پاکستان اور امریکہ کی دوستی – حقیقت یا سراب؟۔۔عامر کاکازئی

ہنری کسنجر نے ایک بار کہا تھا کہ ” امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک ہوسکتا ہے ، لیکن دوست بننا مہلک ہے۔”

اندرا گاندھی نے اوریانہ فلاشی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ” امریکہ ہمیشہ سوچتا ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن اگر یہ پاکستان کی مدد نہ کر رہا ہوتا تو پاکستان زیادہ مضبوط ملک ہوتا۔ آپ کسی ملک کی مدد اس کی فوج کے رستے نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہاں جمہوریت نام کو نہیں ہوتی۔ اور جس بات نے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا۔ وہ اس کی فوجی حکومت تھی۔ اس حکومت کو امریکیوں نے سہارا دے رکھا تھا۔ کبھی کبھار دوست بھی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیں اُس مدد کو بڑے محتاط طریقے سے لینا چاہیے، جو مدد ہمیں دوست فراہم کرتے ہیں۔”

tripako tours pakistan

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی اور ملک سے مدد لینا بُری بات ہے ؟

جواب مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ مطلب کہ اصل چیز مدد لینا نہیں، اصل چیز یہ ہے کہ مدد کس مقصد کے لیے لی جا رہی ہے۔ اگر مدد ملک اور عوام کی ترقی کے لیے لی جا رہی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں، مثال کے طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان امریکہ ہی کی مدد سے معاشی طور پر دنیا میں اُبھرے۔اپنا تباہ حال انفر اسٹرکچر   دوبارہ بنایا اور بہترین کر دیا۔ ٹیکنیکلی ہو یا سائینٹیفیکلی، دونوں صورتوں میں دونوں ملکوں نے ترقی کی۔ دونوں نے اپنے اداروں کی اصلاح کی اور غیر ملکی ٹیکنالوجی کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ۔

لیکن اگر مدد اس لیے لی جاۓ کہ دوسرے ملکوں سے جنگ کی جاۓ، اسے تباہ کیا جاۓ۔ تو پھر وہ ہی ہوتا ہے جو اوپر ہنری کسنجر نے کہا تھا۔ بہترین مثال عراق اور پاکستان ہے۔

سادہ الفاظ میں اگر یہ کہیں کہ ایک بندہ کسی سے قرضہ یا مدد لیتا ہے۔ اب اُس پر منحصر ہے کہ اس پیسہ کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ یا تو اس پیسہ سے بزنس کرکے ترقی کر لے یا پھر اس پیسے  سے ہتھیار خرید کر اپنے خود ساختہ دشمن کو جا کر مار دے اور خود پھانسی پر چڑھ جاۓ۔ ایک راستہ خوشحالی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا تباہی کی طرف۔ اب فیصلہ پاکستانی ریاست کے حکمرانوں نے کرنا ہوتا ہے کہ کون سی راہ اختیار کریں۔ خوشحالی کی یا بربادی کی،مگر بدقسمتی سے جمہوریت نہ  ہونے کی وجہ سے ہمیشہ فوجی جنتا نے بربادی کا راستہ چُنا۔

عراق نے ایران کو اپنا خود ساختہ دشمن بنایا ہوا تھا اور پاکستان نے انڈیا اور رشیا کو۔ دونوں ملکوں میں نام کو جمہوریت نہیں تھی۔ دونوں ممالک نے امریکہ کی مدد فوجی انداز میں اپنے خود ساختہ دشمنوں کو کچلنے کے لیے لی۔ اب امریکہ اگر اس دشمنی سے فائدہ نہ اُٹھاتا تو  نادان  ہی کہلاتا۔

پاکستان کے حکمران اکثر یہ شکوہ کرتے ہوۓ ملیں گے کہ امریکہ پاکستان کی عزت نہیں کرتا۔ اور ہر دفعہ اپنا مفاد نکلنے کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ اگر انہوں نے مندرجہ ذیل دو امریکی سیاست دانوں کے یہ اقوال پڑھے ہوتے تو شاید یہ شکوہ نہیں کرتے۔

تحریر ہنری کسنجر اور روزویلٹ کے اقوال پر ختم کرتے ہیں۔

ہنری کسنجر: امریکہ کا کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہے، اس کے صرف مفادات ہیں۔

روزویلٹ : اگر کوئی ریاست اپنی قوم اور اس کے مفادات کے لیے کام کرنے سے قاصر ہے، تو وہ دوسروں سے ان کی عزت کی توقع نہیں رکھ سکتی۔

دنیا کی ہر ریاست کو جب بھی کسی اور ریاست سے معاملات طے کرنے ہوں تو اُس ریاست کو اوپر لکھے ہوۓ دو سنہری اقوال کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

Advertisements
merkit.pk

حوالہ:
Interview with history by Oriana Fallaci
World Order and Diplomacy by Henry Kissinger.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply