یہ کیسا احساسِ کمتری ہے۔۔آصف محمود

یہ ہمارا ایم اے انگریزی کا پہلا سمسٹر تھا۔ استاذ محترم نے پڑھاتے پڑھاتے کتاب بند کر دی اور کہنے لگے : میں آپ سے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔انہیں پلے باندھ لیجیے اور اس کے بعد انگریزی ادب جتنا پڑھنا ہے پڑھ لیجیے۔ پہلی بات یہ ہے کہ انگریزی پڑھنا ، سمجھنا ، لکھنا اور بولنا اچھی بات ہے لیکن اس سے مرعوب ہو جانا اچھی بات نہیں۔ آپ اسے سمجھیے اور پڑھیے لیکن اسے خود پر سوار مت کیجیے۔ اس زبان میں آپ کی مہارت سے آپ کا اعتماد بڑھے تو اچھی بات ہے لیکن اگر اس سے آپ کا احساس کمتری بڑھ جائے تو یہ بری بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر زبان کے ساتھ اس کی تہذیب بھی ہوتی ہے ۔ زبان سیکھتے رہنا چاہیے کہ یہ ابلاغ کا دائرہ کار بڑھاتی ہے ۔ لیکن یہ خیال رہے کہ آپ کی ایک اپنی تہذیب بھی ہے ۔ دوسروں کی ز بان بھی سیکھیے اور ان کی تہذیب سے اچھی چیزی بھی ملے تو اختیار کر لیجیے کہ کوئی بھی تہذیب بری نہیں ہوتی۔ انسان کے شعور اجتماعی کا ایک روپ ہوتا ہے۔ البتہ آپ کی اپنی بھی ایک تہذیب ہے اس سے ٓپ کا رشتہ کمزور نہیںہونا چاہیے اور اس سے آپ کو ندامت نہیں ہونی چاہیے ۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ دوسروں کی تہذیب کی ہر چیز آپ کے لیے سازگار نہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ معیار اور گہرائی کے لحاظ سے انگریزی چوتھے یا پانچویں درجے کی ز بان ہے اور اس بات کا احساس آپ کو انگریزی شاعری پڑھتے ہو جائے گا۔ انگریزی کا کوئی شاعر آپ کو امرائو القیس ، فرزدق ، نزار قبانی اور محمود درویش کے پائے کا نہیں ملے گا۔ انگریزی کا کوئی شاعر اقبال ، غالب اور میر کے پائے کا نہیںہے۔ آپ محمود درویش کے انگریزی تراجم پڑھ لیں آپ کو انگریزوں کے اصل کلام پر بھاری نظر آئیں گے۔ انگریزکی شاعری اتنی سطحی ہے کہ آپ عرب شاعری کے ساتھ تقابل کر نا ہی ایک جسارت ہے۔ انگریزی زبان کا غلبہ اس زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے نہیں بلکہ انگریز کی مادی ترقی کی وجہ سے ہے۔مادی ضروریات کے تحت اس زبان کو سیکھیے لیکن آپ چونکہ ادب کے طالب علم ہیں تو آپ کو معلوم ہونا ہے مادی ترقی کا پہلو نکال دیں تو آپ کی پنجابی کی وسعت بھی انگریزی سے کم نہیں۔ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے اور ہر زبان انسان بولتے ہیں۔کسی سے مرعوب مت ہوں۔ اچھی چیز جہاں سے ملے اختیار کر لیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ بے شک انگریزی کی اہمیت انگریز کی مادی ترقی کی وجہ سے ہے لیکن کسی بھی قوم کی مادی ترقی کے لیے انگریزی ضروری نہیں ہے۔دنیا میں چین ، جاپان ، جرمنی ، فرانس جیسے ممالک موجود ہیںجو اپنی زبان سے وابستہ رہ کر ترقی کر رہے ہیں۔ پانچویں بات یہ ہے کہ انگریزی ابلاغ کا موثر ترین ذریعہ ہے کیونکہ دنیا میں جو قومیں اس وقت غالب ہیں ان کی زبان یہی ہے۔ لیکن یاد رکھیے انگریزی بولنا علم و فضیلت کا معیار نہیں ہے۔ چھٹی بات یہ ہے کہ ابلاغ کی خاطر آپ کو انگریزی آنی چاہیے لیکن کوشش کیجیے کہ آپ کا فارسی اور عربی سے بھی واسطہ رہے۔ بھلے آپ ان کے بڑے شعراء اور ادیبوں کے تراجم ہی پڑھ لیں لیکن پڑھیں ضرور۔ان کے آگے انگریزی ادب آپ کو پانی بھرتے نظر آئے گا۔ ساتویں بات یہ ہے کہ کلاس میں انگریزی ز بان میں بات ہو گی کیونکہ یہ انگریزی ادب کی کلاس ہے لیکن کلاس کے باہر پاکستانی معاشرہ ہے۔اس معاشرے کو انگر یزی ادب کی کلاس مت سمجھیے۔ جہاں اردو میں بات ہو سکتی ہے وہاں غیر ضروری طور پر انگریزی بولنے کا مطلب یہ ہو گا آپ کمپلیکس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ یہ ایک طویل لیکچر تھا جس کی کچھ ہی باتیں مجھے یاد رہ گئیں۔اور جو یاد رہ گئیں وہ بار بار یاد آتی ہیں۔آپ کسی ایسے شخص کو تلاش کیجیے جسے عربی پر بھی مہارت ہو اور انگریزی پر بھی ۔پھر اس سے پوچھیے عرب شعراء کے ہاں گہرائی زیادہ ہے یا انگریز شعراء کے ہاں۔ جواب آپ کو حیران نہیں کرے گا ، آپ کے چودہ طبق روشن کر دے گا۔ ہمارے ہاں عجیب سا احساس کمتری ہے۔ ہمارا لکھنے والا فارسی اور عربی ادب سے یکسر بے بہرہ ہے۔ گویا وہ اس ثقافتی ورثے سے محروم ہے جس نے اس خطے کی صدیوں آبیاری کی ہے۔ فارسی کے ساتھ ہمارا صدیوں کا شعوری سفر جڑا ہوا ہے۔ بر صغیر میں انگر یزی کے آنے سے پہلے ہمارے فکری سفر کا زاد راہ عربی اور فارسی ہی تھا۔ وہ تو انگریزی کی شکل میں ایک نئی زبان یوں لائی گئی کہ بر صغیر کے اہل علم کھڑے کھڑے راتوں رات نا خواندہ قرار پائے۔ فارسی، اردو اور عربی محض زبانیں نہیں ہمارا تہذیبی ورثہ بھی ہیں۔ آج اقبال ، غالب اور میر شناسی بھی ناپید ہے۔معیار اب ایک ہی ہے۔ جو چیز انگریزی میں لکھی ہے وہی صداقت ہے اور وہی معیار حق ہے۔ انسانی تہذیب مختلف اکائیوں کے امتزاج کا نام ہے۔ یہ صرف انگریزی میں لکھے گئے حروف کا نام نہیں ہے۔نہ ہی یہ صرف انگریز کلچر تک محدود ہے۔آج کے دور میں یہی حادثہ ہوا ہے کہ تہذیب انسانی صرف ایک قوم کے نام مختص کر دی گئی ہے۔اب تاریخی ثقافتی روایات اور تجربات کے تسلسل سے آگہی ہی نہیں رہی ، اب کوئی تیسرے درجے کی رقاصہ انگریزی میں چار لفظ لکھ دے تو ہم ان لفظوں کی حرمت پر اپنا پورا تہذیبی اور ثقافتی مشاہدہ قربان کر دینے کو تیار ہوتے ہیں۔سوال اب ایک ہی ہے: جو انگریزی میں لکھا ہے وہ حق ہے۔اس کے سوا سب باطل ۔ ہر تہذیب کو اپنی قدروں کے ساتھ ززندہ رہنے کا حق ہے۔ یہ روشن خیالی نہیں انتہا پسندی ہے کہ کوئی ایک تہذیب اپنی قدریں گلوبلائزیشن کے نام پر پوری دنیا پر مسلط کرنا چاہے۔اس بات کا امکان موجود ہے کہ مگرہمارے ہاں جو چیز عرف کے درجے میں داخل ہے کسی اور سماج میںوہ ناپسندیدگی کے درجے میں ہو۔ ہر سماج کو اپنی قدروں کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔ ہاں کچھ مسلمات پر ایک اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔ لیکن مغرب میں رائج ہر چیز کو مسلمات قرار دے کر ہر معاشرے پر لاگو کرنا ایک ایسا رویہ ہے جو غیر منطقی ہے۔ معلوم نہیں ہمارا احساس کمتری کب ختم ہو گا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply