جو چلے تو جاں سے گزر گئے(آخری قسط11)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan

والا حساب رہا

book title JRLUH

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔

قسط نمبر دس کا آخری حصہ

اسے یعنی طوبیٰ کو حیرت ہوئی کہ اس کی ان تعلیمات پر سب سے زیادہ اعتراض وہاں موجود لڑکیوں کو ہوا۔وہ کہنے لگی۔اگر آپ مغرب کو دیکھیں تو وہاں ان کے شاہی خاندان کے افراد بھی شادی
کے لئے چرچ کا رخ اختیار کرتے ہیں۔جب شادی مسجد میں ہوگی تو بارات اور کھانا کھلانا خود ہی ختم ہوجائے گا۔آپ کے ذہن میں یہ جو رسول اکرمﷺ کی جانب سے حضرت فاطمہ کو جہیز دئیے جانے کا تصور ہے یہ کم علمی پر مبنی ہے۔آپؐ نے حضرت علیؓ کو جو اپنی زرہ بکتر بیچنے کا حکم دیا تھا وہ اسی لئے تھا کہ وہ گھر کی ضرورت کا سامان خرید کر گھر چلانے کا بندوبست کر سکیں۔بات چیت جاری تھی کی دلہن کی رخصتی کا وقت آگیا اور یہ سب اس میں مصروف ہوگئے۔

camp in kuwait

meaning of Glorious Quran
cafe in morroco
pickthal
صحن_مسجد_اموی

گیارھویں قسط کا آغاز
کچھ دن بعد عدنان ایک مسجد میں تراویح پڑھ رہا تھا،نمازیوں کی صف میں خاصی تنگی تھی۔ جب فرض نماز ختم ہوئی تو اس نے اردو میں ساتھ والے نمازی کو کہا کہ وہ ذرا کھل کر بیٹھے تو اس کے لئے بھی کچھ جگہ نکل آئے گی۔اس نمازی کے حلیے سے لگتا تھا کہ یہ کوئی قبائلی پٹھان ہے جس نے سر پر چترالی ٹوپی  اور بدن پر موٹی سی شال لپیٹی ہوئی تھی۔اس نے جواب میں عدنان کو   انگریزی میں جب “What?”کہا تو عدنان کو لگا کہ یہ لب و لہجہ ہرگز پاکستانی نہیں،عدنان کے پوچھنے پر علم ہوا کہ موصوف کا تعلق امریکہ سے ہے۔عدنان کی دلچسپی کچھ بڑھی تو کہنے لگا کہ وہ تراویح کے بعد اس سے مزید بات چیت کرے گا۔نماز کے بعد وہ مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔اس نے بتایا کہ اس کا نام طاہر عبداللہ ہے اور وہ پہلے کبھی امریکی فوج میں ہوتا تھا۔کویت میں اپنی تعیناتی سے قبل جب وہ وہاں بھیجے جانے کے لئے چنے گئے تو انہیں تین باتیں بتلائی گئیں۔ایک تو وہ کیمپ سے باہر اکیلے نہ جائیں۔ دوسرے کسی مسلمان سے مذہب پر بات نہ کریں اور تیسرے انگلیوں سے ایک مخصوص اشارہ نہ کریں۔اسے عرب دنیا میں بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کویت پہنچ کر اس نے سب سے پہلے وہاں موجود کسی عرب سے اس اشارے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ ایسی کوئی بات اس نے کبھی بھی نہیں محسوس کی۔ اب اس امریکی فوجی کو خیال ہوا کہ یہ ایک طرح کی برین واشنگ تکنیک تھی کہ وہ بتلائی گئی ہدایات پر کتنا عمل پیرا ہوتے ہیں۔

کویت میں تعیناتی کے دوران اس کی ملاقات ایک عجیب شخص سے ہوئی۔ یہ ایک سویلین تھا جو کچن میں کام کرتا تھا۔اس کا نام سعد تھا اور یہ ایک فلسطینی تھا۔وہ روزانہ اسے اسلام پر پڑھنے کے لئے کچھ نہ کچھ دے جاتا تھا۔طاہر عبداللہ جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوا تھا۔اس نے سعد کی شکایت کیمپ کمانڈنٹ سے کر دی اور اس شکایت کے نتیجے میں اس کی ملازمت ختم کردی گئی۔جس دن سعد کا کیمپ میں نوکری کا آخری دن تھا،وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ وہ بالکل اس بات کا غم نہ پالے کہ اس کی نوکری اس کی شکایت  پر ختم ہوئی ہے۔ اللہ نے میرا رزق شاید یہاں اتنے دن کے لئے ہی لکھا تھا۔ البتہ وہ اسے ایک تحفہ دینا چاہتا ہے مگر ایک وعدے کے ساتھ کہ  وہ اس کی بے حرمتی نہیں کرے گا۔طاہر عبداللہ نے یہ وعدہ کیا تو اس نے خوبصورت کاغذ میں لپٹا ہوا قرآن پاک کا نسخہ اسے  دیا جو انگریزی ترجمے کے ساتھ تھا۔طاہر عبداللہ کہنے لگا کہ جیسے ہی وہ تحفہ اس کے ہاتھ میں آیا اسے لگا کہ کہیں سے روشنی اس کے اندر سما گئی ہے۔ ایسی روشنی جو صرف اسے اپنے اندر اترتی ہوئی دکھائی دی۔

سعد نے اسے گلے لگایا اور چل دیا۔

kapil vastu nepal
kapil vastu nepal

کویت سے طاہر عبداللہ کو مراکش بھیج دیا گیا۔ مراکش ایک عجیب ملک تھا۔وہ وہاں کے قہوہ خانوں میں بالکل اسی طرح جا جا کر بیٹھتا تھا جیسے شاید  مارماڈیوک پکتھال صاحب کبھی بیٹھا کرتے تھے۔پکتھال صاحب وہ ہیں جنہوں نے قرآنِ کریم کا انگریزی ترجمہ کیا جو آج تکThe Meaning of the Glorious Koran کے نام سے مشہور تراجم میں شمار ہوتا ہے۔مراکش پکتھال صاحب اپنے کسی عزیز کے ساتھ پہنچے تھے۔ان کا تعلق عیسائی پادریوں کے ایک مستند گھرانے سے تھا۔گو وہ ایک عمدہ ناول نگار تھے مگر اس کے باوجود سب انہیں ایک مکمل طور پر ناکام شخص سمجھتے تھے۔ ان کی جھگڑالو طبیعت سے تنگ آن کر ان کا ایک پادری عزیز انہیں فلسطین لے آیا۔جہاں انہوں نے عربی سیکھی۔ مراکش میں ان کی اسلام پر وہاں قہوہ خانوں میں بیٹھے لوگوں سے کئی دفعہ بات چیت ہوئی۔ پکتھال صاحب وہاں سے ملک شام پہنچے۔ جہاں دمشق کی مسجد بنو امّیہ کے امام صاحب کے ہاتھ پر جب انہوں نے اسلام قبول کرنا چاہا تو انہوں نے ایک عجب توجہیہ پیش کی۔ “تم ابھی نوجوان ہو۔تم ہمارے زیر اثر ہو،یہاں ہماری اکثریت ہے۔اسی طرح کئی اور ہمارے ایسے مسلمان نوجوان ہوں گے جو ان ممالک میں تمہاری مانند تنہا ہوں گے جہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اگر ہمارا کوئی نوجوان بیٹا، وہاں کسی عیسائی مبلغ کے ہاتھوں اپنے دین سے منحرف ہوجائے تو مجھے کتنا دکھ ہوگا۔ جب تم واپس چلے جاؤ اور تمہارا دل اسلام پر یوں ہی مائل رہے تو وہاں اسلام قبول کرلینا۔ ”

پکتھال پر اس بات کا گہرا اثر ہوا۔ پکتھال صاحب 29نومبر 1917ع کو” اسلام اور ترقی “کے موضوع پر لیکچر دے رہے تھے اور لیکچر کے اختتام پر انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ کر سب کے سامنے انتہائی ڈرامائی انداز میں اسلام قبول کرلیا۔
طاہر عبداللہ کے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا مگر قہوہ خانے میں اس سے کسی نے پوچھا کہ وہ کس مذہب کو اپنے نزدیک بہتر سمجھتا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ اگر اس سے دل کی بات پوچھی جائے تو وہ عیسائیت سے تثلیث کی وجہ سے کافی دور ہوچکا ہے۔ البتہ وہ ان دنوں اپنی امن و آشتی کے پیغام کی وجہ سے بدھ مت کو ایک بہتر دین تصور کرتا ہے۔

اس کی بات چیت جس شخص سے ہورہی تھی وہ کہنے لگا کہ وہ یہ تو مانتا ہے نہ کہ گوتم بدھ ایک شہزادہ تھا جو نیپال کے پاس ایک چھوٹی سی راجدھانی کپل وستو میں پیدا ہوا۔ان کے والد صاحب سدھودھنا ایک بادشاہ تھے اور ان کی والدہ صاحبہ مایا دیوی بھی ایک شہزادی تھیں۔ان کی شادی بھی شہزادی یشودھراسے ہوئی تھی۔یہ تمام شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ مہاتما گوتم بدھ بلا آخر ایک انسان تھے۔ اس نے کہایہ جو اس قہوہ خانے کی چھت ہے کیا ایک انسان اپنے ہاتھوں پر اٹھا سکتا ہے۔ طاہر عبداللہ کہنے لگا ہرگز نہیں۔اس پر وہ شخص میرا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گیا اور کہنے لگا اوپر دیکھو یہ آسمان ہے اسے کس نے تھاما ہوا ہے۔ اللہ نے ہمارے قرآن میں اس طرح کی کئی آیات ظاہر کی ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔

اس گفتگو کے بعد طاہر عبداللہ بدھ مت سے بھی دور ہوگیا،اس کے ذہن میں مذہب کے بارے میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا جہاں اب اسلام آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنانے لگا۔اس نے سعد کے دیئے ہوئے کلام پاک کا مطالعہ شروع کردیا۔کچھ دنوں بعد اس کی تعیناتی جرمنی میں ہوگئی۔جرمنی میں اسے ایک ترک لڑکی سے پیار ہوگیا۔وہ باقاعدہ حجاب پہنتی تھی اور بڑی رکھ رکھاؤ والی نیک طینت لڑکی تھی۔یہ اگست کا مہینہ تھا۔جب اس نے شادی کی درخواست کی تو اس نے بھی کم و بیش وہی شرائط پیش کیں جو فرانس میں لکاس کیون کو طوبیٰ نے پیش کیں تھیں۔یعنی کہ وہ اسلام قبول کرے۔شریعت کی پابندی کرے اور جہاد میں حصہ لے۔اس کا معاملہ البتہ لکاس کیون کی نسبت ذرا زیادہ پیچیدہ تھا۔
وہ امریکی فوج میں تھا۔مگر وہ جو ہمارے صوفی شاعر حضرت سچل سرمست نے کہا تھا کہ
جیں دل پیتا عشق دا جام، او دل سچلؔ مست مدام

(جس دل نے عشق کا جام پی لیا، وہ دل تو سچلؔ مست اور بے خود ہوگیا)

سو یہ امریکی فوجی بھی دل کے ہاتھوں ہار گیا اورٹھان لی کہ وہ اس ترک لڑکی سے شادی ضرور کرے گا۔

طاہر عبداللہ نے اجاز ت چاہی کہ وہ پہلے قرآنِ کریم کا مطالعہ اچھی طرح  کرے گا اور اس کا دل اس طرف مائل ہوا تو باقی دو شرائط پر عمل کرنا کوئی ایسی بڑی مشکل نہیں۔
طاہر عبداللہ کی شادی ہوگئی اور چار بچے بھی ہوئے، وہ پاکستان ان کے ساتھ ہی آیا تھا۔ کافی دن وہ ترکی، مراکش، افغانستان، اور صوبہ  سرحد میں رہا تھا۔بچوں سے عدنان کی ملاقات ہوئی تو وہ حیراں رہ گیا کہ بچے انگریزی، جرمن،عربی،اردو،پشتو اور ترکی زبانیں روانی سے بولتے تھے۔سات سال سے تین سال کی عمر کے یہ بچے یا تو حافظِ قرآن تھے یا قرآنِ  پاک حفظ کرنے میں مصروف تھے۔

Advertisements
merkit.pk

عدنان ہمیشہ سے اس نظرئیے کا حامی رہا کہ کسی بھی زبان کا آنا ذہنی نشوو  نما کی خاص علامت ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ زبانیں بولنے والے عام افراد کی نسبت زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔
اسے لگا کہ تہذیبوں کے اس تصادم کا دائرہ بہت وسیع ہوچکا ہے اور جس شدت سے اس کے مخالفین کی کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اسی شدت سے اس کے پیروکار بھی بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ غالبؔ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ع
رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے،رواں اور
(ختم شد)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply