• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • برسبین:عمارتوں کے درمیان اڑتے جہاز نے نائن الیون یاد کرادیا

برسبین:عمارتوں کے درمیان اڑتے جہاز نے نائن الیون یاد کرادیا

آسٹریلوی شہر برسبین میں کارگو جہاز نے شہریوں کو نائن الیون یاد کرا دیا۔

برسبین کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سے انتہائی کم بلندی پر گزرتا جہاز دیکھ کر جہاں بہت سے شہری خوفزدہ ہو گئے وہیں باخبر شہری اس سے محظوظ بھی ہوئے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

برسبین کی کثیر المنزلہ عمارتوں میں قائم دفاتر میں کام کرنے والے اس وقت خوفزدہ ہو گئے جب انہوں نے C-17 کارگو جہاز کو تیزی سے اپنی جانب آتا دیکھا۔


یہ واقعہ درحقیقت برسبین فیسٹیول میں دکھائے جانے والے ایک کرتب کی ریہرسل تھی۔ ایک صحافی نے ٹویٹ کیا اگرچہ یہ ایک مشق تھی لیکن اس نے بہت لوگوں کو نائن الیون کی یاد دلا دی۔

ایک اور شہری نے لکھا کہ امید ہے کہ 2032 کے اولمپک مقابلوں کی افتتاحی تقریب میں بھی ایسا ہی فضائی کرتب دکھایا جائے گا۔ امید ہے تب یہ کرتب ایک فائٹر جیٹ کے ساتھ دکھایا جائے گا۔
ایک شہری نے طیارے کی پرواز سے خوفزدہ افراد کو تسلی دی کہ برسبین میں ہر سال اس فیسٹیول کی تیاری ایسی ہی ہوتی ہے۔ شہری نے لکھا کہ جہاز کسی بھی وقت خطرناک حد تک عمارتوں کے نزدیک نہیں ہوتا۔ خوفزدہ ہونے کی کئی بات نہیں۔

برسبین کے باشندوں کو ریہرسل پروازوں کے بارے میں پیشگی خبردار کیا گیا تھا لیکن بعض شہریوں کو یہ دیکھ کر پھر بھی حیرت ہوئی ، ایک امریکی شہری نے ٹویٹر پر کہا کہ اس نے اسے نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کا فلیش بیک  یاد آگیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

برسبین کے مقامی لوگوں  کا کہنا ہے کہ اسٹنٹ اتنا خطرناک نہیں جتنا  ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے ، طیارہ دراصل برسبین ندی کے اوپر اڑ رہا تھا جو شہر سے گزرتا ہے ، فلک بوس عمارتوں کے درمیان میں نہیں۔ ایسا صرف ویڈیو میں دکھائی دے رہاہے۔

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply