بھاندے دی ہر شئے بھاندی اے۔۔رؤف کلاسرا

جتنی محنت تین سالوں میں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر کی ہے اتنی تو انہوں نے شاید اپنا طویل کرکٹ اور سیاسی کیرئیر بنانے پر بھی نہیں کی ہوگی۔
اب تو وہ باقاعدہ حیران ہونا شروع ہوگئے ہیں کہ پنجاب میں اتنی ترقی ہوئی جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی‘ لیکن کسی کو وہ نظرکیوں نہیں آتی؟ ان کا خیال ہے ”درویش صفت ‘‘ وزیراعلیٰ اپنی ترقی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔ بقول خان صاحب: پچھلے حکمران اتنا کام نہیں کرتے تھے جتنا اس کا رولا ڈالتے تھے ‘ بزدار صاحب کام بہت کرتے ہیں لیکن خاموشی سے کرتے ہیں۔ خان صاحب کی لاڈلے وزیراعلیٰ بارے خوش فہمی اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں کام ہورہے ہیں یا نہیں خاموشی سے بڑی بڑی ” وارداتیں‘‘ ضرور ہورہی ہیں اور نوٹ چھاپے جارہے ہیں۔

پنجاب میں بھلا ترقی خاک ہوگی جہاں ہر تین ماہ بعد ڈپٹی کمشنر‘ کمشنر ‘ ڈی پی او اور آر پی او تبدیل ہوتے ہیں۔ وجہ ان کی اچھی بری کارکردگی نہیں بلکہ ”چونچ گیلی‘‘ کرنے کا ایشو ہے۔ خان صاحب حیران ہیں کہ لوگوں کو کارکردگی کیوں نظر نہیں آرہی جبکہ لوگ حیران ہیں کہ پہلے پنجاب میں ایسا نہیں سنا تھا کہ کوئی افسر کسی کی چونچ گیلی کر کے ڈی سی یا ڈی پی او لگا ہو۔ سفارشی ڈی سی او یا ڈی پی او ہر دور میں لگتے رہے ہیں لیکن یہ نیا کلچر متعارف کرایا گیا ہے کہ مال خرچ کرو۔ اگر تین سالوں میں تبادلوں کا ریکارڈ نکالا جائے تو شاید آپ لوگوں کو جھٹکا لگے کہ پنجاب کے چھتیس اضلاع کے ڈپٹی کمشنر تین تین یا کئی کیسز میں چھ دفعہ تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب تو سنا ہے کھلی بولی لگتی ہے کہ بتا کتنے دے گا؟ ڈیرہ غازی خان کا کمشنر تو چھٹی ساتویں دفعہ تبدیل ہوا ہے جو وزیراعلیٰ کا اپنا گھر ہے۔ گھر سے یاد آیا وہ وزیراعلیٰ جسے خان صاحب غریب اور پسماندہ کہہ کر لاہور لائے تھے ‘اب دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ اسکے پاس چار گھر ہیں اور چاروں کی سکیورٹی اور پروٹوکول پر ہر ماہ لاکھوں خرچ ہورہے ہیں۔ تونسہ سے لیکر ڈیرہ غازی خان‘ ملتان سے لاہور تک سب گھروں پر پولیس کے سینکڑوں اہلکار اور سکیورٹی کی گاڑیاں تعینات ہیں۔ سارا خرچہ پنجاب کے عوام اٹھا رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان تین سالوں میں وہ کون سی کارکردگی ہے جو صرف عمران خان صاحب کو ہی نظر آتی ہے ‘باقی نابینا ہوچکے ہیں؟ابھی پچھلے ہفتے لیہ جانے کا اتفاق ہوا‘ اب کی دفعہ سوچا کہ ایم ایم روڈ سے نہیں جانا جو بری طریقے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور حادثوں میں لوگ مرتے ہیں۔ اب موٹر وے پر شور کوٹ سے اتر کر وہاں سے جھنگ ‘ گڑھ مہاراجہ‘ چوبارہ اورچوک اعظم سے لیہ جانا ہے۔ میرا خیال تھا کہ ایم ایم روڈ کی نسبت یہ روڈ کچھ بہتر ہوگی۔ جونہی میں نے اس سڑک پر سفر شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ زندگی کی بدترین غلطی کر بیٹھا ہوں۔ اس سے بہتر تھا کہ میں ایم ایم روڈ ہی استعمال کرتا۔ یہ سڑک لیہ سے ہوتی ہوئی جھنگ‘ فیصل آباد‘ لاہور اور اسلام آباد کو ملاتی ہے اور اس علاقے کو شمالی اور سینٹرل پنجاب کو جنوبی پنجاب سے جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے‘ مگر لگتا ہے برسوں سے اس سڑک کی مرمت نہیں ہوئی۔ مجھے ترس آیا اس علاقے کے لوگوں پر جو روز اس روڈ پر سفر کرتے ہیں ۔ ایسی برباد سڑک میں نے کم ہی دیکھی ہوگی جیسی شور کوٹ سے گڑھ مہاراجہ‘ چوبارہ‘ چوک اعظم تک کی ہے۔ دس سال تک شہباز شریف کی حکومت رہی‘ مجال ہے اس ان علاقوں میں ایک روپیہ سڑکوں پر خرچ کیا گیا ہو۔ اس علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ ایم ایم روڈ تھا جو میانوالی‘ بھکر‘ لیہ‘ مظفرگڑھ کو ایک طرف ملتان‘ کراچی سے ملاتی ہے تو دوسری طرف ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان تک کی ٹریفک کا بوجھ اس پر ہے۔ اس اہم سڑک کی حالت سب جانتے ہیں۔ شہباز شریف کو چاہئے تھا کہ وہ سرائیکی علاقوں کی دو تین اہم سڑکوں پر توجہ دیتے۔ وہ توجہ کیا دیتے الٹا وزیراعلیٰ بنتے ہی ان علاقوں کے بلدیاتی اداروں کے فنڈز منجمد کر کے لاہور منگوا لیے گئے جن سے میٹرو اور دیگر منصوبے مکمل ہوئے۔ سرائیکی علاقے کے لوگوں کا خیال تھا کہ عثمان بزدار اپنے علاقے کا کچھ خیال کریں گے اور فوری طور سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر توجہ دیں گے۔ جب میں نے ایم ایم روڈ کا رولا ڈالا ہوا تھا تو مجھے وزیراعظم ہاؤس میں پکڑ کر کہا تھا: مٹھائی تیار رکھیں ایم ایم روڈ بن رہی ہے۔ تین سال گزر گئے ایم ایم روڈ نہ بنی بلکہ این ایچ اے کو ٹرانسفر کر دی گئی کہ تمہاری ذمہ داری‘ تم بنائو۔ اعتراض ہی ختم کہ کوئی رولا ڈالے گا تو بڑی معصومیت سے کہہ دیں گے کہ یہ سڑک تو وفاق کے پاس ہے‘ ان سے پوچھیں۔ میرا خیال ہے اتنی سمجھداری پر بھی بزدار صاحب کو مٹھائی پیش کرنی چاہئے۔ اب جو حالت شور کوٹ‘ گڑھ مہاراجہ روڈ کی دیکھی ہے تو حیران ہوں کہ یہ علاقے کس صدی میں زندہ ہیں۔ آج کی سڑکوں سے تو قدیم ہندوستان کے راستے بہتر ہوں گے۔

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

بزدار صاحب کیلئے تین سال بڑا عرصہ تھا کہ وہ اپنے صوبے کی ضروریات کا پتہ کر کے ان پر کام شروع کر دیتے۔ میانوالی‘ بھکر‘ لیہ‘ مظفرگڑھ‘ جھنگ جیسے اہم اضلاع کی اہم سڑکیں اس وقت بدترین حالت میں ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ کیسی پرفارمنس ہے جس کی داد خان صاحب عوام سے مانگ رہے ہیں۔ کیا لیہ‘ بھکر‘ میانوالی‘ تلہ گنگ‘ جھنگ‘مظفرگڑھ کی مخلوق بزدار صاحب کی حکومت کی تعریف کرے گی جو دن رات ان سڑکوں پر ذلیل ہورہی ہے؟ حکمران ہمیشہ خوش قسمت رہتے ہیں کہ پانچ پانچ ہزار سی سی گاڑیوں کے قافلے میں چلتے ہیں۔ ہیلی کاپٹرز ان کیلئے تیار ہوتے ہیں‘انہیں عوام کی کیا پروا جو ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کررہے ہیں۔یقین کریں مجھے اندازہ نہ تھاکہ موٹر وے سے سو کلومیٹر شور کوٹ‘ چوبارہ لیہ تک روڈ ایسی بدترین شکل میں ہوگی۔ حیرانی ہوتی ہے پوری قوم خان صاحب کے اس نعرے پر ایمان لے آئی کہ قومیں سڑکیں بنانے سے عظیم نہیں بنتیں‘ تعلیم سے بنتی ہیں۔ مان لیا تعلیم سے بنتی ہیں لیکن قوم نے کہیں آنا جانا بھی ہوتا ہے یا پھر قدیم زمانوں کی طرح کھوتوں‘ گھوڑوں اور اونٹوں پر عظمت کا سفر طے کرے؟
خان صاحب کو بزدار صاحب کی جو پرفارمنس نظر آرہی ہے وہ اور کوئی نہیں دیکھ سکے گا کیونکہ سرائیکی میں کہتے ہیں: بھاندے دی ہر شئے بھاندی اے۔ بزدار کی خوش قسمتی کہ وہ عمران خان کو بھا گئے ہیں۔ بس خان صاحب ایک اور کام کریں کہ اپنا فوٹو گرافر بزدار صاحب کو عنایت کر دیں جو اس طرح روزانہ بزدار صاحب کے اچھے اچھے فوٹوز ٹویٹر پر ڈالتا رہے‘ جیسے وہ ان کے ڈالتا ہے۔ خان صاحب کا کام ان فوٹوز پر چل سکتا ہے تو بزدار صاحب کا کیوں نہیں۔ بس ایک اچھا سا فوٹو گرافر چاہئے کیونکہ باقی تو سب کوششیں بزدار صاحب کو قابل‘ ذہین اور جفا کش ثابت کرنے کیلئے کر کے دیکھ لیں۔ ویسے ان کی کارکردگی کا پول اُسی دن کھل گیا تھا جب 14 اگست کو غنڈوں میں پھنسی ٹک ٹاکر لڑکی چار گھنٹے تک پنجاب پولیس کو کال کرتی رہی اور ایک پولیس والا نہ آیا۔ اس سے بڑی کارکردگی کیا ہوگی کہ لاہور کے دل میں چار گھنٹے تک بدتمیزی اپنے عروج پر رہی‘ غنڈے راج کرتے رہے لیکن نہ پولیس موجود تھی نہ وہ مدد کو آئی۔ اس سے بڑا انقلاب بزدار کیا لا سکتے تھے کہ اپنے تونسہ‘ ڈیرہ غازی خان‘ ملتان اور لاہور کے گھروں پر سینکڑوں پولیس والے حفاظت کیلئے تعینا ت کر رکھے ہیں جن پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں لیکن مینار پاکستان پر چودہ اگست کے روز ایک سپاہی بھی موجود نہ تھا۔ عوام ایسے ہی حکمران ڈیزرو کرتے ہیں جن کی کارکردگی صرف خان صاحب کو نظر آتی ہو۔ لگتا ہے صوبے کے بارہ کروڑ انسان اندھے ہیں‘آنکھیں اللہ نے صرف خان صاحب کو دی ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply