے اصلی محسن ہو جو انھیں خود آگاہی خود شناسی سے خود انحصاری کا درس دے رہے ہو۔ورنہ نام نہاد رول ماڈل تو انھیں درس مانگت و تہذیب خوشامد کے علاؤہ کیا دینگے۔سلیوٹ آپکی کوششوں کو ۔۔
ویل ڈن جاوید صاحب ویل ڈن تحریک شناخت کے رضا کاروں ویل ڈن.

Advertisements
merkit.pk

تعارف:اعظم معراج کا تعلق رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ہے۔ وہ ایک فکری تحریک تحریک شناخت کے بانی رضا  کار اور 18کتب کے مصنف ہیں۔جن میں “پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار”،دھرتی جائے کیوں پرائے”پاکستان کے مسیحی معمار”شان سبزو سفید”“کئی خط اک متن” اور “شناخت نامہ”نمایاں ہیں۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply