لاء آف اٹریکشن:کتنی حقیقت؟۔۔عمیر فاروق

لاء آف اٹریکشن کی ذاتی حیثیت کیا ہے کہ ہم اس کا پرچار کرتے پھریں؟ انسانی اذہان میں جنم لینے والی اختراعات اور منفرد خیالات کائنات کے آفاقی اصول Cause & Effect اور برسوں کی محنت کا نتیجہ تھیں اور اس سے بڑہ کر یہ ایجادات ان لوگوں کے ہاتھوں سے ہوئیں جن پر قدرت کا خصوصی احسان اور مہربانیاں تھیں، آپ اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن سچ یہی ہے کہ آئن سٹائن، سٹیفن ہاکنگ، نیوٹن اور مادام کیوری جیسے لوگ لاء آف اٹریکشن یا Cause & Effect کی بنیاد پر پیدا نہیں کیے جاسکتے لہذا لاء آف اٹریکشن کی حمایت میں ان لوگوں کی مثالیں پیش کرنا ذہنی بانجھ پن کے سوا کچھ نہیں اور اگر ان عظیم ایجادات کو اس قانون کے خاطے میں ڈال بھی دیا جائے تو ہم “تخلیقی سوچ” اور اس کی اہمیت کو کہاں فٹ کریں گے؟ ایک ایسا قانون جو فقط خواہش یا توقع کی بنیاد پر کامیابی کا دعویدار ہو انتہائی مضحکہ خیز اور سطحی معلوم ہوتا ہے، آپ قانون کو تسلم کرکہ نہ صرف کائناتی سچائیوں کا انکار کرتے بلکہ محنت کی عظمت پر بھی کاری ضرب لگاتے ہیں، لاء آف اٹریکشن اس وقت مقبول ہوا جب 2006 میں رہونڈا بائرن نے “دی سیکرٹ” فلم ریلیز کی اور 2007 میں اسی عنوان سے ایک کتاب شائع کی جس نے اس قانون کو مقبولیت کی انتہاؤں تک پہنچادیا، اس کتاب کی 30 ملین کاپیاں فروخت ہوئیں اور 50 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔

لاء آف اٹریکشن کوئی ایسا قانون نہیں جس سے لوگ ناواقف ہوں، 1877 میں روسی جادوگر ہیلینا واٹسکی لاء آف اٹریکشن کا لفظ اپنی کتاب میں استعمال کرچکی تھیں جبکہ 19 صدی کے اوائل میں پائناس کوئمبی کی تعلیمات میں بھی اس قانون کا ذکر ملتا ہے، قانون کے مطابق “مثبت خیالات مثبت چیزیں لاتے ہیں اور منفی خیالات منفی چیزیں لاتے ہیں، اگر ہم صرف ان چیزوں کے بارے میں سوچیں جو ہم چاہتے ہیں تو ہم انھیں حاصل کرلیں گے” قانون کے حامیوں کا ماننا ہے کہ”کائنات میں کچھ ایسے عوامل ہیں جو ہر وقت حرکت میں رہتے ہیں، یہ عوامل ہر شخص کیلئے ایسے حالات وتجربات پیدا کرتے ہیں جن کے بارے میں وہ سوچتا ہے” اس قانون کے بیشمارحامی موجود ہیں لیکن محققین کی ایک بڑی تعداد اس پر کڑی تنقید کرتی نظر آتی ہے، اس قانون کے ماننے والے مذہبی کتب سے بھی ایسے متن اخذ کرلیتے ہیں جو ان کی بات کی تائید کرتے ہوں مثال کے طور پر “اس لئے تم سے کہتا ہوں: جو کچھ تم دعا میں مانگتے ہوں یقین کرو وہ تمہیں مل گیا ہے، وہ تمہارا ہے”(بائبل: مارک 11:24 ) لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک بے ڈھنگی سی بات ہے، خواہشات باندھنا کسی چیز کی توقع کرنا اور محنت کرنے کے بعد قدرت سے یقین کی انتہاؤں کے ساتھ کسی چیز کی طلب کرنا دونوں چیزوں میں فرق ہے، ایک میں آپ اپنی Desire کے ساتھ ممکنات کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے میں Cause & effect کا عمل دخل ہوتا ہے، پائناس کوئمبی کو “لاءآف اٹریکشن” کا بانی سمجھا جاتا ہے، یہ نیوہیمپشائر میں پیدا ہوا، رسمی تعلیم حاصل کی اور جوانی میں تب دق کے مرض کا شکار ہوگیا، اس زمانے میں تب دق کا کوئی قابل اعتماد علاج موجود نہیں تھا، ایک دن اچانک گھڑ سواری کرنے کے بعد جب کوئمبی نے محسوس کیا کہ اس نے مرض سے عارضی طور پر نجات حاصل کرلی ہے تو اس نے اس عمل کو دہرانا شروع کردیا اور مکمل صحت یاب ہوگیا، اس چیز نےاس کو “دماغ کے جسم پر اثرات” کا مطالعہ کرنے پر اکسایا جس کے بعد پائناس کوئمبی نے اعلان کیا تھا “پریشانی جسم میں نہیں ذہن میں ہے” بعض مصنفین ہینری ووڈ، رالف والڈ نےاپنی اپنی کتابوں میں دعوٰی کئے کہ دماغ کا یہ عمل صحت نہیں بلکہ زندگی کے ہرشعبے سے متعلق ہے، نپولن ہل، نارمن ونسنٹ پیلے، پاؤلو کوئیلو اور ایکہارٹ ٹولے جیسی نامور شخصیات اس قانون کی حامی ہونے کے باوجود اس کے حق میں کوئی قابل ذکر سائنسی شواہد پیش نہیں کرسکیں اور آپ کو شاید یہ جان کر بھی حیرت ہو محققین کی جانب سے اس قانون کو pseudoscience “سیڈو سائنس” قرار دیا گیا ہے (سیڈو سائنس: ایک ایسا قانون یا مفروضہ جو سائنسی حقائق اور طریقہ کار سے مطابقت کا دعویدار ہو لیکن ان سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔) لاء آف اٹریکشن کی حمایت کرنے والا کوئی تجرباتی سائنسی ثبوت موجود نہیں جبکہ اس کے حق میں دیے جانے والے سائنسی دلائل بھی فرسودہ ہیں، مریم کارمائیکل اور بین ردر فورڈ نے لکھا کہ: رہونڈا بائرن کی کتاب اور فلم کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں، یہ ذہنی اختراع اور کرانک لٹریچر کے سوا کچھ نہیں۔(کرانک لٹریچر: جس کا ذریعہ ذاتی الہام یا ذہنی اختراع ہو) بہرحال کالم کی طوالت سے بچنے کے لئے میں یہاں پر ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر ریٹائرڈ معالج، لائف کوچ، ہپنوتھیراپسٹ اور محقق نیل فاربر کے چند اعتراضات پیش کروں گا۔

tripako tours pakistan

1۔وہ لکھتے ہیں: “اگر میرے لیے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ میں اس طرح زندگی گزاروں جیسے میں نے انہیں پہلے ہی حاصل کر لیا ہے تو ایسا کرنے کے لیے مزید منصوبے بنانے کی کوئی وجہ نہیں ہے! دی سیکریٹ میں جیک کین فیلڈ نے تجویز کیا “ہمارا کام یہ جاننا نہیں ہے کہ کام کیسے ہوگا؟ بھروسہ کریں کہ کائنات اس کو ظاہر کرے گی، دلچسپ بات یہ ہے کہ جیک کین فیلڈ کی ویب سائٹ آپ کو ایکشن پلان بنانے کے طریقہ سکھانے والے پروگرام فروخت کرتی ہے۔

2۔ جب آپ زندگی کو ایسے تصور کرنے لگیں جیسے آپ نے پہلے ہی اپنے مقاصد کو پورا کر لیا ہے تو ڈیڈ لائن یا ٹائم لائن قائم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے! جیسا کہ رہونڈا بائرن نے کہا “کائنات کو اپنی خواہش ظاہر کرنے میں کوئی وقت نہیں لگتا ہے” اگرچہ اہداف مقرر کرنے کی اہمیت پر ہونے والی ریسرچز کامیابی کے حصول کے لیے ٹائم لائنز قائم کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں لیکن ایل او اے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کائنات کے لیے اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک ڈیڈ لائن مقرر کرنا نامناسب ہوگا۔

3۔ کوئی چیلنج نہیں، چیلنجز کو منفی خیالات سمجھا جاتا ہے اور ان سے بچنا چاہیے۔

Advertisements
merkit.pk

4۔ اگر آپ کو چھاتی کا کینسر ہو جاتا ہے تو 100٪ آپ کی غلطی ہے (جینیات کی نہیں) اگر آپ ریپ یا زیادتی کا شکار ہوتے ہیں 100٪ آپ کی غلطی, دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے بچے، انتہائی نگہداشت والے یونٹ میں بیمار بچے ,سیلاب، سمندری طوفان، قدرتی آفات، ہولوکاسٹ کا شکار ہاں ان سب میں آپ کی غلطی ہے کیونکہ آپ نے منفی چیزوں کے بارے میں سوچا لیکن خیر ہم سب اندر سے جانتے ہیں کہ یہ انتہائی مضحکہ خیز چیز ہے کیونکہ کوئی بھی اس طرح کی چیزوں کا تصور کرنا پسند نہیں کرتا” However, it is a basic, fundamental premise of the LOA اور آخر میں مزے کی بات عرض کرتا چلوں “آپ کبھی بھی اس چیز کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتے جس کے بارے میں آپ نہیں سوچ رہے کیونکہ یہی لاء آف اٹریکشن کہتا ہے” ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply