• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • عائشہ عمر اور یاسر حسین کس فلم میں اکٹھے دکھائی دیں گے؟

عائشہ عمر اور یاسر حسین کس فلم میں اکٹھے دکھائی دیں گے؟

اداکارہ عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر بننے والی فلم میں کام کرتے نظرآئیں گے، فلم کا نام ’’ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر؛ جاوید اقبال‘‘ ہے، فلم کی کہانی پاکستان کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کے گرد گھومتی ہے جس نے 1998 سے 1999 کے دوران لاہور میں 100 سے زائد بچوں کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا تھا بلکہ انہیں مار کر بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو تیزاب میں گلا کر دریا برد کردیا تھا۔

فلم کے مصنف ابو علیحہ ہیں، ہدایت کاری کے فرائض بھی وہی انجام دیں گے، جب کہ فلم   کے فلمز پروڈکشن کے بینر تلے تیار کی جائے گی، فلم میں سیریل کلر جاوید اقبال کا کردار یاسر حسین ادا کررہے ہیں، عائشہ عمر فلم میں پولیس آفیسر کا مرکزی کردار ادا کررہی ہیں، جنہوں نے جاوید اقبال کیس کی تفتیش میں اہم کردارادا کیا تھا، عائشہ عمرنے فلم کے حوالے سے شائع ہونے والی متعدد خبریں اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کر کے فلم میں کام کرنے کی تصدیق کی ہے.

tripako tours pakistan

اس سے قبل اداکار و پروڈیوسر شمعون عباسی نے بھی سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر ویب سیریز بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ شمعون عباسی اب بھی اس پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں یا نہیں.

100 سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی لاشوں کو تیزاب میں ڈال کر گلانے والے قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 میں عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا.

Advertisements
merkit.pk

اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزاب کے ڈرم میں ڈالے جائیں، جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا، اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply