سید علی گیلانی-ہمارے اباجی (5)۔۔افتخار گیلانی

ان کی کتاب روداد قفس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بار کلدیپ نیر نے کہا کہ یہ اردو ادب کی بدقسمتی ہے کہ یہ شخص سیاستدان بن گیا۔ کاش ان کی تقریروں کے ریکارڈ محفوظ کئے جاسکتے۔ سوپور کالج میں پڑھائی کے دورا ن ہم ایک بار جنوبی کشمیر کے مقام پہلگام پکنک منانے گئے تھے۔ پہلگام قصبہ سے آرو پہاڑ پر چڑھائی کے دوران جنگل میں ایک کوٹھا نظر آیا، جہاں ایک گوجر فیملی چائے اور بسکٹ سرو کر رہی تھی۔ ہمارے رکنے کی وجہ تھی کہ وہاں ٹیپ ریکارڈ پر گیلانی صاحب کی تقریر لوگ سن رہے تھے۔ جب ہم نے تعارف کرکے بتایا کہ ہمارا گرو پ سوپور سے آیا ہے، تو انہوں نے چائے، بسکٹ کے پیسے لینے سے منع کردیا۔ انتہا پسند ہونے کے ساتھ ساتھ ا نہیں غیر مسلم اقلیت کا مخالف بھی مشہور کیا جاتا ہے۔ 1972سے 1983تک سوپور میں ٹائون ایریا کمیٹی کا چیئرمین ایک کشمیر ی پنڈت اوتار کشن گنجو تھا۔ جب نیشنل کانفرنس کے اراکین نے ایک بار ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی، تو گیلانی صاحب کی ایماء پر جماعت اسلامی سے وابستہ وارڈ ممبران نے انکو عہدہ پر برقرار رہنے میں مدد کی۔ ہاں وہ کشمیری پنڈتوں کو علیحدہ کالونیوں میں بسانے کے مخالف تھے۔ سنجے صراف کی معیت میں انہوں نے کولگام میں دیسو کے مقام پر کشمیری پنڈتوں کی بستی میں جاکر انکو بتایا کہ انکو پڑوسیوں کی طرف سے کسی خوف و ہراس کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اور انکی جدوجہد فوجی قبضے کے خلاف ہے اور یہ کوئی فرقہ پرستانہ جدوجہد نہیں ہے۔ دہلی میں حریت کے دفتر کے قیام سے قبل وہ شہید مقبول بٹ کے وکیل رہے ،رمیش چندر پاٹھک کے گھر پر ہی ٹھہرتے تھے۔ ان کی اہلیہ نے ان کو اور شبیر احمد شاہ کو اپنا بھائی بنایا لیا تھااوروہ کسی بھی جیل میں ہوں ہندوئوں کے تہوار رکھشا بندھن کے روز وہ ملنے چلی جاتی تھی۔1998میںپاٹھک کی اچانک موت نے انکے خاندان کو بکھرا کر رکھ دیا تھا، کیونکہ انکے تینوں بچے ابھی اسکول میں ہی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ یہ تو مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے اور شبیر احمد شاہ نے ہی ان کی فیملی کو سہارا دیا۔بیٹی وسندھرا پاٹھک اب ایک نامور وکیل ہے۔ اسی طرح دہلی میں میرے گھرسے ذرا دوری پر جس دو کمرے کے فلیٹ میں وہ سردیوں میں رہنے آتے تھے، اس کے اوپر ایک کشمیری پنڈت فیملی رہتی ہے، جن کے ساتھ ان کا گھر جیسا تعلق تھا۔ خاص طور پر ان کے بچوں کو ان سے بڑی انسیت تھی وہ بھی سرینگر سے ان کیلئے کوئی نہ کوئی چیز بھیجتے ریتے تھے۔ ان کا علاج بھی ایک کشمیر پنڈت ڈاکٹر سمیر کول کرتے تھے، جو اکثر ان کے پاس آتے تھے۔ 2003میں رانچی جیل میں جب ان کے گردوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، تو اس اسپتال کے چارو ں طرف سیکورٹی کا حصار بنایا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ ایک خطرناک دہشت گرد کو علاج کیلئے لایا جا رہا تھا۔ انہی دنوں میں ممبئی پریس کلب کے ایک پروگرام میں شرکت کرنے کیلئے ممبئی آیا ہوا تھا۔ ایک کرسچن نرس نے ان کو بتایا کہ آپ تو دہشت گرد نہیں لگتے ہیں۔ آپ تو بہت نیک شخص ہیں۔ میں آپ کی دوسری دنیا کیلئے فکرمند ہوں۔ آپ عیسائی کیوں نہیں بنتے ہیںاور اسکے بعد ڈھیر سارا لٹریچر ان کو دیتی رہی۔ مسکراتے ہوئے وہ وصول کرتے رہے، اور اسکو اسلام کی تعلیمات بھی سمجھاتے رہے۔ دہلی میں ان کے فلیٹ میں ایک صبح دیکھا سفید قمیض اور خاکی نیکروں میں ملبوس ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم آرایس ایس سے وابستہ افراد ان کے ساتھ ہم کلام ہیں۔ میں خاصا ڈر گیا اور اپنی اہلیہ سے بھی کہا کہ تمہارے والد کی وجہ سے ہمارا اس کالونی میں رہنا دوبھر ہو جائیگا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مالویہ نگر کی پارک میں صبح سویرے آرایس ایس شاخ کی ڈرل ہوتی ہے۔ چونکہ تہجد اور فجر کی نماز کے بعد قران کی تلاوت کے بعد وہ ورزش اور پھر پارک میں چہل قدمی کرنے جاتے تھے، ان کی اس گروپ کے ساتھ علیک سلیک ہوئی ہے ۔ وہ ان کیلئے مرکز جماعت اسلامی ہند سے ہندی زبان میں اسلامی لٹریچر لاتے ہیں اور یہ افراد وہی لینے آئے تھے۔ 1986میں وزیر اعلیٰ غلام محمد شاہ کو برطرف کرنے کا بہانہ ڈھونڈنے کیلئے کشمیر میں پہلا فرقہ وارانہ فساد برپا کروایا گیا۔ گیلانی صاحب نے جماعت کے کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے جنوبی کشمیر میں مختلف جگہوں پر ہجوم کو مندروں اور پنڈت علاقوں پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔ ان کے حکم پر سوپور میں ان کے دست راست غلام رسول مہرو اور عبدالمجید ڈار ایک دیوار کی طرح مندر اور پنڈت دکانوں کے باہر کھڑے ہوکر پتھرائوکرنے والوں کو للکار رہے تھے۔ وہ اس سعی میں خود بھی زخمی ہوگئے ۔ اسکا اعتراف اسوقت پولیس ایس ایس پی نے بھی کیا۔ وہ شاید کشمیر کے مزاحمتی اور بھارت نواز خیموں کے واحد لیڈر تھے، جو واقعی اظہار آزادی رائے کے قائل تھے۔ سرینگر میں کام کرنے والا کوئی بھی صحافی یہ شکایت نہیں کرسکتا ہے کہ اس کو کبھی ہراساں کیا گیا ہو، چاہے وہ ان کے خلاف لکھتے ہوں۔ کیونکہ ہر کسی لیڈر نے جب بھی اس کے پاس کمانڈ تھی، کشمیر میں پریس کو ہراساں کیا ہے۔ ایک مزاحمتی لیڈر نے ایک بار ایک ایڈیٹر کو لال چوک میں جاڑوں کے دوران ننگے پیر دوڑایا۔ ایک اور لیڈر کے حامیوں نے ایک ہفتہ روزہ کے دفتر پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی۔یہ معمول کی کارروائیاں ہوتی تھیں۔ دراصل شیخ عبداللہ نے کشمیر میں جس سیاست کی بنیاد ڈالی تھی، و ہ غنڈہ گردی، دھونس اور کسی کو برداشت نہ کرنے کی سیاست تھی۔ سوپور کو انہوں نے بڑی حد تک اس سے پاک کردیاتھا۔ (جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply