سوال گندم جواب چنا۔۔سعدیہ علوی

آپ میں سے جو ہماری پچھلی داستانیں پڑھ چکے ہیں، جانتے ہوں گے کہ ہم نے موصوف کو خون کے آنسو رلایا ہے، وہ ہم سے اپنی محبت کے باعث ہمارے ہاتھوں کئی بار رسوا ہونے کے باوجود ہم سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے، ایک بار تو ہماری وجہ سے بھرے بازار میں پٹتے پٹتے بھی بچے ( یہ کہانی پھر کبھی)   سو ہمیں احساس ہونے لگا کہ شاید یہ وہ ہی ہیں، جن کو آسمانوں پر ہمارے لیئے بنایا گیا ہے۔

اس خیال کے دل میں آنے سے ہمیں بھی کچھ انسیت سی محسوس ہونے لگی اور ہم نے سنجیدگی سے موصوف کے بارے سوچنا شروع کردیا، پر کریں کیا کہ ہم اور سنجیدگی دو مکمل انتہاؤں کا نام ہے۔ ہمارا تو عالم یہ ہے کہ کسی بھی وقت اور حالات میں ہم پٹڑی سے اتر جاتے ہیں ، چونکہ بھاری بھرکم شخصیت ہیں تو دوبارہ کوشش کے باوجود بھی اترے ہی رہتے ہیں۔

tripako tours pakistan

ایک دن پوچھنے لگے “سنو تم فری ہو”
ہم کو اچھا نہ لگا ہم نے کہہ دیا بھئی ایک بات ابھی سے ذہن نشین کرلیں ہم بالکل فری نہیں ہیں بہت قیمتی ہیں اور دیکھ لیں کہ آپ کے بس میں ہے ہمارے ساتھ رہنا یا نہیں،بڑی بے بسی سے مسکرا رہے تھے اسوقت ،مگر بات ماننے والی ہے ہیں بہت حوصلے والے۔

ہم نے موصوف کو اہمیت دینا شروع کی تو وہ سمجھے کہ ہم بدل گئے ہیں اب حالات کچھ یوں ہوئے کہ وہ ہم کو اپنی خامیاں بتانے کے جتن کرنے لگے، اب صاف بات ہے کہ ہم تو خود مرقع برائی ہیں تو ان کی بیان کردہ معصوم سی عادتیں ہمیں عجیب ہی نہ لگتی تھیں۔ ایک دن بولے تم کو پتہ ہے میں ایک   پہیے پر بائیک چلاتا ہوں ہم نے کہا چلیں یہ تو اچھی بات اس طرح دوسرا پہیہ بالکل نیا رہے گا اور جب آپ بائیک فروخت کریں گے تو کہہ سکیں گے کہ یہ صرف پچاس فیصد چلی ہوئی ہے۔

اب اس میں منہ کھول کر ہمیں دیکھنے کی کیا بات ، ہم نہیں سمجھ سکے۔ ہاں ان سے یہ ضرور کہا کہ بند کرلیں منہ کو برسات کا موسم ہے، مکھی گھس جائے گی تو ہڑبڑا کر چپ سے ہوگئے۔

Advertisements
merkit.pk

ایک دن بولے “تم کو کچھ پرواہ ہے میری؟”
ہم نے کہا “جی ہے بالکل ہے آپ نے دیکھا نہیں ہم آپ کے ساتھ چلتے ہوئے مناسب فاصلہ رکھتے ہیں کہ ہم کو گرنے کی عادت ہے اور ہمیں اپکا خیال رہتا ہے کہ جو گر گئے آپ پر تو بلا مبالغہ آٹھ سے دس ہڈیاں ضرور ٹوٹ جائیں گی”
اگلے دن ہمارے پاس آکر بڑی راز داری سے گویا ہوئے،
“سنو میں سگریٹ پیتا ہوں بہت”
ہم بولے “سو بسم اللہ جم جم پیئں بس یہ بتائیں کہ کیسے پیتے ہیں گلاس میں یا پیالی میں ؟”
بس جب سے کہیں چلے گئے ہیں
سمجھ نہیں آرہا کہاں
حالانکہ ہم تو نے گلاس پیالی کا بندوبست کر لیا ہے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply