جبری شادی کےمعیشت پراثرات۔۔فہیرہ رحمان

کسی بھی معاشرےکی بنیادی اکائی فردواحدہوتاہے۔اوراس اکائی سےمعاشرہ اس طرح مربوط ہوتاہےجس طرح بلندوبالاعمارت اینٹوں سے۔اوراگرکسی بھی عمارت کی بنیادی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائےتوساری کی ساری عمارت بھی ٹیڑھی ہوگی۔کسی نےکیاخوب کہاہے

خشت اوّل چوں نہددیوارکج تاثریامی روددیوارکج

tripako tours pakistan

اگردیوارکی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائےتوبےشک دیوارثریاستارےتک چلی جائےٹیڑھی ہی رہےگی۔

لہذاکسی بھی معاشرتی ومعاشی ترقی کےلئےضروری ہےکہ اس معاشرےکی اکائی پرخاص توجہ دینی چاہیے۔اس کی ہرایک خوشی کاخیال رکھناچاہیے۔اس کواپنےذاتی فیصلوں میں آزادی کا،خاص طورپرانسان کی زندگی کاسب سےاہم فیصلہ جس پراس کی ساری زندگی بلکہ اگلی نسل کی بھی بنیادہوتی ہےکہ وہ کس کےساتھ تاحیات شادی کےبندھن میں بندھناچاہتاہےمکمل اختیارہوناچاہیے۔کیونکہ اس فیصلہ سےوہ اکائی سےدہائی میں تبدیل ہوتاہےاورایک نئےخاندان کےطورپرمعاشرےمیں منظرعام پرآتاہے۔جس سےکئی نئےافرادجنم لیتےہیں۔اوراسی طرح کےکئی مختلف خاندان یکجاہوکرہی ایک معاشرہ کوپروان چڑھاتےہیں۔اوریقیناًوہی معاشرہ ملکی معیشت کےلئےریڑھ کی ہڈھ کی حیثیت رکھتاہے۔لیکن جب بھی کسی انسان کوجبراً رشتہ ازدواج میں جانوروں کےگلےمیں پٹےکی مانند باندھ دیاجاتاہےتوایسارشتہ مجبوری کی وجہ سےچلتاتورہتاہےلیکن اپنےساتھ لاتعدادقباحتیں رکھتےہوئے۔

1۔گھرکااندرونی ماحول ہروقت ہیجان کاشکاررہتاہےاورجس کی جبراًشادی کی جاتی ہےوہ والدین کوہی ہروقت طعنےوتشنیع سناتارہتاہے۔

2۔میان بیوی کےتعلقات اس حدتک استوارہی نہیں ہوپاتےکہ انسان اپنےتمام مسائل بیوی سے،یاخاوندسےبیان کرے۔اس لئےہروقت اندر ہی اندر کڑھنااوراس سےجان چھڑانےکی ترکیبیں سوچتارہتاہے۔

3۔جب انسان ذہنی لحاظ سےاپنےساتھی سےمطمئن نہیں تواپنےخاص تعلقات میں کس طرح مطمئن ہوپائےگا۔پھروہی ہوتاہےکہ باہرمنہ مارتاہے،خواہ عورت ہویامردنیزاب توملٹی میڈیاکادورہےباہراندرسب برابرہے۔عورت مردسب برابرجوبھی مجبورہےاپناحل کسی ناکسی طریقےنکال ہی لیتاہے۔

4۔جب میاں بیوی کی ہی نہ بنی توبچوں کی تربیت اوران کےمستقبل پرتوجہ کیاخاک دیں گے۔اورنتیجتاً بچےجوکل کےجوان ہیں اورکسی بھی ملک کی معیشت میں روح کی مانندہیں ،ماں باپ کی رقابتوں کاشکارہوجاتےہیں۔

Advertisements
merkit.pk

لہذاگرہم چاہتےہیں کہ اپنےمعاشرےمیں یہ قباحتیں نہ پھیلیں اورہماری معیشت مضبوط ہوتویہاں ہم دیگرمختلف اقدام کررہےہیں وہاں یہ قدم بھی ہرخاندان ذاتی انا،جھوٹی خاندانی غیرت کوبالائےطاق رکھتےہوئے اٹھائیں اورجب ہمارےخاندان میں سےکوئی بھی خواہ مردہویاعورت شادی کےمتعلق اپنی رائےپیش کرےتوبدچلنی کےالزام نہ لگاتےہوئےکم ازکم اس رائےکااحترام کریں اوراگروہ رشتہ مناسب حال ہوتواس کوخوشی سےقبول کریں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply