مالا۔۔اقتدار جاوید

”خاک زار‘‘ کی شاعری پچھلی صدی کے اواخر میں شروع ہوئی اور ہنوز اسی وارفتگی، تازگی، سرشاری اور محبت سے جاری ہے۔ اس شاعری میں محبت کے وہ مضامین نہیں‘ جو عام شاعروں اور شاعری کا خاصہ ہیں۔ اگر قاری کو کلیشے کی ماری محبت کی تلاش ہے تو یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں۔ یہ کلیات ہے‘ قمر رضا شہزاد کے چھ شعری مجموعوں کا کلیات۔ شاعر نے اپنے تمام ادبی بوجھ سے آزاد ہو کر شاعری کی ہے۔ شاعر پنجاب کے مختلف شہروں میں قیام پذیر رہا سو اس میں پنجاب کا کھلاپن بھی ہے اور کھل کر بات کرنے کا سلیقہ بھی۔ کلیات تو شائع ہو گیا مگر شاعر کی منزل ابھی کہیں آگے ہے۔ میں اس کے درجنوں اشعار کوٹ کر سکتا ہوں جن میں اس عہد کی سچائیاں سمٹتی چلی آئی ہیں۔ ایک ایک شعر ایک ایک عہد۔ ایک ایک مصرع ایک کار ِ محبت۔
نظر میں آتا ہوں پھر دل کے پار ہوتا ہوں
میں ایک عمر کے بعد آشکار ہوتا ہوں
ہر ایک شکل کی شناخت ہو گی
میں جاگ اٹھا مرا خمار جا چکا
مطلوب آپ کو ہے اگر اپنی خیریت
سب کی سلامتی کی دعا کیجیے جناب
شہزاد اور ہم نے اکٹھا ادبی سفر فنون سے شروع کیا تھا۔ فی زمانہ مجموعی طور پر پاکستانی بلکہ پنجاب کی غزل بہت پائیدار ہے۔ انفرادی طور پر اس کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے جاتے ہیں‘ اس احساس کو زائل کرنا از حد ضروری ہے۔
ایک اہم کتاب ”محمد افسر ساجد کے نام ادبی مشاہیر کے خطوط‘‘ ملتان سے شائع ہوئی ہے۔ اس میں ان کے نام اڑسٹھ خطوط ہیں جو 1988ء سے 2014ء کے دوران لکھے گئے۔ اس کے بعد شاید وٹس ایپ اور فیس بک کا زمانہ آنے کی وجہ سے خطوط آنا بند ہو گئے۔ خطوط نگاری ادب میں بہت اہم شے ہے جس سے اس زمانے کے ادبی رجحانات اور شخصی آرا کا پتا چلتا ہے۔ خطوط نگاری میں ابوالکلام آزاد کے لکھے گئے خطوط کلاسیک کی حیثیت رکھتے ہیں جو غبار ِخاطر کے نام سے شائع ہوئے۔ یہ احمد آباد جیل سے لکھے گئے خطوط ہیں۔ ہمارے بزرگ یہ کتاب اپنے سرہانے تلے رکھتے تھے۔ ادب اور زندگی کا اعلیٰ امتزاج‘ ایک ایک سطر نایاب خزانہ لگتی تھی۔ زیر ِ نظر کتاب میں خطوط ہمارے عہد کے سارے اہم مشاہیر کی جانب سے لکھے گئے ہیں۔ جن میں محمد سلیم الرحمن، مشفق خواجہ، وزیر آغا، افتخار عارف، جمال احسانی، احمد ندیم قاسمی، اقبال صلاح الدین، نصیر احمد ناصر، ڈاکٹر سلیم اختر، غلام جیلانی اصغر، جیلانی کامران، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر محمد علی صدیقی اور کئی دیگر اہم نام شامل ہیں۔ جس کے نام یہ خطوط لکھے گئے‘ انہوں نے پیش لفظ میں درست لکھا کہ ان خطوط کی اشاعت کا مقصد خود نمائی ہر گز نہیں؛ البتہ ان سے میرے ادبی ذوقِ تجسس اور علمی و فنی میلانات کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔ اعجاز رحیم نے A Treasure of Epistolary Records کے عنوان جو دیباچہ نما تحریر لکھی ہے‘ وہ پڑھنے کے لائق ہے اور اس کا ذائقہ تا دیر زبان پر محسوس ہوتا ہے۔ اب عید کارڈ اور خطوط نویسی قصہ پارینہ ہے ‘ شاید یہ کتاب اس سلسلے کی آخری کڑی ہو۔ ان خطوط میں ڈاکٹر وزیر آغا نے مصنف کی نظموں کا بین السطور تجزیہ بھی کیا ہے۔ اور افسر ساجد کی نظم میں ”سائے ‘‘کے کردار کا بھی ذکر کیا ہے۔ مصنف نے بعض اہم خطوط کے عکس شامل کر کے ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ ایسے خطوط قیمتی ادبی اثاثہ تو ہوتے ہی ہیں‘ ان سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مکتوب الیہ کا ادب میں کیا مقام ہے۔
سید افسر ساجد ایک اعلیٰ نظم گو شاعر ہیں۔ جدید نظم کیسے لکھی جاتی ہے‘ کوئی ان سے سیکھے۔ ان کے ادبی کالم‘ جو ایک انگریزی معاصر میں شائع ہوتے ہیں‘ سب سے الگ ذائقہ کے حامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے علمیت کو اپنی ادبی تخلیقات پر حاوی نہیں ہونے دیا‘ جو ان کی اعلیٰ ظرفی کی مثال ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ افسروں میں افسر اور شاعروں میں شاعر ہیں۔ ورلڈ پنجابی فورم اور روزن ادبی فورم کا ترجمان ”کانگاں‘‘سہ ماہی پنجابی مجلہ ہے جسے پنجابی زبان کے سیوک افضل راز گجرات سے شائع کرتے ہیں۔ شاہد اقبال گھمن، مقصود چودھری اور رانا پرویز اختر بھی ادارت سے منسلک ہیں۔ تین خصوصی نمبروں کی اشاعت نے پرچے کی اہمیت اور بڑھا دی ہے۔ اس بار یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ تنقید اور تحقیق کرنے والے دوستوں کی مکمل کتابیں پرچے کی زینت بنی ہیں۔ ”مقالہ تے مقالہ نگاری دے مڈھلے اصول‘‘ جو ڈاکٹر سونیا‘ اللہ رکھا اور سحرش افتخار کی مشترکہ کاوش ہے اور ”پنجابی کلاسیکل قصیاں وچ بوٹیاں دا سانسی تے سماجی ویروا‘‘از ڈاکٹر صائمہ بتول بھی اس میں شامل ہیں۔ اداریے میں مدیر نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ ہر پرچے میں ایک مکمل کتاب پیش کی جائے گی۔ یہ سلسلہ پہلے ہمارے دوست آغا امیر حسین نے شروع کیا جو کلاسیک لاہور کے زیر ِ اہتمام ہر ماہ ایک کتاب پرچے میں شامل کرتے تھے۔ یہ ایک اچھی رِیت ہے اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح اکتوبر تادسمبر 2020ء کے شمارے میں انور ندیم علوی کی ”نصف صدی دا قصہ‘‘ اور علی بابر کی ”چپ توں بعد‘‘ دو مکمل کتابیں شائع کی گئی ہیں۔ سحرش افتخار نے ”ڈاکٹر شہزاد قیصر مظلوماں دا ترجمان‘‘ کے عنوان تلے ان کی شاعری میں محنت کش اور مظلوم طبقے کے لیے لکھی گی شاعری کا تجزیہ کیا ہے۔ کانگاں برائے ماہِ جنوری تا جون 2021ء میں تین کتب شامل ہیں۔ شمیم اختر کا مقالہ ”بھائی گرداس دیاں واراں‘‘ اعلیٰ مقالہ ہے۔ بھائی گرداس پنجابی زبان کے بہت اہم شاعر ہیں‘ وہ سکھ مذہب کے ماننے والے تھے اور گرو ارجن کے ساتھ مل کر گرنتھ صاحب مرتب کی تھی۔ جب ہم نے 2018 ء میں ”پو دی وار‘‘ لکھنے کا ارادہ کیا تھا تو بھائی گرداس کی واریں پڑھی تھیں۔ چونکہ پانچ سو سال میں پنجابی میں بہت ساری تبدیلیاں آ چکی ہیں‘ شمیم اختر نے واروں کا ترجمہ کر کے قاری کی مشکل اور آسان کر دی ہے۔ شمیم اختر مبارکباد کی مستحق ہیں کہ ایسا یادگار کام کیا ہے۔ افضل راز جس جذبے سے ماں بولی کی خدمت کر رہے ہیں‘ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سرکاری سرپرستی کے بغیر سہ ماہی پرچہ جاری رکھنا، پنجابی کتب پر انعامات دینا اور سب سے بڑھ کر پلّے سے تقریبات منعقد کر کے پنجابی لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ایک مشکل کام ہے۔
حکومت پنجابی زبان سے جس طرح سوتیلا سلوک کر رہی ہے‘ وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بھارت کی طرح ہر صوبے کی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے۔ بھارت میں اس وقت بائیس آئینی قومی زبانیں ہیں یعنی جن کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ پنجابی، ملیالم، بنگالی، کشمیری، اردو، آسامی، نیپالی، سنسکرت، تامل، ٹیلگو اور کئی اور غیر معروف زبانوں کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں ایسی زبانیں بھی ہیں جن کا پاکستانی قوم نے کبھی نام بھی نہیں سنا ہو گا مثلاً اوڈیا اور منی پوری وغیرہ۔ وہاں بہت سارے ادارے ہیں جو اقلیتوں کی زبانوں کو مرنے سے بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان زبانوں کے ادب کی ترویج کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جاتے ہیں‘ ریسرچ جاری رہتی ہے‘ کتب پر انعامات دیے جاتے ہیں۔ اسی لیے وہاں ادب میں بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں۔
یہاں پنجابی زبان کے بہت کم اعلیٰ معیار کے نمائندہ جرائد ہیں۔ اخبار تو ایک بھی کام کا نہیں۔ پنجابیوں نے اپنی آواز کے لیے کوئی موثر پلیٹ فارم نہیں بنایا۔ نچلی سطح پر مادری زبان کا نفاذ نہ ہونا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس وقت صرف سندھ میں سندھی زبان آفیشل اور سکول کی زبان بھی ہے۔ باقی تینوں صوبوں میں اردو ذریعۂ تعلیم ہے۔ سرکاری سکولوں میں پنجابی بچہ جس لہجے میں اردو بولتا ہے‘ وہ واضح کرتا ہے کہ مادری زبان کے علاوہ کوئی زبان حلق سے نیچے نہیں اترتی۔ افضل راز کی شبانہ روز محنت اور اپنی ماں بولی کے لیے خدمات پر خراجِ تحسین کہ انہوں نے محبت سے یہ مالا پروئی ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply