ڈیجیٹل عہد میں میڈیا کی آزادی۔۔اسلم اعوان

ہمارے میڈیا کارکنان اور اعمال ِحکومت کے مابین سرعت سے بڑھتی ہوئی کشمکش بدلتی تہذیبی اقدار کا پتہ دے رہی ہے،امر واقعہ بھی یہی ہے کہ دنیا کا بیشتر حصہ اس وقت ایسی تبدیلیوں کی زد میں ہے،جس کے بارے میں یہ پیشگوئی کی جا سکتی ہے کہ نسل انسانی کا مستقبل غیر یقینی سے دوچار ہو جائے گا،جو مسائل درپیش ہیں وہ واقعی پیچیدہ ہیں،موسمیاتی تبدیلی،معاشی اور معاشرتی عدم مساوات،طویل جنگیں،سماجی تنازعات،غربت اور ان سب کے نتیجے میں مہاجرین کی بڑھتی تعداد،دہشت گردی،قوم پرستی اور عوامی حاکمیت کا اصول جیسے چیلنجوں کا سراغ گلوبلائزیشن اور تکنیکی ترقی کی یادگار علامتوں میں ملتا ہے۔جب سیاسی،معاشی اور تکنیکی تغیرات یکجا ہوں تو معاشرتی سیاق و سباق یکسر بدل جاتے ہیں،جس کا براہ راست اثر قومی اداروں کی حیثیت،عوامی اعتماد اور اظہار رائے کی آزادی کی نوعیت پہ پڑتا ہے۔

ہرچند کہ عالمی،قومی اور علاقائی سطح پہ اجتماعی زندگی کے تناظر تبدیل ہوئے لیکن یہ خیال کہ اظہار رائے کی آزادی ذہین انسانی کے ارتقاءمیں کلیدی اہمیت رکھتی ہے،مغرب کے جمہوری تصورات کا بنیادی مفروضہ ہے۔عہد جدید کے پیچیدہ سیاسی،معاشی،سماجی اور ثقافتی عوامل کی تفہیم اور انسانیت کی اجتماعی میراث کی منتقلی کے لئے میڈیا کی ضرورت و اہمیت کو معتبرسمجھنے کے باوجود دنیا بھر کی ریاستی مقتدرہ نے ابلاغی وسائل کو انسانی اذہان کو کنٹرول کرنے کے آلات میں بدل کے میڈیا کو پاور پالیٹیکس کا ٹول بنا لیا،شاید اسی لئے پوری انسانیت اور سماجی علوم کی فیکلٹیز میں اظہار رائے کی آزادی کا مسلہ مزید پیچیدہ ایشو بن کے ابھرا ہے،اسی لنترانی کے باعث سب سے پہلے تو کسی کے عملی روّیوں اور بیانات میں فرق تلاش کرنا دشوار ہوگیا،بلاشبہ ریاست کسی شخص کے اعمال کو قانونی تادیب کے تابع لے سکتی ہے لیکن خیالات کے دھارے کو قابو پانے پہ قادر نہیں ہو سکتی۔لوگ کیا کہتے ہیں،کیا لکھتے ہیں یا دوسری صورت میں اپنے آپ کو کس طرح ظاہر کرتے ہیں یہ انتہائی حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے،مثال کے طور ریاستی اداروں کے خلاف اقدامات اور اداروں کے کردار پر تبصروں میں کیا فرق ہے؟

tripako tours pakistan

ہم ان عوامل کے درمیان ایسی قانونی لکیر کہاں تک کھینچ سکتے ہیں،جسے طاقتوروں کے لئے قابل قبول بنایا جا سکے؟ہاں،عملی طور پرآزادی اظہار کو محدود کرنے کے لئے کچھ دلائل سمجھ میں آتے ہیں،آج بھی ماضی کی طرح شہریوں کی بڑی اکثریت تقریر کی آزادی اور انسانی حقوق کی حامی ہے لیکن وہ لوگ جو اظہار رائے کی آزادی کو اہمیت دیتے ہیں،ان خیالات پر پابندی کا تقاضا  کرتے ہیں جو انہیں پسند نہیں ہوتے،جیسے ہولوکاسٹ یا مقدس مذہبی اقدار،وہ اپنی اس روش کو شخصی ذمہ داری کے تصور اور باہمی احترام کے اصولوں سے جواز فراہم کرتے ہیں۔یہ بجا کہ آزادی اظہار کی حدود مستقل ہیں نہ اُسے ثقافتی اور سماجی سیاق و سباق میں مقید رکھا جا سکتا ہے لیکن کسی بھی معاشرے کی صحت اور طاقت کا انحصار بہرحال اچھی حکمرانی سے معلق ہوتا ہے،یعنی اچھی طرح کام کرنے والے سرکاری ادارے اور اسی تناظر میں اتنی ہی اہم شہریوں کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کس طرح کرتے ہیں یا بغیر کسی رکاوٹ کے اجتماعی مسائل بارے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کیسے کرتے ہیں۔ملکی اداروں پر اعتماد اور شہریوں کے درمیان باہمی اعتماد دونوں عوامل مختلف مفاداتی گروہوں کے لئے اظہار رائے کی آزادی کا جواز ڈھونڈتے ہیں،یعنی ایک طرح کی کھلی فضا بڑی حد تک اُس آزاد میڈیا کی مرہون منت ہو،جو لامحالہ تیز رفتار و دور رس تبدیلیوں کا محرک بنتا ہے۔عام طور پر جمہوری سرگرمیوں اور خاص طور پر نیوز میڈیا کو عوامی حلقوںکی نمائندگی کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے،اگرچہ پیشہ ورانہ جانچ اور گیٹ کیپنگ افعال کی وجہ سے میڈیا شہریوں کو غیر جانبدارانہ اور قابل اعتماد معلومات فراہم کر سکتا ہے لیکن عموماً کچھ کاروباری مفادات انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

بہرحال بظاہر یہی دیکھائی دیتا ہے کہ جمہوری جماعتیں اور میڈیا ورکرز اپنے خیالات کی تشکیل اور معلومات کو تبادلے کے قابل بنا رہے ہیں یا تنقیدی عکاسی میں مشغول ہیں۔ہمارے ہاں پریس کی آزادی کو ملکی آئین میں ریاست کی حاکمیت ،قومی وقار اور اعلی اخلاقی اقدار کی حدود کے اندر مخصوص قوانین کے تحت تحفظ دیا گیا،جس میں فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس 2002 اور کوڈ آف کنڈکٹ رولز2010 زیادہ نمایاں ہیں تاکہ گمراہ کن اور جانبدارانہ خبروں کی اشاعت یا پھر مذہبی،نسلی اور لسانی تعصبات کی آبیاری روکی جا سکے لیکن یہی وہ بنیادی قوانین ہیں جو پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کو کنٹرول اور میڈیا پہ ریاستی اختیارات کی تصدیق کرتے ہیں،اگرچہ قانوناً کوئی گورنمنٹ میڈیا کے مواد کو متاثر نہیں کر سکتی لیکن کچھ حدود و قیود کے تحت اسے ریگولیٹ ضرور کرتی ہے۔

دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ نے اپنی سماجی ذمہ داری کا اعتراف کرتے ہوئے، عمومی اخلاقی ہدایات کے مطابق ابلاغی اداروں کا مضبوط سیلف ریگولیشن سسٹم قائم کر لیا تاکہ ازخود ان کی پابندی کی جاسکے لیکن باہمی اعتماد کے فقدان نے یہاں ایسی رضاکارانہ پابندیوں کی راہ روک ہوئی ہے،اسی فضا میں صحافیوں نے میڈیا اتھارٹی کے تصور کو مسترد کیا۔مغربی ممالک میں اخلاقیات کا ضابطہ جو کئی سالوں میں بتدریج اور مرحلہ وار تیار ہوا، پندرہ بنیادی اصول پہ محمول ہے،جن میں یہ اصول بھی شامل ہے کہ میڈیا لوگوں کو ان کے بارے میں چھپنے والی خبروںکا جواب دینے یا ردّ کرنے کے  موقع  دینے میں فراخ دلی دیکھائے گا،بسا اوقات وہ ذاتی رازداری کا احترام کرتے ہوئے نام افشاں نہ کرنے کا بھی پابند رہے گا تاکہ کسی بے گناہ کو عوامی شرمندگی کا کرنا پڑے نہ اس کی رازداری کا حق کمپرومائز ہو لیکن ہم جب اپنے ماحول پہ نظر ڈالتے ہیں تو صورت حال برعکس دیکھائی دیتی ہے۔تاہم ڈیجیٹلائزیشن اور گلوبلائزیشن کے تحت بڑھتے ہوئے کمرشلائزیشن کے رجحان نے میڈیا کے تیز رفتار تغیرات کے حامل مواصلاتی نظام کو زمان و مکاں کے ساتھ سماجی رویوں کے لحاظ سے بھی بدل کے رکھ دیا ہے۔نئی قسم کی بین الاقوامی کارپوریشنز جیسے گوگل ،یوٹیوب،ٹویٹراور فیس بک نے ابلاغی ڈھانچے میں ایسی تبدیلی لائیں جو مارکیٹ کے رجحان اور میڈیا کے بہاوکو متاثر کرتی ہیں۔

گویا سوشل اور ڈیجٹل میڈیا نے نیوز انڈسٹری کے مستقبل کو غیر یقینی سے دوچار کرنے کے علاوہ خبروں کی رپورٹنگ کا بڑھتا ہوا حصہ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے پہنچانے کا متوازی نظام استوارکر لیا جو اس اشتہاری آمدنی کا حصہ دار بھی بن گیا جس نے ہمارے ٹریڈیشنل میڈیا کو زندہ رکھا ہوا تھا۔یہ ساری تبدیلیاں ریاست اور میڈیا ہاوسیسز کو ایک ساتھ بڑی ایڈجسٹمنٹ پر مجبور کر رہی ہیں۔میڈیا سسٹم کے بدلتے ہوئے کردار کا مطلب یہ ہے کہ آزادی اظہار کے بارے میں ہمیں نئے نقطہ ہائے نظر تلاش کرنا ہوں گے۔الفاظ اور تصاویر نئے معنی حاصل کرکے سماج اور ریاست پہ یکساں اثر انداز ہوتے ہیں،ہم کیسے رہتے ہیں اور ہمارے حکمراںکیسے کام کرتے ہیں بلکہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ذاتی زندگی کا تحفظ،سلامتی اور خواہشوں وامیدوں سے متعلق دبے ہوئے مسائل زیادہ تیزی سے ابھر رہے ہیں،ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ یہ مسائل کیسے حل ہوں گے۔ڈیجیٹل میڈیا کلچر میں اظہار رائے کی آزادی قوانین میں بیان کردہ آزادی اظہار سے متعلق اصولوں کو متاثر کرچکی ہے،اس مسلہ کو حل کئے بغیر پاکستان میں پریس کی آزادی ممکن نہیں ہو گی۔پاکستان میں میڈیا کی صورتحال 2018 کے متنازعہ الیکشن کے تناظر میں زیادہ بگڑی،پریس کی طرف سے انکوائری کو اداروں نے مخصوص زاویہ سے دیکھا کہ میڈیا نے وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قائم سویلین حکومت کی کمزوریوںکو مقتدرہ کی سرپرستی سے جوڑ دیا۔جب میڈیا کے کچھ حصوں نے ایسی جسارت کی تو سیکیورٹی اور انٹیلی جنس مشینری نے انہیں خاموش کرانے کی خاطر سائبر قوانین کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔

Advertisements
merkit.pk

اداروں کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے،ٹی وی کی کئی نامور شخصیات تو لائن اپ ہوگئیں کچھ جوش و خروش سے ریاستی بیانیہ سے وابستہ ہوئے،جو نہیں ہو سکے انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا،حالات کے جبر نے کئی سینئر صحافیوں کو مرکزی دھارے کے میڈیا سے ہٹایا دیا،جن میں حامد میر ،نجم سیٹھی،طلعت حسین نصرت جاوید،مرتضیٰ سولنگی سمیت کئی نمایاں نام شامل ہیں۔اس مہم کا آغاز ٹوئٹر پر نفرت انگیز ٹرولنگ سے ہوا جو بتدریج شدت اختیار کرتی گئی،جس سے صحافیوں کے لئے خطرات بڑھے۔عام خیال یہی ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانے والے نام نہاد”سائبر واریرز“ہمیشہ وزیراعظم کی پارٹی تحریک انصاف یا پھر شعبہ تعلقات عامہ سے منسلک ہیں۔ یہ خودساختہ”محب وطن“حکومت کے ناقدین کو گالیاں دینے اور بدنام کرنے کے لئے جھوٹی سوشل میڈیا مہم چلانے میں سرگرداںہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں آمرانہ حکومتیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اختلاف رائے کو دبانے میں زیادہ وقت اور وسائل صرف کرتی ہیں،اس لحاظ سے پاکستان بھی کچھ مختلف نہیں۔ہمارے حکمراں یوروپ کے برعکس چین ، روس ، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک سے الہام لیتے ہیں۔وزیر اعظم نے ایک سے زیادہ مواقع پر اس خواہش کا برملا اظہار کیا کہ چین کی طرح اگر وہ سینکڑوں کرپٹ مخالفین کو جیل میں ڈال سکتے تو وہ پاکستان کو معاشی قوت بنا لیتے،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے اہم مخالفین جیل میں ہیں یا بدعنوانی کے مقدمات بھگت رہے ہیں لیکن حکومت اب بھی غیر فعال اور بے سمت دکھائی دیتی ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply