امتحان۔۔ربیعہ سلیم مرزا

اب بھی ایسا ہوتاہے۔۔
کسی کونے میں بیٹھ کر ۔۔۔موبائل پہ، اسے دیکھنے ہی لگتی ہوں تو آواز آتی ہے
“ماما، میری نیلی پینٹ کہاں ہے “؟
ایک پینٹ ڈھونڈنے نکلوں تو ایک سے جڑا ایک کام پکڑتے پکڑتے رات ہوجاتی ہے ۔

محبت کی طرح اس کی یادیں بھی ادھوری رہ جاتی ہیں۔ شہزاد فیس بک ٹویٹر اور انسٹاگرام پہ بھی ہے ۔ اچھا ہے    سوشل میڈیا پہ ورنہ مجھے اس حال میں دیکھ کر اس پہ جانے کیا گزرتی؟

tripako tours pakistan

تین جوان بچوں کے بیچ میں کھڑی شاید میں کہیں بھی نہیں ہوں ۔بس اس بات کی خوشی ہے کہ کبھی اسے دیکھ لیتی ہوں ۔
واصف کہتے ہیں “تم اپنا خیال نہیں رکھتی ہو ” کیابتاؤں کہ میرا خیال میرے پاس رہتا ہی کب ہے۔ دھیان کہیں رکے توخود  پہ دھیان دوں ۔ ۔
اب تو سامنے پڑی چیزیں دکھائی نہیں دیتیں ۔

صبح نہانے گئی تو تولیہ باہر رہ گیا، نہا کر واصف کو آواز دی، انہوں نے پکڑادیا ۔تولیہ پکڑے کتنی دیر تک بے وجہ باتھ روم کا دروازہ تھامے کھڑی رہی “دروازے کی جھری میں پاؤں پھنسانے کی روایت ہی نہیں رہی ” دیر تک وہ لمحہ یاد آیا جب خود کو چھپانے کیلئے شہزاد سےلپٹنا پڑا تھا ۔
“کمینہ “آپ ہی آپ ہنس دی۔۔۔

“اب نکل بھی آؤ،  میں لیٹ ہورہا ہوں “واصف کی آواز پر باہر آئی تو وہ پینٹ کی زپ سے الجھ رہے تھے۔میں نے دراز سے ویزلین نکال کر زپ پہ لگائی تو وہ رواں ہوگئی ۔
واصف ہنس دیے “پوری کاریگرنی ہو ”

میں مسکا کر رہ گئی ۔مجھے یاد آیا جب میری زپ کا ہک پھنس گیا تھا۔۔۔نہ اوپر جاتا نہ نیچے ۔شہزاد کو، ٹھیک کرنے کا کہا تو کہنے لگا “ہک کے نیچے سلائی لگا لو اوپر مت کرنا، دیکھنے والوں پہ میری طرح قیامت گذرے گی اب کھلی کہ تب کھلی ؟”

اس دن سارا راستہ خود کو دھڑکا رہا کہ کہیں اَدھ کھلی، پوری نہ کھل جائے ۔۔

شام کو چھت پہ زپ ٹھیک کرتے، دس بار میری کمر کو چوما پھر بتایا، “زپ پھنس جائے تو ویزلین لگا لیا کرو۔ ”

“ماما ،کیا پکایا ہے “سدرہ کی آواز سے ہڑبڑا اٹھی ۔سدرہ کو کھانا، دینے لگی تو ایک ایک کر کے سبھی آتے گئے ۔اب رات کے کھانے کی فکر  کہ کیا پکانا ہے؟ واصف بھی آگئے ۔کہیں جانا تھا ۔کپڑے بدل کر چلے گئے ۔

پریشر لگا کر دم لینے کو مائرہ کے پاس بیٹھ گئی ۔مائرہ نے ہوم ورک کرتے ایک دم سے پوچھا ” ماما ۔۔۔آپ کے زمانے میں الجبراء ہوتا تھا “؟
کہنا چاہا “عورتوں کیلئے تو ہردورمیں الجبراء لازمی ہے ” مگر نہیں کہا، پریشر ککر نے سیٹی مار دی ۔ویٹ ہٹایا تو شوں کی آواز میں ماں کی آواز بھی شامل تھی ۔۔۔
“پتر شہزاد ۔گُڈی کا حساب کمزور ہے، تو پڑھا دیا کر “؟

میں کالج سے آتے ہی کونا پکڑ لیتی ۔کون سا حساب، کیسا حساب جو پڑھ کے آتی وہ بھی بھلا دیتا اور جو یاد کرواتا وہ کالج میں بھی نہ بھولتا۔۔۔
ماں ہفتے بھر میں چونک گئی ۔پاس بیٹھ گئی۔
آرٹس کا پڑھا سائنس کیا پڑھاتا ۔حل نکالا   کہ حل کئے سوالوں کو حل کرو ۔۔۔۔
ایگزام تک گھر کے کونے مہکتے رہے ۔میں ٹاپ نمبروں سے فیل ہوئی ۔پھر رشتہ ہوا ۔پھر شادی ۔۔جن دنوں میری شادی تھی ان دنوں اس کے ایگزام چل رہے تھے ۔۔۔شہزاد نہیں آیا ، مجھے پتہ تھا اس کا امتحان ہے وہ نہیں آئے گا ۔

Advertisements
merkit.pk

واصف بہت دیر سے گھر آئے ۔میں جاگ رہی تھی۔انہوں نے کپڑے بدلے، لیٹ گئے
“تم پوچھو گی نہیں کہ میں اتنی دیر سے کیوں آیا ہوں “؟
“نہیں ،میں نے مسکرا کر کہا ،اور لائٹ بند کردی
“کیوں “؟
” کیونکہ برسوں سے یہ میرا امتحان چل رہا ہے “واصف کھلکھلا کر ہنس دیے ۔میں بھی مسکرا دی کیونکہ بیویاں روتی نہیں ہیں ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”امتحان۔۔ربیعہ سلیم مرزا

Leave a Reply