اصلی اور سچے دہشت گرد ۔رانا اورنگزیب

دہشت گرد کی اصطلاح عموماً ان کے لئے استعمال ہوتی ہے جو عوام پر حملے کرتے ہیں یا عوام کے جان ومال کا نقصان کرتے ہیں دنیا  کے  مایہ  ناز  لوگوں کے نزدیک دہشت گردی کی تعریف کچھ یوں ہے۔ عموماً دہشت گردی کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ کسی سیاسی یا ذاتی مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال یا استعمار کی دھمکی ایک بڑے گروپ کے خلاف چھوٹے گروپ کی جانب سے ہو تو دہشت گردی کہلاتی ہے۔ اس میں چھوٹے گروپ کے لوگ بڑے گروپ کے غیر مسلح افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔پروفیسر نے دہشت گردی کی تعریف واضح کرتے ہوئے صرف امریکی و یہودی مفادات کو پیش نظر رکھا ہے ۔
سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ زمباڈو کا خیال ہے کہ دہشت گردی میں عام آبادی کو خوف زدہ کیا جاتا ہے لوگوں کے خود پر موجود اعتماد کو مجروح کیا جاتا ہے اور ایک محفوظ اور آرام دہ دنیا کو خارزار میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ دہشت گرد غیر متوقع طور پر تشدد کی کارروائی کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں ۔ پروفیسر زمباڈو مزید کہتے ہیں کہ دہشت گرد لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اس صورت میں یا تو مقابلہ کیا جاتا ہے یا گریز اختیار کیا جاتا ہے۔ منظور الحسن صاحب نے دہشت گردی کی ایک تعریف مستنبط کی ہے جو کچھ یوں ہے :
’’انسان خواہ مقاتلین ہوں یا غیر مقاتلین، ان کے خلاف ہر وہ تعدی دہشت گردی قرار پائے گی جس میں یہ تین شرائط پائی جاتی ہوں ۔
۱۔ کارروائی دانستہ ہو 
۲۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہو
۳۔ قانونی لحاظ سے ناحق ہو ۔
‘‘ منظورالحسن صاحب کی طرف سے کی گئی تعریف کے مطابق قانونی لحاظ سے ناحق یعنی غیر قانونی یا قانون سے متصادم کام ،کارروائی یا عمل جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہو اور جان بوجھ کے کی گئی ہو دہشت گردی کہلاۓ گا۔ منظورالحسن صاحب کی تعریف کے مطابق جو بھی اس تعریف پر پورا اترے وہ دہشت گرد ہے چاہے مسلمان ہو ہندو، سکھ ،عیسائی  ہو، آتش پرست   یا یہودی۔ وطن عزیز میں ہر تیسرا آدمی جو کاروبار یا سرکاری ملازمت کرتا ہے دہشتگردی کی تعریف پر پورا اترتا ہے مگر ان کے خلاف نہ کوئی  بولنے کی جرات کرتا ہے نہ لکھنے کی۔بلکہ بہت سے لوگ تو ا ن کی تعریف وتوصیف میں رطب اللسان رہتے ہیں۔
کیا ایک غریب آدمی کو بجلی کی قیمت سے  زیادہ بل بھیجنا پھر اس بل کو درست کرنے کے نام پر رشوت لینا دہشت گردی نہیں ؟
دودھ میں لاشیں محفوظ کرنے والا کیمیکل ملانا دہشت گردی نہیں؟
سو روپے کی چیز پر دوسو منافع لینا دہشت گردی نہیں ؟
اپنی زمین کی فرد لینے گئے کسان سے پٹواری کا بھتہ لینا دہشت گردی نہیں ؟
سارے ملک کے فیکڑی ایریاز میں بنے ڈھابے اور چاۓ خانے جو ناقص کھانا بنا کے بیماریاں بانٹ رہے ہیں کیا یہ دہشتگردی نہیں ؟
بیماری سے لڑتے مریضوں کو فضول اور غیر ضروی ٹیسٹوں میں الجھانا دہشت گردی نہیں؟
جعلی دوائیوں کا کاروبار کرنے والے کس قانون اور کس جواز کے تحت معصوم ہیں اور دہشتگرد نہیں؟
غیر معیاری سٹنٹ دل میں ڈال کے مریضوں کی  زندگی سے کھیلنا دہشتگردی کیوں نہیں؟
دل ،پتے، گردے وغیرہ کی بیماریوں میں سٹنٹ استعمال ہوتے ہیں۔دل میں ڈالنے والے سٹنٹ ڈاکٹر کے پاس ہوتے ہیں نہ عام میڈیکل سٹورسے دستیاب،پاکستان میں یہ سٹنٹ نہیں بنتے یہ امپورٹ ہوتے ہیں اور باقی اشیاء کی طرح چائنہ سے سستے آتے ہیں اور ان کا معیار بھی ویسا ہی  ہے جیسا چین سے آنے والے موبائل اور دیگر آلات و سامان کا ۔ معیاری سٹنٹ آئرلینڈ،جرمنی اور سوئٹزرلینڈ وغیرہ سے امپورٹ ہوتے ہیں۔مہنگے ترین کی قیمت تین لاکھ ہے جو معینہ مدت کے بعد خود بخود تحلیل ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں FBAاپرووڈ سی ای مارکڈ سٹنٹ بروئے کارآتے ہیں۔ سٹنٹس کی 68اقسام ہیں۔ انجیو گرافی کے بعد ڈاکٹر نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مریض کو کون سی قسم کے سٹنٹ کی ضرورت ہے۔ہر مریض کی نالی اوربلاکیج کا الگ سائز ہے اور پھر سٹنٹ کے ساتھ میڈیسن سمیت دس دیگر لوازمات استعمال ہوتے ہیں۔
مگر یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے جنوری 2017 میں میو ہسپتال میں سٹنٹ کے جعلی کاروبار کا انکشاف ہوا چند دن شور رہا۔اس کاروبار میں ملوث لوگ دہشت گرد نہیں تھے؟
ان کو سزا نہ دینے والے دہشتگردوں کی کیٹیگری میں نہیں آتے؟چند  دن بعد خبر آئی  کہ جی یہ سب تو کاروباری رقابت کا شاخسانہ تھا ایسا کچھ ہوا ہی نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سارے دھندے میں چند پردہ نشینوں کے بے نقاب ہونے کا خطرہ تھا۔اس دہشتگردی کو کیوں چھپایا گیا؟
 
واقفانِ  حال کے مطابق میو ہسپتال کی خبر میڈیا میں آنے کے بعد دل میں سٹنٹ ڈالنے کے آپریشن میں ساٹھ فیصد کمی آئی۔سرکاری ہسپتالوں میں غلط دوائی  دینے سے کتنے لوگ مصیبت میں مبتلا ہوۓ مگر کسی کو کیا سزا ہوئی  ؟
کسانوں کو جعلی زرعی ادویات سپلائی کرنا کیوں دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا جبکہ کسان کی فصل کے ساتھ لاکھوں لوگوں کا رزق جڑا ہوتا ہے۔کسی احمد نورانی کو آوارہ گردی کے نتیجے میں پڑنے والے چھتر تو سب صحافیوں کو ریاستی دہشتگردی نظر آتی ہے مگر لاکھوں طالبعلموں کے مستبل کو برباد کرتے جعلی تعلیمی اداروں کی دہشتگردی نظر نہیں آتی؟کیوں؟
ایسے لاکھوں کیوں تشنہءجواب ہیں ہمارے معاشرے میں۔ملک کے طول وعرض میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کنڈیکٹر دہشتگردی کے شاہکار ہیں مگر میڈیا کیمرے اندھے۔ایسا کون سا تہوار ہے جس میں ساری قوم کا اربوں روپیہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈاکو نہیں لوٹ رہے۔کیا یہ دہشتگردی نہیں؟ہزاروں گاڑیاں ٹنوں کے حساب سے زہریلے مادے ہماری سانسوں میں منتقل کر رہی ہیں کیا یہ دہشتگردی نہیں ؟خراب گاڑیوں کو رشوت لے کر فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے   دہشتگرد نہیں؟بغیر ٹیسٹ رشوت لے کر ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے والے دہشتگرد نہیں؟ اپنے بچوں کو بائیک خرید کر ون ویلنگ کی اجازت دینے والے والدین دہشتگرد نہیں؟ ٹریکٹر ٹرالی پر ریت اور مٹی لادے سڑکوں پر ریت اور مٹی گراتے ڈرائیور دہشتگردوں سے کم ہیں؟خلاف قانون اونچی اونچی بلڈنگیں اور کئی منزلہ پلازے کھڑے کرتے (جن کا کوئی  بھروسہ نہیں کہ کب اپنی بنیادوں پر ہی بیٹھ جائیں )نو دولتیے دہشتگرد نہیں؟بچوں کے لئے انتہائی ناقص غیر معیاری ٹیکسٹائل کلرز پر مشتمل گولی ٹافی پاپڑ چورن املی اور سویٹس بنانے والے دہشتگرد نہیں؟
 
کیوں ہم ان جرائم کو بڑا نہیں سمجھتے؟کیوں ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر نہیں ؟ہمارے اردگرد بکھرے ہمارے درمیان رہتے یہ دونمبر تاجر کاروباری ملاوٹ مافیا قابل گردن زدنی کیوں نہیں؟ ہم کس وجہ سے ان کے خلاف کچھ نہیں بولتے؟کتنے ایسے لوگ ہیں جو رشوت لیتے ہیں اور ہمیں علم ہوتا ہے مگر ہم ان کا احترام کرنے پر مجبور کیوں ہیں؟آخر دولت ہی عزت احترام اور قدرومنزلت کا معیار کیوں ہے؟اچھا مکان گاڑی پیسہ ہی ہمارا مطمع نظر کیوں ہے؟کیوں دو نمبری اورناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی؟ اپنے بچوں کی حفاظت تو جانور بھی کرتے ہیں حتیٰ کہ کسی کمزور ترین مخلوق کے بچوں کی جان پر بن آۓ تو وہ اپنی جان پر کھیل کر اپنے بچوں  کو بچانے کی کوشش کرتی ہے ہم ان جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں ہم تو اس چڑیا سے بھی کم تر ہیں جو بچوں کو بچانے کے لئے سانپ سے لڑ جاتی ہے۔مگر ہم ہر سود و زیاں سے عاری قوم اپنی کھلی آنکھوں سے اپنے بچوں کو زہر کھاتے دیکھتے ہیں بولتے کچھ نہیں۔
اپنے سامنے اپنے بچوں کی سانسوں میں اترتا دھواں اور کاربن دیکھتے ہیں مگر اس کے سدباب کے لئے ہلکی سی کوشش بھی نہیں کرتے۔ہم کیسے بے حس لوگ ہیں کہ ہمیں احساس بھی نہیں ہے کہ ماحول زہر سے بھر رہا ہے۔ماحول میں تبدیلی سے پتھر بھی رنگ بدلتے ہیں موسم مٹی دھول پہاڑ اور پتھر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے مگر ہم تو پتھر مٹی اور پہاڑوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ جن کے ذہنوں پر بس ہوس کا موسم ٹھہرا ہے دولت کی ہوس ،پیسے کی ہوس ہر چیز اپنے گھر میں جمع کرنے کی ہوس، چاہے اتنا کچھ جمع کرنے کے بعد گھر میں سانس لینے کی جگہ بھی نہ میسر ہو ہم نے جمع کرنا ہے۔ ہمارے کان بند ہوچکے ،زبانیں گنگ ہیں اور ہمارے اذہان ہر سوچ سے خالی ہمارے دماغ نفع نقصان کے ادراک سے عاری ہوچکے۔ہم پر عالمی اداروں کی آوازیں اثر نہیں کرتیں۔ہم پراپنے بچوں کی کی چیخیں اثر نہیں کرتی۔جنگل میں رہنے والے لوگوں کو جنگل کی سرگوشیاں سنائی  دیتی ہیں ۔پہاڑیوں پر بسیرا کیے لوگ ہر پتھر کی حرکت پر نظر رکھتے ہیں مگر ہم اندھے گونگے بہرے لوگ اپنے اردگرد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ہم خواب خرگوش کے مزے لیتی قوم جو جاگنے کا نام لینے کو تیار نہیں۔

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *