سی پیک اور زراعت۔۔زبیر بشیر

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی آبادی کا تقریباً ستر فیصد بلواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے شعبے سے منسلک ہے۔ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے ،پاکستان کافی زرمبادلہ زراعت کی وجہ سے حاصل کرتا ہے۔ پاکستان کا کُل رقبہ6.79ملین ایکڑ ہے اس میں 7.23ملین ایکڑ زرعی رقبہ ہے جو کہ کل رقبہ کا28 فیصدبنتا ہے اس میں سے 8 فیصد رقبہ کاشت نہ ہونے کے سبب بےکار پڑا ہے۔ سی پیک سے قبل پاکستان کا زرعی شعبہ شدید مشکلات سے دوچار تھا۔سی پیک کے بعد پاکستان کے آبی انتظام و انصرام میں بہتری آئی ہے۔ چین  نے زرعی ٹیکنالوجی میں بھی پاکستان کی مدد کی ہے۔ جس سے صورت حال بہتری کی جانب گامزن ہے۔

سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جس میں صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ د ی جارہی ہے، چین اور پاکستان زرعی پیداواری ٹیکنالوجی، پراجیکٹ مینجمنٹ، مشینری اور اوزار اور مصنوعات کی کھپت میں لازم وملزوم ہیں، اس نے دونوں ممالک کے مابین عملی زر عی تعاون کے لئے وسعت پیدا کی ہے، رواں سال کی دوسری ششماہی میں پاکستان میں 3000 ایکڑ پرمرچ کاشت کی جائے گی ، اس منصوبے سے 8000 ٹن سے ز ائدخشک مرچ پیدا ہو گی، اس سے پروسیسنگ صنعتوں کو مزید فروغ ملے گا اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

حالیہ دنوں پاکستان چلی فارمنگ پراجیکٹ پروموشن اور پاکستان چین مصالحہ جات صنعت اتحاد کی ایک آن لائن  تقریب منعقد کی گئی جس میں چینی اور پاکستانی ماہرین نے شرکت کی ، انھوں نے پاک چین زرعی تعاون بالخصوص مرچ کی کاشتکاری پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے ویبنار میں کہا کہ چونکہ سی پیک اعلی ٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس میں صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ د ی جائے گی لہذا چین اور پاکستان زرعی پیداواری ٹیکنالوجی، پراجیکٹ مینجمنٹ، مشینری اور اوزار اور مصنوعات کی کھپت میں لازم وملزوم ہیں، جس نے دونوں ممالک کے مابین عملی زراعت تعاون کے لئے وسیع جگہ پیدا کی ہے۔ زرعی تعاون کے مطابق چین میں پاکستانی سفیر معین الحق نے کہا کہ اب پاکستان میں زراعت کے شعبے کو جدید بنانے کے لئے 20 سے زائد منصوبوں پر عمل کیا جارہا ہے، جس میں فصلوں کی پیداوار میں اضافے، آبپاشی کے نظام کو اپ گریڈ کرنے، زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لئے نئے بیج ، ویلیو ایڈیشن اور گلوبل چین نیٹ ورک کے قیام کیلئے ایگری بیسڈ انڈسٹری شامل ہیں۔ معین الحق نے مزید کہا زراعت کے شعبے میں تعاون سے دونوں ممالک کو غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، میعار زندگی کو بہتر بنانے اور دونوں ممالک کی مجموعی معاشی و معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ، سید فخر امام نے کہا قدر میں اضافے، مارکیٹنگ اور سرکاری نجی شراکت میں کچھ شعبے ہیں جن پر دونوں ممالک کے کاروباری افراد کام کرسکتے ہیں۔ تعاون زرعی پیداوار میں اضافہ اور معیار کو بہتر بنائے گا، جس سے پاکستانی اجناس کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین عاصم سلیم باجوہ نے بھی انسانی وسائل میں مہارت بڑھانے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور زیادہ چینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون جیسے کلیدی نکات پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا  کہ مرچ کی کاشتکاری ایک مثال ہے اور ہمارے درمیان زرعی تعاون کا عملی مظہر ہے۔ چائنہ مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی ایم ای سی) اور سچوان لیتونگ فوڈ گروپ کی جانب سے پاکستان مرچ کنٹریکٹ فارمنگ پروجیکٹ پر عمل نے پاکستان میں ٹرائل فارمنگ کے بعد عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے مرچ کی کاشتکاری کے منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں 100 ایکڑ پر مرچ لگائی گئی ہے، اور اس سال دوسری ششماہی میں خیبر پختون خوا اور صوبہ سندھ میں توسیع کرکے 3000 ایکڑ پر کاشت کا منصوبہ ہے ۔ نونگ نے مزید کہا کہ توقع کی جارہی ہے کہ اس منصوبے سے مقامی کسانوں کے لئے ایک ایکڑ میں ایک لاکھ روپے سے زائد کی خالص آمدنی کے ساتھ 8000 ٹن سے زیادہ خشک مرچیں پیدا ہوں گی۔ اس کی بنیاد پر اس سے پروسیسنگ صنعتوں کو مزید ترقی ملے گی اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔جیسا کہ لِٹونگ فوڈ گروپ کے جی ایم چن لی نے متعارف کرایا کہ پاکستان چلی کنٹریکٹ فارمنگ پروجیکٹ کے فیز 1 میں چین پاکستان زرعی تعاون پائلٹ زون 5 سال میں قائم کیا جائے گا، جبکہ اس کے دوسرے مرحلے میں 30000 ایکڑ پر مرچ کی کاشت اور تیل نکالنے والا پلانٹ تعمیر کرنے کی توقع ہے جس کی صنعتی پیداوار ی قدر200 ملین امریکی ڈالر ہے۔ چن نے مزید کہا کہ فیز III میں چین پاکستان فوڈ انڈسٹریل پارک 5 سے 10 سالوں میں قائم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ دونوں ممالک میں مصالحہ جات کی صنعت کو فروغ دیا جاسکے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

فاطمہ گروپ کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ خرم جاوید نے پاکستان میں مرچ کی کاشتکاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا جبکہ بڑے پیمانے پر زمین دستیاب ہے تو یہ بہت زیادہ صلاحیت ہے،ماحول کیلئے موافقت، مقامی کاشتکاروں کی صلاحیت میں اضافہ اور پیداوار کا معیار بھی چیلینجز کا باعث ہے۔ ویبنار میں سی ایم ای سی کے ذریعہ پاک چین صنعت اتحاد (پی سی سی آئی اے) کا افتتاح بھی کیا گیا۔ سی ایم ای سی پاکستان کے وی جی ایم ڈائی باؤ نے ذکر کیا کہ جدید بیالوجیکل ایکسٹریکشن آنے والی امید افزا صنعت ہے اور پاکستان ہر قسم کی مصالحہ دارفصلوں کی کاشت کرنے کے لئے ایک بہترین جگہ ہے جسے بیالوجیکل ایکسٹریکشن کی صنعت کے لئے خام مال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply