• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ٹونٹی گرینڈ سلیمز کی برابری پر BIG 3 کو خراج تحسین(1)۔۔احمد خلیق

ٹونٹی گرینڈ سلیمز کی برابری پر BIG 3 کو خراج تحسین(1)۔۔احمد خلیق

اس سفر پر ایک نظر، انفرادی و اجتماعی کارکردگی اور مابین مقابلوں کا ایک جائزہ

11 جولائی 2021ء کو لندن کے ویمبلے اسٹیڈیم میں رات گئے اٹلی نے پینلٹی شوٹ آؤٹ پر انگلستان کو یورو کپ فائنل میں شکست سے دوچار کیا۔ ساری دنیا کی نظریں اس مقابلے پر تھیں۔ مگر اس سے کچھ پہلے لندن میں ہی اٹلی کے نمبر دس سیڈ ماریو بیریٹنی عالمی نمبر 1 سربیا کے نوواک جوکووچ کو ومبلڈن کے سینٹر کورٹ پر مات نہیں دے سکے اور یوں جوکوچ نے چھٹا ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس طرح وہ راجر فیڈرر (8) اور پیٹ سیمپراس (7) کے بعد تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں جنھوں نے سب سے زیادہ ومبڈن ٹائٹلز اپنے نام کر رکھے ہیں۔ مگر اہم خبر یہ نہیں تھی، اہم خبر یہ تھی کہ اس جیت کے ساتھ ہی جوکووچ مردوں کی گرینڈ سلیمز دوڑ میں اپنے دو سب سے بڑے حریفوں سوئزلینڈ کے راجر فیڈرر اور اسپین کے رافیل نڈال نڈال کے ہم پلہ ہو گئے ہیں۔ اس وقت تینوں عظیم کھلاڑی 20 گرینڈ سلیمز پر کھڑے ہیں۔

tripako tours pakistan

2002ء یو ایس اوپن میں پیٹ سیمپراس نے آندر آگاسی کو ہرا کر چودھواں گرینڈ سلیم ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ اس وقت مردوں میں اس سے زیادہ کسی کے بھی ٹائٹل نہیں تھے۔ مگر کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ اگلے انیس سالوں میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین تین کھلاڑی یہ ریکارڈ توڑ کر آگے نکل چکے ہوں گے اور ایک موقع آئے گا کہ جب وہ تینوں بیس بیس گرینڈ سلیمز کے انفرادی طور پر مالک ہوں گے۔ اس وقت ایسا سوچنا محال تھا مگر آج ہم اسے حقیقت کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ خواتین کے حوالے سے ٹینس میں قدرے زوال ہے مگر مردوں کے لحاظ سے یہ ٹینس کی تاریخ کا سنہری ترین دور ہے جس کی نظیر مستقبل قریب میں ملنا قریب قریب ناممکن ہے۔ شاید اگلے پچاس سو برسوں میں ہم ایسا عروج دوباری دیکھ سکیں لیکن فی الحال جب یہ تینوں کھلاڑی اپنے کیریئر کے آخری سالوں میں ہیں ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔

ان تینوں کھلاڑیوں یعنی فیڈرر، نڈال اور جوکووچ کی تکون کو عرف عام میں ٹینس کے حلقوں میں ‘بگ 3’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آئیے ان تین بڑوں کے گرینڈ سلیم کے سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔۔۔

گرینڈ سلیمز کا سفر

2003ء:

2003ء ومبلڈن فائنل میں 22 سالہ راجر فیڈرر نے مارک فلپوسس کو شکست دے کر پہلا گرینڈ سلیم اپنے نام کیا اور اس طرح 20 گرینڈ سلیمز کی جانب سفر کا آغاز ہوا۔

راجر فیڈرر —- 1

2004ء:

اگلے سال فیڈرر نے آسٹریلین اوپن، ومبلڈن اور یو ایس اوپن جیت کر اس سفر کو تیزی سے آگے بڑھایا اور تعداد کو چار تک لے گئے۔

فیڈرر —- 4

2005ء

اس سے اگلے سال فیڈرر نے اپنے ومبلڈن اور یو ایس اوپن ٹائٹلز کا کامیابی سے دفاع کیا۔ لیکن ساتھ ہی اس تکون کا دوسرا کھلاڑی رافیل نڈال بھی شامل ہو گیا جس نے فرنچ اوپن جیت کر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ 19 سالہ نڈال نے فائنل میں میری آنو پیورٹا کو ہرایا۔

فیڈرر —- 6، نڈال —- 1

2006ء

2006ء میں دو سال پہلے کی تاریخ دہرائی گئی اور فیڈرر نے فرنچ اوپن کے علاوہ تینوں گرینڈ سلیمز اپنے نام کیے جبکہ نڈال نے کلے کورٹ پر اپنا سکہ جمانا شروع کر دیا اور دوسرا فرنچ اوپن جیت لیا۔

فیڈرر —- 9، نڈال —- 2

2007ء

2007ء بھی پچھلے سال سے مختلف نہیں رہا اور اس طرح فیڈرر نے تین جبکہ نڈال نے ایک گرینڈ سلیم میں فتح حاصل کی۔

فیڈرر — 12، نڈال —- 3

2008ء

2008ء کا آغاز 23 سالہ نوواک جوکووچ کی آمد سے ہوتا ہے اور وہ آسٹریلین اوپن کے فائنل میں جوولفریڈ سونگا کو شکست دے کر اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔ فرنچ اوپن تیسرے سال نڈال کے نام رہا جبکہ ومبلڈن میں میں نڈال نے فیڈرر کو تاریخ کے ایک عظیم ترین مقابلے میں شکست دے کر پہلا ومبلڈن جیت لیا، مگر آخر میں فیڈرر نے یو ایس اوپن جیت کر خالی ہاتھ رہنے سے اپنے آپ کو بچا لیا۔

فیڈرر — 13، نڈال — 5، جوکووچ — 1

2009ء

2009ء کا آغاز بھی زبردست انداز میں ہوا اور نڈال نے آسٹریلین اوپن فائنل میں فیڈرر کو پانچ سیٹس میں شکست دے کر پہلا ہارڈ کورٹ گرینڈ سلیم اپنے نام کیا، مگر فرنچ اوپن میں وہ اپنے ناقابل تسخیر قلعے کو شگاف سے نہیں بچا سکا اور چوتھے راؤنڈ میں روبن سوڈرلنگ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو گیا۔ اس شکست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فیڈرر نے پہلا فرنچ اوپن جیت لیا اور آگے بڑھتے ہوئے ومبلڈن بھی اپنے نام کر لیا اور یوں وہ پیٹ سیمپراس کا 14 گرینڈ سلیمز کا ریکارڈ توڑ کر آگے نکل گیا۔ فیڈرر نے سال کا اختتام پانچویں دفعہ نمبر 1 کھلاڑی کے طور پر کیا۔

فیڈرر — 15، نڈال — 6، جوکووچ 1

2010ء

2010ء کا آغاز فیڈرر نے آسٹریلین اوپن جیت کر کیا مگر یہ سال نڈال کا تھا اور اس نے یکے بعد دیگرے تین گرینڈ سلیمز جیت کر اپنا لوہا منوا لیا اور کیرئیر گرینڈ سلمیز کا حقدار بن گیا (نوٹ: کیریئر گرینڈ سلیم ونر وہ کھلاڑی ہوتا ہے جس نے چاروں گرینڈ سلیمز کم از کم ایک دفعہ جیت رکھے ہوں)۔

فیڈرر — 16، نڈال — 9، جوکووچ — 1

2011ء

یہ سال جوکووچ کے نام رہتا ہے اور وہ تین گرینڈ سلیمز آسٹریلین اوپن، ومبلڈن اور یو ایس اوپن جیت کر گرینڈ سلیمز کی دوڑ میں وہ اپنے دونوں حریفوں کے پیچھے تیزی سے لپکتا ہے۔ نڈال کے ہاتھ پسندیدہ فرنچ اوپن آتا ہے جبکہ 2003 کے بعد فیڈرر پہلی دفعہ خالی ہاتھ رہتا ہے۔

فیڈرر — 16، نڈال — 10، جوکووچ — 4

2012ء

2012ء کے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں نڈال اور جوکووچ کے درمیان تاریخ کا طویل ترین گرینڈ سلیم فائنل کھیلا جاتا ہے جو پانچ گھنٹے اور چون منٹ تک جاری رہتا ہے۔ آخر میں جوکووچ فتح یاب رہتا ہے۔ نڈال فرنچ اوپن میں اپنی برتری برقرار رکھتا ہے جبکہ فیڈرر ومبلڈن میں اپنے قدم جمائے رکھتا ہے اور ریکارڈ کو آگے بڑھاتے ہوئے ستارہواں گرینڈ سلیم جھولی میں ڈالتا ہے۔

فیڈرر — 17، نڈال — 11، جوکووچ — 5

2013ء

جوکووچ تیسرے سال لگاتار آسٹریلین اوپن جیتتا ہے۔ فیڈرر کمر کے درد کی وجہ اس سال ایکشن میں کم نظر آتا ہے جبکہ نڈال فرنچ اوپن کے ساتھ  دوسرا یو ایس اوپن جیت کر سال کا ختتام نمبر 1 سیڈ کے طور پر کرتا ہے۔

فیڈرر — 17، نڈال — 13، جوکووچ — 6

2014ء

2014ء کے فرنچ اوپن فائنل میں نڈال جوکووچ کو شکسٹ دے کر سیمپراس کے برابر آ جاتا ہے، جبکہ ومبلڈن میں جوکووچ فیڈرر کو شکست سے دوچار کر کے اپنے سفر کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔

فیڈرر — 17، نڈال 14، جوکووچ — 7

2015ء

یہ سال ایک دفعہ پھر جوکووچ کے نام رہتا ہے جو چاروں گرینڈ سلیمز کے فائنل میں پہنچتا ہے اور ان میں سے تین اپنے نام کرتا ہے۔ فرنچ اوپن میں جوکووچ وہ دوسرا بندہ بنتا ہے جس نے نڈال کو زیر کیا۔ یہ کارنامہ وہ کوارتڑ فائنل میں سرانجام دیتا ہے، مگر بدقسمتی سے فائنل میں وہ سوئزلینڈ کے وارنکا سے ہار جاتا ہے۔

فیڈرر — 17، نڈال — 14، جوکووچ — 10

2016ء

اس سال زخمی ہونے کے باعث فیڈرر اور نڈال زیادہ ایکشن میں نظر نہیں آتے اور متعدد گرینڈ سلیمز سے باہر رہتے ہیں۔ نڈال اپنا پسندیدہ فرنچ اوپن نہیں کھیلتا جبکہ فیڈرر فرنچ اوپن کے ساتھ ساتھ یو ایس اوپن سے بھی باہر رہتا ہے۔ اس سب سے جوکووچ فائدہ اٹھاتا ہے اورآسٹریلین اوپن کے ساتھ پہلا فرنچ اوپن جیت کر کیریئر گرینڈ سلیم کا حقدار بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہی وقت میں چاروں گرینڈ سلمیز جیتنے کی بنا پر ایک نئی اصطلاح “نول سلیم” بھی وجود میں  آتی ہے۔ (نوٹ: جوکووچ کو عرفی طور پر “نول” کہا جاتا ہے)

فیڈرر — 17، نڈال — 14، جوکووچ — 12

2017ء

کئی سالوں کے بعد فیڈرر اور نڈال فارم میں واپس آتے ہیں اور اس سال دو دو گرینڈ سلیمز جیتتے ہیں۔ ومبلڈن 2012ء کے بعد فیڈرر پہلا گرینڈ سلیم آسٹریلین اوپن کی صورت میں اپنے نام کرتا ہے۔ فائنل میں وہ نڈال کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پانچویں سیٹ میں شکست سے دوچار کرتا ہے۔ نڈال فرنچ اوپن کے ساتھ ساتھ تیسرا یو ایس اوپن اپنے نام کرتا ہے جبکہ فیڈرر ریکارڈ آٹھواں ومبلڈن جیت کر تاریخ میں اپنا نام امر کر لیتا ہے۔ یہ سال جوکووچ کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوتا اور وہ ومبلڈن کے کوارٹر فائنل میں زخمی ہونے کے باعث باہر ہو جاتا ہے اور باقی سال ایکشن میں نظر نہیں آتا۔

فیڈرر — 19، نڈال — 16، جوکووچ — 12

2018ء

سال کا آغاز فیڈرر کی فتح سے ہوا اور وہ چھٹا آسٹریلین اوپن جیتنے میں کامیاب ہوا۔ اس طرح وہ پہلا مرد کھلاڑی بن گیا جس نے بیس گرینڈ سلیمز جیت رکھے ہیں (فیڈرر سے زیادہ صرف خواتین میں سے مارگریٹ کورٹ 24، سرینا ولیمز 23 اور سٹیفی گراف 22 نے گرینڈ سلیمز جیت رکھے تھے)۔ فرنچ اوپن میں نڈال ایک بار پھر فتح یاب رہا، اور جوکووچ نے پچھلا سال اور سال کا پہلا نصف زخمی رہنے کے بعد بھرپور واپسی کی اور ومبلڈن اور یو ایس اوپن دونوں اپنے نام کیے، اور اس طرح وہ بھی سیمپراس کے چودہ گرینڈ سلیمز کے برابر ہو گیا اور اس سے آگے صرف فیڈرر اور نڈال رہ گئے۔

فیڈرر — 20، نڈال — 17، جوکووچ — 14

2019ء

آسٹریلین اوپن میں جوکووچ نے نڈال کو آسانی سے اسٹریٹ سیٹس میں زیر کیا اور یوں ریکارڈ ساتواں ٹائٹل اپنے نام کیا۔ فرنچ اوپن میں نڈال نے کامیابی سے اپنے قلعے کا دفاع کیا تو دوسری طرف فیڈرر اپنے قلعے کو بچانے میں ناکام رہا اور ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ومبلڈن میں جوکووچ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا۔ مقابلے کے دوران فیڈرر کو دو چیمپیئن شپس پوائنٹس ملے لیکن جوکووچ نے دونوں ناکام بنائے اور آخرکار فتح کو اپنی جھولی میں ڈالا۔ سال کے آخری گرینڈ سلیم میں نڈال نے روس کے ڈینیئل میڈویڈو کو پانچ سیٹس میں ہرایا اور اس طرح وہ فیڈرر کے بیس گرینڈ سلیمز سے ایک ٹائٹل کی دوری پر رہ گیا۔

فیڈرر — 20، نڈال — 19، جوکووچ — 16

2020ء

آسٹریلین اوپن اس بار بھی جوکووچ کے نام رہا۔ کورونا کی وجہ سے ومبلڈن منسوخ کر دیا گیا۔ فیڈرر انجری کے باعث اور نڈال کورونا کی وجہ سے یو ایس اوپن میں شریک نہ ہوئے۔ جوکووچ کے پاس فاصلہ کم کرنے کے اچھا موقع تھا مگر چوتھے راؤنڈ میں وہ اپنی ایک غلطی کے باعث ٹورنامنٹ سے نکال دیا گیا۔ فرنچ اوپن اپنے مقررہ وقت یعنی مئی جون کی بجائے ستمبر اکتوبر میں ہوا اور فائنل میں نڈال نے جوکووچ کو ایک بدترین شکست کا مزا چکھایا اور اس طرح پچھلے سال کی آسٹریلین اوپن کی یکطرفہ ہار کا کچھ بدلہ چکا دیا۔ اس جیت کے ساتھ نڈال فیڈرر کے بیس گرینڈ سلمیز ریکارڈ کے برابر آ گیا۔

فیڈرر — 20، نڈال — 20، جوکووچ — 17

2021ء

موجودہ سال بھی جوکووچ کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث لیے ہوئے ہے کہ وہ سال کے پہلے تینوں گرینڈ سلیمز جیت چکا ہے۔ فرنچ اوپن میں اس نے نڈال کو سیمی فائنل میں شکست دی اور اس طرح پہلا کھلاڑی بن گیا جس نے نڈال کو فرنچ اوپن میں دو دفعہ زیر کیا ہے۔ ومبلڈن کی جیت کے ساتھ ہی جوکووچ بھی اپنے دو حریفوں فیڈرر اور نڈال کے ساتھ 20 گرینڈ سلمیز پر براجمان ہو گیا ہے۔

 

انفرادی کارکردگی

ان “تین بڑوں” نے اپنے اپنے انفرادی کھیل کے باعث ٹینس کا شاید ہی کوئی ریکارڈ ہو جو چھوڑ رکھا ہو۔ جو ایک دو ابھی ان کی پہنچ سے دور ہیں وہ بھی جلد یا بدیر ان میں سے کوئی ایک توڑنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ آئیے اب کچھ نظر ان تینوں کے تعارف، انفرادی کارکردگی اور ریکارڈز پر ڈالتے ہیں۔

راجر فیڈرر

وطن: سوئزلینڈ

عمر: 39 سال

ورلڈ رینکنگ: 8

کیریئر ٹائٹلز: 103

گرینڈ سلیمز: 20 (6 آسٹریلین اوپن، 1 فرنچ اوپن، 8 ومبلڈن، 5 یو ایس اوپن)

بڑے ٹائٹلز: 54 (20 گرینڈ سلیمز، 6 اے ٹی پی فائنلز، 28 اے ٹی پی ماسٹرز 1000)

پیشہ وارانہ انعامی رقم: 130 ملین ڈالرز

مجموعی کمائی(انعامی رقم اور اشتہارات): 1 بلین ڈالرز

Advertisements
merkit.pk
  • 8 ومبلڈن ٹائٹلز۔۔۔ مردوں میں سب سے زیادہ ومبلڈن جیتنے کا اعزاز فیڈرر کے پاس ہے۔ اس سے زیادہ صرف خواتین میں سے مارٹینا ناوراتیلووا نے 9 جیت رکھے ہیں۔
  • اسی طرح کسی بھی گرینڈ سلیم میں سب سے زیادہ مقابلے جیتنے کا اعزاز بھی فیڈرر کے پاس ہے۔ اس نے ومبلڈن کے 051 مقابلے جیت رکھے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فیڈرر واحد کھلاڑی ہے جس نے دو گرینڈ سلمیز میں 100 سے زائد مقابلے جیت رکھے ہیں۔ آسٹریلین اوپن میں جیت کی تعداد 102 ہے۔
  • 6 اے ٹی پی فائنلز: سال کے اختتام پر ہونے والا ٹورنامنٹ جسے اے ٹی پی فائنلز کہا جاتا ہے بھی فیڈرر نے چھے دفعہ جیت رکھا ہے، اس سے زیادہ کوئی بھی یہاں فتح یاب نہیں رہا۔
  • لگاتار 237 ہفتے تک نمبر 1 رینکنگ: گو جوکووچ سب سے زیادہ ہفتوں تک نمبر 1 رہنے پر فیڈرر کو پیچھے چھوڑ چکا ہے مگر لگاتار سب سے زیادہ ہفتوں تک نمبر 1 رینکنگ پر رہنے کا اعزاز ابھی تک راجر فیڈرر کے پاس ہے جو اس نے فروری 2004ء سے لے کر اگست 2008ء تک قائم کیا۔

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply