سقوط کابل اورخطہ کا مستقبل۔۔اسلم اعوان

افغانستان میں اِس وقت وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی خاطر افغان دھڑوں میں جاری رسہ کشی میں ہی امریکیوںکو اپنی شکست کی خجالت چھپانے کی امید دکھائی دیتی ہے۔لاریب،دنیا کی واحد سپر پاور کو جنگی ہزیمت کے مضمرات کم کرنے کی خاطر کابل میں ایسی عمیق خانہ جنگی کی ضرورت ہے،جیسی1988 میں روسی افواج کے انخلاءکے بعد یہاں بھڑک اٹھی اور جس نے چشم زدن میں افغان مجاہدین کی دس سالوں پہ محیط طویل جدوجہد کو رائیگاں بنا دیا تھا۔

حیرت انگیز طور پہ حالات کے دھارے کا طالبان کے حق میں مڑ جانا امریکی توقعات کے منافی تھا اور یہ سب کچھ اشرف غنی کی ذہانت کے باعث ممکن ہوا،امر واقعہ بھی یہی ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے امریکی اِسی پلاننگ کے ساتھ بتدریج اپنی فوجی قوت کو کابل میں مرتکزکرکے طالبان کو پیشقدمی کا موقع  دیتے رہے کہ آخرکار دمشق کی طرح کابل میں قلعہ بند ہو کے طالبان کو لمبی مزاحمت دی جائے گی لیکن اشرف غنی نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقتدار سے الگ ہو کے اس لاحاصل جنگ کے امکانات کو معدوم بنا دیا،شاید اسی لئے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے فوجی اور سیاسی رہنماؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ان دونوں میں لڑنے کی خواہش کا فقدان ہے،انہوں نے کہا کہ اشرف غنی نے امریکہ کو ان وعدوں کے ساتھ گمراہ کیا جو پورے نہیں کئے گئے“۔

tripako tours pakistan

اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ امریکی مقتدرہ افغانستان چھوڑنے سے قبل یہاں افغانوں کے مابین ایسی سول وارکی منصوبہ بندی کر چکی تھی،جس کی آگ کے شعلے پڑوسی مملکتوں کو بھی لپیٹ میں لے لیتے،امریکیوں کے انہی عزائم کو بھانپ کے جہاں ملحقہ ممالک نے اپنا کردار ادا کیا وہاں افغان قیادت نے بھی تشدد کی آگ بھڑکانے سے گریز کرکے خطہ کی فضاوں پہ منڈلاتی خانہ جنگی کی کالی گھٹاؤں کو ٹالنے کا فرض خوب نبھایا۔

تاہم اب بھی مغربی تہذیب کے ذہنی غلاموں نے افغانستان کی سول سوسائٹی کو اپنے ہم وطنوں کے خلاف صف آراءدیکھنے کی خاطر تباہ حال افغانیوں کو اشتعال دلانے کی قبیح مہم چھوڑی نہیں ہے،مغربی ذرائع ابلاغ کے علاوہ انڈین اور پاکستانی میڈیا کے کچھ حلقے بھی اُن افغانیوں کو سماجی آزادیوں اور جمہوری حقوق کے حصول کا سبق پڑھانا چاہتے ہیں جنہوں نے کم و بیش چالیس سال روسی اور امریکی حملہ آوروںکی غلامی میں گزار دیئے،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غلامی دن قومون کی آدھی مردانگی چھین لیتے ہیں،غلامی چاہئے کتنی ہی منصفانہ ہو روح کےلئے پنجرے کی حیثیت رکھتی ہے۔

گزشتہ بیس سالوں کے دوران امریکیوں نے اپنے خطرناک اور جانبدارانہ اصولوں کے تحت یہاں جس نوع کے مصنوعی جمہوری عمل کی داغ بیل ڈالی،وہ سماج کی روح میں جگہ نہیں بنا سکی،وہ چاہتے تو افغانستان کے معاشرتی دھارے کو مقامی ثقافت کے فطری خطوط پہ استوار کر سکتے تھے لیکن انہوں نے افغانستان کی سنگلاخ زمین میں مغرب کی افسردہ کُن تہذیب کی آبیاری کی کوشش میں اُس قبائلی بندوبست کو توڑ دیا جس نے ایک مسلح سوسائٹی میں طاقت کا توازن قائم کر رکھا تھا۔امریکی نفسیات کو جاننے والے ماہرین کہتے ہیں،یو ایس سمیت مغربی طاقتوں کی پالیسی ہمیشہ دو نقاط کے محور میں گھومتی ہے، اول یہ کہ اسلام کی پرانی توقیر کی بحالی کو روکا جائے دوسرے دنیا کے وسائل پہ مطلق تصرف پایا جائے۔

بہرحال،جلد یا بادیر دنیا اس حقیقت کو قبول کر لے گی کہ افغانستان کی مٹی سے ابھرنے والے طالبان گروہوں کے سوا کوئی بھی افغانستان میں عسکری تشدد اور باہمی جنگ و جدل کے امکانات کو کنٹرول نہیں کر سکتا،خود مغربی میڈیا کہہ رہا ہے کہ سویڈن کے بعد یہ افغانستان ہی ہے جہاں پچھلے پندرہ دنوں میں کرائم ریٹ صفر رہا۔لاریب،یہ طالبان کی بالادستی کا نفسیاتی اثر تھا جس نے جرائم کے علاوہ انارکی اور مہیب شورش کی لہروں کو روک لیا،شمالی افغانستان کے روایتی وار لارڈز سمیت سیکولر طرز حکومت کے حامی سیاستدان بھی قومی شعور کے باعث ملکر اُن داخلی بحرانوں پہ قابو پانے پہ متفق ہیں جو اُن کی اگلی نسلوں کے مستقبل کو تاریک بنا سکتے ہیں۔

علی ہذالقیاس! افغانستان سے امریکی پسپائی کے نفسیاتی اثرات نے جہاں جنوبی ایشیا کی تزویری حرکیات کو بدل دیا،اسی تغیر سے وہاں مغربی تہذیب کی روح بھی گھائل ہوئی،سقوط کابل کے بعد بڑی طاقتیں ایسے مخمصہ میں مبتلا دیکھائی دیتی ہیں جس سے نجات کے لئے انہیں عالمی بالادستی سے دستبرداری یا پھر کسی بڑی جنگ کی تیاری کرنا پڑے گی،بظاہر یہی لگتا ہے کہ دونوں صورتوں میں تباہی ان کا استقبال کرے گی۔عالمی ذرائع ابلاغ میں 1938 کے میونخ معاہدہ پہ ونسٹن چرچل کے ان تاریخی الفاظ کی گونج سنائی دے رہی ہے جس میں انہوں نے برطانوی وزیراعظم نیول چیمبرلین سے کہا تھا”آپ کو جنگ یا بے عزتی میں انتخاب کا آپشن دیا گیا،تم نے بے عزتی کو چُن لیا اور تمہیں جنگ بھی لڑنا پڑی۔

یہ عین ممکن ہے کہ جس طرح میونخ امن معاہدہ کے بعد برطانیہ کو دوسری عالمی جنگ میں اترنا پڑا تھا بالکل اسی طرح دوحہ کے مظہر العجائب امن معاہدہ کے بعد دنیا میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کی خاطر امریکی مقتدرہ کو ایک نئی عالمی جنگ کی منصوبہ بندی کرنا پڑے۔اس وقت مغربی اشرافیہ نے بائیڈن انتظامیہ کی افغان پالیسی کے بحران کو امریکی ساکھ کے لئے تباہ کن دھچکا قرار دیا ہے،ان کے خیال میں جوبائیڈن کے پاس افغانستان کے دلدل سے نکلنے لئے تین امکانات موجود تھے۔وہ امریکہ کو اس طویل ترین جنگ سے باوقار اور منظم طریقے سے نکالتے۔ایسی حکمت عملی اپنائی جاتی جو افغانستان میں طالبان کی فتح کے باوجود امریکی قوت اور عالمی سطح پر اس کے وقار کو بُری طرح متاثر نہ کرتی۔امریکی شہری چونکہ افغان جنگ سے نجات کے لئے بے چین تھے،اس لئے اس ناپسندیدہ انخلاءپہ ووٹرز انہیں سزا بھی نہ دیتے لیکن صدر جوبائیڈن ایسا کچھ کرنے میںسراسر ناکام رہے۔

اگرچہ صدر نے اپنی تقریر میں فوجی انخلاءکے فیصلہ کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے اس امرکی نشاندہی کرنا ضروری سمجھی کہ انہیں یقین ہے کہ وہ نہ صرف مملکت کو اپنے مقام پہ کھڑا رکھ سکتے ہیں بلکہ فوجی انخلاءامریکی ساکھ کو کمزور کرنے کے بجائے مزید بہتر بنائے گا۔اس میں کوئی شبہ باقی نہیں کہ اسی پسپائی نے عالمی معاملات بالخصوص جنوبی ایشیا اورمشرق وسطی پہ امریکی گرفت کمزور کر دی، بہت جلد مشرق کی ابھرتی ہوئی مملکتیں نئے عہد سے ہم آغوش ہو کے مغرب کی عالمی بالادستی کو پیچھے دھکیل دیں گی۔لیکن صدر جوبائیڈن کہتے ہیںدور افتادہ ملک میں لڑی جانے والی ایسی غیر دلچسپ جنگ کا خاتمہ بحث کے قابل نہیںجو امریکہ جیسی قوت کو بے بس دکھاتی تھی اور دو دہائیوں پہ محیط یہ مہمل مداخلت امریکی پستی کی علامت بنتی جا رہی تھی،بلاشبہ ایک ہی وقت میں افغانستان میں مضبوط حکومت اور منظم فوج بنانے میں ناکامی کے بعد اپنے نقصانات کو کم کرنا حقیقت پسندی اور دانشمندی کا مظہر سمجھا جائے گا لیکن یہی عملیت پسندی سائیگون کی مانند انکی تاریخ کو داغدار ضرور بنائے گی۔

انخلاءکے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ امریکہ مشرقی ایشیا میں بنیادی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کی خاطر افغانستان کے وار تھیٹر میں اپنی تلویث کم کرے۔امریکی حکومت دنیا کے اس دور دراز خطہ میں کبھی نہ تھمنے والی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے عسکری وسائل اور سیاسی ساکھ کی صورت میں بھاری قیمت کیوں چکائے؟ کیا روس اور چین دونوں کے لئے جہادی گروپ امریکہ سے زیادہ براہ راست خطرہ نہیں ہیں؟ کیا امریکی فوجی اس لئے لڑتے مرتے رہیں کہ ولادیمیر پیوٹن اور شی جن پنگ کا درد سر کم ہو،شہری چند ہفتوں میں اپنا معمول کا غصہ نکال کے اس ہزیمت کو بھلا دیں گے،جس کے بعد تمام امریکی معمول کے دائروں میں سمٹ کے اپنے سوا تمام واقعات کی واضح وجوہات اور ذمہ داروںکی شناخت کر لیں گے۔

Advertisements
merkit.pk

حیرت انگیزطور پر یہ ایک ایسی جنگ تھی جسے شروع ہی میں بے حد مقبول بنایا گیا اس لئے وہ امریکی عوام کی نظروں میں اہمیت اختیار کر گئی تاہم جب ابتدائی جوش و خروش ختم ہوا تو عوام کی دلچسپی بھی کم ہوئی۔پرنٹ میڈیا میں اسے ٹھوس کوریج ضرور ملی لیکن کیبل نیوز میں افغانستان کی کوریج تیزی سے کم ہوتی گئی،خاص طور پر جب عراق میں نیا ایڈونچر شروع ہوا تو دنیا نے افغان جنگ کو فراموش کر دیا مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نئے ملینیم کی پہلی دہائی میں امریکہ میں”جنگی تھکاوٹ“بارے بات کرنا فیشن بنتا گیا، وہ شہری جو فوج میں نہیں تھے یا فوجی خاندان یا کمیونٹی کا حصہ نہیں تھے انہیں کوئی تکلیف پریشانی نہیں تھی،وہ بہت جلد بھول گئے لیکن وہ فوجی جنہوں نے ابتدائی سالوں میں بیرون ملک بڑے آپریشنوں میں حصہ لیا ان کے مابین یہ مکالمہ عام تھا کہ ”ہم حالت جنگ میں ہیں“۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سترفیصد امریکی جنگ سے نکلنے کے حامی تھے،جیسا کہ خارجہ پالیسی کے اسکالر اسٹیفن بڈل نے حال ہی میں مشاہدہ کیا کہ جنگ عملی طور پر امریکی سیاست میں ایک بعد کی سوچ ہے تاہم صدر اوباما،ٹرمپ اور بائیڈن سب اسی لعنت سے بچنے کی خاطرافغان جنگ سے نکلنے سے پہلو بچاتے رہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply