الوداع

الوداع
شیخ ایاز
منطوم ترجمہ : مشتاق علی شان

میں جا رہا ہوں الوداع
اس ساز کو مضراب کے
سینے لگائے الوداع
جیسے ہو شعلہ آخری
یوں نغمہ خواں ہوں الوداع
وہ قافلے جو جا چکے
اُن سے ہوں آگے جا رہا
لیکن کہاں ہوں میں چلا
میں نے ابھی جانا نہیں
وہ دور سے دیکھو مجھے
اک سانجھ دیتی ہے صدا
اُس میں سمانے ہوں چلا
سو درد تھے سو دکھ مگر
تھی زندگی پیاری بہت
وہ کیکروں پر نیم شب
تھی چاندنی پیاری بہت
آکاش میں ہوں بڑھ رہا
چندا کی جانب الوداع
ساون گھٹاؤں کی طرح
تھر پر برس کر ہوں چلا
کاندھے کا لیکن ’’ کینرو ‘‘
کب تک بجاؤں الوداع
اے سندھ تجھ کو الوداع
اے ہند تجھ کو الوداع
تجھ میں ہی تھا سارا جہاں
اے جسم وجاں اب الوداع
( "کینرو" موسیقی کا ایک آلہ )

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *