خود کلامیاں۔۔عظمیٰ لطیف

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ۔۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے ، اور ذہن جو کچھ سوچتا ہے،اس سب کو الفاظ کا روپ دے دوں، مگر پھر سوچتی ہوں کہ یہ سب تو آفرینش آدم سے ایسا ہی چل رہا ہے ،تو میرے مشاہدات، تجربات ،خیالات دوسروں تک پہنچانے سے کیا ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری آ پائے گی ؟ ۔کہیں میں بندۂ مزدور کے تلخ اوقات کو مزید تلخ کرنے کا باعث تو نہ بن جاؤں گی؟ میری تحریر سے کسی کی دلآزاری تو نہ ہو جائے گی؟،کیا میں انصاف کر پاؤں گی؟، کیا میں یہ ذمہ داری نبھا سکوں گی ؟

قلم اور الفاظ بے پناہ طاقتور ہتھیار ہیں،کئی مرتبہ انہوں نے تاریخ کے دھارے بدل ڈالے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر ایسے پیش کیا کہ آج تک انسان محو حیرت ہے ۔ہر قوم کا ،ہر تہذیب کا ،ہر مذہب کا اپنا سچ ہے ،جو باقی سب کے لیے جھوٹ ہے۔

tripako tours pakistan

یہ دنیا اور اس کے قائدے قانون بڑے عجیب ہیں ۔ ایک حیرت کدہ ہے کہ جس میں انسان کبھی تماش بین ہے تو کبھی تماشا اور مزے کی بات یہ ہے کہ جو آج تماش بین بن کر لطف لیتا ہے ،کل کو خود تماشا  بن جاتا ہے ۔ہر انسان ایک الگ دنیا، ایک الگ کائنات۔جتنے انسان ،اتنی دنیائیں،اتنی کہانیاں بلکہ کبھی کبھی ایک ہی انسان میں کئی کہانیاں اور کئی دنیائیں۔ واہ رے بنانے والے ! تو کتنا دلچسپ ،کتنا متنوع ہو گا۔تیری ہر تخلیق کے اتنے رنگ ہیں تو تیرے کتنے رنگ ہونگے ۔ تُو تو رنگ ہی رنگ ہو گا ،خوبصورتی ہی خوبصورتی، حُسن ہی حُسن۔

Advertisements
merkit.pk

بات لکھنے اور قلم کی طاقت سے کہاں سے کہاں جا پہنچی۔۔۔انسان اور اس کی سوچیں بہتے پانی میں ناؤ کی طرح ہوتی ہیں ،ناؤ کو بھی اگر پانی میں چھوڑ دو تو بہاؤ کے ساتھ کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے ۔ قلم ایک طاقت ہے ،اس سے انکار نہیں، مگر ہر طاقت کے ساتھ ذمےداری ہوتی ہے ،اور اگرقلم کار ذمہ داری اٹھا لے تو خود احتسابی کا عمل وہ ساتھ ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اس راہ پر ،کوئی ہار پھول لے کر آپ کا منتظر نہیں ہو گا بلکہ دونوں طرف سے سنگ باری ہو گی، ایک ایک لفظ کو ادھیڑا جائے گا، ایک ایک خیال کو کئی زاویوں سے کھنگالا جائے گا ۔ساتھ ہی ساتھ آپ کی شخصیت کے پر خچے اڑائے جائیں گے ۔اور اگر آپ ایک خاتون ہیں تو۔ ۔۔الامان و الحفیظ !

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply