سید علی گیلانی-ہمارے اباجی (3)۔۔افتخار گیلانی

ان اختلافات کی وجہ سے بعد میں حریت تقسیم ہوگئی۔ مگر ان کا استدلال تھا کہ سیاسی تحریک کی عدم موجودگی کے وجہ سے عسکری تحریک زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی اسلئے گراونڈ پر جاکر سیاسی جدوجہد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ 2003میں جیل سے رہائی اور گردوں کے آپریشن کے بعد انہوں نے قریہ قریہ گھوم کر حتیٰ کہ گریز ، پونچھ، راجوری، ڈوڈہ، کشتواڑ جیسے دور دراز علاقوں کا دورہ کرکے سیاسی جدوجہد کیلئے راہ ہموار کی۔ اس دوران حکومت نے بھی موقف اپنایا تھا کہ حریت کا سیاسی میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ اس دوران پٹن اور سنگرامہ حلقہ میںضمنی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ امیدوار کی تقریر ختم ہوتے ہی گیلانی صاحب پہنچتے اور اسی سٹیج سے عوام کو انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے تھے۔ حکومت ان کو تقریر یا دورہ کرنے سے روکتی نہیں تھی مگر ان کی میزبانی کرنے والوں پر قہر ڈھاتی تھی۔ بارہمولہ شہر کے چوراہے پر جب انہوں نے تقریر ختم کی تو پاس ہی رہائشی ایک رکن جماعت نے ان کو چائے کی دعوت دے دی۔ چائے پینے کے بعد گیلانی صاحب سرینگر روانہ ہوگئے، اس معمر رکن جماعت کی شامت آگئی اور اسکو پبلک سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کی وجہ بتائی گئی انہوں نے سید علی گیلانی کی میزبانی کی ہے۔ یہ حضرت کئی سال جیل میں رہے ۔ اسلئے ان دوروں کے دوران وہ کسی کے گھر کے بجائے مسجد میں رات بھر رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ 2008میں کشمیر کی سڑکوں پر امرناتھ لینڈ ایجی ٹیشن اور پھر 2010اور 2016میں برھان وانی کی ہلاکت کے بعد جو تحریکیں برپا ہوئیں وہ ان کی 2004سے 2008تک اس زمینی جدوجہد کا شاخسانہ تھیں۔ وہ جوانوں کو پرامن رہنے کی تاکید کرتے تھے اور انہیںبتاتے تھے کہ جب پولیس روکے تو بجائے محاذآرائی کے سڑک پر دھرنا دیا کریں ۔ پلوامہ ضلع میں ایسا ہی ہوا۔ ایک بھاری جلوس نیوہ سے قصبہ کی طرف جا رہا تھا کہ نیم فوجی دستوں نے ان کو آگے جانے سے روکا تو لوگ سڑک پر بیٹھ گئے۔ مگر پر امن ہجوم پر گولیاں برسائی گئیں، ایک جوان ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ 117دن کی ہڑتال اور 100دن سے سخت کرفیو کے بعد انہوں نے کاروبار بتدریج کھولنے کی اپیل کی جس پر ان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی افراد نے لکھا کہ گیلانی ، مہاتما گاندھی کا راستہ اپنا رہے ہیں۔ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ گاندھی کا فلسفہ تو خود ان کی زندگی میں ہی مسترد کیا جا چکا ہے۔ ’’ امن کا نعرہ ہم دیتے ہیں۔ امن سے ہی حل طلب مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ مگر بھارتی قیادت اس سنگین مسئلے کو طول دیکر خود بدامنی پھیلا رہی ہے اور الزام ہمارے سر تھوپ رہی ہے۔کب تک اس سلسلے کو جاری رکھا جاسکتا تھا۔‘‘ پاکستان میں وقتاً فوقتاً جمہوریت کا خون ہوتے دیکھ کر وہ تاسف کا اظہار کرتے تھے۔نومبر 1996میں جب بے نظیر بھٹوکو برطرف کیا گیا تو وہ ان دنوں دہلی میں مقیم تھے۔ اس دوران ان کے سیکرٹری نے ان کو بتایا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمدصاحب لائن پر ہیں۔ انہوں نے فون اٹھاتے ہی حکومت کی بر طرفی کے حوالے سے قاضی صاحب کو خوب سنائیں۔ ‘‘ فون کے بعد ان کے سیکرٹری نے ان کو بتایاکہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ، آپ کیوں اس میں پڑتے ہیں تو انہوں نے کہاکہ ان کے اندرونی معاملات سے ہمارے معاملات بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان میںسے ایک کہانی اپریل 2005 ء کی ہے۔پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے دورہ دہلی کا اعلان ہوچکا تھا۔ چونکہ امن کوششیں عروج پر تھیں، بھارتی حکومت اور پاکستانی ہائی کمیشن دورہ کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوششیں کررہے تھے۔ انہیں دنوں اس وقت دہلی میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر مرحوم منور سعید بھٹی نے مجھے فون کیا۔ بھٹی صاحب وضع داری ‘رواداری اور معاملات کو سلجھانے کے حوالے سے دہلی میں ڈیوٹی دے چکے ، پاکستان کے مقبول ترین سفارت کاررہے ہیں۔فون پر انہوں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ طے ہوا کہ سفارتی علاقہ چانکیہ پوری میں ہی ایک ریسٹورنٹ میں چائے نوش کریں گے۔چونکہ مشرف کی آمد آمد تھی، میری رگ صحافت بھی پھڑک رہی تھی کہ چلومشرف کی آمد کے حوالے سے کوئی چٹ پٹی خبر بھی مل جائے گی۔مگر ریسٹورنٹ میں سیٹ پر بیٹھتے ہی بھٹی صاحب مجھے بلوچستان کی تاریخ اور شورش کا پس منظر سمجھانے لگے۔ میں حیران تھا کہ آخر اس کا مجھ سے کیا لینا دینا ہے۔ کچھ منٹ کے بعد وہ مدعا زبان پر لائے۔ کہنے لگے کہ کیا میں گیلانی صاحب کو آمادہ کرسکوں گا کہ مشرف کے ساتھ ملاقات میں وہ بلوچستان کے مسائل کا تذکرہ نہ کریں؟ صدر پاکستان اپنے دورہ کے دوران کشمیری راہنمائوں سے ملاقات کرنے والے تھے۔میں نے معذرت کی کہ گیلانی صاحب کی سیاست میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ ہی میں انکو کوئی مشورہ دینے کی حیثیت رکھتا ہوں۔گیلانی صاحب نے سرینگر میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف بیانات داغے تھے اور نواب اکبر بگٹی کے ساتھ افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔بھٹی صاحب کا کہنا تھا کہ کشمیری راہنمائوں اور خصوصاً گیلانی صاحب کا پاکستان کی چوٹی کی لیڈرشپ سے ملاقات کا موقع ملنا نا ممکنات میں سے ہے اور یہ ایک نایاب موقع ہے کہ کشمیر میں تحریک کو درپیش مسائل سے صدر پاکستان کو، جو ملٹری لیڈر بھی تھے، باور کراکر انہیں فی الفور حل بھی کروایا جائے؛چنانچہ میں معذرت کرکے رخصت ہوگیا۔مگر ان کی اس بات سے کہ کشمیر کے اپنے مسائل کچھ کم نہیں ہیں، جو کوئی کشمیری راہنما صدر پاکستان کے ساتھ بلوچستان کا درد بھی سمیٹنے بیٹھے، تھوڑا بہت مجھے بھی اتفاق کرنا پڑا۔گھر آکر میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تمہارے والد (سید علی گیلانی) نے ایک تو بھارت کے خلاف علم بلند کیا ہوا ہے ، اور دوسر ی طرف ا ب’’ واحد دوست اور وکیل‘‘ پاکستان کی لیڈرشپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔آخر میڈیا کی رپورٹس کی بنیاد پر ان کو بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میٹنگ سے ایک روز قبل 16اپریل 2005 کو گیلانی صاحب دہلی وارد ہوگئے تو میری اہلیہ ان سے ملنے گئیں تو شاید ان کے گوش گزار کیا۔ دیگر ذرائع سے بھی پاکستانی حکومت نے شاید ان تک یہ بات پہنچائی تھی کہ صدر پاکستان کے ساتھ ملاقات میں انہیں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔اگلے روز صبح سویرے میرے گھر وارد ہوکر پہلے انہوں نے مسکرا کر کہا،‘‘ کہ اپنے دوست اور محسن کو یہ کہنا کہ اپنے گھر کاخیال رکھو اور اسکو کو فتوں سے خبردار کرنا آخرکیوں کر سفارتی آداب کے منافی ہے ؟ و ہ شاید متفق ہو گئے تھے کہ گفتگو کشمیر تک ہی مرکوز رکھیں گے۔ بہر حال دوپہر4بجے جب وہ لیاقت علی خان کی دہلی کی رہائش گاہ اور موجودہ پاکستان ہائوس میں پہنچے تو طاقت کے نشے میں سرشار مشرف نے ان کے وفد میں شامل دیگر اراکین سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا۔کرسیوں پر بیٹھنے سے قبل ہی گیلانی صاحب نے دوٹوک الفاظ میں مشرف سے کہا،’’کہ یہ داڑھی والا نوجوان (نور احمد) ، جو میرے ساتھ ہے ، پوسٹ گریجویٹ ہے۔ (جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply