شکست کا نقاب ابہام؟۔۔اسلم اعوان

20 سالہ امریکی جنگ سے نجات کے بعد افغانستان کے پڑوسی ممالک طالبان کی دوبارہ بالادستی کے اندیشہ ہائے دور دراز سے خائف ہیں،ماسکو سے لیکر بیجنگ اور نئی دِلی سے تہران تک علاقائی مملکتیں ممکنہ عدم استحکام سے بچنے کی خاطر غیر ارادی طور پہ طالبان کی مخالفت کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ سلامتی کونسل نے افغانستان میں امارات اسلامی کے ممکنہ قیام کی مذمت کرکے اندیشوں کے آسیب کو دوچند کر دیا،بظاہر یہی لگتا ہے کہ مشرق و مغرب کی مہذب دنیا اسلام کے علامتی ظہور کو بھی برداشت کرنے کی متحمل نہیں رہی۔جنوبی ایشیا کی فضاوں میں کسی انجانے خوف کا زہر گھولنے کی خاطر مغربی ذرائع ابلاغ ایسے بیانیہ کو پرموٹ کرنے میں مصروف ہیں،جس کاحقیقت سے کچھ تعلق نہیں،جسے محض اثر ڈالنے کے لئے اچھالا جا رہا ہے۔حتی کہ یو این والے پکار اٹھے ہیں کہ عسکریت پسند اسلامی تحریک جلد افغانستان کی تمام سرحدات کا کنٹرول سنبھال لے گی،التباسات سے لبریز اسی بیانیہ کی بدولت وسطی ایشیائی ریاستیں سکیورٹی کے لئے سابقہ سوویت ماسٹر روس کی طرف دیکھ رہی ہیں حالانکہ چند دن قبل ہی روسی وزارت خارجہ نے پوری قطعیت کے ساتھ بتایاکہ ماسکو کا دورہ کرنے والے طالبان وفد نے پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بیجنگ پاکستان میں اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالر کے منصوبوں کی حفاظت کے علاوہ ایسٹرن ترکمانستان اسلامک مووومنٹ کے وسعت پذیر اثرات بارے مضطرب ہے،خود پاکستانی سماج میں بھی دہشتگردی کے خوف کی مہیب فصل کاشت کی جا رہی ہے تاکہ امریکی جارحیت کے خلاف دفاعی اور اخلاقی برتری پانے والے طالبان کو مسلم معاشروں میں مصیبت بنا کے پیش کیا جا سکے۔

tripako tours pakistan

سوال یہ ہے کہ طالبان لیڈر شپ کی طرف سے پڑوسی ممالک کے خلاف کسی بھی گروہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی یقین دہانیوں کے باوجود عالمی طاقتیں اور لوکل وگلوبل میڈیا کسی ممکنہ انتشار کے خطرات کو بڑھا چڑھا کے کیوں پیش کر رہا ہے؟ کہیں یہی افسانہ امریکی ناکامیوں کو چھپانے کا نقاب ابہام تو نہیںکیونکہ اگست 2021 میں انخلاءکی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی بائیڈن انتظامیہ،افغانستان میں امن کے لئے ایسا روڈ میپ دینے والی ہے جس میں میدان جنگ کے غیر محدود نقصانات کے باوجود سیاسی اہداف کے حصول میں کامیابیوں کی داستان میں رنگ بھرا جائے گا۔

اس پیچیدہ سفارتی مساعی کے اثرات انقریب ہمیں ملکی سیاست کی حرکیات میں بھی دیکھائی دینے لگیں گے،گزشتہ چند ہفتوں سے پی ڈی ایم کے آفیشل ٹویٹراکاونٹ سے طالبان کی مفروضہ جارحیت کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے،خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں بھی طالبان کی مخالفت میں سرگرم نظر آتی ہیں،اسی ابلاغی یلغار کے دباؤ  میں طالبان کے روایتی حامی مصلحت آمیز خاموشی کی بُکل اوڑھے بیٹھے ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ بتا رہے ہیں کہ امریکی مقتدرہ افغانستان میں”امن“کو فروغ دینے کی خاطر پاکستانی پشتون قوم پرستوں اورمذہبی جماعتوں کو انگیج کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے کیونکہ افغانستان کے متحارب گروہوں کے ساتھ ان کے طویل المدتی اورکثیر الجہتی تعلقات کے علاوہ دونوں ممالک کی جمہوری قوتیں مشکلات سے گزرنے کا یکساں تجربہ رکھتی ہیں،اس لئے وہ افغان معاشرے کو حقیقت پسندانہ تفہیم کے ساتھ ”امن“کی حمایت پہ قائل کر سکتی ہیں۔

امرواقعہ یہ ہے کہ جاری تشدد کے دوران بین الافغان مذاکرات میں تعطل نے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کے اوراق میں چھپی خامیوں کو بے نقاب کیا،امریکی مقتدرہ آج جس امارات اسلامی کی سلامتی کونسل کے ذرئعے مذمت کرانے میں سرگرداں ہے،چند ماہ قبل وہ اسی امارات اسلامی سے دوحہ معاہدہ کے ذریعے محفوظ پسپائی کی سہولت حاصل کر چکی ہے تاہم اس تاریخی معاہدہ کے فریق اول نے دانستہ جنگ بندی جیسے اہم ایشوکو نظرانداز کرنے کے علاوہ جمہوری نظام کو بچانے،اقلیتوں،خواتین اور شہری حقوق کے تحفظ کی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ انٹرا افغان مذاکرات کے سپردکرکے عمیق خود غرضی کا مظاہرہ کیا تاکہ بدقسمت افغانوں کو امن کی گھڑیاں دیکھنے کی مہلت نہ ملے۔

امریکہ چاہتا تو دوحہ معاہدہ کے ذریعے ہی افغان تنازعہ کا سیاسی تصفیہ حاصل کر لیتا لیکن شکست خوردہ امریکیوں نے اپنی خفت مٹانے کی خاطر یہاں خانہ جنگی کو ایندھن فراہم کرنے کو ترجیحی دی اور اپنی نامطلوب جنگ کے مضمرات کو سمٹنے کی پوری ذمہ داری تباہ حال افغانوں اور اردگرد کے پڑوسی ممالک کے سر ڈال دی۔روسی انخلاءکے وقت ہونے والے جنیوا معاہدہ کی مانند جنگ دہشتگردی کا اہم اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کو اگر دوحہ معاہدہ میں فریق بنایا جاتا تو آج خطہ کی صورت حال مختلف ہوتی لیکن آتش انتقام میں جلتے ہوئے امریکیوں نے دوحہ معاہدہ سے پاکستان کو دور رکھ کے جہاں ہماری گراں قدر قربانیوں کی توہیں کی وہاں انہوں نے اُن افغان قوم پرستوں کو بھی حالات کے حوالے کر دیا جو بیس سال تک انکی مکروہ جارحیت کی وکالت کرتے رہے۔اب جب حالات دگرگوں ہوئے تو انگلی پکڑ کے افغانستان کے جہنم میں چہل قدمی کے لئے پاکستانیوں کوساتھ لے جانے کی منصوبہ بندی کر لی گئی۔

امریکی تھینک ٹینک کہتے ہیں،افغانستان کے مشرقی پڑوسی کی حیثیت سے پاکستان کا ملک کے مستقبل میں اہم کردار ہو گا،ماضی میں پوری توجہ پاکستانی ریاست کے نقطہ نظر پر مرکوز رکھی گئی جبکہ افغان امن عمل میں دیگر پاکستانی سیاسی اداکاروں کے کردار کو بھی توجہ ملنی چاہئے تھی،یہ پالیسی افغانستان میں امن کو فروغ دینے میں اُن پشتون قوم پرست اور اسلام پسند سیاسی جماعتوں کے کردار کا خاکہ پیش کرتی ہے جن کا کردار افغانستان میں سیاسی اداکاروں کے ساتھ ان کے طویل المدتی،کثیر الجہتی تعلقات ،جمہوری ناکامیوں اورجانبدارانہ سیاست کا یکساں تجربہ رکھنے کے علاوہ غیر جمہوری قوتوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ لچکدار ہونے کی وجہ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سنہ دوہزار ایک کی بون کانفرنس سے بین الاقوامی اور افغان پالیسی سازوں نے افغانستان کو جمہوری مملکت بنانے کی جو توقعات وابستہ کر لی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں، 2019 کے انتخابات تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ افغانستان میں جمہوریت سازی کا نتیجہ عالمی برادری کی توقعات کے مطابق سامنے نہیں آیا،جس سے اندازہ لگایا گیا کہ ملک کی جمہوریت شاید”سست موت“دیکھ رہی ہے۔طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں مسلسل توسیع کے علاوہ افغانستان میں جمہوری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود منتخب حکومتوں کی بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے وبال کو بتایا گیا،مزید برآں نسلی اور مذہبی لحاظ سے متنوع ملک میں صدارتی آئین کے نفاذکو بھی مقامی جنگجو ؤں  کے دارالحکومت سے دور علاقوں پر کنٹرول پانے کا وسیلہ باور کرایا جاتا رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں جمہوریت کی ناکامی پر عالمی برادری کا ردعمل صرف ”واقعات پر مرکوز “ رہا،جس میں خاص طور پر جمہوری اصولوں کے طویل مدتی منتقلی میں ناکامی کو تسلیم کرنے کے بجائے مقامی انتخابی عمل اور سیاسی کرداروں میں خامیاں تلاش کی گئیں اور بین الاقوامی قوتوں نے غیر ارادی طور پر اپوزیشن کی طرف سے صدر کرزئی پر تنقید کو”غیر ملکی ایجنٹی“سے تعبیر کر کے خود فریبی کا مظاہرہ کیا۔بلاشبہ جمہوریت کسی بھی سماج کی روح کے اندر سے پھوٹتی ہے، بین الاقوامی برادری کو اب احساس ہوا ہے کہ افغانستان میں جمہوریت کے مسئلے کو مقامی اپنائیت کی ضرورت تھی جسے بیرونی مداخلت کے ذریعے تھونپا نہیں جا سکتا۔اگرچہ افغانیوں کی اکثریت جمہوری سیاسی نظام چاہتی ہو گی لیکن جمہوری فلسفہ ابھی ان کے شعور کا جُز بن سکا نہ وہ قبائلی تعصبات جیسی آبائی جبلتوں کی گرفت سے آزاد ہوئے ہیں۔

2004 کے انتخابات میں 70 فیصد رائے دہندگان نے ووٹنگ بوتھ پر دہشت گردانہ حملوں کے امکانات کے باوجود اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ 2006 میں 77 فیصد رائے دھندگان ملک میں جمہوری کوششوں سے مطمئن نظر آئے اور 65 فیصد سے زیادہ مستقبل کے انتخابات کی آزادانہ اور منصفانہ ہونے بارے پُرامید بھی تھے،حیرت انگیز طور پہ ان 77فیصد کے مقابلہ میں صرف سات فیصد لوگوں نے امارت اسلامیہ کی حمایت کی لیکن اس کے باوجود افغانی سماج میں امارت اسلامیہ کی قبولیت کا امکان اب بھی بہت زیادہ ہے،اگرچہ طالبان نے کھلے عام جمہوریت کو مسترد نہیں کیا،ان کے کچھ بیانات بالواسطہ طور پر لبرل اور جمہوری اقدار کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں تاہم پھر بھی دنیا والے افغانستان میں مستقبل کے سیاسی نظام کو طالبان اور غنی حکومت کے مابین اختلاف کی بنیاد کیوں بنانا چاہتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

دریں اثناءافغانستان کی منتخب جمہوری حکومتیں مالی اور اخلاقی مدد کے لئے امریکی اور یورپی ممالک پر انحصار کرکے اپنے حق حاکمیت پہ سمجھوتے کرنے میں عار محسوس نہیں کرتیں،افغان امور کے ماہر،معروف محقیق نفیس الرحمن درانی کہتے ہیں”قوم پرستوں نے ہمیشہ بیرونی قوتوں سے سمجھوتے کئے،ایک بار اپنے ہم وطن طالبان سے بھی ہم آغوش ہو کے دیکھ لیں“۔لاریب،یہاں کی سیاسی جماعتوں اورقومی قیادت میں اندرونی اختلاف کی لکیریں کافی گہری ہیں تاہم جمہوری اداروں میں فطری کوارڈینشن،فکری ہم آہنگی اور سچے مینڈیٹ کا فقدان ہی بنیادی مسلہ ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply