المیہ۔۔اقتدار جاوید

بے سروپا تبصرے اور طرح طرح کی درفنطنیاں۔ کیا کیا نہیں کہا جا رہا کہ اب افغانستان دوسرا پاکستان بننے جا رہا ہے۔ جیسی بدامنی اور دھماکوں کا کام طالبان پاکستان میں کرتے تھے‘ اب دولت اسلامیہ خراسان یعنی داعش افغانستان میں کرنے جا رہی ہے۔ جیسے ڈرون حملے ہمارے ملک عزیز میں امریکا بہادر طالبان کے ٹھکانوں پر کرتا تھا اور پاکستان ایک احتجاجی بیان جاری کر دیتا تھا اب اسی تنخواہ پر طالبان کام کریں گے مگر ایک آدھ کارروائی کے بعد دولت اسلامیہ خراسان کے محاذ پر مکمل خاموشی ہے۔ پاکستان میں ڈرون حملے 2004ء میں شروع ہوئے اور 2018ء تک ہوتے رہے۔ یہ سب ایک تلخ باب ہے‘ اب وہی کچھ افغانستان میں ہونے جا رہا ہے مگر مجھے اس فکر مندی سے زیادہ ان بچوں کی فکر ہے جو اب اس جنگ میں بھوک کا شکار ہیں اور روز بروز لمحہ بہ لمحہ قحط کے نزدیک ہوتے جا رہے ہیں۔
قسمت کے مارے اپنے پڑوسی ہمسایہ ملک افغانستان سے ایسی خبریں آرہی ہیں کہ دل بیٹھ بیٹھ جاتا ہے۔ افغانستان کی کل آبادی تین کروڑ اسّی لاکھ ہے جس میں سے آدھی آبادی اٹھارہ اور اس سے کم عمر کے بچوں پر مشتمل ہے۔ ان کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ صرف پچھلے دس سالوں میں وہاں ستائیس لاکھ لوگ حالات کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتِ حال کی وجہ سے ملک چھوڑ چکے ہیں۔ جس ڈنکی روٹ کی بار بار اس کالم میں دہائی دی جاتی ہے‘ اس روٹ کے مسافروں میں افغان بچے بھی شامل ہوتے ہیں جو اپنا ملک چھوڑ کر یہاں آ بسے۔ وہ ادھر بھی بے آسرا دن کاٹ رہے تھے اور یہاں بھی ان کی وہی حالت ہے۔ یہ درست ہے کہ بہت سارے مالدار افغان یہاں بڑے بڑے شہروں میں اپنا بزنس کر رہے ہیں مگر افغان غربا کی کثیر تعداد تیسرے درجے کی دہاڑی دار ہے۔ ہمارے شہروں میں مقیم ان میں بہت سارے پاکستان سے اس ڈنکی روٹ پر نکلتے ہیں۔ کچھ وہاں سے ہی ایران اور ترکی کی جانب خطرناک سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی کاغذ‘ کوئی دستاویز تک نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ زدہ ملک سے اس سفر پر جانے والے خاندان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں۔ چونکہ ملک میں ان کے خاندان جنگ کی وجہ سے ایک غیر محفوظ علاقے سے کسی محفوظ علاقے کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ ایسے بچے پھر ہمیشہ کے لیے انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ مغربی سرحد کے پار کیا ہورہا تھا‘ یہ سوچنے کا وقت گزر گیا۔افغانستان کے ساتھ ہماری اڑھائی ہزار لمبی سرحدی پٹی پر باڑ لگ گئی کہ نہیں؟ اس کی سکیورٹی کے کیا مسائل ہیں؟ اب وہاں کس کی حکومت ہو گی؟ کیا یہ کثیر القومی حکومت ہو گی اور تاجک، ہزارہ اور پرچمی اس میں شامل ہوں گے کہ نہیں؟ وزیراعظم عمران خان نے ‘ایبسلوٹلی ناٹ‘ کیوں کہا تھا‘ اس کے پیچھے کیا حکمت تھی؟ مجھے ان سب باتوں سے کوئی غرض نہیں۔ میرا مسئلہ انسانی ہے‘ خالص انسانی۔ اس میں میرے لیے کسی تاجک، کسی پشتون اور کسی ہزارہ کے بچے میں کوئی فرق نہیں۔ میرے لیے سارے ایک سے ہیں۔ مجھے سب سے محبت ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ‘کہسار باقی افغان باقی‘ ان سے کچھ لینا دینا نہیں۔ میں تو عالمی دہائیوں کو سن رہا ہوں کہ اس غریب ملک میں بھوک سے بچے مر رہے ہیں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد خوراک کی شدید قلت کا شکار ہونے والی ہے۔یہی حال یمن، نائیجیریا اور جنوبی سوڈان کا ہے۔ وہاں بچے ماں کے سامنے بھوک سے بلک بلک کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ یہ سب صرف مسلم ممالک کے بچوں کے ساتھ ہی ہو رہا ہے۔
امریکا کی کانگریس نے ایک ایجنسی افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے بنائی تھی اس کی رپورٹ‘ جو ”سبق جو یاد رہیں گے‘‘ کے عنوان تلے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوئی ہے‘ کے مطابق ایک پروجیکٹ میں یہ سروے کیا گیا ہے کہ افغان پولیس اور فوج نے اپنی ہی ساٹھ ہزار سول آبادی کو ہلاکت کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ رپورٹ خفیہ رکھی گئی تھی۔ اپنی فوج‘ اپنی پولیس ہی جب اپنے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیں تو وہی ہوتا ہے جو چند دن قبل کابل ایئر پورٹ پر ہوتا رہا۔ جہازوں میں مسافر ٹھنسے ہوئے تھے‘ وہ وہاں سے نکلنا چاہتے تھے۔ میرا مسئلہ انسانی مسئلہ ہے۔ رپورٹ ہے کہ چند دنوں میں وہاں دس لاکھ بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔افغانستان میں ہر تیسرا آدمی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتا، مکمل نیند نہیں لیتا۔ فنانشل ٹائمز نے تو خبردار کیا ہے کہ ستمبر کے اواخر تک حالات غیر معمولی ہو جائیں گے اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی حالت اور خراب ہے۔ بیس لاکھ کے قریب بچے ایسے ہیں جو بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔ نہ انہیں صحت کی سہولتیں میسر ہیں اور نہ مناسب خوارک۔ اس دفعہ بہت کم فصل کی توقع کی جا رہی ہے اور ان چار سالوں میں دوسری بار قحط کا خدشہ ہے۔ وہاں ایسی صورتِ حال ہے کہ وہاں کاشت اور پیدا ہونے والی فصلیں انتہائی قلیل ہیں اور لوگوں کا بنیادی ذریعۂ خوراک امداد ہے۔ دنیا کے ایک سو اٹھاسی ممالک میں سماجی حالت میں اس ملک کا ایک سو اڑسٹھواں نمبر ہے۔ وہاں خوراک کی یہ صورتِ حال ہے کہ کئی لاکھوں گھروں میں کھانے کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا تک نہیں ہے۔ ان کو اور ان کے بچوں کو تین تین دن تک صرف چائے پر اور قہوے پانی پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ مائیں ساری ساری رات جاگ کر اور رو رو کر وقت کاٹ رہی ہیں کہ گھر میں ایسا کچھ نہیں کہ جو وہ اپنے بھوکے بچوں کو کھلا سکیں۔ وہاں ایسے بھی واقعات سامنے آئے ہیں کہ بچوں کے سامنے خالی پانی بھری ہانڈی کے نیچے لکڑیاں جلا کر تسلی دی جاتی ہے کہ ان کے والد ان کے لیے کچھ کھانے کے لیے لا رہے ہیں تا کہ ان کے بچے سو جائیں۔ بچوں کو کھلانے کے لیے چائے‘ پانی‘ بسکٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
”گوٹس اینڈ سوڈا‘‘ ایک بلاگ ہے‘ جو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے کوشاں ہے کہ ہم سارے انسان اور بھائی بھائی ہیں۔یہ بلاگ ایسی انسانی کہانیاں بیان کرتا ہے جو ان کے کارکنوں نے خود مشاہدہ کی ہیں۔ ان کی ایک ٹیم افغانستان میں بھی موجود ہے جو بھوک سے مارے خاندانوں اور ان کے بچوں کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کرتی ہے۔ ان کا ہی کہنا ہے کہ افغان بچوں میں پائی جانے والی بھوک اور قحط میں ایک باریک سی لائن رہ گئی ہے۔ کسی وقت بھی یہ المیہ جنم لے سکتا ہے۔ گوٹس اینڈ سوڈا کا نام بھی بہت معنی خیز ہے۔ ایک کارکن‘ جو قحط اور بھوک سے مارے ہوئوں کے لیے مالی میں تھا‘ نے بکریوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ دیکھا‘ اسے سخت پیاس لگی تھی‘ کہیں دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی، کوئی ذی روح نہیں تھا جس سے وہ پانی کا ایک گلاس طلب کر کے اپنی پیاس بجھا سکتا۔ اس ویرانے کے عین وسط میں اسے ایک شاپ نظر آئی جہاں ایک عورت کام کر رہی تھی۔ کسی نہ کسی طریقے سے اس نے ریفریجریٹر کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا۔ وہیں اس نے سوڈا کی بوتل طلب کی یوں اس نے پیاس بجھائی۔ اسی نے اس واقعہ کے بعد اس بلاگ کا یہ نام رکھا۔ یہ ٹیم افغانستان میں بھی بچوں کو کھانے اور صحت کی سہولتیں مہیا کرنے پر اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔ کہاں ایک چھوٹی سی ٹیم اور کہاں اس ملک کے بیس لاکھ بھوک کے مارے بچے‘ جن کی عمریں دو اور اٹھارہ سال کے درمیان ہیں۔ پہلے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوے نابالغ بچے جنگ کا ایندھن بنتے رہے‘ اب کسی طرح بڑی طاقتوں نے وہاں نکلنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو ان بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی پوری کوشش میں ہیں۔ سرکاری سطح پر انہیں اس المیے کا اندازہ ہے پھر بھی اس ملک کے نو ارب ڈالر کے زر ِ مبادلہ کے ذخائر تک منجمد کر دیے ہیں۔ تمام دنیا بچوں کو اس بھوک سے بچانے کے لیے صرف دو سو ملین ڈالر کی اپیل کر رہی ہے تا کہ روٹی کا ایک لقمہ ہی ان تک پہنچ سکے۔ دو سو ملین کی رقم اس تراسی ارب ڈالر کے مقابلے کتنی چھوٹی اور حقیر ہے جو امریکا نے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور فوج کی ٹریننگ پر صرف کی۔ افغانستان میں دس لاکھ بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ دس لاکھ بچوں کی موت‘ قحط اور بھوک سے موت۔ جسے سب سے بھیانک موت قرار دیا گیا ہے۔ یہ المیہ کسی وقت بھی جنم لے سکتا ہے‘ کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے پاس دال، نمک اور آٹے کا انتظام بھی صرف پانچ لاکھ لوگوں کے لیے ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply