• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • قائدِ اعظم کا ایک سپاہی رخصت ہو گیا۔۔محمد اظہار الحق

قائدِ اعظم کا ایک سپاہی رخصت ہو گیا۔۔محمد اظہار الحق

فرزندِ اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کی رحلت کے بعد دوسرا بڑا سانحہ ڈاکٹر صفدر محمود کی وفات ہے۔
قائد اعظم کا یہ سپاہی، یہ نظریاتی باڈی گارڈ، تحریک پاکستان کا یہ مجاہد تیرہ ستمبر کو اپنی آبائی بستی ڈنگہ ضلع گجرات میں سپرد خاک ہو گیا۔ تحریک پاکستان کے مجاہد وہ اس طرح تھے کہ اس تحریک پر آج تک برابر حملے ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے ہمیشہ اگلی صفوں میں رہے! عرب شاعر نے کہا تھا:
أضاعُونی وأیَّ فَتیً أضاعوا لیومِ کریہۃٍ وسدادِ ثَغــرِ
مجھے کھو دیا! اور جنگ کے دن کے لیے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے کیسا زبردست جوان کھو دیا!
ڈاکٹر صاحب کی وفات پر زیادہ زور اس ذکر پر دیا جا رہا ہے کہ وہ وفاقی سیکرٹری رہے اور کالم نگار! اقبال نے دربار رسالت میں فریاد کی تھی کہ انصاف فرمائیے! مجھے لوگ غزل گو سمجھ بیٹھے ہیں!
من ای میرِ امم داد از تو خواہم
مرا یاران غزل خوانی شمردند
وفاقی سیکرٹری ایک اینٹ اکھاڑیے تو نیچے سے تین نکلتے ہیں۔ بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے۔ کالم نگار بھی بہت ہیں! مگر صفدر محمود مؤرخ تھے! چوٹی کے محقق! بیسیوں کتابوں کے مصنف اور کتابیں بھی ایسی کہ عرق ریزی اور مشقت کا حاصل! کئی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے۔ کئی بار انہوں نے لندن جا کر انڈیا آفس کو کھنگالا۔ واشنگٹن جا کر آرکائیوز کا مطالعہ کیا۔ پاکستان کیوں ٹوٹا؟ پاکستان، تاریخ و سیاست۔ مسلم لیگ کا دورِ حکومت۔ آئینِ پاکستان۔ یہ تو چند کتابوں کے عنوانات ہیں۔ ان کی تصانیف اور بھی ہیں۔ اردو میں بھی، انگریزی میں بھی۔
ڈاکٹر صفدر محمود کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور قائد اعظم کے بارے میں جو بے اصل، غلط اور جھوٹی باتیں پھیلائی گئیں یا پھیل گئیں، ڈاکٹر صاحب نے بہت محنت کرکے ان کی اصلیت کو واضح کیا۔ اس کے لیے وہ ہر اس شخصیت سے ملے جس کا قائد اعظم سے تعلق رہا یا جو واقفِ حال تھا۔ ایک ایک سورس، ایک ایک ذریعہ تلاش کیا۔ کڑی مشقت کے بعد سچ دنیا کے سامنے لائے۔ پاکستان کے کئی بدخواہ ان کی تحقیق اور ان کے لائے ہوئے سچ کا جواب نہ دے سکے۔ کچھ نے اپنی غلطی تسلیم کی۔ یہ اور بات کہ جہاں جہاں نیت کا فتور تھا، وہاں ہٹ دھرمی قائم رہی! کچھ مغالطے جو عام ہیں یا عام کیے گئے اور جن کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کرکے حقیقت واضح کی، مندرجہ ذیل ہیں:
٭ قراردادِ پاکستان وائسرائے نے قائد اعظم کو دی اور انہوں نے مسلم لیگ کے اجلاس سے منظور کروالی۔ ٭ حلف برداری کے لیے قائد اعظم آتے ہی کرسی پر بیٹھ گئے جس پر چیف جسٹس میاں عبدالرشید نے اعتراض کیا۔ ٭ پرچم کشائی مولانا شبیر احمد عثمانی سے کروائی گئی۔ ٭ ریڈ کلف ایوارڈ اور خاص طور پر پنجاب کی تقسیم مسلم لیگ کے مطالبات کے عین مطابق تھی۔ ٭1935 ء میں قائد اعظم کی ہندوستان واپسی ایک خواب کا نتیجہ تھی۔ ٭ علامہ اقبال نے خطوط لکھ کر قائد اعظم کو لندن سے واپسی پر آمادہ کیا۔ ٭ قائد اعظم سے منسوب یہ بیان کہ پاکستان میں نے اور میرے ٹائپ رائٹر نے بنایا۔ ٭ قائد اعظم سے منسوب یہ فقرہ کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ڈال دیے گئے ہیں۔ ٭ کراچی میں ایمبولنس کی خرابی سازش تھی۔ ٭ زیارت سے لے کر کراچی آمد تک لیاقت علی خان کے حوالے سے تراشے گئے بدگمانیوں کے افسانے۔
ڈاکٹر صفدر محمود نے یہ سب مفروضے اور جھوٹ غلط ثابت کیے۔ انہوں نے دلائل کے انبار لگا دیے۔ گواہیاں پیش کیں۔ حوالے دیے۔ ریفرنسز دکھائے۔ عینی شاہدوں سے ملے۔ حلف برداری کی تقریب کی وڈیو ڈھونڈی اور دیکھی۔ یہ جو آج پوری دنیا میں تحریک پاکستان کی تاریخ کے طالب علم اور قائد اعظم کے شیدائی ڈاکٹر صفدر محمود کی وفات پر غم زدہ ہیں تو اس کا سبب مرحوم کی یہ محنت اور مشقت ہی تو ہے۔ انہوں نے تن تنہا اتنا کام کیا جتنا بڑے بڑے ادارے کرتے ہیں۔ کوئی مالی امداد ان کی پشت پر نہ تھی۔ کسی ادارے کا تعاون حاصل نہ تھا۔ ہم جیسے طالبان علم کے لیے ان کے دروازے ہمہ وقت کھلے تھے۔ جب بھی ان موضوعات پر کوئی مشکل پیش آتی، رہنمائی فرماتے۔ کتاب پاس ہوتی تو ارسال فرما دیتے‘ ورنہ بتاتے کہ کون سا حوالہ ہے اور کہاں ملے گا۔ اس کالم نگار پر ہمیشہ شفقت فرماتے اور اس قابل سمجھتے کہ کسی مسئلے پر تشویش ہو تو شیئر کریں۔
ڈاکٹر صاحب کس طرح مسئلے کی تہہ تک پہنچتے تھے، اس کی صرف ایک مثال قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے: یہ جھوٹ کچھ حلقوں نے تواتر کے ساتھ پھیلایا کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان سے قبل جگن ناتھ آزاد کو پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کو کہا۔ انہوں نے ترانہ لکھا جو قائد نے منظور کیا اور پھر یہ ترانہ اٹھارہ ماہ تک گایا جاتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس جھوٹ کے رد میں عقلی اور نقلی بارہ دلائل دیے۔ ایک: قائد کی قانونی اور آئینی شخصیت کے لیے ناممکن تھا کہ کابینہ، حکومت اور ماہرین کی رائے کے بغیر ترانہ خود ہی منظور کر لیتے جبکہ انہیں اردو اور فارسی سے واجبی سا تعلق تھا۔ دو: قائد اس وقت 71 سال کے تھے۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت29 برس کا ایک غیر معروف نوجوان تھا۔ لاہور میں اس کا قیام تھا اور اینٹی پاکستان اخبار ‘جئے ہند‘ میں ملازم تھا۔ دوستی تو کجا، قائد سے اس کا تعارف بھی ناممکن تھا۔ تین: پروفیسر سعید کی کتاب میں 25اپریل 1948 تک کے قائد کے ملاقاتیوں کی مکمل لسٹ ہے۔ اس میں جگن ناتھ نام کا کوئی ملاقاتی نہیں۔ چار: انصار ناصری نے قائد کے کراچی آنے کے بعد کی مصروفیات پر ایک مبسوط کتاب لکھی ہے‘ اس میں بھی جگن ناتھ آزاد کا کوئی ذکر نہیں۔ پانچ: ڈاکٹر صفدر محمود، عطا ربانی سے‘ جو قائد کے اے ڈی سی تھے، ملے۔ یہ ملاقات کافی جدوجہد کے بعد مجید نظامی کی مدد سے ممکن ہوئی۔ عطا ربانی کا صاف سیدھا جواب تھاکہ اس نام کا کوئی شخص قائد سے ملا نہ قائد سے انہوں نے یہ نام کبھی سنا۔ چھ: جگن ناتھ آزاد نے اپنی وفات تک خود یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ سات: ڈاکٹر صفدر محمود نے ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز چھان مارے۔ ان میں بھی ایسا کوئی ذکر نہیں۔ آٹھ: ڈاکٹر صاحب نے اگست 1947 کے اخبارات چھان مارے۔ جگن ناتھ کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ نو: ڈاکٹر صاحب نے خالد شیرازی سے ملاقات کی جنہوں نے اگست1947 کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے بھی اس دعوے کی نفی کی۔ دس: ریڈیو پاکستان کے رسالہ ‘آہنگ‘ میں ایک ایک پروگرام کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس میں بھی جگن ناتھ کے ترانے کا کوئی ذکر نہیں۔ گیارہ: جگن ناتھ آزاد نے اپنی کتاب ”آنکھیں ترستیاں ہیں‘‘ میں صرف یہ لکھا کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ اس نے قائدِ اعظم کا ذکر کیا نہ ترانے کا۔ بارہ: ایک بھارتی سکالر منظور عالم نے جگن ناتھ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا‘ جس میں جگن ناتھ کا انٹرویو ہے جس میں انہوں نے ان مشاہیر کا ذکر کیا‘ جن سے وہ ملے۔ ان میں قائد اعظم کا ذکر نہیں، اگر ملے ہوتے تو یقیناً ذکر کرتے۔
یہ صرف ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہر ایشو پر اسی طرح مکمل تحقیق کی اور کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑا۔ ان کی دو کتابیں ”سچ تو یہ ہے‘‘ اور ”اقبال، جناح اور پاکستان‘‘ تاریخِ پاکستان کے ہر شائق کو ضرور پڑھنی چاہئیں۔ ان کی بعض آرا سے اختلاف بھی ہے‘ مگر اس کا یہ موقع نہیں۔ خداوند قدوس ان کی لغزشوں سے درگزر کرے اور ان کی نیکیوں اور قومی خدمات کو قبول کرے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply