چہلمِ امام حسین ؑ -مسلمان سوچتے کیوں نہیں؟۔۔نذر حافی

چہلم امام حسینؑ کے ایام قریب ہیں۔ دنیا کی ہر قوم اور دین کے پاس کچھ مخصوص عقائد، ایام، آداب و رسوم، عبادات و مناجات، ہیروز، رول ماڈلز اور یادگار تاریخی واقعات ہوتے ہیں، جو کہ اس قوم یا دین کے تمدن کو تشکیل دیتے ہیں۔ جیسے یہودیوں کے ہاں اُن کے اپنے عقائد، نحس و بد ایام، رسوم و رواج اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے ایک ناقابلِ فراموش ہیرو ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں کے پاس اُن کے اپنے افکار و نظریات اور عقائد، مبارک و نحس دن، خوش بختی و بدبختی کے قصے، تاریخی واقعات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بطورِ ہیرو، آئیڈیل اور نمونہ عمل ہیں۔ پاکستان میں بھی ہیرو پرست راجپوتوں کی ایک انوکھی شاخ پائی جاتی ہے۔ اس شاخ کا نام ریباری ہے۔ ہمارے ہاں یہ ریباری قبیلہ صحرائے تھر میں پایا جاتا ہے، جبکہ ہندوستانی گجرات، راجستھان، ننگر پارکر، بدین اور عمر کوٹ میں بھی اس قبیلے کے لوگ پائے موجود ہیں۔

آج سے سات سو سال پہلے یعنی سن 1300 عیسوی میں بادشاہ علاءالدین خلجی، راجستھان میں مقیم اس قبیلے کی ایک لڑکی پر عاشق ہوگیا۔ اس کی حرکات سے قبیلے والوں کو اپنی عزت و ناموس کا کھٹکا لگ گیا۔ وہ راجستھان سے بھاگ کر سندھ کے رن کچھ اور ننگر پارکر کی طرف چلے گئے، وہاں اس وقت سومرو خاندان کے سردار دودو سومرو کی حکومت تھی۔ اس نے ان مفرورین کو اپنے ہاں پناہ دے دی۔ دوسری طرف مخبروں کی اطلاع کے مطابق علاءالدین نے دودو سومر سے استفسار کیا۔ ساتھ ہی دودو سومرو سے اس کی بہن باگھل بائی کا رشتہ بھی مانگا۔ دودو سومرو کے صاف انکار نے علاءالدین خلجی کو مشتعل کر دیا۔ وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ دودو سومرو پر حملہ آور ہوا اور اس نے دودو سومرو کو تہہ تیغ کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن، ریباری قبیلہ اپنے اس محسن اور عظیم شخص کی یاد میں سوگوار ہے۔ اس قبیلے کی خواتین گذشتہ سات سو سال سے سیاہ لباس پہنتی ہیں۔ 1970ء میں ننگرپارکر، میرپور خاص اور بدین کے راجپوتوں اور سومرو قبیلے کے بزرگوں نے وہاں کی ریباری برادری کا سوگ ختم کرایا ہے، لیکن دیگر مناطق میں یہ سوگ ابھی تک جاری ہے۔ جاری سوگ کا یہ عالم ہے کہ وہاں دلہن کے اوپر بھی سیاہ چادر ڈالی جاتی ہے۔

tripako tours pakistan

اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی کا کوئی عزیز یا رشتے دار فوت ہو جائے تو اس کا سوگ چند دن ہی ہوتا ہے، لیکن اگر کسی قوم کا رول ماڈل یا ہیرو ظلم و بربریت کا شکار ہو جائے تو وہ قوم نسل در نسل رنج و غم اور دکھ و سوگ میں مبتلا رہتی ہے۔ کسی بھی قوم کا وجدان، ضمیر اور باطن جتنا زندہ ہوتا ہے، وہ اپنے محسن، رول ماڈل اور ہیرو کو اتنا ہی یاد کرتی ہے اور اپنے ہیرو اور رول ماڈل کے قاتلوں سے اتنی ہی نفرت کرتی ہے۔ دینِ اسلام کا اپنا ایک خاص اور جداگانہ تمدن ہے۔ اس تمدن کا محور توحید ہے۔ سید الشہداء اور ان کے ساتھیوں کے طرز عمل میں خدا کی برتری اور توحید کا نمایاں اظہار موجود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر خدا کی رضا اور غیر خدا کی خوشنودی میں سے ایک کو انتخاب کرنا پڑے تو صرف خدائے واحد کی رضا کو اختیار کریں۔ یہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے امام حسینؑ کا اٹل فیصلہ ہے۔

توحید کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اسلامی تمدن کے توحید محور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عبادات و مادیات، جینا و مرنا، شادی و پریشانی، خوشی و غم، دوستی دشمنی، جنگ و صلح، دشمن پروری و رشتے داری، آداب و رسوم سمیت ہر فعل اور ہر شعبہ خدائے وحدہ لاشریک کی ذات کے گرد چکر کاٹے۔ پرچمِ توحید کے علمبردار ہونے کے ناطے اسلامی تمدّن میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو ایک رول ماڈل، ہیرو اور نمونہ عمل کی حیثیت حاصل ہے۔ مسلمانوں کے ہاں آپ کو محسنِ اسلام کا درجہ حاصل ہے۔ چونکہ اگر اکسٹھ ہجری میں آپ اپنے آپ کو خدائے وحدہ لاشریک کی توحید اور یکتائی پر قربان نہ کرتے تو اسلامی تمدن کا شیرازہ بکھر جاتا۔ چنانچہ سارے عالمِ اسلام میں حضرت امام حسین ؑ سے منسوب ایام کو اور خصوصاً چہلمِ امام حسینؑ کو انتہائی عقیدت و احترام اور دینی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے ہاں آپ کی شہادت اور چہلم کی محافل و مجالس اور جلسے، جلوسوں میں اسلامی تہذیب یعنی امر بالمعروف و نہی از منکر پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح ان محافل و مجالس اور جلوسوں میں نسل در نسل منتقل ہونے والی اسلامی ثقافت کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔ روزِ عاشور اور چہلمِ امام کے موقع پر اسلامی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ اسلامی تمدن میں بھی ایثار و فداکاری، حق گوئی و بیباکی، اصول پرستی و جرات کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ان ایّام میں مسلمانوں میں موجود تمام معنوی و مادی و ملکوتی و روحانی اقدار اور صلاحیتیں اپنا رنگ دکھانے لگتی ہیں۔ چنانچہ وعظ و نصیحت، ماتم و نوحے کے علاوہ مریضوں کیلئے خون کے عطیات، سبیل و لنگر کے وسیع انتظامات، فری میڈیکل کیمپس اور امدادِ باہمی جیسی ان گنت فلاحی و رفاہی خدمات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

چہلمِ امام حسین ؑ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ سیاست اور معاشرے کی روح معنویت ہے۔ خانہ کعبہ میں جب موت آپ کے سر پر کھڑی تھی، پھر بھی آپ نے لوگوں کی اصلاح کو نظر انداز نہیں کیا۔ اُس عالم میں بھی آپ نے لوگوں کی ہدایت کی اور روحانیت و معنویت سے بھرپور ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ سیاسی و سماجی میدان اور جہاد میں خدا کی طرف توجہ اور اس کی یاد بہت ضروری ہے۔ معنویات کو نظر انداز کرنا اسلام اور مسلمان کی حقیقی موت ہے۔ چنانچہ تاریخ میں یہ ذکر ہے کہ عاشورہ کی رات بھی خیام حسینیؑ میں عبادتِ خدا اور تلاوت قرآن جاری رہی۔ جب دشمن نے شبِ عاشور کی شام کو جنگ کرنا چاہی تو امام حسین (ع) نے قمر بنی ہاشم سے کہا کہ خدا جانتا ہے کہ میں نماز پڑھنے، قرآن کی تلاوت کرنے اور خدا سے مناجات و دعا کرنے کو بہت پسند کرتا ہوں۔ امام ؑ کا یہ کام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اپنی اصلاح و روحانیت اور معنویت کو مقدم رکھنا چاہیئے۔

چہلم امام حسینؑ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آپ ایک حوصلہ پرور رہبر ہیں۔ آپ نے جہاں شیاطین ِ وقت کے مقابلے میں انسانوں کو اٹھنے کی جرات دی، وہیں خدا کی طرف پلٹنے والے انسانوں کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ تحریکِ کربلا کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو کبھی بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔ چاہے کوئی بڑے سے بڑا گنہگار ہو، بڑے سے بڑا ظالم ہو، نفس اور شیطان کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہو، جو بھی ہو، وہ حضرت حُر ؓکی طرح اپنے آپ کو معاف کرا سکتا ہے۔ اسی طرح امام عالی مقام نے بڑوں، چھوٹوں، خواتین اور بچوں سب کو ایک مشترکہ ہدف پر متحد کر دیا۔ آپ نے ان سب کی ایسے ہمت بلند کی کہ تیس ہزار کے لشکر نے اُن پر ہر ظلم کیا، لیکن ان میں اختلاف اور دراڑ نہیں ڈال سکا۔ جو ہمت و جرات مقتل میں عباس ؑ نے دکھائی تھی، اسی کا مظاہرہ درباروں میں زینبؑ و سجادؑ نے کیا۔

چہلمِ امام حسینؑ اس بات کا اعلان ہے کہ کربلا کی جنگ ہتھیاروں کو نہیں جانتی، یہ جنگ سرحدوں اور زمینوں تک محدود نہیں ہے، یہ جنگ گھر اور باہر، بھوک اور پیاس، فتح و شکست، شیرینی و تلخی اور فراوانی و تنگدستی کو نہیں جانتی۔ یہ عقائد کی جنگ ہے، یہ ایمان کی لڑائی ہے، یہ طاقت، پیسے، دھونس، جبر اور استبداد کی غلیظ دنیا کے خلاف عقائد کی انقلابی اقدار کی جنگ ہے۔ یہ ایسی جنگ ہے، جو اسلامی عقائد کے تقدس، وقار اور بقاء کی جنگ ہے۔ آپ نے عملاً یہ کر دکھایا ہے کہ خدا کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔ جو لوگ خدا کی خاطر قیام کرتے ہیں، وہ میدانِ جنگ میں حواس باختہ نہیں ہوتے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عین جنگ میں بھی امام عالی مقام اور ان کے ساتھی اپنے اعصاب پر مسلط تھے اور نظم و ضبط کے ساتھ معرکہ آرائی کرتے رہے۔

آپ کی شہادت سے یہ درس ملتا ہے کہ جو خدا پر توکل کرتا ہے، چاہے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں، اُسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ آپ نے سارے زمانے کو دکھا دیا ہے کہ جو خدا کی راہ میں سر خم کر دے، اس کا سر کاٹا تو جا سکتا ہے لیکن جھکایا نہیں جا سکتا۔ آپ کے خطبات و فرمودات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انسان کی سعادت و شقاوت ایک اختیاری امر ہے، جو چاہتا ہے وہ اپنے ارادے و اختیار کے ساتھ سعادت یا شقاوت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ آپ کے شوقِ شہادت سے واقعتاً یہ محسوس ہوتا ہے کہ حیات بعد از موت ایک سچائی ہے اور شہادت سب سے بڑی سعادت ہے۔ آپ کی شہادت سراسر ایمان کی حقانیت کو ثابت کرتی ہے۔ میدانِ کربلا سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کوئی نسل پرستی نہیں ہے۔ جو خدا پر ایمان لایا اور اس کی راہ میں شہید ہوا، وہ عربی ہو یا عجمی، رومی ہو یا ایرانی، حبشی ہو یا قریشی، اس کے مقام و مرتبے کو کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا۔ جو لوگ اپنا تن من دھن سب کچھ راہِ خدا میں قربان کر دیتے ہیں، خدا اپنی بارگاہ سے ان کے نام، مشن اور قربانیوں کو زندہ رکھنے کا بندوبست کر دیتا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

چہلمِ امام حسینؑ منانے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اسیرانِ کربلا اور شہدائے کربلا ؑنے ظلم کے خلاف بغاوت کو دینی فریضے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے ہمیں ظالموں اور شیطانوں کے خلاف خاموش نہ رہنے کی تعلیم دی ہے اور ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اگر ہم ظالموں کے ہاتھ کاٹنے کے قابل نہیں ہیں تو کم از کم انہیں کسی نہ کسی طرح رسوا تو کریں۔ آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ امام حسینؑ جیسی شخصیت اگر مسلمانوں کے علاوہ کسی اور ملت کے پاس ہوتی تو وہ ملت اس شخصیت سے استفادہ کرکے ساری دنیا کو اپنے اندر جذب کر لیتی، لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے ایسا کبھی سوچا بھی نہیں۔ آئیے اس مرتبہ چہلم امام حسینؑ کے موقع پر ہم کچھ ایسا کرنے کا سوچتے ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply