ریاست کو کھوکھلا کرنے پر انتباہ ۔ ۔اظہر سید

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں موجودہ چھ ستمبر پر قوم نے مسلح افواج کو وہ خراج تحسین پیش نہیں کیا جسکا 1965 کے بعد سے ہر سال موجودہ پاکستان میں اعادہ کیا جاتا تھا ۔
چیف صاحب نے ففتھ جنریشن وار کے ذریعے ملک دشمن عناصر کی ایما پر فیک نیوز کےذ ریعے ملک کو نقصان پہنچانے پر غم و غصہ کا اظہار کیا ۔ چیف صاحب کا اضطراب بجا ہے ۔ مسلح افواج ملکی سلامتی کی ضامن ہیں جس طرح آزاد عدلیہ اور میڈیا کے ساتھ آئین اور قانون کی پاسداری ضامن ہے ۔جنرل ضیا الحق کے گیارہ سالہ اور جنرل مشرف کے نو سالہ اقتدار میں عوامی رائے مسلح افواج کے متعلق عمومی طور پر منفی نہیں تھی ۔

کوئی بھی پاکستانی سوشل میڈیا پر کسی غیر ملکی خصوصاً بھارتیوں کو پاکستان اور افواج پاکستان پر تنقید کا منہ توڑ جواب دیتا تھا گویا وہ خود کوئی فوجی ہے ۔ہر ملک کا ہر شہری اپنی افواج کا غیر مشروط دفاع کرتا ہے اسوقت تک جب تک عوامی شعور اپنی افواج کو اس طرح دشمن تصور نہ کرلے جس طرح بنگلادیشیوں نے کیا ۔

tripako tours pakistan

طاقت کے زور پر نہ احترام کرایا جا سکتا ہے نہ اپنی مرضی کی حب الوطنی پیدا کرنا ممکن ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں ملکی سلامتی کو نقصان پہنچنے پر ہر ملک کا ہر شہری مضطرب ہوتا ہے ۔ شہریوں کی اکثریت اگر اداروں کو ملکی سلامتی کیلئے خطرناک سمجھنے لگے یہ خوفناک صورتحال ہوتی ہے ۔

جنرل باجوہ نے کہا فیک نیوز سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔سچ کہا ۔ مولانا فضل الرحمٰن کی بھارتی را کے چیف کے ساتھ جعلی تصویریں ، میاں نواز شریف کی ملوں سے را کے جاسوس برآمد کرانے کی خبریں ، آصف علی زرداری کے خلاف فالودے والوں کے نام پر اربوں روپیہ کی منی لانڈرنگ ، پتہ نہیں فیک نیوز کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں ۔یہ جعلی خبریں کسی ادارے کے خلاف اجتماعی شعور میں اضافہ کا موجب بنی ہیں یا نہیں اس پر کوئی سٹڈی ضرور ہی ہونا چاہیے ۔

لوگ کہتے ہیں پاکستان ایک پلاٹ ہے ریاست نہیں ۔ اعلیٰ  عدلیہ کے ججوں کو پانچ کروڑ مالیت کے پلاٹ پندرہ لاکھ میں دینا ۔ تین سابق چیف جسٹس حضرات کا ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک چلے جانا پتہ نہیں حب الوطنی ہے یا نہیں ۔

ریٹائرڈ اعلیٰ  فوجی افسران کو ڈی ایچ اے میں قیمتی پلاٹ دینا اور زرعی اراضی فراہم کرنا پتہ نہیں فوج کے اعلیٰ  افسران کی پیشہ ورانہ اہلیت کیلئے ضروری ہے کہ نہیں ۔

جس ریاست میں دو پیسے کے چمونے یوٹیوبر بن کر ریاست کی بجائے ادارے کا دفاع کریں اور ادارے کے لوگوں کی غلطیوں کی نشاندھی کرنے والوں کو ریاست دشمن قرار دیں اس ریاست کو بیرونی دشمنوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اپنے ملک سے محبت غیر مشروط ہوتی ہے اس کیلئے ریاست یا ادارے کے فنڈز درکار نہیں ہوتے ۔جہاں ففتھ جنریشن میڈیا کے دور میں تنخواہ دار مجاہد ریاست کے اصل دشمنوں کی بجائے ریاست کے اندر سے ملک دشمنوں کی نشاندھی کریں وہاں بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

بلوچستان ، سندھ ، آزاد کشمیر ، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں عوام کا اجتماعی شعور سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا کر نہیں روکا جا سکتا ۔
چالیس سال سے افغانستان فروخت کیا اب ہنی مون ختم ہونے کو ہے ۔ پنج شیر میں طالبعلموں کی کامیابی ہم سمجھتے ہیں ہنی مون ختم ہونے کی علامت ہے ۔کابل میں پاکستان اور طالبعلموں کے خلاف جلوس نکلا ہے ۔ آج خواتین کے اس احتجاجی جلوس میں ہزاروں مرد بھی شامل ہیں جو آزادی اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔

سود سمیت ادائیگیوں کا وقت ہے اور ہمیں اس سے خوف آرہا ہے ۔بھارتیوں کی ناکامی اور اربوں ڈالر کے نقصان پر بغلیں بجانے کی بجائے طالبعلموں کو ملک چلانے کیلئے درکار پیسوں کے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت ہے ۔ اپنا ملک تو دیوالیہ ہو چکا ہے طالبعلموں کا ملک کون چلائے گا ؟

Advertisements
merkit.pk

سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے کی بجائے عالمی برادری جو پابندیاں ہم پر لگائے گی اس کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔جب چھ لاکھ مسلح ایٹمی فوج کا سربراہ سرعام یہ کہے کہ صدیق جان کا یوٹیوب پروگرام دیکھتا ہوں سمجھ لیں ریت میں سر چھپایا جا رہا ہے یا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی جا رہی ہیں ۔تلخ سچائیاں بتانے والوں کی بجائے پیڈ جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے والوں کو سن کر ضمیر نامی چیز کے ساتھ فراڈ کیا جا رہا ہے ۔
اللہ اس ملک کو قائم دائم رکھے ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply