• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امیرجان حقانی کے ساتھ ایک فکر انگیز مکالمہ(حصّہ سوم)۔۔۔مرتب ومکالمہ: حافظ محمد فہیم علوی

امیرجان حقانی کے ساتھ ایک فکر انگیز مکالمہ(حصّہ سوم)۔۔۔مرتب ومکالمہ: حافظ محمد فہیم علوی

سوال:  بڑوں کے تفردات اور علمی اختلافات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب:        اکابر اہل علم و قلم کے حوالے سے میرا نقطہ نظر بہت  کلیر اور واضح ہے جس کا پہلے بھی کئی بار اظہار کرچکا ہوں۔
امام مالک رح نے فرمایا تھا کہ:
“کل یوخذ من قولہ و یترک، الا صاحب ھذا القبر صلی اللہ علیہ وسلم”
“ہر شخص کے اقوال میں کچھ قابل قبول اور کچھ ناقابل قبول ہیں۔ اس باب میں رسول اللہ اکلوتا ہے کہ ان کی ہر بات بلاچوں و چراں قابل قبول ہے”۔
اکابر امت کے بارے میں ہمارا یہی رویہ ہونا چاہیے۔ میں پشتینی اور درسی دیوبندی ہوں مگر ان تمام اہل علم کو عزت ومرتبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جنہوں نے دین کی بڑی خدمت کی۔اپنے افکار و تعبیر دین سے ایک دنیا کو متاثر کیا اور جدید ذہن نے ان کو اپیل بھی کیا لیکن ان کے تفردات سامنے آئے اور وہ اہل علم حضرات جو میرے مسلک و عقائد سے اختلاف کرتے تھے یا ہیں۔ان سب کی مجتہدانہ کاوشوں کا دل سے قدردان ہوں۔
اللہ تعالی اندھے مسلکی مجاہدین  و مقلدین اور مخالفین سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔ اس  قسم کے متشدد لوگوں سے امت میں علمی و فکری اور عملی انتشار پھیلتا ہے۔جو بہر صورت قابل مذمت و قابل متروک ہے۔ بڑوں کے تفردات اور علمی اختلافات کو علمی انداز میں لینا چاہیے نہ کہ بغض و عناد اورمسلکی تعصب کا سبب بننے دینا چاہیے۔
یاد رہے!
حرف آخر، اللہ کا کلام اور رسول اللہ کے فرامین ہیں۔ ان کے سوا تمام اہل علم کی عالمانہ اور مجتہدانہ آراء  سے قرآن و حدیث کی روشنی میں احترام و وقار کیساتھ اختلاف کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

tripako tours pakistan

سوال:  کیا آپ کا لکھا ہوا کبھی باعث پریشانی و شرمندگی ہوا ہے؟

جواب:      یہ بہت دلچسپ سوال ہے۔سیاسی رہنماؤں کے ماضی کے بیانات اور اعمال اور آج کی صورت حال دیکھ،کر، ان کی کھسیانی شکل کا جائزہ لےکر اپنی ہر تحریر سے ڈر لگنے لگتا ہے کہ کل کوئی اٹھا کر منہ پر نہ مارے۔اس لیے ضروری ہے کہ جو بھی لکھا جائے صرف سچ و حق ہو۔ سچ کے ساتھ اس کا لکھنا ضروری اور اہم بھی ہو۔صرف سچ و حق اور ضروری و اہم ہونا کافی نہیں بلکہ کہنے کا انداز شائستہ، لہجہ نرم اور الفاظ مناسب ہوں۔اللہ اس وقت سے بچائے کہ آج بے فکری یا بے توجہی کیساتھ لکھی ہوئی کوئی تحریر، کہا ہوا کوئی جملہ اور نکلا ہوا کوئی لفظ کل کلاں بری طرح پیچھا نہ کرے اور ناقدین وہی لکھاوٹ اٹھا کر منہ پر نہ مار دیں۔
ہم روز دیکھتے ہیں کہ سیاسی قائدین کی ہر سابقہ تقریر ان کا منہ چڑا رہی  ہوتی ہے اور ہر ٹاک شو ان کے لیے مصیبت بنا ہوا ہے۔ہر اخباری بیان ان کا بری طرح تعاقب کررہا ہے۔ بیچارے کہیں کے نہیں رہ جاتے۔
لہذا ہر سمجھ دار آدمی کو چاہیے کہ ایسا لکھیں کہ کھبی اپنے لکھے ہوئے پر پشیمانی نہ ہو۔بس سچ ہو، کہنا ضروری بھی ہو اور اسلوب شائستہ ہو یعنی حق بات، حق طریقے سے حق نیت کیساتھ شائستہ الفاظ میں لکھی اور کہی جائے تو ان شاء اللہ ماضی قریب اور بعید میں قلم کار کے لیے باعث ندامت نہیں ہوگی بلکہ سبب تسکین و طمانیت بنے گی۔ میرے ساتھ اب تک تو ایسا نہیں ہوا ہے البتہ اللہ سے دعا ہے کہ آئندہ بھی لکھا ہوا شرمندگی کا باعث نہ ہو۔

سوال: آپ نے اب تک کتنے کالم لکھے ہیں اور تصنیفات و تحقیقات کتنی ہیں؟

جواب: میں نے اب تک بلامبالغہ پندرہ سو سے زائد کالم لکھے ہیں جو گلگت بلتستان و پاکستان کے درجنوں اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس میں شائع ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان  وچترال کے تمام اخبارات اور ویب سائٹس پر بیک وقت میرا کالم شائع ہوتا ہے۔ ایک کلک پر سارے کالم سامنے آئیں گے۔ ان اخبارات اور ویب سائٹس کی تعداد دو درجن سے زائد ہے۔ ملکی اخبارات روزنامہ جنگ، نائٹی ٹو نیوز،روزنامہ اوصاف اسلام آباد، روزنامہ اسلام کراچی میں میری کئی تحریریں(کالم اور فیچرز) شائع ہوئے ہیں۔اورمکالمہ کے علاوہ  دیگر معاصر ویب سائٹس پر بھی میرے کالم  مستقل  شائع ہوئے ہیں ۔

مشاہیرعلمائے گلگت بلتستان  کے نام سے اہل سنت علماء گلگت بلتستان کی سوانح عمریوں  پر پندرہ سال سے کام کررہا ہوں۔ بہت سارا مواد جمع ہوا ہے۔ تین چار جلدیں بن سکتی ہیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کی حسین و ادیوں پر کئی سفرنامے شائع ہوئے ہیں جو ایک بہترین کتاب بن سکتی ہے۔کئی سالوں سے کیرئیر کونسلنگ اور گائیڈنس پر سوشل میڈیا میں لکھ رہا ہوں، گزشتہ تین سال سے یک سطری کلر پوسٹ کرتا ہوں۔ ایک حرف کے اضافے سے پوسٹ کلرفل نہیں ہوتی اس لیے بعض دفعہ ایک بامقصد جملہ لکھنے کے لئے بیسویں دفعہ جملہ مٹاکر دوبارہ لکھنا پڑھتا ہے۔ میرے لیے یہ ایک زبردست تجربہ ہوا ہے۔ ایک لائن میں بامقصد بات کہنا ، مجھے جیسے کم علم انسان کے لیے مشکل ضرور ہے لیکن مشق کی بنا پر اب تسلسل کے ساتھ لکھتا ہوں۔خیال کو فوری مختصرا فیس بک کی نظر کرتا ہوں۔

سوال: آپ کے پسندیدہ کالم نگار کون کون ہیں؟

جواب:        میں حفظ کے دور سے کالم نگاروں کو پڑھتا ہوں۔زمانہ طالب علمی میں الولبابہ شاہ منصور، قاری منصور احمد، اسلم شیخ پوری، ابن الحسن عباسی،سیلانی(احسن کوہاٹی)، ولی رازی،نوید ہاشمی، ،مولانامسعود اظہر،مولانا اعظم طارق مولانا منصور احمد،اوریا مقبول جان، پروفیسر متین الرحمن  مرتضی، اعجازمنگی،عرفان صدیقی، یاسراحمد خان، قاری منصور احمد، فاروق قریشی، شفیع چترالی، وغیرہ کے کالم شوق سے پڑھتا تھا۔ ان صاحبان کےکالمز ،روزنامہ امت،روزنامہ اسلام، ہفت ضرب مومون اور ہفت روزہ القلم میں چھپتے تھے۔ہم زمانہ طالب علمی میں  سیلانی(احسن کوہاٹی) کے عشاق میں تھے۔ اب وہ دوست بن گئے ہیں۔

ان کے علاوہ عطاء الحق قاسمی، نذیر ناجی،ڈاکٹر صفدر محمود،ڈاکٹرشاہدمسعودعبداللہ طارق سہیل، سلیم صافی،وسعت اللہ خان، اوریا مقبول جان، زاہدہ حنا،عبدالقادر حسن،یاسر پیرزادہ،مولانا زاہدالراشدی،ڈاکٹر صفدر محمود،اجمل نیازی،عامر خاکوانی،حامد میر،،ڈاکٹر عامر لیاقت،ڈاکٹر بابر اعوان، ہارون الرشید، حسن نثار، محمود شام،مجیب الرحمان شامی وغیرہ کو خوب پڑھا۔عامر لیاقت کی اردو کمال کی ہوتی تھی۔

بہر صورت اب تک وسعت اللہ خان، عرفان صدیقی، جاوید چودھدری  اور خورشید ندیم کے سحر سے نہ نکل سکا۔ گزشتہ پندرہ سال سے جاوید چوھدری کا کوئی کالم پڑھے بغیر چھوڑا نہیں۔اور گزشتہ پانچ سال سے خورشید ندیم کا کوئی کالم مجھ سے ضائع نہیں ہوا۔ ان دونوں کے کالم بلاناغہ پڑھتا ہوں۔ موبائل کی بک مارک میں لگایا ہوا ہے۔ باقی کالم نگاروں کے ضروری کالم اب بھی پڑھتا ہوں مگر ان دونوں کا کالم پڑھے بغیر نیند نہیں آتی۔ عامر خاکوانی کے کالمز بھی اکثر پڑھ لیتا ہوں اور ساتھ تبصرہ بھی کرتا ہوں۔سماجی موضوعات  پر دینی تعلیمات کی روشنی میں  خورشید ندیم اور کیرئیر کونسلنگ پر جاوید چودھدری سے اچھا کالم  بڑے اخبارات میں میرے نزدیک کوئی نہیں لکھتا۔دینی مدارس وجامعات اور دینی ایشوز پر بہت ہی پیارے انداز میں مولانا زاہدالراشدی لکھتے ہیں۔ ان کے الشریعہ کے مضامین  بالخصوص  پڑھنے کےلائق ہوتے ہیں۔ احمد جاوید صاحب کے کچھ انٹرویوز پڑھے ہیں۔ کمال انسان ہیں۔

ارشاد احمد حقانی جنگ میں لکھتے تھے۔ ان کی وفات تک ان کے کالم مستقل پڑھتا رہا۔ میں ان سے بہت متاثر تھا۔ ان کی کئی کتب اردو بازار کراچی سے خریدی تھی۔شاید انہوں نے پچاس سال مسلسل کالم لکھا۔کالم پر ان کی شاندار گرفت ہوتی تھی۔ دینی طبقات پر ٹھیک ٹھاک تنقید کرتے تھے۔ ان کی تنقید بے جا نہیں ہوتی تھی۔ اہم موضوعات پر  لکھتے اور تنقید کرتے۔

سوال: سوشل میڈیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں کہیں سوشل میڈیا نے ہمیں نرگسیت کا شکار تو نہیں بنایا؟

جواب:      میں سوشل میڈیا کو اوپن یونیورسٹی کا درجہ دیتا ہوں۔ یہ ایک ایسا فورم ہے جس میں   ہر انسان  کو انٹری حاصل ہے۔

یہ بات بھی بڑی حد تک درست ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں نرگسیت کا شکار بھی بنایا ہے۔ اس پر مفصل بات ہوسکتی ہے۔کچھ بھی ہو سوشل میڈیا کی افادیت و اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔مگر بدقسمتی سوشل میڈیا کی اس اوپن یونیورسٹی میں سب پروفیسر ز ہیں طالب علم کوئی نہیں۔ہمارے ملک میں کچھ سیاسی جماعتوں نے زبردست قسم کی سوشل میڈیا ٹیمیں بنائی ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ عمران خان نے انتخابات بھی سوشل میڈیا ٹیم اور پاور  کی وجہ سے جیتے ہیں۔ میرے دوست اور جے یو آئی کے سرگرم  لیڈر  راشد محمود سومرو نے بھی ایک پاور فل سوشل میڈیا ٹیم بنائی ہے اور اس کا بھرپور استعمال بھی کرتے ہیں۔ بہر صورت ہر ادارہ اور پرسنالٹی کو اپنی سوشل میڈیا ٹیم بنانی چاہیے جس میں اپنا مثبت بیانیہ شیئر کریں۔سوشل میڈیا پر منفی سرگرمیوں کی بجائے مثبت سرگرمیوں  کو فروغ دینا چاہیے۔ اپنی کارگردگی، خیالات، بیانیہ اور فکر و نظر کی تشہیر و تبلیغ کی جائے تو ادارہ یا انسان خود بخود متعارف ہوجائے گا۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے بہت سارے سماجی مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔دنیا میں سوشل میڈیا کی وجہ سے شرح طلاق بڑھ گئی ہے۔بہت سارے عالمی اداروں کی سروے رپورٹس یہی کہتی ہیں۔ ریاست پاکستان کے لیے اس وقت سوشل میڈیا بالخصوص فیس بیک ایک خطرناک ترین چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس کے لیے کوئی رول ریگولیشن نہیں ہیں۔ پاکستان کے خلاف دنیا بھر کے سوشل میڈیا کے صارفین جنگ لڑرہے ہیں۔ ہائبرڈ اور ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پی ٹی اے اور پیمرا کے پاس بھی کوئی واضح اصول اور قوانین نہیں۔ بہر صورت سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے شاندار قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ سماج اور ریاست دونوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور جعلی اکاونٹ سے پھیلائی جانے والی منافرت اور پروپیگنڈے سے روکا جاسکے۔

سوال: سوشل میڈیا میں سب سے زیادہ کس سے استفادہ کیا؟

جواب:        سوشل میڈیا میں ڈاکٹر طفیل ہاشمی، ڈاکٹر محمد مشتاق،ڈاکٹر عاصم اللہ بخش اور عامر خاکوانی سے سب سے زیادہ استفادہ کیا ہے۔ان کو پسندیدہ اور فرسٹ سی میں لگایا ہوا ہے۔باقی بھی بہت سارے لکھاریوں سے استفادہ کررہا ہوں۔ڈاکٹر قبلہ ایاز، مفتی محمد زاہد،امام عطاء اللہ خان،عبدالخالق ہمدرد،عمارخان ناصر، اسرار مدنی، فیض اللہ خان، انعام رانا،جمال عبداللہ،حافظ صفوان،ہمدرد حسینی،عارف انیس، عامرہزاروی،وقاص خان،ریحان اللہ والا،عنایت شمسی،قطب الدین عابد،عطاء الرحمان روغانی،بشیرقریشی،ضیاء چترالی،ڈاکٹر عامر طاؤسین،زاہد مغل،ثمرخان ثمر،محمد عدنان کاکاخیل،محمد الکوہستانی(مفتی محمد نذیر)،زاہدعبدالشاہد،احسن کوہاٹی،عابد محمود عزام،محمد جان اخونذادہ،ڈاکٹر اسحاق عالم،فیصل شہزاد،ڈاکٹر حسین، حمزہ گلگتی،ابراہیم عابدی،مولانا شفیع چترالی،لطف الرحمان چترالی،ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی،تاج کوہستانی،نورپامیری،رشید ارشد،محبوب خیام،ایڈوکیٹ عمران،نمبردار ثناء اللہ انقلابی،شہاب الدین غوری، ممتاز گوہر،مطابعت شاہ،فہیم اختر،منظرشگری،یونس سروش، اسرارلدین اسرار،عبدالکریم کریمی،احسان شاہ،شبیرمیر،اشتیاق احمد یا، سلیمی،ضیاء اللہ گلگتی ،اور شکیل رانا وغیرہ میری فرینڈ لسٹ کے بڑے سنجیدہ نام ہیں۔ان کی تحریروں اور کمنٹس سے بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ان کے علاوہ بھی کئی نام ہیں۔

برادرم محمد عبدہ ایک اچھا نام تھا مگر انتہائی سیاسی تعصب کرنے اور جے یو آئی کے علماء کو گالیاں دینے کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی ان فرینڈ کرنا پڑا۔ اس پر ابھی تک دکھ ہے کہ اتنا اچھا لکھاری مجھ سے انفرینڈ ہوگا۔ اگرچہ اس کے ساتھ ذاتی دوستی برقرار ہے۔

سوشل میڈیا میں واٹس ایپ اور فیس بک بہت انجوائی کرتا ہوں۔ واٹس ایپ میں کئی گروپس کامیابی سے چلاتا ہوں جن میں  ”احباب کیا کہتے ہیں؟” کے نام سے گروپ ہے جس میں اہل علم حضرات ہیں۔” حقانی اسٹوڈنٹس”  کے نام سے دوسرا گروپ ہے جس میں میرے اکثر طلبہ ہیں۔ان کی علمی رہنمائی   اور کیرئیر کونسلنگ کرتا ہوں۔”حقانی فیملی” کے نام سے فیملی ممبرز کا گروپ ہے۔ ”گلوبل کتاب گھر” کے نام سے تجارتی امور کا گروپ ہے۔ان کے علاوہ بہت سارے اہل علم و فن اور صحافیوں کے گروپس میں وقت دیتا ہوں، مکالمے اور مباحثے کرتا ہوں۔بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

سوال: عموما    یہ کہاجاتا ہے کہ علم و دولت متضاد چیزیں ہیں۔ کیا واقعی علم اور دولت متضاد چیزیں ہیں؟

جواب:        دوچیزوں کے بغیر کوئی فرد، کوئی ادارہ، کوئی آرگنائزیشن، کوئی فیملی، کوئی معاشرہ اور کوئی وملک و ریاست ترقی نہیں کرسکتا۔ میں نے اپنی دانست کے مطابق ہر ممکن کوشش کی کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک کو نکال کر کسی کو ترقی وعروج اور سکون و طمانیت  کی راہ میں گامزن دیکھوں مگر مجھے کوئی شاندار مثال نہ ملی۔ البتہ انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کرام  اس سے مستشنی ہیں۔ان کے ساتھ اللہ کا معاملہ اور اللہ کی سنت الگ ہے۔
وہ دو چزیں یہ ہیں۔
١۔ علم
٢۔دولت
ان دونوں چیزوں کو الگ کر کے کوئی أگے نہیں بڑھ سکتا نہ ہی بامِ عروج حاصل کرسکتا ہے۔ مسلمانوں کے شاندار أیام کا مطالعہ کیا جاوے اور ان کی تاریخ کنگالی جاوے تو مسلمان ہر اس دور میں ترقی کے راہ پر گامزن نظر آئیں گے جب ان کے پاس علم اور تحقیق و حکمت بھی تھی اور بے تحاشا مال و دولت بھی  یعنی وہ معاشی اعتبار سے بھی سپرپاور تھے۔ تب مسلمان تجارت پر بھی قابض تھے اور دنیا کے حاکم بھی تھے۔یعنی علم و دولت نے انہیں دنیا پر حاکم بنا دیا تھا۔
أج بھی ترقی یافتہ ممالک ان دونوں کی وجہ سے دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں۔پاکستان کا بہترین ٹیلنٹ پاکستان میں صرف اس لیے نہیں ٹک سکتا کہ ان کے ٹیلنٹ کا معاوضہ پاکستان نہیں دے سکتا۔أپ کسی ایک فیلڈ کا سروے ہی کیجیے۔اندازہ ہوجائے گا۔وہ غریب ٹیلنٹ ان ممالک میں جانے کو ترجیح دیتا جہاں انہیں بھاری معاوضہ دیا جاتاہے۔اور انکے علم وفن کی قدر کی جاتی ہے۔
میں نے کسی سے سنا تھا یا کہیں پڑھا تھا کہ ”مال اور علم ساتھ جمع نہیں ہوسکتے”۔ میں چاہنے کے باوجود بھی اس نکتے سے اتفاق نہ کرسکا۔ میں نے بہت سارے نامور علما ء  اورمحققین کی سوانح عمریاں پڑھی ہیں۔ مجھے ان کے پاس علم کیساتھ دولت بھی وافر مقدار میں نظر آئی ۔ میں نے بہت ساری درسگاہوں کا بھی جائزہ لیا۔ جو درسگاہ بڑا بجٹ رکھتی ہے اس درسگاہ نے نام بھی کمایا اور نامور بھی پیدا کیے۔اسلامی اسکالرز میں امام ابوحنیفہ سے مفتی تقی عثمانی تک ہر بڑا أدمی صاحب ثروت ہے۔ ان میں کھبی کوئی دال روٹی کے لیے نہیں ترسا اور نہ ہی بیوی بچوں کے علاج معالجے کے لیے پریشان ہوا۔ میں ایسے سینکڑوں افراد کو جانتا ہوں جن کے پاس بڑا علم تھا کتب بینی اور فہمی میں کمال رکھتے تھے لیکن غریب تھے ،ان کی غربت نے ان کو اپنے گاوں تک محدود کیا۔
آج بھی وہ مدارس وجامعات اور یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے کامیاب جارہے ہیں جن کے پاس اچھا بجٹ ہے۔
اسلامی دنیا کے پاس بے تحاشا وسائل ہیں لیکن علم وتحقیق کے فقدان کی وجہ سے وہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔اگر یہ ممالک صرف اپنے وسائل بھی ٹھیک استعمال کرنا جانتے یعنی سائنسٹفک انداز میں، تو یہ اتنے کمزور نہ ہوتے۔یہ علم کے بغیر ممکن نہیں۔صرف دولت سے بھی کام نہیں چلتا۔
آپ مجھ سے ضرور اختلاف کیجیے لیکن آپ دس نامور علمی شخصیات اسکالرز اور سائنس دانوں،دس نامور اداروں اور دس ترقی یافتہ ممالک کا باریک بینی سے جائزہ لیں جن کی دنیا میں دھوم مچی ہوئی ہے یا جن کو پاکستان میں بھی ناموری حاصل ہے۔ آپ کو ان میں علم اور دولت ساتھ ساتھ چلتے نظر آئیں گے۔ ان دنوں کے بغیر وہ زیرو ہیں۔
میں نے سعدی شیرازی کے متعلق کہی پڑھا ہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ

”انسان کو دنیا میں بے تحاشا علم حاصل کرنا چاہیے اور ساتھ ہی بے تحاشا مال و دولت بھی کمانا چاہیے”
امیر تیمور نے سعدی کے اس قول پر دل وجان سے عمل کیا اور ”تیمور دہ گریٹ” بنا۔آپ کبھی ان کی سوانح عمری بھی پڑھ لیں اگر موقع ملا تو۔
میں ایسے درجنوں علماء  و حکماء  اور ریسرچر و اسکالرز کو جانتا ہوں جن کی غربت نے ان کی علمیت و دانش اور تحقیق وتدقیق اور تفقہ کو مذاق  بنایا ہے اور وہ دوسروں کے رحم وکرم پر ہیں۔ اور سینکڑوں ایسے دانشوروں،لکھاریوں اور عالموں کو جانتا ہوں جن کی دولت نے ان کی علم و تحقیق اور دانش و بینش کو پرموٹ کیا اور سوسائٹی نے انہیں قبول بھی کیا اور انہوں نے معاشرے سے خود کو تسلیم بھی کرایا اور اپنے فن میں بڑا کام بھی کیا۔ دولت کے بغیر علم وحکمت اور تحقیق و دانش عنداللہ تو قبولیت پاتی ہوگی لیکن عندالناس اس کی مثالیں خال خال نظر آتی ہیں۔ ہاں یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے ان مالداروں سے نفرت کا اظہار کیا ہے جنہوں نے مال اسٹاک کیا یعنی مال کو جمع کیے رکھا ۔مالِ قارون اس کی مثال ہے۔ ایسے لوگوں نےانویسمنٹ کے بجائے ڈیپازٹ کو ترجیح دیا۔کساد بازاری کا سبب بنے وہ اللہ کیساتھ مخلوق کے لیے بھی ناپسندیدہ ہیں۔

اللہ ان لوگوں سے نفرت نہیں کرتا جو مال ودولت کو انویسٹ کرتے اور ایک فیکٹری کے بعد دوسری ،دوسری کے بعد تیسری لگاتے ہیں جن کی وجہ سے ہزاروں انسانوں کی دال روٹی چلتی اور بچے تعلیم پاتے ہیں۔

دنیا میں جو لوگ فکس معاوضے پر کام کرتے ہیں اللہ انکے مال میں برکت سے نہیں نوازتا اور ان کو بے تحاشا دیتا جو ضرورت نہ ہونے کے باوجود بھی کام کرتے ہیں۔اور دوسروں کے لیے کسبِ معاش کے مواقع پیدا کرتے۔یہ لوگ عنداللہ اور عندالناس قابل تحسین بھی ہیں اور قابل تقلید بھی۔

بہرصورت آپ ہر اس فرد،خاندان، ادارہ، آرگنائزیشن، معاشرہ اور ملک کا طائرانہ جائزہ لیں جو ترقی کررہا ہے یا کرچکا ہے۔ اس میں مال و دولت اور علم وتحقیق ساتھ ساتھ چلتے نظر آئیں گے۔ میں نے أغاخان فاونڈیشن کے تعلیمی اداروں کی ترقی کا راز جاننے کی کوشش کی تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ ان کے پاس تعلیم کی مد میں بہت سارا بجٹ ہے وہ اس بجٹ کو سنجیدگی کیساتھ ان علوم و فنون پر خرچ کرتے جن کی معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے یعنی جن کی مارکیٹ ویلیو ہوتی ہے۔

میں ایک ایسے عالم کو بھی جانتا ہوں جس کے متعلق مفتی  تقی عثمانی نے کہا تھا کہ ”اتنا بڑا عالم آپ کے پاس ہے اور آپ میرے پاس آئے ہیں”۔
وہ ذہین ترین عالم آج بھی اپنے ضلع تک محدود ہے اور تقی عثمانی صاحب کی علمیت کے ڈنکے پوری جہاں میں بجتے ہیں۔

میں درجنوں ایسے لکھاریوں کو بھی جانتا ہوں جن سے میں بھی اچھا لکھتا لیکن ان پر کروڑوں کی  انویسٹمنٹ  کی گئی ہےاور آج وہ نامور لکھاری اور باخبر صحافی کہلاتے ہیں۔آپ  بس ایک کام کیجیے۔ آپ علم اور دولت کو الگ الگ خانوں میں مت رکھیں۔آپ دونوں کو ساتھ ساتھ چلائیں۔آپ کو بے تحاشا علم کے لیے بے تحاشا مطالعہ کرنا پڑے گا اور بے تحاشا دولت کے لیے انتھک محنت اور کام کرنا پڑے گا۔بس آپ مطالعہ اور کام کو ساتھ ساتھ چلائیں۔پھر آپ دنیا میں بھی نام کمائے گے اور أخرت میں بھی سرخرو ہونگے۔

سوال: صراط مستقیم کے اجراء، اور اس کے اب تک کے سفر کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب:      ماہنامہ صراط مستقیم کے کچھ شمارے پڑھنے کو ملے۔ بہت شاندار سلسلہ ہے۔یہ حافظ محمد فہیم علوی کی عالمانہ کاوش ہے۔ میگزین کے ہر ہر صفحے سے ان کا ذوق ٹپکتا ہے۔فہرست عنوانات پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوہی جاتا ہے کہ میگزین عملے کا ذوق شاندار ہے۔بہت سارے عوامی عنوانات کو میگزین میں جگہ دی گئی ہے۔ اس سے عام قاری پڑھنے میں دلچسپی لیتا ہے۔ میرے خیال میں مزید عام اور سہل اور عوامی و سماجی موضوعات کو میگزین میں جگہ دینی چاہیے۔

اہل علم و قلم کے  شخصی انٹرویوز کا پورشن بہت معیاری اور اچھا لگا۔ بہت سارے محققین کا علم ہوا۔ سوال و جواب کا اسلوب بھی بہت دل کو بھاتا ہے۔ماہنامہ صراط مستقیم کا سب سے اچھا اور دلچسپ کارنر ”صراط مستقیم میرج سروس” لگا۔نکاح جیسے عمل کے لئے سہولت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے سماج میں گناہ اور زنا  آسان ہے جبکہ نکاح روز بروز مشکل ہوتا جاتاہے۔ ہر گھر میں اس حوالے سے پریشانی پائی جاتی ہے ایسے میں ادارہ صراط مستقیم اپنی خدمات پیش کررہا ہے جو لائق تحسین ہے۔میرا خیال ہے کہ صراط مستقیم کا حجم تھوڑا سا زیادہ ہونا چاہیے۔ کچھ ریسرچ پیپرز کو بھی جگہ دینا چاہیے۔ جیسے شخصی انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس طرح کے دو چار اور اہم سلسلے شروع کیے جانے چاہیے ساتھ ہی ہر شمارے میں کسی اہم اور جدید موضوع پر ایک ریسرچ  آرٹیکل بھی شامل کرنا چاہیے۔

سوال: گلگت بلتستان کے معروضی حالات کیا ہیں؟ہر وقت مذہبی کشیدگی کیوں  پائی جاتی ہے؟

جواب:        گلگت بلتستان دنیا کا حسین ترین خطہ ہے۔ یہاں نانگا پربت، کے ٹو، جیسے مشہور و معروف پہاڑ واقع ہیں اورسلسلسہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کا سنگم بھی یہی پر ہے۔ہزاروں ندی نالے، سبزے ، گلیشیرز، جھلیں، جھرنے،آبشاریں یہاں موجود ہیں۔ جنگل اور جنگلی حیات کی بہتات ہے۔قدرت کی ساری رعنائیاں یہاں موجود ہیں۔

یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ کئی اضلاع ہیں، ہر ضلع کی ثقافت، زبان، رہن سہن اور مذہب تک الگ ہے۔ ہر ضلع کا موسم بھی دوسرے ضلع سے الگ ہے۔یعنی ایک خاص قسم کا تنوع پایا جاتا ہے۔ ایسے میں مذہبی، لسانی اور قبائلی عصبیت کا پایا جانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ بہر صورت سب سے زیادہ مذہبی عصبیت پائی جاتی ہے۔تاہم یہاں کے لوگ انتہائی باشعور ہیں۔ اب تک قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے یہاں کئی سماجی معاہدات ہوئے ہیں۔ یہ معاہدات، اہل سنت والجماعت اوراہل تشیع کے مابین بھی ہوئے ہیں۔ اہل سنت اور اسماعیلیوں کے مابین بھی ہوئے ہیں اور اہل تشیع اور اسماعیلیوں کے مابین اور اہل تشیع اور نور بخشیوں کے مابین بھی ہوئے ہیں۔ مذہبی حالات ہمیشہ کشیدہ رہتے ہیں تاہم امن اور سماجی کی بہتری کے لیے حکومت کے ساتھ عوام اور اہل علم و قلم بھی متحرک رہتے ہیں۔

سوال: اہل علم و قلم قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب:      کسی بھی معاشرے میں قیام امن، سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری  ، دینی اخوت اور قبائلی معاملات کو سلجھانے کے لیے اہل علم و قلم اور معتبران کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان میں جہاں جہاں جب جب  فسادات شروع ہوئے۔ قتل و غارت کا بازار گرم ہوا، مذہبی و مسلکی منافرت شروع ہوئی، قبائلی دشمنیوں نےزور پکڑا اور علاقائی تعصب نے سر اٹھایا تو اہل علم و قلم اور علاقائی جرگہ داروں  کا ایک بڑا گروہ اٹھ کھڑا ہوا، اور اپنی بصیرت سے نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کردیا۔اور باقاعدہ حکومتی سرپرستی میں تمام مکاتب فکر کے علماء و شیوخ اور عمائدین نے قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے شاندار امن معاہدات تشکیل دیے۔ اب تک مختلف علاقوں میں سات بڑے امن معاہدات تشکیل دیے جاچکے ہیں۔

گلگت بلتستان کے ان امن معاہدات پر راقم نے  ایم فل کا تھیسز لکھا ہے۔ ان امن معاہدات کے پس منظر کے ساتھ اصل معاہدہ  ڈھونڈ نکالا ہے۔ امن معاہدات کی ہر ہر شق کا قرآن و حدیث، آئین پاکستان و قوانین پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی  قوانین کی روشنی میں جائزہ لیا ہے۔مذہبی و مسلکی اور سماجی مشترکات کا ذکر کیا ہے۔گلگت بلتستان کے معاہدات امن کا، صلح حدیبیہ، میثاق مدینہ اور  معاہدہ بیت المقدس کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا ہے اور امن معاہدات کی غیر قانونی وغیر اسلامی شقات کی نشاندہی کرکے بہتر بنانے کی تجاویز دی ہیں۔ ان امن معاہدات کی روشنی میں گلگت بلتستان کی حکومت، اہل علم، عمائدین و جرگہ داران،  اور عوام   غرض شعبہ ہائے زندگی کے ہر طبقہ کے لیے الگ الگ ایسی تجاویز دی ہیں اور سفارشات مرتب کی ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے گلگت بلتستان میں قیام امن اور سماجی ہم آہنگی میں مثبت پیش رفت ہوگی۔عملی طور پر اقدامات کرنے کے لیے عملی خاکے تشکیل دیے ہیں۔

میری دانست میں اہل علم و قلم اور شعراء  نے اب تک شاندار کردار ادا کیا ہے  مزید بھی تعلیمات اسلامی اور آئین پاکستان کی روشنی میں بہتر طریقے سے کردار اداکرسکتے ہیں۔

سوال: آپ کی سفارشات اور عملی خاکوں کی کیا تفصیل ہے؟

جواب:        ان تمام عملی منصوبوں کی بڑی تفصیل ہے تاہم مختصر یہ بات  منظر عام پر آجائے کہ  بین المسالک  سماجی ہم آہنگی  کے لیے غیر سرکار سطح پر عملی منصوبوں، قوانین امن اور امن معاہدوں  کو نافذ العمل کرانے کا عمل خاکہ یعنی  امن جرگے کو قانونی حیثیت دینا، گلگت بلتستان علماء مشاورتی کونسل کا قیام، محکمہ اوقاف کا دائرہ گلگت بلتستان تک وسیع  اور علماء و مشائخ کی گلگت بلتستان اسمبلی میں خصوصی نشستیں،علاقائی مصالحاتی کونسلیں وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ پھر حکومت پاکستان، حکومت گلگت بلتستان اور اہل علم و قلم ، صحافی، سوشل میڈیا صارفین اور عوام الناس کے لیے امن معاہدات کی روشنی میں قیام امن کے لیے الگ الگ سفارشات اور تجاویز مرتب کی ہیں۔

سوال: گلگت بلتستان کے اہل علم و قلم  کے متعلق کچھ بیان کریں گے

جواب:        گلگت بلتستان میں بہت بڑے اور کبار اہل علم گزرے ہیں جن میں  درجنوں فاضلین دارالعلوم دیوبند کی ہیں۔ اسی طرح آج بھی بہت بڑے بڑے علماء موجود ہیں۔ بدقسمتی سے ان تمام جید اہل علم نے تصانیف نہیں چھوڑی۔باقی  اردو ادب اورقلم کاروں کے کئی نام ہیں۔ جن  میں اکثر سے میری اچھی شناسائی ہے۔جمشید خان دکھی،عطاء اللہ شہاب، اسلم سحر،عبدالحفیظ شاکر، احمد سلیم سلیمی، اشتیاق احمد یا، حبیب الرحمان مشتاق،احسان شاہ، یونس شروش،غلام عباس نسیم،خوشی محمد طارق، پروفیسر امین ضیاء،عبدالخالق تاج،پروفیسر حشمت کمال الہامی،فداناشادحفیط شاکر،احسان اللہ شائق،فدا علی ایثار، عبدالکریم کریمی، ڈاکٹر عزیزاللہ نجیب، عبدالعزیز دینار،مولانا عبدالمنان،مفتی عارف،غلام حسین انجم ،عنایت اللہ شمالی، نصیرالدین ہنزائی،ظفر وقار تاج،ذیشان مہدی،محمد جان،عبدالسلام ناز، بشیراللہ استوری وغیرہ اردو ادب کی بہترین آبیاری کرتے ہیں۔اردو ادب میں استاد رجی الرحمت  بہت بڑا نام تھا۔مفتی لقمان حکیم(سینئر سیشن جج) گلگت بلتستان کے بہت بڑے عالم فاضل محقق  ہیں۔ جن کی کئی  عربی کتب بیروت سے چھپی ہیں۔

سید عالم استوری،شکیل استاد،ڈاکٹر عظمی سلیم،غلام حسین حسنو،حسن شاد،ظفرحیات پال،شیرباز علی، برچہ،الواعظ عبداللہ جان ہنزائی،پروفیسر منظوم علی ، مولانا حق نواز بلتی،اور پروفیسر عثمان علی کی تصنیفات بہت شاندار ہیں۔ ان میں سب سے بڑا نام پروفیسر عثمان علی ہے جن کی تصنیفات بہت زیادہ، علمی اور تحقیقی ہیں۔گلگت بلتستان کی ایک آفاقی شخصیت ہے جس کو دنیا بابائے چلاسی کے نام سے جانتی ہے۔بابا چلاسی کی تصانیف عربی، اردو، پشتو، شینا اور ہنکو میں ہیں۔ بیک وقت ان تمام زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹرمولانا عبدالقیوم مرحوم گلگت بلتستان کے سب سے بڑے محقق ہیں۔ ان کا سارا کام عربی میں ہے۔کئی ایک کتابیں اردو میں بھی لکھی ہیں۔ام القراء یونیورسٹی میں پروفیسر رہے اور زندگی کی پچاس بہاریں تحقیق میں گزاری ہیں۔ ان کی اکثر کتب سعودی حکومت نے شائع کی ہے۔

اخبارات میں والوں میں رشیدارشد،عبدالجبار ناصر، عبدالبشیرخان،ایمان شاہ، زاہد خرازی،ثمرخان ثمر، فہیم اختر،صفدر علی صفدر،نورپامیری،رشید ارشد،فیض اللہ فراق،حمزہ گلگتی،،اسرارلدین اسرار،عبدالکریم کریمی ،ارشدجگنو،ممتاز گوہر،مفتی محمد نذیر ،یقعوب طائی، منظر شگری، حبیب اللہ،محبوب خیام،شبیرمیر،بشارت،شمش پارس،بشیرقریشی، اور کئی ایک نام ہیں جو بہت اچھی اردو لکھتے ہیں۔ ملک کی ممتاز اردو ڈائجسٹوں میں گلگت بلتستان سے سب سے بہترین پروفیسراحمد سلیم سلیمی لکھتے ہیں۔ ان کی سینکڑوں کہانیاں شائع ہوئی ہیں۔

سوال:قارئین کو کیا خاص پیغام دیں گے؟

Advertisements
merkit.pk

جواب:        قارئین کو بس اتنا پیغام دونگا کہ میرا طریق محبت ہے۔ سو جہاں آپ ہیں وہاں محبتوں کو عام کیجیے۔ نفرتوں کو دریا برد کیجیے۔ انفرادی زندگی میں تقوی اور اجتماعی زندگی میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیجیے۔اپنی زندگی کو ہیرے کی قیمتی کان سمجھے اور خود کو ہیرا سمجھ کر، معرفت حق کےلیے سب سے پہلے اپنے آپ کو تلاش کیجیے۔زندگی میں اپنے اہداف و مقاصد طے کیجیے۔اپنے ذوق اور شوق   کو ڈھونڈ نکالیے۔آپ بہتر کیا کرسکتے ہیں یا آپ کی تخلیق کس غرض کے لیے ہوئی ہے  اور اللہ نے تمام انسانوں میں آپ کو الگ کرکے خاص کن کاموں کے انجام دہی کے لیے پیدا کیا ہے اس کی معرفت حاصل کرکے ، یعنی تخلیق الہی کی روشنی میں اپنی فیلڈ کا انتخاب کرکے اس میں جہد  مسلسل کیجیے۔جب فیلڈ کا انتخاب ہوگیا تو اس میں مکمل یکسوئی اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھیے۔ قل ربی اللہ، ثم استقم۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply