مذہب پر چند اعتراضات کا جائزہ (1)۔۔عرفان شہزاد

مذہب پروہی اعتراض قابل اعتنا سمجھا جا سکتا ہے جو مذہب پر ہو نہ کہ اہل مذہب کی تعبیر و کردار پر۔ معترض اگر متعصب نہیں تو وہ بتائے گا کہ اس کے اعتراض کا محل مذہب ہے یا اہل مذہب کی تعبیر اور ان کا کردار، ورنہ خلط مبحث ہوگا اور سطحی ذہن کے لیے ایسی کنفیوژن کفایت کرتی ہے۔

اہل مذہب کی مذہب کے بارے میں تعبیرات، اطلاقات اور مذہبی نصوص کے مصداقات کی تعیین خارجی چیزیں ہیں۔ اسی طرح ان کے اخلاقی کردار کی ذمہ داری مذہب پر عائد نہیں ہوتی، جیسے قرون وسطی کی سخت گیر پاپائیت کی ذمہ داری مسیحیت پر نہیں ڈالی جا سکتی جس کا آغاز ہی مظلومیت سے ہوا تھا۔ البتہ اپنے جس اقدام کی تائید اہل مذہب، مذہب سے لائیں تواس پر بحث ہو سکتی ہے کہ ان کی تعبیر و اطلاق واقعی مذہب کا مطالبہ ہے یا نہیں۔

tripako tours pakistan

مذہبی تعبیر درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔مذہب کی بنیادی کتاب یا تعلیم سے کلام سے مختلف مفاہیم کا اخذ کرنا زبان کے نقص پر کی بنا پر نہیں، قاری کے فہم اور معلومات کی بنا پر ہوتا ہے۔ یہ بھی متن سے خارج ہوتے ہیں۔

کسی مذہبی متن کےدرست مفہوم تک رسائی کے لیے وہی طریقے اختیار کیے جائیں گے جو دنیا میں کیے جاتے ہیں جب کسی متن کی تفہیم میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ زبان و بیان کے مسلمہ اصولوں کو برتا جاتا ہے۔ کلام جس صنف سے تعلق رکھتا ہے، اسی صنف کے اصول زبان اس پر لاگو کیے جاتے ہیں۔ کلام کا سیاق و سباق دیکھا جاتا ہے۔ متکلم کے تناظر میں کھڑے ہو کر کلام کو سمجھاجاتا ہے۔ قاری کا تناظر اہم نہیں ہوتا۔

کسی مذہبی حوالے کے مصداق کے تعین میں اہل مذہب کی غلطی مذہب کا قصور ہے یا اہل مذہب کا؟ سوال کا جواب معلوم ہے۔مثلا ً آدم کا مصداق کو ن ہے۔ اس کا  تعین نہ قرآن نے کیا  نہ بائیبل نے۔ البتہ ان کے مفسرین نے اپنے ذوق جستجو کی تسکین کی خاطر اس کی کوشش کی۔ ماضی کی روایتوں سے کچھ مشہور ہستیوں کے نام انھیں مل سکے۔ ان کو ملا کر ایک شجرہ نسب بھی ترتیب دینے کی کوشش کی۔ اور یہ بھی طے کرنے کی کوشش کی کہ آدم کو کتنا وقت گزر چکا۔ یہ سب انسانی کاوشیں تھیں، جن کا مطالبہ مذہب نے نہیں کیا تھا۔ یہ اپنی ذوق تھا۔ ان انسانی کاوشوں میں غلطی کا امکان ایسے ہی تھا اور ہے جیسے کم وسائل اور معلومات کی وجہ سے انسان سائنسز اور سوشل سائنسزمیں مختلف مفروضات قائم کرتا اور مزید معلومات کی روشنی میں انھیں بہتر بناتا اور بدلتا رہتا ہے۔ بعد والے پہلے والوں کی مذاق نہیں اڑاتے کہ انھیں تو معلوم نہ تھا کہ سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا، یا یہ کہ کیچڑ میں مچھلیاں خود بخود پیدا نہیں ہو جاتیں اور یہ کہ انسان دو تین لاکھ سال پہلے سے دنیا میں آباد ہے۔

مذہبی متون کے تراجم بعض اوقات ایسی غلط فہمیوں کا باعث بنتے ہیں جن میں کسی محاورے کے الفاظ کو لغوی معنی دے دیے جاتے ہیں ، جیسے بائیبل میں باپ اور بیٹا کا معنی جب اناجیل کےمترجمین نے کیا تو ان الفاظ کو باقی ہر جگہ مجازی معنی میں لیا مگر مسیح کے لیے حقیقی اور خصوصی معنی میں لے لیا۔

مذہبی متون خصوصاً  قرآن ، جس کے اپنے الفاظ محفوظ ہیں ۔ اس پر ایک اعتراض یہ ہے کہ قرآن بے ربط معلوم ہوتا ہے اور اگر یہ مربوط ہے توانھیں کو محسوس ہوتا ہے جو اس کی زبان اور اسالیب کا بہت اچھا ذوق رکھتے ہیں۔

قرآن کی ایک تعلیم ہے اور ایک اس کا حسن کلام۔ تعلیم عام فہم اور بتکرار بیان ہوئی ہے کہ ہر شخص اس سے واقف ہے۔ حسن کلام البتہ اسی پر کھلے گا جو اس کے مطابق زبان اور ادب میں اپنا علم و ذوق بلند کر پائے گا۔ یہ اختصاصی علم و فہم ہے۔ ایسے ہی جیسے زبان ہم سب بولتے ہیں مگر کلام غالب کے لطائف اسی پر کھلیں گے جو زبان و ادب میں درک رکھتا ہو۔ کلام غالب کسی کم ذوق کے لیے نہیں ہے اورنہ اس کے لیے وہ اپنا معیار پست کرے گا۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ اس کا ربط و نظم اس پر کھلتا ہے جو اس کے اسالیب کا ذوق پیدا کر پاتا ہے۔ اب تو خیر اس ربط کو اہل فن نے اپنے تراجم میں بھی نمایاں کر کے دکھا دیا ہے۔ اب تو کسی کم ذوق کےلیے بھی کوئی عذر باقی نہ رہا۔ وہ جس حسن کو باور نہیں کرپایا، اسے پڑھ تو سکتا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عرفان شہزاد
میں اپنی ذاتی ذندگی میں بہت ایڈونچر پسند ہوں۔ تبلیغی جماعت، مولوی حضرات، پروفیسر حضرات، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے۔ حفظ کی کلاس پڑھائی ہے، کالجوں میں انگلش پڑھائی ہے۔ یونیورسٹیوں کے سیمنارز میں اردو انگریزی میں تحقیقی مقالات پڑھے ہیں۔ ایم اے اسلامیات اور ایم اے انگریزی کیے۔ پھر اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔ اب صرف دو چیزیں ہی اصلا پڑھتا ہوں قرآن اور سماج۔ زمانہ طالب علمی میں صلح جو ہونے کے باوجود کلاس کے ہر بد معاش لڑکے سے میری لڑائی ہو ہی جاتی تھی کیونکہ بدمعاشی میں ایک حد سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ یہی حالت نوکری کے دوران بھی رہی۔ میں نے رومانویت سے حقیقت کا سفر بہت تکلیف سے طے کیا ہے۔ اپنے آئیڈیل اور ہیرو کے تصور کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مسحور کن اورپھر وہ وقت آیا کہ شخصیات کے سہارے ایک ایک کر کے چھوٹتے چلے گئے۔پھر میں، میں بن گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply