• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • دو قومی نظریے پر کلیدی خطبہ گاندھی جی دیں گے۔محمد اظہارالحق

دو قومی نظریے پر کلیدی خطبہ گاندھی جی دیں گے۔محمد اظہارالحق

ہمارے دوست معروف دانشور  ،جناب خورشید ندیم تحریر میں کم خواب و پرنیاں جیسے الفاظ  استعمال کرتے ہیں ،گفتگو میں بھی نرم ہیں اور بعض اوقات امیدیں قائم کرنے میں بھی ضرورت سے زیادہ فیاض۔

دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی کے بارے رقم طراز ہیں کہ۔۔

“تدریجاً” یہ ادارہ ایک جدید  مدرسہ بنتا چلا گیا۔ زیادہ سے زیادہ مخصوص مذہبی  تعبیرات کا تبلیغی مرکزیا ایک مذہبی  سیاسی جماعت کے وابستگان کے لیے روزگار کا وسیلہ۔ علمی کم  مائیگی کی ایک وجہ  یہ رہی کہ یہاں علمی تحقیق کے لیے حوصلہ افزا فضا میسر نہ ہوسکی، ادارہ تحقیق  اسلامی کو  یونیورسٹی سے وابستہ کردیا گیا۔مگر ڈاکٹر فضل الرحمن کے ذکر پر پابندی  رہی،جن کی علمی وجاہت کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں  اب یونیورسٹی نے سر سید احمد خان کو دو روزہ کانفرنس کا موضوع بنایا  تو میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھا”

جس یونیورسٹی کو خورشید  ندیم صاحب جدید مدرسہ کہہ رہے ہیں ،وہ مدرسہ تو ہوسکتا ہے، جدید ہرگز نہیں ۔کئی دارالعلوم اکٹھے کئے جائیں تو  تنگ نظری  اور مخصوص مذہبی تعبیرات میں اس “یونیورسٹی” کی گرد کو نہ پہنچ سکیں ،سرسید کانفرنس کے انعقاد پر خوشگوار حیرت  خورشید ندیم صاحب کو نہ جانے کیسے ہوئی؟

اگر قائداعظم پر سیمینار ہو اور کلیدی خبطہ  مولانا حسین احمد مدنی  یا سردار ولبھ بھائی پٹیل سے دلوایا جائے تو حیرت کیسی؟

“یونیورسٹی” کی نیت صاف ہوتی تو سرسید کے خلاف روایتی ملائیت کو یکجا کرنے کے ساتھ ساتھ ان دانشوروں کو بھی مدعو کرتی جو سرسید کو گردن زنی نہیں ،محسن سمجھتے ہیں۔

چلیں جاوید  غامدی یا خورشید ندیم کو نہ بلاتے کہ یہ عامی ہیں ۔ بیچارے اردو میں پی ایچ ڈی ہیں ،نہ کسی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں ، مگر ڈاکٹر مہدی حسن کو بلا لیتے ۔اگر ڈاکٹر مہدی حسن کو تنظیم اسلامی والے اپنی تقریب میں بلا سکتے ہیں جہاں ڈاکٹر صاحب نے ثابت کیا تھا کہ پیغمبرپر”روشن خیالی” کا الزام لگا تو “یونیورسٹی” کیوں نہیں بلاسکتی۔

ڈاکٹر ہود بھائی کو بلا لیتے پروفیسر  فتح محمد ملک تو اسلام آباد میں موجود تھے۔

خدا کے بندو! سرسید کے ناقدین ہی کو جمع کرنا تھا تو سجاد میر کو بلا لیتے۔ ڈھنگ سے بات کرتے ہیں ،گفتگو کا فن جانتے ہیں ۔ دلائل دیتے ہیں ،اور سنتے ہیں ۔ مگر ان میں سقم یقیناً یہ نظر آیا ہوگا کہ نہ ملاں ہیں نہ  پیر۔

یہاں آنکھوں دیکھا،بلکہ بیتا واقعہ بیان کرنا اس نکتے کی وضاحت کرے گا کہ اس یونیورسٹی نما  دارالعلوم میں کس مائنڈ  سیٹ کے پروفیسرز اکٹھے کئےگئے ہیں ۔

غالباً دو سال پہلے کی بات ہے، پاکستان اکادمی ادبیات میں الطاف حسین حالی کے  حوالے سے ایک تقریب ہوئی۔ ایک خاتون نے اوراق خوانی کی،تاثر یہ دینے کی کوشش کی کہ بکسر کی شکست سے لے کر ،ٹیپو سلطان کی شہادت تک اور  1857 کی پسپائی سے لے کر جلیانوالہ باغ کی ہلاکتوں تک،ہر ناکامی کا ذمہ دار  یہی شخص تھا۔ جس کا نام حالی تھا۔۔ انگریزوں کا خادم ۔

اسلام آباد کے سب بڑے بڑے دماغ ،بڑے بڑے جسموں کےساتھ وہاں براجمان تھے۔ منہ میں سب کے گھگھنیاں تھیں ۔ اس طالب علم نے اپنی باری پر تصویر کا دوسرا رُخ دکھانے کی مقدور بھر سعی کی، یہ ہے وہ مائنڈ سیٹ جو “یونیورسٹی” میں طلبہ اور طالبات کے ذہنوں میں اپنا مخصوص نکتہ نظر ٹھونس رہا ہے۔ نظم و نسق ملائیت کے سپرد ہے ۔علاقہ مذہبی سیاسی جماعت کا مفتوحہ ہے۔

نہلے پر دہلا یہ ہوا کہ اقبال نے تینوں قاتل عناصر کا ذکر  الگ الگ کیا تھا۔

؎اے کشتہ ء سلطانی و ملائی و پیری

مگر سر سید کا دماغ ٹھکانے لگانے  کے لیے یونیورسٹی نے مُلائی اور پیری کا ایسا مہلک  امتزاج  Lethal combination

کھڑا کیا کہ اس انتخاب پر داد نہ  دینا بدذوقی ہوگی۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ڈیڑھ سو سال سے سر سید پر مُلائیت حملہ آور ہے، اور زیادہ مشتعل اس لیے ہے کہ ایک مخصوص حلقے سے باہر اس کی کسی نے سنی نہیں۔

یہ حلقہ بھی مُلائیت کا اپنا ہے۔ یہ وہی مُلائیت ہے جس نے جہانگیر کو اور عثمانی خلیفہ کو پریس قبول کرنے سے روکا ۔جس نے مذہب کو زندگیوں سے نکال  کر ظاہری وضع قطع  اور لباس تک محدود کردیا۔ جس نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر اور ٹیلی ویژن حرام ہے اور پھر کہا حلال ہے۔ بلکہ اپنے اپنے چینل کھول لیے۔ یہ وہی مُلائیت ہے جو اب بھی مسلمان  نوجوانوں کو سائنس ،انجینئرنگ  اور  میڈیکل کی تعلیم ادھوری چھڑوا کر مدرسوں کی طرف بھیج رہی ہے۔

پیری مریدی کے راستے سیادت اور امارت کا حصول  تو عام تھا۔اب پیری مریدی کے راستے ادب فتح کیا جانے لگا ہے۔ایک صاحب کا دعویٰ  ہے کہ وہ علمی تصوف سے متعلق ہیں ۔فضا انہوں نے اپنے ارد گرد تقدس اور روحانیت کی باندھی ہے، اس فضا کا لامحالہ نتیجہ آمنا و صدقنا اور صم بکم عمی ہوتا ہے۔چنانچہ حلقہ بگوشوں میں  اختلاف کا رواج ہے  نہ ہمت!

کوئی استاذ العلماء  کہتا ہے تو کوئی مرشد۔

واقعہ یہ ہے کہ یہی راستہ حُب  جاہ اور عُجب کی طررف جاتا ہے جو تعظیم و اطاعت کرتا ہے۔ تو خرابی آجاتی ہے۔ دوسروں کی نظر میں استاذ العلماء اور مرشد ہونا ہی تو جاہ ہے۔ اسی سے ایک پگڈنڈی عُجب کی طرف جاتی ہے۔ حدیث میں ہے۔۔۔”رہے ملہلکات سو وہ  خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے ،اور  بخل ہے جس کے موافق عمل کیا جائے، اور آدمی کا اپنے آپ کو  اچھا سمجھنا  (اعجاب المرءبنفسہ) اور  یہ سب سے بڑھ کر ہے”

جبھی تو ناصر کاظمی نے کہا تھا۔۔۔

سادگی سے تم نہ  سمجھے ترکِ دنیا کا سبب

ورنہ یہ درویش پردے میں تھے دنیا دار بھی!

اس مصیبت سے بچنے کے لیے ہی تو ملامتیہ نے اپنے آپ کو عاصی بنا کر پیش کیا کہ حب و جاہ  اور عُجب سے جان چھڑائی جائے۔اب جب پیری  مریدی کا نظام قائم ہوچکا  ،ہر بات  مرشد کی مستند سمجھی جانے لگی۔ تو ادب اور تاریخ  کی طرف  رُخ ہوا فضا وہی آمنا صدقنا کی ! پھر خاص قسم کے الفاظ اور  طویل فقرے۔ پھر لفظوں کو چبا چبا کر ایک مخصوص ادائیگی جس میں  نسائیت بھی جھلکتی ہے۔ بقول خؤرشید ندیم صاحب “غور و فکر کی صلاحیت کچھ دیر کے لیے سلب ہوجاتی ہے”مگر سب جھاگ!

سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انگریزی یا  کسی زبان میں ترجمہ کریں تو ہاتھ  کچھ نہ آئے، اسی لیے اوزار جو پکڑا گیا ہے، گفتگو تحریر نہیں ! تحریر میں آپ کو substanceدینا پڑتا ہے۔

ایک چڑیا گھر میں شیر لایا گیا، زبیرے نے اسے پہلی بار دیکھا تھا، اس کے پاس آیا پوچھا تم کون ہو ،کیا کرتے ہو؟

شیر نے  توجہ نہ دی ۔۔دوسرے  دن پھر آیا۔،پھر تیسرے دن،چوتھے دن آخر شیر تنگ آ  گیا، اس نے زبیرے سے کہا پہلے یہ دھاری دار چادر اتارو، پھر میرے ساتھ کشتی لڑو،تمھیں معلوم  ہوجائے گا، میں کون ہوں ،

بھائی! آپ پیری مریدی کی، تقدس کی ،مرشدیت کی دھاری دار چادر اتاریں ۔ عقیدت مندوں اور مریدوں  سے باہر نکلیں  اور ادب اور تاریخ  کے طالب علم(چلیے بہت بڑے سکالر) کے طور پر باہر  نکلیں تو آٹے دال کا بھاؤ  معلوم ہو!

پیر صاحب کے مفروضؤں  کو چیلنج کوئی مرید نہیں کرتا ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب من جانب اللہ ہے۔ یہ محض  مفروضہ ہے کہ اینٹی تھیسس تھیسس ہی سے نکلتا ہے ۔یہ بھی مفروضہ ہے کہ سرسید کی جدو جہد کو صرف تعلیمی میدان تک محدود کرنا  فکری افلاس کی دلیل ہے ۔اس طائفے کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہے کہ  موجودہ نطام ِ تعلیم فکرِ  سرسید کی پیداوار ہے ۔چلیے یہ متنازعہ بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے کہ  ڈیڑھ سو برس ہوچکے ہیں ۔ جسے آپ درست سمجھتے ہیں  ؟

آپ سرسید کے عیوب کے بجائے ہمیں اپنے محاسن سے بھی تو مطلع فرمائیے ،

ضیا الحق کے اقتدار کے  پورے عشرے میں اس  مکتب فکر کی مکمل حکمرانی تھی۔ جسے سرسید سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

حکومت کی طاقت بھی تھی،مذہبی جماعتوں اور “اصحاب رشد و ہدایت “کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا۔ خزانوں کے منہ مشائخ کانفرنسوں کے لیے کھلے تھے، ملائیت کا رقص زور و شور سے جاری رہا،تو پھر آپ  سرسید کو پیش منظر سے ہٹا کر اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا لیتے۔

مگر اصل مسئلہ دلائل کا نہیں ،نہ کلیدی خطبے کے مندرجات کا۔ اصل مسئلہ اس ” حسنِ نیت”کا ہے جس نے سرسید پر سیمینار اس لیے کرایا کہ جانے پہچانے مخالفین کو مسند پر بٹھایا جائے۔، اور وہی اعتراضات دہرائے جائیں  جو سرسید پر ملائیت ڈیڑھ صدی سے کر رہی ہے۔

جیسا کہ اوپر مثال دی گئی ہے کہ قائداعظم پر سیمینار ہو اور کلیدی خطبہ مولانا حسین احمد مدنی یا کانگرسی زعما میں سے کوئی دے تو کیا  آپ اس خطبے کا جواب دینے بیٹھ جائیں گے ؟یا اس بدنیتی کا ماتم کریں گے جس نے قائداعظم کے دشمنوں کو کھلی چھٹی دی۔

ظلم یہ ہے کہ سر سید کے افکار  کی ہمہ جہتی اور ہمہ گیری سے ان دشنام طرازوں  کو مکمل آگاہی نہیں ۔سرسید اندھوں کے اس طائفہ کے لیے وہ ہاتھی ہے جس کا یہ  محض کان یا پاؤں ٹٹولتے پھر رہے ہیں ۔،

مکمل فکر اور عمل جو سر سید کا کارنامہ ہے،توجہ سے محروم ہے اور ذہنی بساط سے بھی۔مثلاً  اگر اس  درد سے واقف ہونا  ہو جو سر سید کے دل میں برصغیر کے ایک عام باشندے کے لیے تھا تو ان کی تصنیف “مسافر ان لندن “کا مطالعہ لازمی ہے ۔وہ اپنی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے کتنے بڑےعَلم بردار تھے دیکھیے۔۔۔

“اس تمام ترقی کا باعث  انگلستان میں صرف یہ ہے کہ تمام چیزیں  تمام علوم تمام فن جو کچھ اس قوم  کی زبان میں ہے ،پس  جو لوگ حقیقت میں ہندوستان کی بھلائی  اور ترقی چاہنے والے ہیں وہ یہ جان لیں کہ  ہندوستان کی بھلائی صرف  اسی پر منحصر نہیں ہے کہ تمام علوم  اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک انہی کی زبان میں ان کو دیے جائیں ۔ ہمالیہ کی چوٹی پر یہ الفاظ  کھود دئیے جائیں کہ ہندوستان اسی  وقت ترقی کرسکتا ہے جب وہاں تعلیم اس کی اپنی زبان میں دی جائے”

موضؤع بہت طویل ہے    باتیں بہت سی ہیں  مگر مجھے جانا ہے، اسی یونیورسٹی نے دو قومی نظریے پر سیمینار منعقد کیا ہے ۔سنا ہے گاندھی جی کلیدی خطبہ دیں گے۔ میں اس سنہری موقع کو کھونا نہیں چاہتا،سو،خدا حافظ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *