ماں ۔ سو الفاظ کی کہانی/سیف الرحمن ادیؔب

بجتے ہوئے گانوں کے پیچھے ہلکی سی آواز سنائی دی،
میں نے ہینڈ فری اتارا، دوبارہ وہی آواز آئی،
مجھے نام سے بلایا جا رہا تھا، آواز امی کی تھی۔
“یقینا کوئی کام ہوگا۔” میں غصے میں بڑبڑایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
تیسری آواز آئی،
“چند منٹ سکون بھی نہیں کرنے دیتے،
اس گھر میں میری حیثیت بیٹے کی نہیں، ملازم کی ہے،
کام کرنے کے لیے ہی پیدا ہوا ہوں۔”
نہ جانے کیا کیا بولتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگا۔
نیچے امی نظر آئیں، ہاتھ میں گلاس تھا،
“کئی دفعہ تم سے کہا ہے،
دودھ پیے بغیر مت سویا کرو۔”

  • merkit.pk
  • merkit.pk

سیف الرحمن ادیؔب
سیف الرحمن ادیؔب کراچی کےرہائشی ہیں۔سو الفاظ کی کہانی پچھلے دو سالوں سے لکھ رہے ہیں۔ فیسبک پر ان کاایک پیج ہےجس پر 300 سےزائد سو الفاظ کی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی سو الفاظ کی کہانیوں کا ایک مجموعہ "اُس کے نام" بھی پی ڈی ایف کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply