خان رے خان۔۔۔ سعدیہ علوی

“ہم ایک بات کی وضاحت کردیں   کہ  ہمارے اور خان صاحبان کے درمیان محبت اور مودت کا ایسا رشتہ ہے جسے نہ ہم بیان کر سکتے ہیں اور شاید ہم سمجھا بھی نہیں سکتے،تو للہ ہماری اس تحریر کو کسی اور پیرائے میں نہ دیکھیے گا یہ اسی محبت کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہے جو ہمارے بیچ موجود ہے۔شکریہ”

Advertisements
julia rana solicitors london

ہمارے ایک کرم فرما خان صاحب ہیںِ عرصہ دراز سے ہمارے گھر آتے ہیں، اماں سے بے حد عقیدت رکھتے تھے تو اب جب آتے ہیں پہلے پندرہ منٹ روتے ہیں، آسمان کو شکوہ بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، ہماری جانب ملامت بھری نظر کرتے ہیں، اور کہتے ہیں،
“مڑا!  امارا چھت لے لیا ناں”
چلیے اللہ سے شکایت بنتی ہے کہ جان اسی کی دی ہوئی تھی اور اسی نے واپس لے لی ، مگر ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ماں ہماری تھیں تو ہم نے ایسا کیا کیا ہے جو ہم پر بھی نظر ملامت پڑتی ہے؟
ایک بار ہمت کرکے پوچھ لیا تو ملنے والا جواب ایسا تھا کہ اس کے بعد ہم نے نظرِ ملامت کو برداشت کرنے ہی میں عافیت جانی
کہتے ہیں،
” خو!  بچائی ! تم نے مالک سے ایسے دعا ہی نہیں مانگی جیسے فلموں میں مانگتے ہیں ، ماتھا مار مار کر ، اپنا خون نکال کر، ایسے کرتی تو کیسے اللہ نہ مانتا۔”
پچھلے دنوں ان کی بیگم کا انتقال ہوا تو ہم نے کہا،
” آپ نے کیوں نہ دعا مانگی ماتھا مار مار کر کہ اللہ ان کو نہ اٹھاتے؟”
کہتے ہیں
” ووئی !  مڑا !  ام کوئی پاگل ماگل ہے جو ایسا دعاکرتا ام تو شکر ادا کرتا ہے اللہ کا۔”
ہم نے حسنِ  ظن سے کام لیتے ہوئے کہا،
” واقعی اس طرح ان کی تکلیف کم ہوئی ناں”
ترنت بولے،
“خو !  اسکا تو نہیں پتہ، ہاں امارا بالکل ختم ہوگیا ہے تکلیف مکلیف”
ہر سال بقرعید پر پہلے سے کہہ جاتے ہیں
“سری پائے اور بھیجہ  امارا حصہ ہے وہ کسی اور کو نہ  دینا”
ہم بھی ان کے لیئے احتیاط سے رکھ لیتے ہیں کہ بکرے کے کئی اعضا ایسے ہیں جن کو کھانا تو دور کی بات ہم دیکھنے سے بھی گریزاں ہیں۔
اس سال ہم نے پوچھ ہی لیا کہ خان آخر سری اور بھیجے پر اتنا زور کیوں ہے
ہنستے ہوئے بولے،
“اوو بی بی اس کو کھانے سے دماغ تیز ہوتا ہے”
ہم کو شرارت سوجھی اور بول بیٹھے
“خان اگر دماغ ہو تو تب ناں”
مسکرا کر بولے،
” ابی جو ہے ناں بی بی ، وہ اسی سری اور بھیجہ کا وجہ سے ہے ، سوچو اگر ام بچپن سے اسے نہ کھاتا اوتا تو ام کیسا اوتا”
واقعی بات تو سولہ آنے درست کی!

julia rana solicitors
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply